X
تبلیغات
islamic education & cultural

islamic education & cultural

quran-o-ahlulbait-a.s

 

کویتی روزنامہ: "ظہور" عالمی سیاست کا اصول؛ عنقریب "ہم امام مہدی (عج) کے خواہاں ہیں" کا نعرہ لگنے وال

کویتی روزنامہ: "ظہور" عالمی سیاست کا اصول؛ عنقریب "ہم امام مہدی (عج) کے خواہاں ہیں" کا نعرہ لگنے والا ہے
منگل, 19 جولائی 2011 12:18

دنیا کے موجودہ حکام کو معلوم ہے کہ "ظہور" آج کی سیاست کا رکن ہے دنیا کے لوگ عنقریب "ہم امام مہدی (عج) کے خواہاں ہیں" کے نعرے لگائے گی / کویتی روزنامے صحیفة الدار نے لکھا ہے کہ دنیا ـ اور خاص طور پر عالم اسلام ـ میں وسیع البنیاد ظلم و نا انصافی کا دور دورہ ہے اور یہود بھی "ظہور کے بارے میں خبردار کررہے ہیں"، اور ظہور صرف شیعیان اہل بیت (ع) ہی کا عقیدہ ہی نہیں ہے، دنیا کے لوگ بہت جلد "ہم امام مہدی (عج) کے خواہاں ہیں" کا نعرہ اٹھائیں گے۔

اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق روزنامہ الدار نے ایک مضمون میں علاقے کے حکمرانوں کے خلاف شروع ہونے والے احتجاجی تحریکوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ عنقریب وہ زمانہ آنے والا ہے جب لوگ جو اس وقت صدر یا بادشاہ کے زوال کے خواہاں ہیں اور اسی حوالے سے نعرے لگا رہے ہیں کہ "قوم صدر کا زوال چاہتی ہے" یا "قوم بادشاہ کا زوال چاہتی ہے"، نیا نعرہ لگانا شروع کریں گے کہ "قوم امام مہدی کا ظہور چاہتی ہے"۔

کالم نگار «حسن الانصاری» اس مضمون میں لکھتے ہیں: عالم اسلام میں مسلسل حادثات و واقعات کا سلسلہ جاری ہے، عالم اسلام کو وار زون قرار دیا گیا ہے، برادرکشی اور ظالمانہ تشدد پسندی، عرب اور مسلم عوام پر ظلم و ستم کا سلسلہ شدید سے شدید تر ہوگیا ہے اور بے گناہ نوجوانوں کے قتل میں اضافہ ہوا ہے ایک بار پھر امت کے نجات دہندہ حضرت حجت بن الحسن العسکری المہدی (عج) کی میلاد نے ناامیدوں کی امیدیں زندہ کرلی ہیں۔ انھوں نے مزید لکھا: جن لوگوں نے یہ بین الاقوامی ظالمانہ پالیسیاں اپنا کر امّہ پر ظلم و ستم کا بازار گرم کررکھا ہے، وہ بخوبی جانتے ہیں کہ امام مہدی (عج) کا ظہور آج کی عالمی سیاست کا رکن رکین ہے کیونکہ انتہاپسند یہودی ظہور کے بارے میں بڑی طاقتوں کو مسلسل خبردار کررہے ہیں۔

انھوں نے لکھا: عالمی نجات دہندہ کا مسئلہ عالمگیر ہے اور آج ظہور صرف شیعہ مسئلہ نہیں ہے لیکن شاید وہ فارمولا ابھی مکمل طور پر عملی جامہ نہیں پہن سکا ہے اور عالمی سطح پر ظلم و جبر کی سطح اس حد نہیں پہنچی ہے جس کو مدنظر رکھ کر اللہ تعالی نے امت کو امام مہدی (عج) کی ظہور کی بشارت دی ہے کیونکہ بعض عالمی عوامل اور اصول اور متغیرات (Terms & variables) ابھی تک ظاہر نہیں ہوئے ہیں۔ انھوں نے مزید لکھا ہے کہ دنیا کی آج کے سیاستدان جو دنیا پر مسلط ہیں، ہماری امت کے خلاف منصوبہ بندیاں کررہے ہیں لیکن اللہ کی مشیت ـ جس نے ابراہیم (ع) کو اور ان سے قبل نوح (ع) کو اور ان کے بعد موسی (ع) کو اور سب کے آخر میں حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کو نجات دی اسی ـ کا وعدہ ہے کہ اس امت کو عالم ظلم و جبر سے نجات ملنے والی ہے۔

حسن الانصاری نے کہا: گذشتہ عشرون میں دشمنان اسلام نے علاقے کے ممالک نیز شمالی افریقی ممالک کو ان کے آداب و تمدن نیز مفاہیم و معانی سے خالی کردیا اور اس کے بعد انہیں عقائد اور تہذیبوں کی جنگوں میں دھکیل دیا حتی کہ سیاسی اور سماجی کشمکش کی باری بھی آگئی اور ریشہ دوانیاں بدستور جاری ہیں اور مقصد یہ ہے کہ اسلام کی اصل روح پس پردہ ہی رہے چنانچہ امت مسلمہ کے دشمنوں نے المناک منصوبوں اور لوائح عمل کی بنیاد پر استبدادی نظاموں اور آمریتوں کی بنیاد رکھی حتی کہ عالم عرب کا غضب آخر کار ظاہر ہوگیا اور وہ بھی ایسے زمانے میں کہ "عرب قوموں کے پاس کھونے کے لئے کوئی چیز باقی نہیں رہی ہے اور کھوئی ہوئی حیثیت دوبارہ حاصل کرنے کے لئے جانوں کا نذرانہ دینے کے سوا کوئی چارہ باقی نہ رہا"۔

انھوں نے آخر میں لکھا ہے: آج عرب اقوام نے اپنی استبدادی حکومتوں کے خلاف انقلاب کا آغاز کیا ہے اور ان سب کا مشترکہ نعرہ ہے کہ "ملت نظام حکومت کی سرنگونی چاہتی ہے"، "قوم صدر کی برطرفی کی خواہاں ہے"، ایسے حال میں کون اس عالمی وحشیانہ لائحہ عمل کا راستہ روک سکتا ہے، اور عرب قومیں کب تک سڑکوں پر آکر ظالموں کی سرنگونی کا مطالبہ کرسکیں گی اور کب تک عالمی طاغوت کے مد مقابل استقامت کرسکیں گی؟ جب صبر کا زمانہ طویل ہوجاتا ہے اور سیاسی حکمرانوں سے ملتوں کی امیدیں منقطع ہوجاتی ہیں اور عرب اور مسلم عوام کی بات ایک اور امت کی امید زندہ ہوجاتی ہے وہ دن بھی آئے گا جب لوگ نعرہ لگائیں گے کہ "امت اسلامی مہدی منتظَر (ع) کے ظہور کے خواہاں ہیں"۔

9 Jan 2012 |

 
 

علامات ظہور

علامات ظہور
 

مصنف: سید ذیشان حیدر جوادی
امام عصر کے ظہور کے بارے میں روایات میں جن علامات کا ذکر کیا گیا ہے۔ ان کی دو قسمیں ہیں:

(۱) حتمی اور (۲) غیر حتمی۔


حتمی علامات
بعض علامتیں حتمی ہیں جن کا وقوع بہرحال ضروری ہے اور ان کے بغیر ظہور کا امکان نہیں ہے۔ اور بعض غیر حتمی ہیں جن کے بعد ظہور ہو بھی سکتا ہے اور نہیں بھی ہو سکتا ہے۔ یعنی اس امر کا واضح امکان موجود ہے کہ ان علامات کا ظہور نہ ہو اور حضرت کا ظہور ہو جائے اور اس امر کا بھی امکان ہے کہ ان سب کا ظہور ہو جائے اور اس کے بعد بھی حضرت کے ظہور میں تاخیر ہو۔

ذیل میں دونوں قسم کی علامتوں کا ایک خاکہ نقل کیا جا رہا ہے لیکن اس سے پہلے اس امر کی طرف اشارہ ضروری ہے کہ ان روایات کا صدور آج سے سیکڑوں سال پہلے ہوا ہے اور ان کے مخاطب اس دور کے افراد تھے اور ان کے متعلقات کا تعلق سیکڑوں سال بعد کے واقعات سے تھا جن کا سابقہ اس دور کے افراد سے ہوگا اور اس بنا پر یہ طے کرنا تقریباً ناممکن ہے کہ روایات میں استعمال ہونے والے الفاظ سے مراد کیا ہے اور یہ الفاظ اپنے لغوی معانی میں استعمال ہوئے ہیں یا ان میں کسی استعارہ اور کنایہ سے کام لیا گیا ہے۔

اگر روایات کا تعلق احکام سے ہوتا تو یہ کہا جا سکتا تھا کہ احکام کے بیان میں ابہام و اجمال بلاغت کے خلاف اور مقصد کے منافی ہے لیکن مشکل یہ ہے کہ روایات کا تعلق احکام سے نہیں بلکہ واقع ہونے والے حادثات سے ہے اور ان کی تشریح کی کوئی ذمہ داری بیانکرنے والے پرنہیں ہے بلکہ شاید مصلحت اجمال اور ابہام ہی کی متقاضی ہو کہ ہر دور کا انسان اپنے ذہن کے اعتبار سے معانی طے کرے اور اس معنی کے واقع ہوتے ہی ظہور امام کے استقبال کے لیے تیار ہو جائے ورنہ اگر واضح طور پر علامات کا ذکر کر دیا گیا اور انسان نے سمجھ لیا کہ ابھی علامات کا ظہور نہیں ہوا ہے تو ظہور امام کی طرف سے مطمئن ہو کر مزید بدعملی میں مبتلا ہو جائے گا۔

یہ سوال ضرور رہ جاتا ہے کہ پھر اس قسم کے علامات کے بیان کرنے کی ضرورت ہی کیا تھی؟۔۔۔ لیکن اس کا بالکل واضہ سا جواب یہ ہے کہ معصومین نے جب بھی ان آنے والے واقعات کا اشارہ دیا اور فرمایا کہ ایک دور آنے والا ہے جب دنیا ظلم و جور سے بھر جائے گی لیکن یہ دنیا کا اختتام نہ ہوگا بلکہ اس کے بعد ایک قائم آل محمد کا ظہور ہوگا جو عالمی حالات کی اصلاح کرے گا اور ظلم و جور سے بھری ہوئی دنیا کو عدل و انصاف سے بھر دے گا، تو قوم کے ذہن میں دو متضاد تصورات پیدا ہوئے۔ ایک طرف ظلم و ستم کا حال سن کر مایوسی اور اضطراب کی کیفیت پیدا ہوئی اور دوسری طرف ظہورِ امام کی خوش خبری سن کر سکون و اطمینان کا امکان پیدا ہوا تو فطری طور پر یہ سوال ناگزیر ہوگیا کہ ایسے بدترین حالات تو ہم آج بھی دیکھ رہے ہیں۔ بنی امیہ اور بنی عباس کے مظالم تو آج بھی نگاہ کے سامنے ہیں اور ابھی دنیا ظلم و جور سے مملو نہیں ہوئی ہے تو جب ظلم و جور سے بھر جائے گی تو اس وقت دنیا کا کیا عالم ہوگا اور اس کے بعد اس اضطراب کا سکون اور اس بے چینی کا اطمینان کب میسر ہوگا اس کے حالات علامات کا معلوم ہونا ضروری ہے تاکہ مظلوم و ستم رسیدہ اور بے کس و بے نوا کو اس حسِین مستقبل کے تصور سے کچھ تو اطمینان حاصل ہو اور ائمہ معصومین کی بھی ذمہ داری تھی کہ علامات کو ایسے کنایہ کے پیرایہ میں بیان کریں کہ ہر دور کا مظلوم سکون و اطمینان کو قریب تر سمجھ سکے اور اس کے لیے اطمینان کا راستہ نکل سکے ورنہ بے شمار صاحبانِ ایمان مایوسی کا شکار ہو جائیں گے اور رحمت ِ خدا سے مایوسی خود بھی ایک طرح کا کفر اور ضلال مبین ہے۔

اس مختصر سی تمہید کے بعد اصل مقصد کا تذکرہ کیا جا رہا ہے جس کا خلاصہ یہ ہے کہ علماءِ اعلام نے سات قسم کی علامات کو حتمی قرار دیا ہے:

۱۔ خروج دجّال

جس کا تذکرہ تمام عالم اسلام کی کتب احادیث میں پایا جاتا ہے اور اس کی طرح طرح کی صفات کا بھی تذکرہ کیا گیا ہے کہ گدھے پر سوار ہوگا۔ ایک آنکھ سے کانا ہوگا، دوسری آنکھ پیشانی پر ہوگی، انتہائی درجہ کا جادوگر ہوگا اور لوگوں کو بہترین نعمتوں کی ترغیب دے گا۔ اس کے لشکر میں ہر طرح کے ناچ گانے کا ساز و سامان ہوگا۔ وہ مختلف علاقوں کا دورہ کرکے لشکر جمع کرے گا اور لوگوں کو گمراہ کرے گا، یہاں تک کہ حضرت کا ظہور ہوگا اور آپ براہِ راست یا آپ کی رکاب میں حضرت عیسیٰ بن مریم اسے فنا کر دیں گے۔

ان روایات سے تو بظاہر یہی معلو م ہوتا ہے کہ یہ کسی انسان کا تذکرہ ہے لیکن چونکہ دجّال خود ایک صفت ہے اور اس کے معنی مکار اور فریب کار کے ہیں اس لیے بہت سے علماء نے اس کے کنائی معنی مراد لیے ہیں اور ان کا خیال ہے کہ اس سے مراد وہ مکار اور فریب کار حکومتیں ہیں جن کے ساز و سامان دجّال والے ہیں اور جنہوں نے ساری دنیا کو مسحور کر رکھا ہے اور ان کی نظر سرمایہ داری یا مزدوری پر ہے کہ ایک آنکھ سے دیکھتے ہیں اور ایک آنکھ کو بند کر لیا ہے اور دیکھنے والی آنکھ کو اپنی پیشانی پر اتنا نمایاں کر لیا ہے کہ ہر شخص صرف اس کی چمک دمک دیکھ رہا ہے اور ان کی سواری کے لیے بے شمار انسان موجود ہیں جنہیں قرآن حکیم کی زبان میں گدھا ہی کہا گیا ہے کہ گویا ایک پورا ”خر صفت“ سماج ہے جس کی پشت پر سوار ہو کر اپنے دجل و فریب کی ترویج کر رہے ہیں۔ واللّٰہ اعلم بالصواب۔

۲۔ نداءِ آسمانی
اس سلسلہ میں روایات میں مختلف آسمانی آوازوں کا تذکرہ کیا گیا ہے۔ ایک سلسلہٴ اصوات ماہِ رجب میں ہے جس میں پہلی آواز ہوگی: ”ألا لعنة اللّٰہ علی الظالمین“ دوسری آواز ہوگی ”ازفة الآزفة“ اور تیسری آواز قرص آفتاب سے بلند ہوگی کہ امیر الموٴمنین دوبارہ دنیا میں انتقام کے لیے آرہے ہیں۔

دوسرا سلسلہ ماہِ مبارک رمضان میں ہوگا جہاں ۲۳ رمضان کو ظہور کی خوش خبری کا اعلان کیا جائے گا۔

اور تیسرا سلسلہ وقت ظہور قائم ہوگا جب قرص آفتاب سے حضرت کے مکہٴ مکرمہ سے ظہور کا اعلان ہوگا اور پورے شجرہٴ نسب کے ساتھ اعلان ہوگا اور اس اعلان کو شرق و غرب عالم میں سنا جائے گا جس کے بعد صاحبانِ ایمان آپ کی بیعت اور نصرت کے لیے دوڑ پڑیں گے، اور آپ کے مقابلہ میں دوسری شیطانی آواز بھی بلند ہوگی جو مثل جنگ احد بہت سے مسلمانوں کو گمراہ کر دے گی۔

۳۔ خروج سفیانی
اس شخص کا نام عثمان بن عنبہ ہوگا اور یہ یزید بن معاویہ کی اولاد میں سے ہوگا۔ پہلے دمشق، حمص، فلسطین، اردن اور قنسرین پر حکومت قائم کرے گا اس کے بعد مختلف اطراف میں لشکر روانہ کرے گا جس کا ایک حصہ بغداد کی طرف جائے گا اور نجف و کربلا میں صاحبانِ ایمان کا قتل عام کرے گا۔ دوسرا حصہ مدینہ کی طرف جائے گا اور وہاں قتل عام کرے گا اور پھر مکہ کا رخ کرے گا لیکن مکہ تک رسائی نہ حاصل کر سکے گا۔ تیسرا حصہ بطرف شام روانہ ہوگا اور راستہ میں لشکر امام عصر سے مقابلہ ہوگا اور اس حصہ کا ایک ایک شخص فنا کر دیا جائے گا۔ مکہ کی طرف جانے والا لشکر تین لاکھ افراد پر مشتمل ہوگا اور ایک صحرا میں دھنس جائے گا، صرف دو افراد باقی رہیں گے۔ ایک مکہ کی طرف جا کر امام عصرں کی فتح کی بشارت دے گا اور دوسرا شام کی طرف جا کر سفیانی کو لشکر کی ہلاکت کی اطلاع دے گا۔ اس کے بعد سفیانی خود کوفہ کا رخ کرے گا اور پھر حضرت کا لشکر تعاقب کرے گا اور وہ فرار کر جائے گا یہاں تک کہ بیت المقدس میں حضرت کے لشکر ہاتھوں واصل جہنم کر دیا جائے گا۔

اس روایت میں بھی اگرچہ نام اور نسب کا ذکر موجود ہے لیکن یہ دونوں باتیں عرف عام میں کنایہ کے طور پر بھی استعمال ہوتی ہیں جس طرح کہ حضرت عائشہ نے قتل عثمان کی ترغیب دیتے وقت عثمان کا نام نہیں لیا تھا بلکہ نعثل کہہ کر یاد کیا تھا کہ مشابہت کی بنا پر دوسرا نام بھی استعمال کیا جا سکتا ہے۔ یہی حال شجرہٴ نسب کا بھی ہے کہ اس طرح کا قاتل و ظالم انسان یزید بن معاویہ کے علاوہ کسی شخص کی طرف منسوب نہیں کیا جا سکتا ہے جس طرح کہ خود یزید کے باپ نے زیاد کو اتحاد کردار کی بنا پر اپنے شجرہ پر شامل کر لیا تھا۔

بہرحال ایسے انسان یا ایسی طاقت کا ظہور ضروری ہے کہ خدا جانے کب انکشاف ہو جائے کہ موجودہ طاقت وہی طاقت ہے جسے سفیانی سے تعبیر کیا گیا ہے اور ظہور امام اور جہادِ امام کا قت آگیا ہے، لہٰذا موٴمنین کرام کو ہر وقت اس جہاد کے لیے تیار رہنا چاہیے اور کسی وقت بھی اپنے فرض سے غافل نہیں ہونا چاہیے۔

۴۔ قتل نفس زکیہ
یعنی اولاد رسول اکرم میں ایک محترم اور پاکیزہ نفس انسان کو خانہٴ کعبہ کے پاس رکن و مقام کے درمیان قتل کر دیا جائے گا اور اس کے بعد حضرت کا ظہور ہوگا۔ ظاہر ہے کہ جب روایت میں کسی تفصیل کا ذکر نہیں ہے تو کوئی بھی محترم کسی وقت بھی قتل ہو سکتا ہے اور اس کے بعد امام عصرں کا ظہور ہو سکتا ہے جب کہ حکومت وقت ہمہ وقت اولاد رسول کے قتل و خون کے درپے رہتی ہے۔

۵۔ خروج سید حسنی
دیلم اور قزوین کی طرف سے ایک سید حسنی جن کا شجرہٴ نسب امام حسن مجتبیٰں تک پہنچتا ہے خروج فرمائیں گے اور وہ نصرت امام کے حق میں آواز بلند کریں گے جس پر طالقان کی ایک عظیم سپاہ آپ کے گرد جمع ہو جائے گی اور آپ کوفہ کا رخ کریں گے اور راستہ میں ظالموں کا قلع قمع کرتے جائیں گے اور اس وقت یہ خبر نشر ہوگی کہ امام عصرں نے ظہور فرمایا ہے اور کوفہ تشریف لے آئے ہیں۔ سید حسنی ان کی خدمت میں حاضر ہوکر ان سے دلائن امامت کا مطالبہ کریں گے تاکہ تمام لوگوں پر ان کی امامت کا اثبات ہو جائے اور اس کے بعد حضرت کی بیعت کریں گے لیکن ان کے ساتھیوں میں چار ہزار افراد معجزات کو جادو کا نام دے کر نہروان کے خوارج کی طرح بیعت سے انکار کر دیں گے اور بالآخر سب کے سب تہہ تیغ کر دیے جائیں گے۔

۶۔ وسط ِ ماہِ رمضان میں سورج گرہن اور آخر ماہِ رمضان میں چاند گرہن کا واقع ہونا جو عام طور سے نہیں ہوتا ہے اور نہ قابل وقوع تصور کیا جاتا ہے۔

۷۔ آسمان میں ایک پنجہ کا ظاہر ہونا یا چشمہٴ خورشید کے قریب سے ایک صورت کا ظاہر ہونا جو اس بات کی علامت ہے کہ آنے والا منظر عام پر آرہا ہے اور قدرت کا منشاء ہے کہ ساری دنیا اس حقیقت سے باخبر ہو جائے اور کسی طرح کا ابہام نہ رہ جائے۔ اب اگر کسی انسان کو دن کا سورج بھی نظر نہ آئے تو ایسے بوم صفت اور شپرّہ چشم انسان کا کوئی علاج نہیں ہے۔

چشمہٴ آفتاب سے شکل و صورت کا ظہور غالباً اس امر کی طرف بھی اشارہ ہے کہ امامت کا اقتدار زمین سے آسمان تک پھیلا ہوا ہے اور جس طرح پہلے امام نے آفتاب کو پلٹا کر اپنی امامت اور بندگی کا ثبوت پیش کیا تھا اسی طرح آخری امام بھی آفتاب ہی کے ذریعہ اپنے اقتدار کا اظہار کرے گا اور اپنے دلائل کو روز ِ روشن کی طرح واضح کرے گا۔

آفتاب کے وسیلہ قرار دینے میں یہ اشارہ بھی پایا جاتا ہے کہ زمین کا سارا نظام آفتاب کی گردش کا تابع ہے اور آفتاب کی گردش اشارہٴ امام کی تابع ہے تو جو شخص بھی گردش آفتاب کو منقلب کر سکتا ہے اور ڈوبے ہوئے آفتاب کو مغرب سے نکال سکتا ہے وہ نظام عالم کو کیونکر منقلب نہیں کر سکتا ہے؟ اور ڈوبے ہوئے اسلام و ایمان کو مغرب سے کیوں نہیں نمایاں کر سکتا ہے؟ ”ان ھذا الا اختلاق“۔

غیر حتمی علامات
غیر حتمی علامات کی فہرست بہت طویل ہے اور بعض حضرات نے سیکڑوں سے گزار کر ان علامات کو ہزاروں کی حدوں تک پہنچا دیا ہے اور حقیقت امر یہ ہے کہ ان میں اکثر باتیں علامات نہیں ہیں، بلکہ دنیا کے ظلم و جور سے بھر جانے کی تفصیلات ہیں اور یہی وجہ ہے کہ ان علامات میں ہر برائی کا تذکرہ موجود ہے جو دنیا کے ظلم و جور اور فسادات سے مملو ہو جانے کا خاصہ ہے۔ علامات کے طور پر حسب ذیل امور کا تذکرہ کیا جاتا ہے:

۱۔ مسجد کوفہ کی دیوار کا منہدم ہو جانا۔

۲۔ شط ِ فرات سے کوفہ کی گلیوں میں نہر کا جاری ہو جانا۔

۳۔ شہر کوفہ کا تباہی کے بعد دوبارہ آباد ہونا۔

۴۔ دریائے نجف میں پانی کا جاری ہو جانا۔

۵۔ فرات سے نجف کی طرف نہر کا جاری ہو جانا۔

۶۔ ستارہٴ جدی کے قریب دمدار ستارہ کا ظاہر ہونا۔

۷۔ دنیا میں شدید قسم کے قحط کا پیدا ہونا۔

۸۔ اکثر شہروں اور ملکوں میں زلزلہ اور طاعون کا پیدا ہونا۔

۹۔ مسلسل قتل و خون کا ہونا۔

۱۰۔ قرآن مجید کا زیورات سے آراستہ کرنا، مساجد میں سونے کا کام ہونا اور میناروں کا بلند ترین ہونا۔

۱۱۔ مسجد براثا کا تباہ ہو جانا۔

۱۲۔ مشرق زمین میں ایک ایسی آگ کا ظاہر ہونا جس کا سلسلہ تین روز یا سات روز تک جاری رہے۔

۱۳۔ سارے آسمان پر سرخی کا پھیل جانا۔

۱۴۔ کوفہ میں ہر طرف سے قتل و غارت کا برپا ہونا۔

۱۵۔ ایک جماعت کا بندر اور سور کی شکل میں مسخ ہو جانا۔

۱۶۔ خراسان سے سیاہ پرچم کا برآمد ہونا۔

۱۷۔ ماہِ جمادی الثانی اور رجب میں شدید قسم کی بارش کا ہونا۔

۱۸۔ عربوں کا مطلق العنان اور آوارہ ہو جانا۔

۱۹۔ سلاطینِ عجم کا بے آبرو اور بے وقار ہو جانا۔

۲۰۔ مشرق سے ایک ایسے ستارہ کا برآمد ہونا جس کی روشنی چاند جیسی ہو اور شکل بھی دونوں طرف سے کج ہو۔

۲۱۔ تمام عالم میں ظلم و ستم اور فسق و فجور کا عام ہو جانا جس کے بارے میں مولائے کائناتں نے اپنے خطبہ میں فرمایا تھا کہ ”جب لوگ نماز کو مردہ بنا دیں گے، امانتوں کو ضائع کر دیں گے، جھوٹ کو جائز بنا لیں گے، سود کھائیں گے، رشوت لیں گے، عمارتوں کو انتہائی مستحکم بنائیں گے، اقرباء سے قطع تعلق کر لیں گے، خواہشات کا اتباع کریں گے، خون کو سستا بنا لیں گے، تحمل کو دلیل کمزوری اور ظلم کو باعث فخر سمجھ لیں گے، امراء فاجر ہوں گے، وزراء ظالم ہوں گے، عرفاء خائن ہوں گے اور قرّاء فاسق ہوں گے، جھوٹی گواہیوں کا زور ہوگا۔ فجور کو اعلانیہ انجام دیا جائے گا، قرآن مجید کو زیورات سے آراستہ کیا جائے گا، مسجدوں میں سنہرا کام ہوگا، مینارے طویل ترین ہوں گے، اشرار کا احترام ہوگا، صفوں میں اژدہام ہوگا اور خواہشات میں اختلاف ہوگا، عہد توڑے جائیں گے، عورتوں کو طمع دنیا میں شریک تجارت بنایا جائے گا، فساق کی آواز بلند ہوگی اور اسے سنا جائے گا، رذیل ترین آدمی سردار قوم ہوگا، فاجر سے اس کے شر کے خوف سے ڈرا جائے گا، جھوٹے کی تصدیق کی جائے گی، خائن کو امین بنایا جائے گا، ناچ گانے کا کاروبار عام ہوگا اور امت کا آخری آدمی پہلے آدمی پر لعنت کرے گا، عورتیں گھوڑوں پر سواری کریں گی، مرد عورتوں سے مشابہ اور عورتیں مردوں سے مشابہ ہو جائیں گی، لوگ زبردستی گواہی پیش کریں گے اور بغیر حق کو سمجھے ہوئے گواہی دیں گے، علم دین غیر دین کے لیے حاصل کیا جائے گا، عمل دنیا کو آخرت پر ترجیح دی جائے گی، دل بھیڑیوں جیسے اور لباس بکریوں جیسے ہوں گے، دل مردار سے زیادہ بدبودار اور ایلوا سے زیادہ تلخ ہوں گے۔ اس وقت بہترین مقام بیت المقدس ہوگا جس کے بارے میں لوگ تمنا کریں گے کہ کاش ہماری منزل وہاں ہوتی۔

اس کے علاوہ اور بھی علامات کا ذکر کیا گیا ہے جن سے اس دور کی عکاسی ہوتی ہے جب ظلم و جور اور فسق و فجور کا دور دورہ ہوگا اور عدل و انصاف اور دین و ایمان دم توڑ دیں گے۔

خصائص و امتیازات امام عصر

ان خصوصیات میں بعض کا تعلق آپ کی ذات ِ مبارک سے ہے اور بعض کا تعلق آپ کے اضافی اوصاف و کمالات سے ہے اور بعض میں آپ کے اندازِ حکومت اور دورِ اقتدار کی امتیازی حیثیت کا اعلان کیا گیا ہے۔ مجموعی طور پر ان خصوصیات کی تعداد کا مختصر خاکہ علامہ شیخ عباس قمی نے ۴۶ امور سے مرتب کیا ہے:

۱۔ آپ کا نور ِ اقدس بھی انوار ِ قدسیہ کے درمیان ایک مخصوص حیثیت کا حامل ہے جیساکہ احادیث معراج سے ظاہر ہوتا ہے۔

۲۔ شرافت ِنسب، آپ کو جملہ ائمہ طاہرین سے انتساب کے علاوہ قیصر روم اور جناب شمعون وصی حضرت عیسیٰں سے بھی انتساب حاصل ہے۔

۳۔ روزِ ولادت روح القدس آپ کو آسمانوں کی طرف لے گیا اور وہاں فضائے قدس میں آپ کی تربیت ہوتی رہی۔

۴۔ آپ کے لیے ایک مخصوص مکان بیت الحمد نام کا ہے جہاں کا چراغ روزِ ولادت سے روشن ہے اور روزِ ظہور تک روشن رہے گا۔

۵۔ آپ کو رسول اکرم کا اسم گرامی اور کنیت دونوں کا شرف حاصل ہوا ہے، یعنی ”ابو القاسم محمد“۔

۶۔ دور ِ غیبت میں آپ کو نام محمد سے یاد کرنا ممنوع قرار دیا گیا ہے۔

۷۔ آپ کی ذات ِ گرامی پر وصایت کا عہدہ ختم ہوگیا اور آپ خاتم الاوصیاء ہیں۔

۸۔ آپ کو روز اول ہی سے غیبت کا شرف حاصل ہوا ہے اور آپ ملائکہ مقربین کی تحویل میں رہے ہیں۔

۹۔ آپ کو کفار و مشرکین و منافقین کے ساتھ معاشرت نہیں اختیار کرنا پڑی۔

۱۰۔ آپ کو کسی بھی حاکم ظالم کی رعایا میں نہیں رہنا پڑا۔

۱۱۔ آپ کی پشت مبارک پر رسول اکرم کی مہر نبوت کی طرح نشانِ امامت ثبت ہے۔

۱۲۔ آپ کا ذکر کتب سماویہ میں القاب و خطابات کے ذریعہ ہوا ہے اور نام نہیں لیا گیا ہے۔

۱۳۔ آپ کے ظہور کے لیے بے شمار علامتیں بیان کی گئی ہیں۔

۱۴۔ آپ کے ظہور کا اعلان ندائے آسمانی کے ذریعہ ہوگا۔

۱۵۔ آپ کے دور ِ حکومت میں سن و سال کا انداز عام حالات سے مختلف ہوگا اور گویا حرکت فلک سست پڑ جائے گی۔

۱۶۔ آپ مصحف امیر الموٴمنین کو لے کر ظہور فرمائیں گے۔

۱۷۔ آپ کے سر پر مسلسل ابر سفید کا سایہ ہوگا۔

۱۸۔ آپ کے لشکر میں ملائکہ اور جنات بھی شامل ہوں گے۔

۱۹۔ آپ کی صحت پر طول زمانہ کا کوئی اثر نہ ہوگا۔

۲۰۔ آپ کے دور میں حیوانات اور انسانوں کے درمیان وحشت و نفرت کا دور ختم ہو جائے گا۔

۲۱۔ آپ کی رکاب میں بہت سے مر جانے والے بھی زندہ ہوکر شامل ہوں گے۔

۲۲۔ آپ کے سامنے زمین سارے خزانے الگ دے گی۔

۲۳۔ آپ کے دور میں پیداوار اور سبزہ زار اس قدر ہوگا کہ گویا زمین دوسری زمین ہو جائے گی۔

۲۴۔ آپ کی برکت سے لوگوں ی عقلوں کو کمال حاصل ہو جائے گا۔

۲۵۔ آپ کے اصحاب کے پاس غیر معمولی قوت ِ سماعت و بصارت ہوگی کہ چار فرسخ سے حضرت کی آواز سن لیں گے۔

۲۶۔ آپ کے اصحاب و انصار کی عمریں بھی طولانی ہوں گی۔

۲۷۔ آپ کے انصار کے اجسام بھی مرض اور بیماری سے بری ہوں گے۔

۲۸۔ آپ کے اعوان و انصار میں ہر شخص کو ۴۰ افراد کے برابر قوت عطا کی جائے گی۔

۲۹۔ آپ کے نور ِ اقدس کے طفیل میں لوگ نور شمس و قمر سے بے نیاز ہو جائیں گے۔

۳۰۔ آپ کے دست ِ مبارک میں رسول اکرم کا پرچم ہوگا۔

۳۱۔ آپ کے جسم اقدس پر رسول اکرم کی زرہ بالکل درست ہوگی۔

۳۲۔ آپ کے لیے ایک خاص بادل ہوگا جو آپ کو مختلف مقامات پر لے جایا کرے گا۔

۳۳۔ آپ کے دور میں تقیہ کا سلسلہ ختم ہو جائے گا اور شوکت کاذبین و ظالمین کا خاتمہ ہو جائے گا۔

۳۴۔ آپ کی حکومت مشرق و مغرب عالم پر ہوگی۔

۳۵۔ آپ کے دور میں زمین عدل و انصاف سے بھر جائے گی۔

۳۶۔ آپ کے فیصلے علم امامت کے مطابق ہوں گے اور صرف ظاہری شواہد پر اکتفا نہ کی جائے گی۔

۳۷۔ آپ ان مخصوص احکام کو رائج کریں گے جو اس دور تک رائج نہ ہو سکے ہوں گے۔ مثال کے طور پر اگر کوئی بیس سال کا نوجوان احکام دین سے بے خبر ہوگا تو اسے تہہ تیغ کر دیں گے اور زندہ رہنے کا حق نہ دیں گے کہ بلوغ کے بعد بھی پانچ سال کی مہلت دی جا چکی ہے۔

۳۸۔ آپ علوم کے ان ۲۵ حروف کا اظہار کریں گے جن کا اب تک اظہار نہیں ہو سکا ہے اور انبیاء کرام اور اولیاء عظام نے ۲۷ حروف میں سے صرف دو کا اظہار کیا ہے۔

۳۹۔ آپ کے اصحاب و انصار کے لیے آسمان سے تلواریں نازل ہوں گی۔

۴۰۔ آپ کے اصحاب و انصار کی جانور تک اطاعت کریں گے۔

۴۱۔ آپ کوفہ میں حضرت موسیٰں کے پتھر سے پانی اور دودھ کی دو نہریں جاری فرمائیں گے۔

۴۲۔ آپ کی مدد کے لیے آسمان سے حضرت عیسیٰں نازل ہوں گے اور آپ کے پیچھے نماز ادا کریں گے۔

۴۳۔ آپ اس دجال ملعون کو قتل کریں گے جس سے ہر نبی نے اپنی امت کو ہوشیار رہنے کی تلقین کی ہے۔

۴۴۔ آپ کے علاوہ امیر الموٴمنینں کے بعد کسی کے جنازہ پر سات تکبیروں کا جواز نہ ہوگا۔

۴۵۔ آپ کی تسبیح ۱۸ تاریخ سے آخر ماہ تک ہے، یعنی تقریباً ۱۲ دن۔ جب کہ باقی معصومین کی تسبیح بس ایک روز ہے یا دو روز۔

۴۶۔ آپ کی حکومت کا سلسلہ قیامت سے متصل ہوگا کہ آپ خود حکومت کریں گے یا ائمہ طاہرین رجعت فرمائیں گے یا آپ کی اولاد کی حکومت ہوگی لیکن مجموعی طور پر یہ سلسلہ قیامت سے متصل ہو جائے گا جیساکہ امام صادقں فرمایا کرتے تھے:

لکل اناس دولة یرقبونھا

و دولتنا فی آخر الدھر لیظھر

آپ کے ذاتی دور ِ حکومت کے بارے میں علماءِ اعلام کے اقوال میں شدید اختلاف پایا جاتا ہے اور سات سال سے ۱۹ یا ۴۹ سال تک کا ذکر کیا گیا ہے۔ اس کے بعد آپ کی شہادت واقع ہوگی اور امام حسینں آپ کی تجہیز و تکفین کے امور انجام دیں گے اور ائمہ طاہرین کی ظاہری حکومت کا سلسلہ شروع ہوگا جو دور ظہور امام عصر میں دوبارہ اس دنیا میں تشریف لائیں گے اور ان کی نگرانی میں اولیاء صالحین اور اولاد امام عصر حکومت کرے گی اور یہ سلسلہ قیامت تک مستمر رہے گا۔ لیکن آپ کے دور حکومت میں سال سے مراد کیا ہے اور سات سال یا ۱۹ سال کس مقدار زمانہ کی طرف اشارہ ہے اور رجعت کی صورت کیا ہوگی؟ تمام ائمہ کرام تشریف لائیں گے یا بعض کا ظہور ہوگا؟۔۔۔۔۔ اور رجعت میں گزشتہ ترتیب کا لحاظ ہوگا یا کسی اور ترتیب سے تشریف لائیں گے؟ اور حکومت بھی گزشتہ ترتیب امامت کے مطابق ہوگی یا کوئی اور طریقہ کار ہوگا؟ پھر اولیاء صالحین سے مراد یہی ائمہ طاہرین یا ان کے مخصوص اصحاب مراد ہیں یا امام عصرں کی اولاد کے نیک کردار افراد مراد ہیں؟

یہ سارے امور ہیں جن کی تفصیل نہ واضح کی گئی ہے اور نہ کوئی شخص ان کے بارے میں کوئی حتمی فیصلہ کر سکتا ہے۔ روایات میں بھی بے حد اختلاف پایا جاتا ہے اور علماء ِ اعلام کا استنباط و استنتاج بھی بالکل مختلف ہے۔ بنابریں اتنا اجمالی ایمان ضروری اور کافی ہے کہ دورِ ظہور امام عصر میں ائمہ طاہرین کی رجعت ہوگی اور ان کی حکومت قائم ہوگی کہ رب العالمیند نے آخرت سے پہلے صاحبانِ ایمان سے اس دنیا میں اقتدار اور حکومت کا وعدہ کیا ہے اور مظلومین کو ظالمین سے بدلہ لینے کا موقع دینے کا اعلان کیا ہے۔ اس کے علاوہ ان کا وجود اس لیے بھی ضروری ہے کہ امام عصرں کی شہادت کے بعد زمین حجت ِ خدا سے خالی نہ ہو جائے اور یہ سلسلہ صبح قیامت تک برقرار رہے، دین خدا تمام ادیان عالم پر غالب آئے اور صاحبانِ ایمان و کردار کی حکومت قائم ہو۔ خوف امن سے تبدیل ہو جائے اور ساری کائنات پر اس دین کا پرچم لہرائے جسے غدیر کے میدان میں پسندیدہ قرار دیا گیا ہے۔ عبادت ِ الٰہی کا دور دورہ ہو اور شرک کا سلسلہ ختم ہو جائے اور ہر صاحب ِ ایمان کی زبان پر ایک ہی فقرہ ہو، ”الحمد للّٰہ رب العالمین“ جیساکہ دعائے ندبہ میں نہایت وضاحت کے ساتھ اعلان کیا گیا ہے۔


بشکریہ شيعه اسٹیڈیز ڈاٹ کام
 

9 Jan 2012 |

 
 

طلوع شمس امامت


 
طلوع شمس امامت
 کلام: شہید محسن نقوی 
اے    فخر    ابن    مریم    وسلطان   فقر   خو
تیرے   کرم   کا   ابر   برستا   ہے   چار   سُو


تیرے   لیے   ہوائیں  بھٹکتی  ہیں  کو  بہ  کو
تیرے   لئے   ہی   چاند   اترتا  ہے  جوبجو  !


پانی    ترے   لیے   ہے   سدا   ارتعاش   میں
سورج   ہے  تیرے  نقش  قدم  کی  تلاش  میں


اےآسمان    فکر    بشر    ،    وجہ   ذوالجلال
اے   منزل   خرد   کا   نشاں   ،  سرحد  خیال


اے    حُسن    لایزال    کی    تزئین    لازوال
رکھتا  ہے  مضطرب  مجھے  اکثر  یہی سوال


جب   تو   زمین   واہل   زمین  کا  نکھار  ہے
عیسیٰ  کو  کیوں  فلک  پہ  ترا  انتظار  ہے  ؟


اے    عکس   خدوخالِ   پیمبر   جمال   ِ   حق
تیری   ترنگ   میں   ہیں  فضائیں  شفق  شفق


تیری  عطا  سے  نبض  جہاں  میں  سدا  رمق
تیری    کرن    پڑے    تو    رُخ    آفتاب   فَق


تیرے  نفس  کی  آنچ دل خشک وتر میں ہے !
تیرے  ہی  گیسوؤں  کی  تجلی سحر میں ہے!!


تو   مسکرا  پڑے  تو  خزاں  رنگ  رنگ  ہو
تو  چُپ  رہے  تو  سارا  جہاں  مثل  سنگ  ہو


تو  بول  اُٹھے  تو  نطق  جہاں  ساز  دَنگ  ہو
ر  دل  میں  کیوں  نہ تیری "ولا" کی امنگ ہو


میں  کیوں  نہ  تیرا  شکر  کروں بات بات میں
ہر  سانس  تیرے  دَر  سے ملی ہے زکواۃ میں


تیرے   حشم   سے   رنگ  فلک  لاجورد  ہے
مہتاب   تیرے  حسن  کے  پرتو  سےزرد  ہے


موج   ہوائے   خلد   ترے   دم  سے  سرد  ہے
محشر کی دُھوپ کیا؟ تیرے قدموں کی گرد ہے


تیرا    کرم    بہشت    بریں   کا   سُہاگ   ہے
تیرا  غضب  ہی  اصل  میں دوزخ کی آگ ہے


اے   باغ   عسکری   کے   مقدس  ترین  پھول
اے    کعبۂ    فروع    نظر    ،   قبلۂ   اصول!


آ،  ہم  سے  کر  خراج  دل وجاں کبھی وصول
تیرے    بغیر    ہم    کو   قیامت   نہیں   قبول


دنیا   نہ   مال   وزر  نہ  وزارت  کےواسطے
ہم  جی  رہے  ہیں  تیری  زیارت کے واسطے


مولا    تیرے   حجاب   معانی   کی   خیر   ہو
تیرے   کرم   کی،   تیری  کہانی  کی  خیر  ہو


تیرے    خرام   تیری   روانی   کی   خیر   ہو
نرجس   کا   لال   تیری  جوانی  کی  خیر  ہو


ممکن   ہے   اپنی   موت   نہایت  قریب  ہو  !
اک  شب  تو  خواب  ہی میں زیارت نصیب ہو


اے    آفتاب    مطلع    ہستی    ،   ابھر   کبھی
اے    چہرۂ    مزاج    دو   عالم   نکھر   کبھی


اے  عکس  حق ، فلک سےادھر بھی اتر کبھی
اے   رونق   نُمو   ،   لے   ہماری  خبر  کبھی


قسمت  کی  سرنوشت  کو  ٹوکے  ہوئے ہیں ہم
تیرے  لئے  تو  موت  کو  روکے ہوئے ہیں ہم


اب  بڑھ چلا ہے ذہن ودل وجاں میں اضطراب
پیدا    ہیں    شش   جہات   میں   آثار   انقلاب


اب  ماند  پڑ  رہی  ہے  زمانے  کی  آب وتاب
اپنے  رُخ  حسیں  سے  اُٹھا  تُو  بھی اَب نقاب


ہرسُو   یزیدیت   کی   کدورت   ہے  اِن  دنوں
مولا   !  تیری  شدید  ضرورت  ہے  ان  دنوں


نسل   ستم   ہے   در   پئے  آزار  ،  اب  تو  آ
پھر  سج  رہے  ہیں  ظلم  کے دربار ، اب تو آ


پھر   آگ   پھر   وہی   درودیوار  ،  اب  تو  آ
کعبے  پہ  پھر  ہے  ظلم  کی  یلغار  ، اب تو آ


دِن  ڈھل  رہا  ہے  ،  وقت  کو  تازہ  اُڑان دے
آ   "اے   امام  عصر"  حرم  میں  "اذان"  دے


از           کتاب           "فرات           فکر"
 


9 Jan 2012 |

 
 

ظہور مہدی (ع) کا عقیدہ اسلامی عقیدہ ہے

ظہور مہدی (ع) کا عقیدہ اسلامی عقیدہ ہے
 
تحریر: آیۃ اللہ العظمیٰ صافی گلپائگانی
www.tebyan.net


جو لوگ شیعوں کے بارہ میں غلط فہی میں مبتلا ہوکر شیعہ حقائق کا مطالعہ کرتے ہیں یا دشمنان اسلام کے سیاسی اغراض پر مبنی مسموم افکار کی ترویج کرتے ہیں وہ جادۂ تحقیق سے منحرف ہوکر اپنے مقالات یا بیانات میں یہ اظہار کرتے ہیں کہ ظہور مہدی (ع) کا عقیدہ ،شیعہ عقیدہ ہے اور اسے تمام اسلامی فرقوں کا عقیدہ تسلیم کرتے ہوئے انھیں زحمت ہوتی ہے۔
کچھ لوگ تعصب ونفاق کے علاوہ تاریخ وحدیث اورتفسیر ورجال سے ناواقفیت،اسلامی مسائل سے بے خبری اور عصر حاضر کے مادی علوم سے معمولی آگاہی کے باعث تمام دینی مسائل کو مادی اسباب وعلل کی نگاہ سے دیکھتے اور پرکھتے ہیں اور اگر کہیں کوئی راز یا فلسفہ سمجھ میں نہ آئے توفوراً تاویل وتوجیہ شروع کردیتے ہیں یا سرے سے انکار کربیٹھتے ہیں۔
اس طرح اپنے کمرہ کے ایک کونے میں بیٹھ کر قلم اٹھاتے ہیں اور اسلامی مسائل سے متعلق گستاخانہ انداز میں اظہار نظر کرتے رہتے ہیں جب کہ یہ مسائل ان کے دائرہ کا رومعلومات سے باہر ہیں، اس طرح یہ حضرات قرآن وحدیث سے ماخوذ مسلمانوں کے نزدیک متفق علیہ مسائل کا بہ آسانی انکار کردیتے ہیں۔ انھیں قرآن کے علمی معجزات، اسلامی قوانین اور اعلیٰ نظام سے زیادہ دلچسپی ہوتی ہے لیکن انبیاء کے معجزات اور خارق العادہ تصرفات کے بارے میں گفتگو سے گریز کرتے ہیں تاکہ کسی نووارد طالب علم کے منہ کا مزہ خراب نہ ہو جائے یا کوئی بے خبر اسے بعید از عقل نہ سمجھ بیٹھے۔
ان کے خیال میں کسی بات کے صحیح ہونے کا مطلب یہ ہے کہ اسے ہر آدمی سمجھ سکے یا ہر ایک دانشوراس کی تائید کرسکے یا ٹیلی اسکوپ، مائیکرو اسکوپ یا لیبوریٹری میں فنی وسائل کے ذریعہ اس کا اثبات ہو سکے۔
ایسے حضرات کہتے ہیں کہ جہاں تک ممکن ہو انبیاء (ع) کو ایک عام آدمی کی حیثیت سے پیش کرنا چاہئے اور حتی الامکان ان کی جانب معجزات کی نسبت نہیں دینا چاہئے بلکہ بہتر تو یہ ہے کہ دنیا کے حوادث کی نسبت خداوند عالم کی جانب بھی نہ دی جائے یہ لوگ خدا کی قدرت، حکمت، علم، قضا وقدر کا صریحی تذکرہ بھی نہیں کرتے جو کچھ کہنا ہوتا ہے مادہ سے متعلق کہتے ہیں۔
خدا کی حمد وستائش کے بجائے مادہ اور طبیعت (Nature)کے گن گاتے ہیں تاکہ ان لوگوں کی لے میں لے ملا سکیں، جنہوں نے تھوڑے مادی علوم حاصل کئے ہیں یا فزکس، کمیسٹری، ریاضی سے متعلق چند اصطلاحات، فارمولے وغیرہ سیکھ لئے ہیں اوراگر انگریزی یا فرانسیسی زبان بھی آ گئی تو کیا کہنا۔
یہ صورت حال کم وبیش سبھی جگہ سرایت کر رہی ہے اور زندگی کے مختلف شعبوں میں اس کے آثار نمایاں نظر آتے ہیں، عموماً اس صورت حال کا شکار کچے ذہن کے وہ افراد ہوتے ہیں جو علوم قدیم وجدید کے محقق تو نہیں ہیں لیکن مغرب کے کسی بھی نظریہ یا کسی شخص کی رائے کو سو فیصدی درست مان لیتے ہیں چاہے اس کا مقصد سیاسی اور استعماری ہی رہا ہو، ہمارے بعض اخبارات، رسائل، مجلات و مطبوعات بھی دانستہ یا نادانستہ طور پر انہیں عوامل سے متاثر ہو کر سامراجی مقاصد کی خدمت میں مصروف ہیں ۔
انہیں یہ احساس نہیں ہے کہ یورپ اور امریکہ کے اکثر لوگ اور ان کے حکام کی علمی، عقلی، فلسفی اور دینی معلومات بالکل سطحی ہوتی ہیں، وہ اکثر بے خبر اور مغرض ہوتے ہیں (بلکہ ایک رپورٹ کے مطابق ٨١ فیصدافراد ضعف عقل و اعصاب ا ور دماغ میں مبتلا ہیں)اور اپنے پست اور انسانیت سے دور سیاسی مقاصد کے لئے دنیا کے مختلف مقامات پر اپنے سیاسی مفادات کے مطابق گفتگو کرتے ہیں، البتہ جو لوگ ذی علم و استعداد، محقق و دانشور ہیں ان کا معاملہ فحشاء و فساد میں ڈوبی اکثریت سے الگ ہے۔
ان کے معاشرہ میں ہزاروں برائیاں اور خرافات پائے جاتے ہیں پھر بھی وہ عقلی، سماجی، اخلاقی اور مذہبی بنیاد پر مبنی مشرقی عادات و رسوم کا مذاق اڑاتے ہیں۔
مشرق میں جو صورتحال پیدا ہو گئی ہے اسے ''مغرب زدہ ہونا'' یا مغرب زدگی کہا جاتا ہے جس کی مختلف شکلیں ہیں اور آج اس سے ہمارا وجود خطرے میں ہے، انہوں نے بعض اسلامی ممالک کی سماجی زندگی سے حیاو عفت اور اخلاقی اقدار کو اس طرح ختم کر دیا ہے کہ اب ان کا حشر بھی وہی ہونے والا ہے جو اندلس (اسپین) کے اسلامی معاشرہ کا ہوا تھا۔
افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ ہمارے زمانہ میں ایسے افراد جن کی معلومات اخبارات و رسائل سے زیادہ نہیں ہے اور انہوں نے مغربی ممالک کا صرف ایک دو مرتبہ ہی سفر کیا ہے،مغرب زدگی، مغرب کے عادات و اخلاق کے سامنے سپرانداختہ ہوکر موڈرن بننے کی جھوٹی اور مصنوعی خواہش، جو دراصل رجعت پسندی ہی ہے کو روشن فکری کی علامت قرار دیتے ہیں،اور اغیار بھی اپنے ذرائع کے ذریعہ مثلاً اپنے سیاسی مقاصد کے لئے انہیں مشتشرق، خاورشناس کا ٹائٹل دے کر ان جیسے افراد کی حوصلہ افزائی کرتے رہتے ہیں۔
ظہور حضرت مہدی (ع) کے بارے میں بھی ادھر ہمارے سنّی بھائیوں میں سے کچھ مغرب زدہ احمد امین، عبدالحسیب طٰہٰ حمیدہ جیسے افراد نے امام مہدی (ع) کے متعلق روایات نقل کرنے کے باوجود تشیع پر حملے کئے ہیں گویا ان کے خیال میں یہ صرف شیعوں کا عقیدہ ہے یا کتاب و سنت، اقوال صحابہ و تابعین وغیرہ میں اس کا کوئی مدرک و ماخذ نہیں ہے، بے سر پیر کے اعتراضات کر کے یہ حضرات اپنے کو روشن فکر، مفکر اور جدید نظریات کا حامل سمجھتے ہیں،غالباً سب سے پہلے جس مغرب زدہ شخص نے ظہور مہدی (ع) سے متعلق روایات کو ضعیف قرار دینے کی ناکام و نامراد کوشش کی وہ ابن خلدون ہے، جس نے اسلامی مسائل کے بارے میں ہمیشہ بغض اہلبیت (ع) اور اموی افکار کے زیر اثر بحث و گفتگو کی ہے۔
''عقاد '' کے بقول اندلس کی اموی حکومت نے مشرقی اسلام کی وہ تاریخ ایجاد کی ہے جو مشرقی مورخین نے ہرگز نہیں لکھی تھی اور اگر مشرقی مورخین لکھنا بھی چاہتے تو ایسی تاریخ بہر حال نہ لکھتے جیسی ابن خلدون نے لکھی ہے۔
اندلس کی فضا میں ایسے مورخین کی تربیت ہوتی تھی جو اموی افکار کی تنقید و تردید کی صلاحیت سے بے بہرہ تھے، ابن خلدون بھی انہیں افراد میں سے ہے جو مخصوص سیاسی فضا میں تربیت پانے کے باعث ایسے مسائل میں حقیقت بین نگاہ سے محروم ہو گئے تھے، فضائل اہلبیت (ع) سے انکار یا کسی نہ کسی انداز میں توہین یا تضعیف اور بنی امیہ کا دفاع اور ان کے مظالم کی تردیدسے ان کا قلبی میلان ظاہر ہے۔ ابن خلدون معاویہ کو بھی ''خلفائے راشدین'' میں شمار کرتے ہیں۔
انہوں نے مہدی (ع) اہل بیت (ع) کے ظہور کے مسئلہ کو بھی اہل بیت (ع) سے بغض و عناد کی عینک سے دیکھا ہے کیونکہ مہدی (ع) بہرحال اولاد فاطمہ (ص) میں سے ہیں خانوادہ رسالت کا سب سے بڑا سرمایۂ افتخارہیں لہٰذا اموی نمک خوار کے حلق سے فرزند فاطمہ(ص) کی فضیلت کیسے اتر سکتی تھی چنانچہ روایات نقل کرنے کے باوجود ان کی تنقید و تضعیف کی سعی لاحاصل کی اور جب کامیابی نہ مل سکی تو اسے ''بعید'' قرار دے دیا۔
اہل سنت کے بعض محققین اور دانشوروں نے ابن خلدون اور اس کے ہم مشرب افراد کا دندان شکن جواب دیا ہے اور ایسے نام نہاد روشن فکر افراد کی غلطیاں نمایاں کی ہیں۔
معروف معاصر عالم استاد احمد محمد شاکر مصری ''مقالید الکنوز'' میں تحریر فرماتے ہیں ''ابن خلدون نے علم کے بجائے ظن و گمان کی پیروی کر کے خود کو ہلاکت میں ڈالا ہے۔ ابن خلدون پر سیاسی مشاغل، حکومتی امور اور بادشاہوں، امیروں کی خدمت و چاپلوسی کا غلبہ اس قدر ہو گیا تھا کہ انہوں نے ظہور مہدی (ع) سے متعلق عقیدہ کو ''شیعی عقیدہ'' قرار دے دیا۔ انہوں نے اپنے مقدمہ میں طویل فصل لکھی ہے جس میں عجیب تضاد بیان پایا جاتا ہے ابن خلدون بہت ہی فاش غلطیوں کے مرتکب ہوئے ہیں، پھر استاد شاکر نے ابن خلدون کی بعض غلطیاں نقل کرنے کے بعد تحریر فرمایا: اس(ابن خلدون) نے مہدی (ع) سے متعلق روایات کو اس لئے ضعیف قرار دیا ہے کہ اس پر مخصوص سیاسی فکر غالب تھی، پھر استاد شاکر مزید تحریر کرتے ہیں کہ: ابن خلدون کی یہ فصل اسماء رجال، علل حدیث کی بے شمار غلطیوں سے بھری ہوئی ہے کبھی کوئی بھی اس فصل پر اعتماد نہیں کرسکتا۔''
استاد احمد بن محمد صدیق نے تو ابن خلدون کی رد میں ایک مکمل کتاب تحریر کی ہے جس کا نام ''ابراز الوہم المکنون عن کلام ابن خلدون'' ہے۔ اس کتاب میں استاد صدیق نے مہدویت سے متعلق ابن خلدون کی غلطیوں کی نشاندہی کرتے ہوئے ان کا مکمل جواب دیا ہے اور ابن خلدون کو بدعتی قرار دیا ہے۔
ہر چند علمائے اہل سنت نے اس بے بنیاد بات کا مدلل جواب دیا ہے اور یہ ثابت کیا ہے کہ ظہور مہدی (ع) کا عقیدہ خالص اسلامی عقیدہ ہے اور امت مسلمہ کے نزدیک متفق علیہ اور اجتماعی ہے مگرہم چند باتیں بطور وضاحت پیش کر رہے ہیں :
١۔ شیعوں کا جو بھی عقیدہ یا نظریہ ہے وہ اسلامی عقیدہ و نظریہ ہے، شیعوں کے یہاں اسلامی عقائد و نظریات سے الگ کوئی عقیدہ نہیں پایا جاتا، شیعی عقائد کی بنیاد کتاب خدا اور سنت پیغمبر (ص) ہے اس لئے یہ ممکن ہی نہیں ہے کہ کوئی عقیدہ شیعی عقیدہ ہو مگر اسلامی عقیدہ نہ ہو۔
٢۔ ظہور مہدی (ع) کا عقیدہ شیعوں سے مخصوص نہیں ہے بلکہ علمائے اہلسنت بھی اس پر متفق ہیں اور یہ خالص اسلامی عقیدہ ہے۔
٣۔ آپ کے نزدیک ''اسلامی عقیدہ'' کا معیار کیا ہے؟ اگر قرآن مجید کی آیات کی تفسیر اسی سے ہوتی ہو تو کیا وہ عقیدہ اسلامی عقیدہ نہ ہوگا؟ اگر صحیح، معتبر بلکہ متواتر روایات (جو اہل سنت کی کتب میں بھی موجود ہیں) سے کوئی عقیدہ ثابت ہو جائے تب بھی کیا وہ عقیدہ اسلامی عقیدہ نہ ہوگا؟
اگر صحا بہ و تابعین اور تابعینِ تابعین کسی عقیدہ کے معتقد ہوں تو بھی وہ عقیدہ اسلامی نہیں ہے؟ اگر شواہد اور تاریخی واقعات سے کسی عقیدہ کی تائید ہو جائے اور یہ ثابت ہو جائے کہ یہ عقیدہ ہر دور میں پوری امت مسلمہ کے لئے مسلّم رہا ہے پھر بھی کیا آپ اسے اسلامی عقیدہ تسلیم نہ کریں گے؟
اگر کسی موضوع سے متعلق ابی دائود صاحب سنن جیسا محدث پوری ایک کتاب بنام ''المہدی''، شوکانی جیسا عالم ایک کتاب ''التوضیح'' اسی طرح دیگر علماء کتابیں تحریر کریں، بلکہ پہلی صدی ہجری کی کتب میں بھی یہ عقیدہ پایا جاتا ہوتب بھی یہ عقیدہ اسلامی نہ ہوگا؟
پھر آپ ہی فرمائیں اسلامی عقیدہ کا معیار کیا ہے؟ تاکہ ہم آپ کے معیار و میزان کے مطابق جواب دے سکیں، لیکن آپ بخوبی جانتے ہیںکہ آپ ہی نہیںبلکہ تمام مسلمان جانتے ہیں کہ مذکورہ باتوں کے علاوہ اسلامی عقیدہ کا کوئی اور معیار نہیں ہو سکتا اور ان تمام باتوں سے ظہور مہدی (ع) کے عقیدہ کا اسلامی ہونا مسلّم الثبوت ہے چاہے آپ تسلیم کریں یا نہ کریں۔
 


9 Jan 2012 |

 
 

حضرت فاطمه کي نگاه ميں خاندان کي اهميت

ام الحسنین اور تربیت اولاد
مقدمه
فاطمه کي ولادت
اولاد کي تعريف
معني تربيت
حضرت فاطمه کي نگاه ميں خاندان کي اهميت
تمام صفحات غلام مرتضیٰ انصاری

الحمد للہ رب العالمین وصلی اللہ علی محمد وآلہ الطاہرین ولعنۃ اللہ علی اعدائھم اجمعین ۔ السلام علیک یا فاطمۃ الزھراء یابنت رسول اللہ اشفعی لنا عنداللہاما بعد قال اللہ تعالی فی کلامہ المجید بسم اللہ الرحمن الرحیم انا اعطیناک الکوثر فصل لربک وانحر ان شانئک ہو الابتر ۔ یه مختصر مقاله" سیدہ کونین ام الحسنین اور تربیت اولاد" کے موضوع پر اپنی بساط کے مطابق تربیت اولاد سے مربوط چہاردہ معصومین E کےفرامین کو رنگ فاطمی میں رقم کرنے کی کوشش کی ہے اس امید کے ساتھ کہ روز جزا ،آپ کی شفاعت ہم سب کو نصیب ہوں۔

والسلام علیٰ من اتبع الھدیٰ                                                                                                   آپ کی ولادت ۲۰ جمادی الثانی ۵ بعثت کو مکہ مکرمہ میں ہوئی ۔ آپ کا نام اور القاب کے لحاظ سے اسم با مسمی تھی، جیسے : صديقه، طاهره ، زکيه ، زهرا ، سيدة النساء العالمين ، خير النساء اور بتول اور آپ کی کنیات جیسے : ام الحسن ، ام الحسنين ، ام الائمة ، ام ابیھا ... اور لفظ ' ام' ماں کے علاوہ کئی اور معنی جیسے اصل اور منشاء میں بھی استعمال ہوا ہے اس لئے فاطمہ Iکو منشاء امامت و نبوت بھی کہا جا سکتا ہے ۔                                                                                                                                  وَ اعْلَمُوا أَنَّما أَمْوالُكُمْ وَ أَوْلادُكُمْ فِتْنَةٌ وَ أَنَّ اللَّهَ عِنْدَهُ أَجْرٌ عَظيمٌ۔ َقال: إِنَّهُمْ لَثَمَرَةُ الْقُلُوبِ وَ قُرَّةُ الْأَعْيُن‏۔رسول اللہ ۖ نے فرمایا: اولاد دلوں کا ثمرہ ہے اور آنکھوں کی ٹھنڈک۔ اور فرمایا: انّ لکل شجرة ثمرة وثمرةالقلب الولد۔ ہر درخت کا پھل ہوتا ہے اور دل کا پھل اولاد ہے۔ الْقُطْبُ الرَّاوَنْدِيُّ فِي دَعَوَاتِهِ، رُوِيَ عَنِ الْحَسَنِ الْبَصْرِيِّ أَنَّهُ قَالَ بِئْسَ الشَّيْ‏ءُ الْوَلَدُ إِنْ عَاشَ كَدَّنِي وَ إِنْ مَاتَ هَدَّنِي فَبَلَغَ ذَلِكَ زَيْنَ الْعَابِدِينَ ع فَقَالَ كَذَبَ وَ اللَّهِ نِعْمَ الشَّيْ‏ءُ الْوَلَدُ إِنْ عَاشَ فَدَعَّاءٌ حَاضِرٌ وَ إِنْ مَاتَ فَشَفِيعٌ سَابِقٌ۔ اولاد کی اتنی فضیلت کے باوجود ایک دن حسن بصری نے کہا: اولاد کتنی بری چیز ہے !اگر وہ زندہ رہے تو مجھے زحمت میں ڈالتی ہے اور اگر مرجائے تو مجھے مغموم کرجاتی ہے۔ امام سجاد نے یہ سنا تو فرمایا خدا کی قسم اس نے جھوٹ بولا ہے بہترین چیز اولاد ہے اگر یہ زندہ رہے تو چلتی پھرتی دعا ہے، اور اگر مر جائے تو شفاعت کرنے والا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ روایت میں ملتا ہے : قال ﷺ:أَمَا عَلِمْتُمْ أَنِّي أُبَاهِي بِكُمُ الْأُمَمَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ حَتَّى بِالسِّقْطِ يَظَلُّ مُحْبَنْطِئاً عَلَى بَابِ الْجَنَّةِ فَيَقُولُ اللَّهُ عَزَّ وَ جَلَّ ادْخُلِ الْجَنَّةَ فَيَقُولُ لَا أَدْخُلُ حَتَّى يَدْخُلَ أَبَوَايَ قَبْلِي فَيَقُولُ اللَّهُ تَبَارَكَ وَ تَعَالَى لِمَلَكٍ مِنَ الْمَلَائِكَةِ ائْتِنِي بِأَبَوَيْهِ فَيَأْمُرُ بِهِمَا إِلَى الْجَنَّةِ فَيَقُولُ هَذَا بِفَضْلِ رَحْمَتِي لَكَ ۔ ۔ کہ حضور ۖ نے فرمایا:کیا تم نہیں جانتے کہ میں قیامت کے دن تم پر فخر کرونگا یہاں تک کہ سقط شدہ بچہ ہی کیوں نہ ہو اور جب سقط شدہ بچے سے قیامت کے دن کہا جائے گا کہ بہشت میں داخل ہوجاؤ۔ تو وہ کہے گا :خدایا جب تک میرے والدین داخل نہیں ہونگے تب تک میں داخل نہیں ہونگا؛تو اس وقت اللہ تعالی ملائکہ میں سے ایک ملک کو حکم دیگا کہ اس کے والدین کو حاضر کریں ، اور اس وقت ان دونوں کو حکم دیگاکہ بہشت میں داخل ہوجائیں پھر کہے گا اس بچے سے : یہ تجھ پر میرا کرم اور احسان ہے۔

تربيت يعنى انسان کے اندر موجود بالقوہ استعدادوں کو بروی کار لانا۔ جس کیلئے اللہ تعالی نے انبیاء کو بھیجا۔

جناب فاطمہ کی نگاہ میں خاندان کی اتنی اہمیت تھی کہ اپنی پوری زندگی اور وقت کو اسی کی خدمت میں گزاریں۔اور دین مقدس اسلام کی حفاظت کیلئے سپاہ کو تیار کرتی رہیں، کیونکہ وہ جانتی تھی کہ ایک گھر یا معاشرہ یا ملک یا دین کی خوش بختی اور بدبختی یہیں سے شروع ہوتی ہے۔اور جب اپنے بابا نے گھریلو کام آپ کے ذمہ لگائی تو اتنی خوشی ہوئی کہ اللہ تعالی کا شکر ادا کرنے لگیں۔اور بڑی دلچسپی کے ساتھ بچوں کی تربیت میں مصروف ہوگئیں۔ آپ گھر کو انسان سازی کا مرکز مانتی ہیں۔                                                                                                                                    

9 Jan 2012 |

 
 

تاریخ بلتستان کا ایک ناقابل فراموش شخصیت،قائدشمالی علاقه جات علامه شیخ غلام محمد غروی

تاریخ بلتستان کا ایک ناقابل فراموش شخصیت،قائدشمالی علاقه جات علامه شیخ غلام محمد غروی:محمدحسین حیدریwww.alasrpari.com// پیغمبرگرامی اسلامﷺ کا فرمان هے : میرے امت کا بهترین فرد وه هے جولوگوں کو خدا کی طرف بلائے اور بندگان خدا کو اپنا دوست بنائے انبیاء اور اولیای الهیٰ کےبعد علمائے با عمل بهترین افراد امت کے زمرے میں گنے جاسکتے هیں اور بلاشبه فرمان ، رسول اکرمﷺ کے مطابق بهترین امت میں شامل هیں . انهیں علماء با عمل میں سے ایک فرد علامه شیخ غلام محمد غروی کی ذات هے . علامه کی مقام شخصیت کو اجاگ کرنے کے لئے سب سے پهلے ان کے خاندانی پس منظر پر مختصر نظر ڈالنی پڑے گی ۔

آپ کے دادا کانام غلامحمد هے اور والدبزرگوار کا نام حاجی هاشم هے آپ کے والد مرحوم اپنے وقت کے جیّد علما میں سے تھے آپ کا پورا نام علامه شیخ غلام محمد غروی هے اپنے داداکے انتقال کےبعد پیدا هوئے لهذ آپ کے والد بزرگوار نے آپ کا نام اپنے دادا کے نام سے منسوب کرتے هوئے غلام محمد رکھا گیا ، آپ کاتعلق ارض بلتستان کے ایک مشهور اور علماء دوست علاقه کھرمنگ سے هے۔ آپ 1362هجری میں علاقه کھرمنگ کے سب سے بڑے گاؤں پاری کے ایک علمی گھرانے میں پیداهوئے۔ ابتدائی تعلیم پرائمری اسکول کرگل سے شروع کیا ۔ دنیاوی تعلیم کے ساتھ ساتھ آپ نے دینی تعلیم کا بھی ابتداء کیا اور آٹھ سال کی عمر میں قرآن مجید ختم کیا ۔

عراق روانگی

گیاره سال کی عمر میں آپ کے والد محترم مرحوم نے دینی تعلیم حاصل کرانیکی غرض سے کرگل کی جائیدا فروخت کرکے عراق لے گئے۔ پانچ سال تک آپ نے حوزه علمیه کربلای معلی میں تعلیم حاصل کی ، اور چھ سال نجف اشرف میں گیاره سال کی اس کم مدّت میں حوزه علمیه عراق سے فارغ التحصیل هو کر آپ 22 سال کی کم عمری میں واپس بلتستان آئے ، علامه مرحوم اپنے والد بزرگوار کے ساتھ ارض بلتستان پهنچنے کے بعد اپنے آبائی گاؤں پاری میں ایک سال تک تشریف فرمارهے ، ایک سال تک اپنے آبائی گاؤں پاری میں رهنے کے بعد آپ گول ، تشریف لائے اور وهیں سے آپ نے پهلی بار درس و تدریس کا سلسله شروع کیا مختصر عرصه گول میں قیام کرنے کے بعد آپ ارض بلتستان کے مرکزی شهر سکردو تشریف لائے ، مختصر سے عرصه میں آپ کی خداداد صلاحیتوں ، علم حلم برد باری اور تقویٰ سے پورے بلتستان میں آپ کی شهرت هوئی ۔

دانشمندانه فیصلے

آپ کے دانشمندانه فیصلے تاریخ میں سنهرے حروف میں لکھے جانے کے قابل هے خواه وه فیصلے شرعی هو یا سیاسی ، آپ هر فیصلے میں قرآن و سنت اور علماء کی رائے کو فوقیت دیا کرتے تھے ، همیشه علاقے کا مفاد آپ کے فیصلوں کا محور هوتاتھا ، کوئی بھی فیصلے آپ نے اپنے طور پر نهیں کیا بسااوقات علماء کے علاوه معززین اور دانشور حضرات کوبھی رائے میں شامل کیا کرتے تھے، آزادی بلتستان سے لیکر ان کے آخری ایاّم تک جتنے سیاسی اقدامات انهوں نے اٹھائے قومی مفاد میں رهے ، جهان تک شرعی فیصلوں کا تعلق هے ، انهوں نے بلتستان میں محکمه شرعیه قائم کرکے شرعی عدالت قائم کی جس میں بلتستان کے غیور عوام کو بغیر کسی فیس کے قرآن و سنت کے مطابق انصاف فراهم هوتا تھا ، آپ هر فیصلے کو کمال تدبر ، فهم ، عقل اور دور اندیشی سے کام لیکر کیا ، اور کسی کا حق ضائع نه هونے دیا ، یهی وجه هے که آج تک ان کا کوئی شرعی فیصلہ کسی قانونی عدالت نے نه توڑ سکا نه کوئی تبدیلی آج تک هوئی۔ آپ کے پوری حیات میں ارض بلتستان کے عوام شریعت کے پابند تھے ، محکمه شرعیه کے علاوه گاؤں اور محلوّں کے سطح پر پورے بلتستان کے علاقوں میں لوگوں کی تنازعا ت کو حل کرتے تھے یه سلسله آج بھی جاری هے اور جو تنازعات ان زمه دار افراد سے حل نه هوتے تھے محکمه شرعیه بلاکر خود فیصله سنایاجاتا گویا ان کے هر قسم کے فیصلوں میں فهم و فراست ، عدل و انصاف ، قوی مفاد ، دینی مفاد اور تدبر کابڑا عمل دخل هے ، تاریخ گواه هے که ان کے هر فیصلے وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ نادر اور قیمتی بنتے گئے اور هر لحاظ سے قومی مفاد اورهرزاویے سےسود مند ثابت هوئے ۔

عرافانی پهلو

علامه کی زندگی کا جائزه لیں تو معلوم هوتاهے که آپ عرفان کی ان بلندیوں پر فائز تھے جن تک رسائی کی هر شخص تمنا کرتاهے ، ان کی پوری زندگی درد والم ، شعور و آگاهی سے بھرپور نظر آتی هے ، ذات خدا کے ساتھ آشنائی کے درد کے حوالے سے ان کے قریبی ساتھی بخوبی جانتے هیں ، که وه کتنے عبارت گزار تھے ، انهوں نے مشکل ترین وقت میں بھی نماز تهجد ترک نهیں کی ، اسکے ساتھ ساتھ ان کی پوری زندگی زکر حقیقی کی ترجمان نظر آتی هے ان کے بارے میں ارض بلتستان کے هر فرد جانتے هیے که هر معامله میں چاهے وه ذاتی هو ، یا گروهی عقلائی هو یا مملکتی سیاسی هو یا مذهبی صرف اور صرف رضائے الهیٰ کو مدّ نظر رکھا کرتے تھے .خدا پر ان کے توکل کا یه عالم تھا که آپ انتهائی بے سروسامانی کے عالم میں بھی کسی سے نهیں دبتے تھے ، نه کسی قسم کی لالچ میں آتے تھے اور وه خدا کے علاوه کسی بھی دیگر طاقت سے خائف نه هوتے تھے ، وه خدا کے صفت ( غنی ) سے اس حدتک متصف تھل که آپنے لئے کسی چیزکی تمنا نه کی تو یه سب ان کی شخصیت کے عرفانی پھلوهی کے مظاهر هیں .

جرائت و بھادری

جرائت و بھادری کے حوالے سے علامه مرحوم میں باطل قوتوں سے ڈٹ کر مقابله کرنے کی صلاحیت موجود تھی ، آپ نے کبھی بھی کسی ظالم و جابر حکمران کے سامنے سر نهیں جکایا مظلوم کی حمایت اور ظالم و جابر کا مقاله آپ کے سرشت میں شامل تھا کبھی بھی بیروکریسی کے سامنے دب کر بات نهیں کی باطل حکمرانوں سے مقابے کا انداز بڑا عجیب تھا جب مقابلے میں آتے تو مخالف کو شکست کا سامنا کرنا هوتا تھا ، FCR کے زمانے میں پولٹیکل ایجنٹ بھرام گل خان سے مقابلے اور مراشل لا درو میں ڈپٹی مارشل لاء ایڑ منسٹریٹر سے مقابله ان کی جرائت مندی و بھادری کا منھ بولتا ثبوت هے . کالے قانون FCR کے دور میں ظالم و جابر پولیٹکل ایجنٹوں نے راض بلتستان کے علاقوں میں فرقه واریت کی بنیاد ڈالنے کی مذموم کو ششیں شروع کئے جسمیں بھرام خان اور جبیب الرحمن جسیے کا نام آتے هیں اپنی تمام تر توانائی اور اختیارات کے باوجود علامه کا کچھ نهیں بگاڑ سکے اور حسرت دل میں لیکر کئے که کاش هم تمام تر اختیارات کے باوجود علامه مرحوم کو جھکا نهیں سکے ، خداوند عالم نے علامه مرحوم کو وه صلاحیت عطا کی تهی که خدا کے علاوه کسی سے ڈرتے نهیں تھل ضیاالحق جسیے جابر حکمران سے ملنے کیلئے علامه کی قیادت میں جب علماء کا وفد گئے تو علامه کو دیکھ کر جب ضیاءالحق کی آنکھیں خون آلوده هوگئے تو اس سے زیاده علامه کی آنکھیں خود بخود سرخ هونے لگے فرق اتنا تھا که وه سرخی باطل کی تھی یه سرخی حق کی تھی ، آپ اس سے اندازه کرسکتے هے جب علامه مرحوم نے ضیاء الحق سے مخاطب هوکر کھنے لگے که هم تم سے کچھ مطالبه کرنے نهیں آئے هیں بلکه صرف ایک بات پوچھنے آئے هیں که ایک هی کمشنری کے اندر ایک علاقه اسلحه سے لیس هزاروں ایکڑز جنگلات پر مرضی کا مالک اور اس کے ساتھ هی دوسرے علاقے میں هتیار پر پابندی اور جنگلات پر پابندی یه عوام کا سورں هے تم همیں جوار دین ، ضیاء الحق نے گھٹنے دباتے هوئے کها که آپ اپنے علاقه میں چار شعیوں اور چار سنیوں کو دیکھ کر بقول اس کے آپ کے آنکھیں کیوں سرخ هونے لگے تو علامه مرحوم نے فرمایا: تم پاکستان میں جھاں کهیں بھی چار شیعه دیکھتے هے تو آنکھیں خون آلوده کیوں هوجاتی هے ، یه انکی جرائت مند کا منھ بولتا ثبوت هے .

اتحاد بین المسلمین کے علمبردار

علامه کی شخصیت کو نکھارنے والا ایک اهم پهلوان کا جذبه اتحادبین المسلمین هے جس کی وجه سے ارضی بلتستان کے غیور عوام امن و سکون کی زندگی بسر کررهے هیں علامه نے اپنی پوری زندگی میں اتحاد بین المسلمین کو اپنا شعار بنایا ، اور ایک لمحے کیلے بھی اس پر عمل سے غافل نه رهے یهی وجه هے که آپ هر مسلک هر فرقے اور هر طبقه زندگی میں هر دلعزیز تھے آپ نے هر طرح سے ارض بلتستان کے هر جگه امن و سکون کو بحال رکھنے کی کوشش کی ، جس کی مثال هم ضیاء الحق کے دروکا وه واقعه لے سکتے هیں جب چیف مارشل لاایڈمنسٹریٹر ضیاء الحق نے قومی کاموں کی انجام دهی کیلے آپ سے کچھ ڈیمانڈ دینے کو کها تو آپ نے حکومت کا سیمنا گھر کو صفحه هستی سے مٹاکر اهلسنت والجماعت کو دینے اور باره لاکھ روپیئے کا مطالبه کیا تو اهلسنت اس سیمناگھر کے جگے پر دکانیں بنائیں اور مسجد کے لئے آمدن هو ، اهلسنت اهلسنت اهل حدیث اهل نوربخشی غرض جوبھی طبقه فکر هو آپ کے گردیده تھل اور آپ کے هر حکم پر بلاچون و چرا تسلیم خم هوتے تھے آپ کے نظر میں بھی ان کو بڑی عزت تھا ، 1988 کا هنگامه خیز واقعه جو که پورے گلگت بلتستان کی تاریخ کا سیاه ترین واقعه تھا اس هنگامه خیز واقعه میں بھی آپ نے اتحادبین المسلمین کے جذبه کو هاتھ سے جانے نه دیا نواجوانوں کو اتحاد کی تلقین کی اور خود آپ کی زات ان کی نگرانی فرماتے رهے آپ نے اپنی پوری زندگی میں هر موڑ پر نوجوان کو اتحاد اور شراکت عمل کی تلقین کرتے رهے جس کی بدولت آج ارض بلتستان امن کا گھواڑه نظرآتاهے اور انشاالله امن کا گهوراه رهے گا .

سیاسی پهلو

علامه مرحوم نے کھبی سیاست کرنے اعلان نهیں کیا لیکں اس کے باوجود شمالی علاقه جات کا هر سیاسی شعور رکھنے والا اس بات کی گواه هے که کوئی بھی سیاسی معامله چھوٹا هو یا بڑا ان کے بغیر طے هی نهیں پاسکتا تھا ، علامه مرحوم نے اپنی پوری زندگی میں کھبی بھی اپنے آپ کو سیاست دان نهیں کها لیکن علاقے کے سیاست کے بارے میں علاقے کی سساست دان اس وقت تک کوئی بھی سیاسی فیصله نهیں کیا جاسکتا تھا جب تک علامه کی رائل معلوم نهیں کرلیتا ، ایوب خان کی حکومت کا جب خاتمه هوا تو قائد عوام زوالفقار علی بھٹو پاکستان کی جمهوریت میں بر سراقتدار آیا تو انهوں نے اپنے سیاسی بصیرت کی بنیاد پر پیبلز پارتی بنائی جب عوامی مقبولیت حاصل کرنے میں کا میاب هوگئی اور پورے پاکستان میں اس پارتی کو مقبولیت حاصل هوگئی تو زوالفقار علی بھٹونے مرحوم نے گلگت بلتستان میں بھی پارتی کی قیام پر توجه دی تو شمالی علاقه جات کے مذهبی اور سیاسی اهمیت کے حاصل شخصیت علامه شیخ غلام محمد غروی مرحوم سے رابطه کیلے اپنے دو معتمد ترین وزراء کو علامه کے پاس بھیج کر پیپلز پارٹی شمالی علاقه جات کی صدرات کی پیشکش کی مگر علامه مرحوم نے یه که کر صدارتی پیشکش کو ٹھکرادیا که آپ کی پارٹی کمیونیزم کاا پرچار کرتی هے جو اسلامی نظام شریعت سے متصادم هے ، جب بھٹو مرحوم کو یه پیغام ملا تو انهوں خورشید حسن میر کو دباره علامه مرحوم کے پاس بھیجا اور پیشکش کی که آپ صرف پارتی کی صدارت قبول کریں یه همارے لئے اعزاز کی بات هوگی نظام آپ اپنا شرعی چلائیں اس میں پارٹی کی مداخلت نهیں هوگی ، علامه مرحوم نے نظام شریعت میں پارٹی کی نه کرنے شرط پر پیپلز پارٹی ppp شمالی علاقه جات کی صدارت کو قبول کیا ، اور شمالی علاقه جات کی سیاست میں پهلا سیاسی صدر هونے کابھی اعزاز حاصل کیا ، جو که علامه کا ایک حقیقی اور سچے سیاستمدار هونے کا منھ بولتا ثبوت هے . چند سال صدارت پر فائز رهنے کے بعد علامه نے اپنی شرعی زمه داریوں کی بنیاد پر پیپلز پارٹی شمال علاقه جات کے صدارتی عهدے سے استعفیٰ دیا ، اور اپنے شرعی اور دینی معاملات میں مشغول هوگئے اسکے بعد قائد ملت جعفریه علامه مفتی جعفر حسین اعلی الله مقامه شریف نے بلتستان کا پهلا دوره کیا تو علامه مفتی جعفر حسین مرحوم نے علامه شیخ غلام محمد غروی پر اپنی سابقه زمه داریوں کے علاوه تحریک جعفریه کی صدار ت کی زمه داری بھی سونپی گئی اس اهم زمه داری کو علامه مرحوم نے اپنی آخری حیات تک نھباتے رهے جب مسلم لیگ (ن ) کی ملک میں حکومت قائم هوئی تو مسلم لیگ (ن) کے وزیر امور کشمر نے ایک مرتبه پھر گلگت بلتستان میں مذهبی منافرت پهلانے کی مذموم کوشش کی اور اپنے منصب و اختیارات کا ناجائز استعمال کرتے هوئے الیکشن شیڈول کے اعلان کے بعد ایک حلقه کو فرقه واریت کی بنیاد پر تبدیل کیا جس کے نتیجے میں قائد شمال علاقه جات علامه شیخ غلام محمد غروی نے پورے سمالی علاقه جات میں الیکشن سے بائیکاٹ کا ا علان کیا اور پورے گلگت بلتستان میں اسی فیصد (90) لوگوں نے الیگشن سے بائیکاٹ کرتے هوئے قائد محبوب کے فرمان پر لبیک کها ، شمالی علاقه جات کے یونین کونسل سے لیکر ناردرن ایریاز کونسل تک کل 600 سیٹوں میں سے 400 سیٹوں پر مکمل بائیکاٹ هوا انتظامیه پوری طاقت استعمال کی گئی لیکن اس کے باوجود اتنی نشتوں کا بالکل خالی رها جانه علامه کی سیاسی قوت ، اور بصرت کا واضح ثبوت هے ، مگر علامه کو زهنی تکلیف دینے کے لیئے وقت کے جابر حکومت کل چند کارندوں ، مهتاب عباسی اور وزیر امور کشمیر نے کچھ بے ضمیروں کو بلا مقابله منتخب قرار دیکر الیکشن کو درست قرار دینے کی نا پاک کوشش کی گئی ، مگر ان کے بلا مقابله منتخب کرائے هوئے لوگوں کو عوام کے غیض و غضب کا سامنا کرنا پڑا اور مهتاب عباسی کو بھی رسوای نصب هوئی جلد هی غبن کے الزام میں جیل جانا پڑا اور کڑوروں روپیئے حکومت ادا کرنا پڑ ، ادهر علامه کے بائیکاٹ کے فیصلے کو عوامی مقبولیت حصال هوئیم جس کے نتیجے میں ناردرن ایریاز کونسل کے لایکشن میں تحریک جعفر کے امیدواروں نل واضح اکثریت سے کامبیابی حاصل کی، جو آج تک ایک بڑ مذهبی تحریک کی حیثیت سے مذهب حقه کی نشر و اشاعت کررهے هیں.

وفات

جمعه 26 جون 1992 مطابق 24 زی الحجه 1410 هجر کو 78 سال کی عمر میں علامه مرحوم اپنے لاکھوں چاهنے والوں کو سوگوار چھوڑ کر خالق حقیقی سے جاملے . خدا وند عالم سے هماری دعا هے مرحوم کو جوار ائمه علیهم السلام جگ عطافرما ( آمین ثم آمین )

9 Jan 2012 |

 
 

زمانه غيبت ميں وجود امام كے فوائد

 

 

www.alasrpari.com



زمانه غيبت ميں وجود امام كے فوائد

تمهيد:

هماري بحث امام غائب كے فوائد كے متعلق هے اس لئے ضروري هے پهلے “امام” اور غيبت پر مختصر سي گفتگو هو۔

امام كے لغوي و اصطلاحي معني

لفظ امام ممكن هے حسب ذيل ماده سے ليا گياهو“ َ أَ مام، يعني (گے )ـ اٍُم، يعني اصل ــ أّم، يعني قصد و ار اده، لهذا اگر لفظ امام ، ـ أما م، سے مشتق هو تو اس كے معني ، پيشرو يا پيشوا هوں گے ۔ أَّ م، سے مشتق هو تو اس كے معني معاشرے كي بنياد هوگا ۔ أ م سے مشتق مانيں گے تو پھر امام سے مراد وه شخص ، جس كي پيروي كا عوام قصد و اراده كريں راغب اصفهاني ( مفردات الفاظ قرآن كريم،) ميں لكھتے هيں : ”و الامام ، لمؤقم به انساناً، كانه يقتدي بقوله اوفعله محقاً كان او مبطلاً و جمعه ائمة“ امام اس كو كهتے هيں جس كي پيروي كي جائے ، وه چاهيئے انسان هو كه جس كے اقوال اور اعمال كي پيروي كي جائے، يا كتاب يا كوئي دوسري چيز چاهيے اس كي پيروي حق هو يا باطل اور اس كي جمع ائمه هے۔ علاوه قوشجي نے خواجه نصير الدين كي كتاب (تجريد) كي شرح ميں امامت كے معني يوں بيان كيا هے: “الامامة رياسة عمامة من امور الدين و الدنيا ” امامت وه رياست عامه هے جو ديني اور دنيوي امور ميں پيغمبراسلام ﷺ كي جانشيني ميں ملتي هے ۔ اس تعريف ميں كوئي اختلاف نهيں هے ، ليكن شيعه اور سني كے يهاں امامت كے بنيادي مفهوم ميں فرق هے ، جو مدعاي تحرير نهيں هے۔

 

غيبت كا معني :

غيبت ظهور كے قد مقابل هے اور غيبت كا معني يه هے (ناشناس ) كے هيں ، اور غيبت امام زمانه كا معني يه هے كه آپ ناشناس طور پر زندگي گزارتے هيں لوگ آپ كو ديكھتے هيں ليكن پهچانتے نهيں هے ۔ اور يهي معني تمام شيعه علماء اور دانشوروں كے نزدييك متفق عليه هے۔ ائمه معصومين عليهم السلام سے منقوله احاديث ميں بھي اسي معني كو واضح طور پر بيان كرديا گياهے ۔ چنانچه 1ـمير لمؤمنين علي بن ابي طالب فرماتے هيں : “فو رب علي إن حجتها عليها قائمة ماشية في طرقها داخلة في دورها و قصورها جوالة في شرق هذه الأرض و غربها تسمع الكلام و تسلم على الجماعة” … خدا كي قسم لوگون پر خدا كي حجت ( حضرت مهدي) كوچه و بازاروں ميں چلتے پھر تے هيں ، لوگوں كي گھروں ميں تشريف لاتے هيں اور مشرق و مغرب ميں آتے جاتے هيں ! لوگون كي باتوں كو سنتے هيں ، اور لوگوں كو سلام كرتے هيں ، لوگوں كو ديكھتے هيں ليكن لوگ انهيں اس وقت تك نهيں ديكھ سكتے جب تك كه وقت ظهور اور وعده الهٰي پورے هونے كا وقت نه پهنچے او رجب تك آسمان سے منادي اپ كے ظهور كا اعلان نه كرليں ، اسي مضمون كے متعدد احاديث ائمه عليهم السلام سے نقل هوتي هيں جو واضح طور پر اعلان كرهي هے كه ايك آپ اسلامي معاشرے ميے اپنے وظيفه پر عمل كرتے هيں اور هميشه معاشرے ميں حاضر هيں ليكن لوگ آپ كو نهيں پهچانتے ۔

زمانه غيبت ميں وجود امام كا فايده :

باره سوسال سے انساني معاشره امام معصوم اور حجت خداكے ظهور كے فيض سے محروم هے اور امت اسلامي اس آسماني رهبر و رهنما كے حضور مشرف هونے سے قاصر هے تو يهاں يه سوال پيدا هوتاهڑ كه ان كے پرده غيبت ميں مخفيانه طور پر زندگي گزارنے اور عوام الناس كي رسايي سے دوري اس كائنات او راس ميں موجود انسانوں كے لئے كيا آثار و فوايد ركھتي هے؟ كيا يه نهيں هو سكتا تھا كه ظهور كے نزديك ان كي ولادت هوگي او راپنے شيعوں اور پيروكاروں سے غيبت كي سختيون او رمشكلات سے روبر د نه هوتے ؟ دوسرے لفظو ں ميں يوں كهاجائے كه امام غائب كا كيا فايده اور اس كي كيا دليل هے ؟ مذكوره سئوال كا مختصر جواب يه هے كه ه رچند حجت خدا امام زمانه عج الله نظروں سے غائب هيں اور غيبت كي وجه امت آپ كي بعض بركتوں سے محروم هيں ، كيونكه وه آپ كے ظهور پر موقوف هے ، ليكن بهت سے آثار اور فوايد ايسے بھي هيں جو امام كے ظهور پر موقوف نهيں هے ۔ موضوع امامت كےسلسلے ميں وارد هونے والي احاديث ميں وجود امام كے كئي فوايد بيان هوئي هيں ، البته ان تمام نكاتت سے بحث اس مختصر مقاله ميں ممكن نهيں لهذا يهاں پر صرف چند فوايد كي مختصر وضاحت پر اكتفا كرتے هيں۔

1ـ واسطه فيض :

امام كا مقدس وجود نوع انسان كي غايت ، انسانيت كا فرد كامل ربوبيت اور عالم مادي كے درميان رابطه هے ديني تعليمات كے پيش نظر امام معصوم كائنات كے تمام موجودات پر خدا كے فيض كا واسطه هے۔ اگر روئے زمين پر امام نه هوں گے تو عالم مادي اور منبه تخليق كے درمياں رابطه منقطع هوجائے گا۔ امام معصوم كے قلب مطهر ايك ٹرانسفرمركي سي هے جو كارخانه كے هزاروں بلپوں كو بجلي فراهم كرتاهے، عالم غيبت كے افاضات پهلے امام اور خداكي حجت كے پاكيزه قلب پر اور ان كے وسيله سے تمام لوگون كے دلوں پر نازل هوتے هيں۔ كائنات ميں امام معصوم كا وجود هر چھوٹے بڑے موجودات كے لئے خداوند كي طرف سے وجود ، زندگي نعمت اور فيض كے حصول كا زريعه هے چنانچه امام زين العابدين  فرماتے هيں : هم مسلمانوں كے امام ، دنيا پر حجت، مؤمنين كے امير، نيكو كاروں كے رهبر اور اور مسلمانوں كے سرپرست اور مولا هيں ۔ هم زمين والوں كے لئے امان هيں ، جيسا كه آسمان والوں كے لئے ستارے امان هيں ، هماري وجه سے آسمان اپني جگه ٹهرا هوا هے جب خدا چاهتاهے همارے واسطه سے باران رحمت نازل كرتاهے اور زمين سے بركتيں ظاهر كرتاهے۔ اگر هم روئے زمين پر نه هوتے تو اهل زمين دھن گئے هوتے ۔پھر فرمايا: جس دن سے خدانے حضرت آدم كو پيدا كيا هے اس دن سے آج تك زمين حجت خدا سے خالي نهيں رهي هے ليكن خدا كي حجت كا وجود كبھي ظاهر و آشكار اور كبھي غائب و مخفي رها هے ، قيامت تك زمين حجت خدا سے خالي نه هوگي ، اس لئے كه ، اگر امام معصوم زمين پر نه هوگا تو خدا كي عبادت نه هوگي ۔ مختصر يه كه تمام موجودات خداوند عالم كي طر ف سے جو فيض حا صل كرتے هيں وه امام زمانه عج الله كے ذريعه حاصل هوتاهے اور فيض خدا كے واسطه سے استفاده كرنے كے دو طريقے هيں: 1ـ فكري ، اخلاقي عملي تزكيه اور نفس كو كدورتوں سے پاك كرنا ۔ 2ـ مادي اسباب سے عليحده گي ۔

2ـ امام غائب بادل ميں چھپے هوئے سورج كي مانند هے :

امام زمانه عج الله كي مثال بادل ميں چھپے هوئے سورج كي سي هے جس طرح سورج كي شعائيں زمين كي گهرائي ميں عمده جواهر كي پرورش كرتي هے اور سورج سے گوهر كے استفاده ميں پتھر و خاك كے ضخيم پردهے حائل نهيں هو سكتے اسي طرح غيبت كا پرده بھي آپ كے نور كو پاكيزه قلوب تك پهنچے ميں مانع هو سكتا چنانچه 1ـ جابر بن عبدالله انصاري نے نبي اكرمﷺ سے سوال كيا :كيا امام قائم كي غيبت ميں ان كي ذات سے فائده حاصل كرسكيں گے؟ تو حضورﷺ نے فرمايا: هان “و الذي بعثني بالنبوة إنهم يستضيئون بنوره و ينتفعون بولايته في غيبته كانتفاع الناس بالشمس و إن تجللها سحاب...” ‏قسم هے اس ذات كي جس نے حق كے ساتھ مجھے نبي بناكر مبعوث كيا هے، بلا شبه وه لوگ ان سے فائده حاصل كريں گے او ران كے نور ولايت سے روشني پائيں گے جس طرح آفتاب كے بادلوں ميں پوشيده رهنے كے باوجود اس سے نفع حاصل كرتے هيں ۔ 2ـسيلمان بن مهران اعمش كهتے هيں ، ميں نے امام جعفر صادق سے عرض كي كه امام غائب كے وجود سے لوگوں كو كيسے فايده پهنچتا هے؟ فرمايا:“ كما ينتفعون بالشمس إذا سترها السحاب ” يعني جيسے بادل ميں چھپے هوئے سورج سے فايده پهنچتاهے۔ 3 ـخود امام زمانه عج الله نے اپنے نائب خاص محمد بن عثمان عمري كے نام ايك توقيع (خط) ميں فرمايا: “و أما وجه الانتفاع بي في غيبتي فكالانتفاع بالشمس إذا غيبتها عن الأبصار السحاب‏” اور ميري غيبت كے زمانے ميں ميري وجود مبارك سے فايده اٹھا نا اسي طرح هے جس طرح بادل ميں چھپے هوئے سورج سے فايده اٹھا يا جاتاهے۔ علامه مجلسي اور دوسرے علماء محدثين نے مذكوره احاديث كي توضيح و تفسير كرتے هوئے فرماتے هيں كه وجه تشبيه يه هے كه 1 ـطبيعي اور فلكيات كے علوم سے يه ثابت هو چكي هے كه سورج شمسي نظام كامركز هے، اس كي قوت جاذبه زمين كي محافظ اور اسے گرنے سے بچاتي هے ، زمين كو اپنے چاروں طرف گردش ديتي هے ۔ دن رات اور مختلف فصلوں كو وجود ميں لاتي هے، اس كي حرارت حيوانات ، نباتات اور انسانوں كي زندگي كا سبب هے اس كا نور زمين كو روشني بخشتا هے، ان كے فوائد كے مترتب هونے ميں سورج كے ظاهر يا بادل ميں پوشيده هونے سے كوئي فرق نهيں پڑتا، يعني اس كي قوت جاذبه ، حرات اور نور دونوں صورتوں ميں رهتاهے ۔امام كا مقدس وجود بھي عالم انسانيت كا قلب اور سورج اور اس كا تكويني مربي اورهادي هے اور ان كے فوائد كے مترتب هونے ميں آپ كي غيبت و طهور اثر انداز نهيں هے۔ 2 ۔ جس طرح بادل میں چھپے ہوئے سورج سے لوگ استفادہ کرنے کے ساتھ ساتھ ہر لمحہ اس کے بال سے نکل آنے کے منتظر رہتے ہیں تاکہ اس سے زیادہ سے زیادہ فایدہ حاصل کریں اسی طرح حضرت مہدیکی غیبت کے زمانے میں مخلص شیعہ ہر لمحہ ان کے منتظر رہتے ہیں اور ان سے مایوس نہیں ہوتے ۔ 3 ۔ ان کی غیبت کے بے شمار آثار ہوتے ہوئے بھی ان کے وجود کا منکر ایسا ہی ہے جیسا بادل میں چھپے ہوئے سورج کے وجود کا منکر ہے۔ 4 ۔ کبھی سورج کا بادل میں چھپارہنا بندوں کے لیئے اس کے باہر نکلنے سے بہتر ہوتا ہے اسی طرح آپ کی غیبت بھی ان کے لیئے زیادہ بہتر ہے اسی لیئے آپ غائب ہیں۔ 5 ۔ زمانے کے امام عام نفع رسانی میں سورج کی مانند ہے لیکن ان سے اندھا کوئی فایدہ حاصل نہیں کرپاتا ہے ۔ 6 ۔ کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ سورج بادل سے نکل آتا ہے اور اسے کوئی دیکھتا ہے کوئی نہیں دیکھتا ہے ممکن ہے آپ بھی اپنی غیبت کے زمانے میں بعض کے سامنے آتے ہوں اور بعض کے سامنے نہیں ۔ 7 ۔ جس طرح سورج کی شعاعیں گھر میں روشندان اور کھڑکیوں کی مقدار کے مطابق آتی ہے اور ان کی راہ سے جتنی رکاوٹوں کو دور کیا جائے گا اتنی ہی مقدار میں شعاعیں آئیں گی ، اسی طرح مخلوق، زمانےکے امام کے انوار ہدایت سے اسی تناسب سے استفادہ کریں گے جتنے وہ اپنے حواس اور شعور و ادراک کرنے والے اعضاء سے رکاوٹ دور کریں گے اور اپنے دلوں سے دبیز پردوں کو ہٹائیں گے۔ 8 ۔ جس طرح منظومہ شمسی اور کائنات میں سورج کا ہونا ضروری ہے اور دنیا کا نظم و نسق سورج کے وجود سے وابستہ ہے اور اس کی نور اور حرارت کی وجہ سے اپنے اندر چھپے استعدادات کو ظاہر کرتی ہے ۔ بالکل اسی طرح عالم انفس اور اس کا نظم ونسق بھی سورج کی طرف محتاج ہے تاکہ اس کے اندر چھپی ہوئی خدا داد صلاحیتوں اور استعداد کو شکوفا کرسکیں ، اور امام زمانہ حضرت مہدی  کے وجود اقدس عالم انسانیت کا دل سورج اور اس کا مربی اور ہادی اور ان فواید کے ترتب میں آپ کی غیبت یا حضور اثر انداز نہیں ہے۔ 9 ـ سورج كي طرف ديكھنے والا ، اس پر اس وقت تك نظر نهيں جماسكتا، جب وه بادل سے باهر هو اور كبھي تو قوت باصره ضعيف هونے كے سبب اس كو ديكھنے سے نگاهيں قاصر رهتي هيں يهي مثال حضرت مهدي عج الله كي مقدس ذات كے افتاب كي هے، هو سكتا آپ عج الله كا ظهور ان كي بصارت كے لئے مضر هو اور حق سے ان كا اندھا هونے كا سبب هو اور آپ عج الله كي غيبت كے زمانے ميں ان كي بصيرتيں ايمان كي حامل رهيں جيساكه بادل ميں چھپے هوئے سورج كي طرف انسان ديكھتاهے اور اس سے، كوئي نقصان نهيں پهنچتاهے۔ 10 ـ وجود ، علم او رهدايت كا نور آپ كے واسطه سے خلق تك پهنچتاهے ، چنانچه مستفيض احاديث سے يه ثابت هو چكاهے كه ائمه معصومين عليهم السلام خلق كي علت غايي هيں پھر اگر وه نه هوتے تو دوسروں تك نور وجود نهيں پهنچ سكتا تھا چنانكه ان كي بركت او ران كے زريعه شفاعت طلبي اور ان سے توسل كرنے سے مخلوق خدا پر علوم و معارف كا باب كھلتا هے اور ان سے بلا دور هوتي هے اگر وه نه هوتے تو مخلوق اپني بد اعماليوں كے سبب مختلف قسم كے عذاب كے مستحق هو جاتي جيساكه خداوند عالم كا ارشاد هے ۔ *     * اي رسول ! خدا ان پر غذاب نهيں كرے گا جبكه آپ ان ميں هے اور اس كا هم نے بے شمار مواقع پر تجربه كيا هے قابل توجه بات يه هے كه روايات كي روشني ميں يه بات واضح هوگي كه امام زمانه عج الله نورهے اور هم مستنير، امام زمانه عج الله روشني هے اور هم روشني كے حصول كے خواهاں ، اب سوال يه هے كه نور اور روشني كے حصول كا طريق كار كيا هے ۔ جواب روشن هے اور وه هے كه هميں صرف غيب پر زباني ايمان ركھنے كے بجائے ، ايمان بالغيب كے بارے ميں اپنے عقيده پر يقين حاصل كرے او رتزكيه نفس كرتے هوئے زمانه غيبت ميں اپني ذمه داريوں كو زياده سے زياده احساس كرے ، اور تقوي، پاكيزگي ، ديانت داري اپني اندر ايجار كرنے كے ساتھ رزايل اور خبائث سے اپنے كو دور كھے ، اپني اخلاقي اور ديني ذمه داريوں پر كاربند رهيں تو انشاء الله هم امام زمانه عج الله كے نور ولايت سے روشني پائيں گے۔

3 ـبلاؤں سے بچا نے كا سمبب :

اس بات ميں كوئي شك نهيں هے كه امن و امان انساني زندگي كا اصلي سرمايه هے اور هر انسان بلكه تمام ذي روح كا يه آرزو هوتا هے كه اس كي زندگي امن و اسايش ميں گزرے اور هر قسم كي بلاوں ، مصيبتوں اور خطرات سے محفوظ رهے ، ليكن اس دنيا ميں مختلف حوادث كي وجه سے تمام موجودات كي زندگي خطرات سے دوچار هوتاهے خصوصا انسان كي زندگي ميں‌مختلف قسم كے حوادث پيش آتے هيں جن كے نتيجه ميں انسان بلاوں اور مصيبتوں ميں گرفتار هوجاتا هے اگر چه بلاوں اور مصيبتوں كا سدباب مادي چيزوں كے ذريعه ممكن هے ليكن معنوي اسباب بھي ان ميں موثر واقع هوتے هيں ۔ چنانچه قرآن كريم ميں پيغمبر اكرمﷺ سے مخاطب هوكر ارشاد فرماتا هے: *             * “حالانکہ اللہ ان پر اس وقت تک عذاب نہ کرے گا جب تک “پیغمبر ” آپ ان کے درمیان ہیں اور خدا ان پر عذاب کرنے والا نہیں ہے اگر یہ توبہ اور استغفار کرنے والے ہوجائیں”۔ همارے زمانے ميں‌جب كفار استغفار نهيں‌كررهے هيں اور عذاب الهيٰ ركا هوا هے تو اس كا مطلب يه هے كه كوئي دل وجان پيغمبرموجود هے جس كے وجود كو قدرت نے اهل زمين كے لئے امن و امان ا سبب بنادياهے ۔ جيساكه اهل بيت عليهم السلام كے بارے ميں روايات ميں بھي وارد هواهے چنانچه حضرت امام مهدي عج الله خود فرماتے هيں : “و إني لأمان لأهل الأرض‏” اور ميں اهل زمين كے امان كا سبب هوں ۔ “أنا خاتم الأوصياء و بي يدفع الله عز و جل البلاء عن أهلي و شيعتي“ ميں خاتم الانبياء كا آخري جانشيں اور خاتم الاوصياء هوں اور خدا وند عالم ميرے وجود كے سبب ميرے خانداں اور ميرے شيعوں اور پيروكاروں سے بلاوں كودور كرتاهے۔اور “ ولولا ذالك النزل بكن اللاواء و اصطلمكم الاعداء” اگر هميشه هماري توجه نه هوتي تو تم پر سختياں اور بلائيں نازل هوتيں اور دشمن تم كو نيست ونابود كرديتے۔ جي هان تمام موجودات اگر محفوظ هيں تو زمانه كے امام اور حجت خدا كے وجود مبارك كي وجه سے هے جو رحمت پرور دگار كا مظهر هے لهذا وه بھي اپني خاص توجه كے ذريعے بڑي بڑي بلاوں اور مصيبتوں كو ، خصوصا هر شيعه اور اهل بيت عليهم السلام كے ماننے والوں سے دور كر تے هيں ۔ اگر چه بهت سے مقامات پر آپ كے لطف و كرم كي طرف لوگ متوجه نهيں هوتيں۔

4 ـ كائنات اور اهل زمين كے بقا كي ضامن :

اسلامي تعليمات كي روشني ميں ديكھا جائے تو امام معصوم نظام كائنات كا مركز اور محور هوتا هے ان كے وجود كے بغير كائنات ، انسان ، جنات ، ملائكه ، حيوانات او ر جمادات كا نام و نشان تك نهيں رهتا چنانچه 1 ـ امام صادق سے پوچھا كيا : “هلي تبقي الارض بغير امام ؟ قال لا، لوبقيت الارض بغير امام لساخت ”كيا زمين بغير امام كے باقي ره سكتي هے ؟ فرمايا: نهيں، اگر زمين پر امام معصوم نه هو تو اسي وقت دھنس جائے گي اور فنا هو جائے گا۔ 2ـ اور دعاي عديله ميں ، ائمه عليهم السلام كي امامت ولايت كي گواهي كے بعد هم پر ھتے هيں كه : پھر امام حسن عسكري كے فرزند حجت خدا و جانشين امام قائم منتظر مهدي عج الله هے ، جس كے ساتھ عالم كي اميد وابسته هے ۔ ببقائه بقيت الدنيا ، و بيمنه رزق الوري و بوجوده ثبتت الارض و السمآء و ... ان كے وجود سے دنيا باقي هے اور ان كي بركت سے مخلوق روزي پارهي هے اور ان كے وجود سے زمين و آسمان قائم هيں اور انهيں كے زريعه خدا زمين كو عدل و انصاف سے بھر دے گا جبكه وه ظلم وجود سے بھر چكي هوگي۔ 3ـ اور زيارت جامعه ميں اس طرح بيان هوا هے كه “بِكُمْ فَتَحَ اللَّهُ وَ بِكُمْ يَخْتِمُ وَ بِكُمْ يُنَزِّلُ الْغَيْثَ وَ بِكُمْ يُمْسِكُ السَّمَاءَ أَنْ تَقَعَ عَلَى الْأَرْضِ إِلَّا بِإِذْنِه‏” اے همارے پيشوا! آپ هي كے زريعه خدانے عالم كو شروع كيا هے اور آپ هي پر ختم كرے گا اور آپ كي وجه سے بارش نازل كرتاهے اور آپ كي وجه سے آسمان كو روكے هوئے هے كه زمين پر گرنه پڑے ، مگر اس كي اجازت سے ۔ 4ـ امام الحرميں ابن حجر هيثمي ( الصواعق المحرقه) ميں حديث ثقلين كي تفسير ميں لكھتے هيں كه “وفي أحاديث الحث على التمسك بأهل البيت إشارة إلى عدم انقطاع متأهّل منهم للتمسك إلى يوم القيامة ، كما أنّ الكتاب العزيز كذلك ، ولهذا كانوا أماناً لأهل الأرض ” يعني ، وه احاديث جو پيغمبر اكرمﷺ سے هم تك پهنچي هيں ، ان ميں اهل بيت عليهم السلام سے تمسك اور ان كي پيروي پر بهت تاكيد كي گئي هے، اس سے معلوم هوتاهے كه قيامت كي بر پائي تك اهل بيت پيامبر ميں سے ايك فرد ( جو امت اسلامي كے رهبري اور هدايت كي صلاحيت ركھتا هو ) كا هو نا ضروري هے، جس طرح قرآن بھي قيامت تك هادي و رهبر هے، اسي لئے يه لوگ (اهل بيت عليهم السلام) اهل زمين كے بقا كي ضامن هے ۔ مختصر يه كه امام معصوم كے وجود كے آثار صرف ان كے ظهور كي صورت ميں منحصر نهيں هيں بلكه ان كا وجود او رحضور كائنات ميں ان كي غيبت كے زمانه ميں بھي تمام مخلوقات الهيٰٰ اور موجودات كے لئے سر چشمه حيات اور بقا هے۔ جي هاں! امام زمانه عج الله كے وجود كے آثار سے تمام موجودات بلكه پوري كائنات فيضياب هوتے هيں اور امام كي غيبت اس ميں مانع نهيں هے ۔ البته آپ كي غيبت كے زمانے ميں آپ كے وجود سے فيضياب هونے كے طريقه كار مختلف هو سكتا هے جس كے بارے هم نے گذشته صفحات ميں تفصيلي گفتگو كي هے۔

5ـ مذ هب حقه كے محافظ:

هر معاشرے كو اپنے نظام كي حفاظت اور اپنے مطلوبه مقصد تك پهنچنے كے لئے ايك عالم اور بابصيرت رهبر و راهنما كي ضرورت هوئي تاكه اس كي اعليٰ قيادت ميں معاشره صحيح راسته پر قدم بڑھائے اور ايك بهترين نظام كے تحت اپني حيثيت كو باقي ركھتے هوے آينده كے پروگرام كے استحكام كے لئے كمر همت باندھ لے ۔ همارے بارهويں امام اگرچه پرده غيبت ميں هيں ليكن آپ كاوجود دين مبين اسلام اور مذهب حقه كے تحفظ كا عظيم اور حقيقي عامل هے ۔ آپ دشمنوں كي سازشوں سے مكمل آگاهي كے ساتھ شيعه عقائد كي فكري سرحدوں اور جان و مال و آبر و كي مختلف طريقوں سے حفاظت كرتے هيں ۔ خصوصاً علماي مذهب حقه اور برگزيده افراد كو هدايت و ارشاد اور ولايت تكويني كے ذريعه دشمن كے تمام مكر و حيله كو نقش بر آب كرديتے هيں ۔ دو نمونے ملاحظه فرمائيں ۔ 1 ـ خود حضرت امام مهدي عج الله شيخ مفيد كے نام ايك توقيع ( خط) ميں اپنے شيعوں اور پيرو كاروں سے مخاطب هو كر فرماتے هيں : “ اِنا غيرمُهْمِلِينَ لِمُرَاعَاتِكُمْ وَ لَا نَاسِينَ لِذِكْرِكُمْ وَ لَوْ لَا ذَلِكَ لَنَزَلَ بِكُمُ اللَّأْوَاءُ وَ اصْطَلَمَكُمُ الْأَعْدَاءُ ” هم نے هر گز تم كو اپنے حال پر نهيں چھوڑ اهے اور هر گز تمهيں نهيں بھول لے اور اگر هميشه هماري تو جه نه هوتي تو تم پر بهت سي سختيا اور بلائيں نازل هوئيں اور دشمن تم كو نيست و نابود كرديتے ۔ 2ـ علامه مجلسي بحارالانوار ميں لكھتے هيں : گزشته زمانے ميں بحرين پر ايك ناصبي حاكم حكومت كرتا تھا جس كا وزير وهاں كے شيعوں كے ساتھ باشاه سے بھي زياده دشمني ركھتا تھا ايك دن وزير بادشاه كے پاس حاضر هوا جس كے هاتھ ميں ايك انا رتھا ، جس پر طبيعي شكل ميں يه جمله نقش تھا ،“ لا اله الله محمد رسول ، ابوبكر و عمر و عثمان و علي  خلفاء رسول الله ”بادشاه اس انار كو ديكھ كر تعجب ميں پڑھ گيا اور اس نے وزير سے كها : يه تو شيعه مذهب كے باطل هونے كي واضح دليل هے شيعوں كے بارے ميں تمهارا كيا نظريه هے؟ وزير نے جواب ديا : ميري رائے يه هے كه ان كو حاضر كيا جائے اور يه نشاني ان كو دكھائي جائے ، اگر ان لوگوں نے مان ليا تو انهيں اپنا مذهب چھوڑ نا هوگا و رنه تين چيزوں ميں سے ايك چيز كا انتخاب كرنا هوگا ۔ 1 ـ يا تو اطمينان بخش جواب لے كر آئيں ۔2 ـ يا جزيه ديا كريں۔3 ـ يا ان كے مردوں كو قتل كرديں ، ان كے بچوں اور عورتوں كو قيد كرليں اور ان كے مال و دولت كو غنيمت ميں لے ليں !بادشاه نے وزير كي رائے كو قبول كيا اور شيعه علما كو اپنے پاس بلا بھيجا اور ان كے سامنے وه انار پيش كرتے هوئے كها : اگر تم اس سلسلے ميں واضح دليل پيش نه كرسكے تو تمهيں قتل كردوں گا اور تمهارے اهل و عيال كو اسير كرلون گا يا تم لوگوں كو غير مسلموں كي طرح جزيه دينا هوگا ۔ شيعه علماء نے اس سے تين دن كي مهلت مانگي چنانچه ان حضرات نے بحث و گفتگو كے بعد يه طے كيا كه بحرين كے دس نيك اور صالح پرهيزگا ر علماء كا انتخاب كيا جائے اور وه دس افراد اپنے در مياں تيں لوگوں كا انتخاب كريں اور صحرا ميں نكل كر امام زمانه عج الله سے استغاثه كريں اور ان سے اس مصيبت اور امتحان سے نجات كا راسته معلوم كريں كيونكه وهي همارے زمانے كا امام اور مالك هے۔ چنانچه انهوں ايساهي كيا ، ليكن امام زمانه عج الله سے ملاقات نه هوسكي ، دوسري رات ، دوسرے عالم كو بھيجا گيا ليكن ان كو بھي كوئي جواب نه ملا ، آخري رات تيسرے عالم بزرگوار ( محمد بن عيسي) كو بھيجا گيا ، انهوں روتے هوئے امام سے مدد طلب كي ، جب رات اپني آخري منزل پر پهنچي تو انهوں نے سنا كه كوئي شخص ان سے كهه رها هے : اے محمد بن عيسي، ميں تمهيں اس حالت ميں كيوں ديكھ رها هوں اور تم صحراء ميں كيوں آئے هو؟ محمد بن عيسي نے ان سے كها : مجھے اپنے حال پر چھوڑدو ، انهوں كها : اے محمد بن عيسي! ميں تمهارے زمانه كا امام هوں تم اپني حاجت بيان كرو ! محمدبن عيسي نے كها :اگر آپ هي صاحب الزمان هيں تو پھر ميري حاجت بھي آپ جانتے هيں مجھے بتانے كي ضرورت نهيں هے۔ فرمايا: تم ٹھيك كهتے هو ، تم اپني مصيبت كي وجه سے يهاں آئے هو ، انهوں نے عرض كي جي هاں ! آپ بهتر جانتے هيں كه هم پر كيا مصيبت پڑي هے ، آپ هي همارے امام اور هماري پناه گاه هيں ۔ اس كے بعد امام زمانه عج الله نے فرمايا: محمدبن عيسي !اس وزير( لع) كے گھر ميں‌ايك انار كا درخت هے ، جس وقت اس پر انار لگنا شروع هوا تو اس نے انار كے مطابق مٹي كا ايك سانچه بنوايا اور اس كو دو حصوں ميں تقسيم كرديا اور اس پر مذكوره جمله لكھا اور پھر ايك چھوٹے انار پر اس سانچے كو چڑھا ديا اور جب انار بڑا هوگيا تو وه جمله اس پر ثبت هوگئے ! تم بادشاه كے پاس جاكر اس سے كھنا ميں تمهارا جواب وزير كے گھر جاكر دوں گا اور جب تم وزير كے گھر پهنچ جاو تو وزير سے پهلے فلان كمرے ميں جانا ! اور وهاں ايك سفيد تھيلا ملے گا جس ميں وه مٹي كا سانچا هے ! اس كو نكال كر بادشاه كو دكھانا ، اور دوسري نشاني يه كه بادشاه سے كهنا! همارا دوسرا معجزه يه هے كه جب انار كے دوحصے كريں گے تو اس انار ميں مٹي اور دھويں كے علاوه كوئي چيز نهيں هوگي ! محمدبن عيسي امام عج الله كے اس جواب سے بهت خوش هوئے اور شيعه علماء كے پاس لوٹ آئے اور پورا واقعه ان كے لئے بيان كرديا ۔ دوسرے روز وه سب بادشاه كے پاس پهنچ گئے اور جو كچھ امام عج الله نے فرماياتھا بادشاه پر واضح كرديا : بحرين كے بادشا ه نے جب اس معجزه كو ديكھا تو مذهب شيعه اختيار كر ليا اور حكم ديا كه اس مكار وزير كو قتل كرديا جائے ۔

6ـ شيعون كے لئے باران رحمت :

امام زمانه عج الله خدا كي آخري حجت اور رسول اللهﷺ كا آخري جانشين اور كائنات كا امير اور رهبر و راهنما ، هميشه لوگوں كے حالات زندگي پر نظر ركھے هوئے هيں اور ان كي غيبت ان كے وجود كي بركتوں سے فيضياب هونے ميں مانع نهيں هوتي ، عشق و محبت كا يه ماه منير ، هميشه اپنے شيعوں كا غمخوا ر رها هے ۔ وه كبھي بيمار لوگوں كي عيادت كے لئے حاضر هوتے هيں اور كبھي تنهايي كي وادي ميں بے كس لوگوں كي مدد كرتے هيں اور كبھي بھٹكے هوئے لوگوں كي راهنمايي كرتے هيں اور كبھي نا اميدي سے لوگوں كو نجات ديتا هے اور كبھي بارگاه خداوندي ميں اپنے هاتھوں كو پھيلائے هوئے همارے حق ميں يه ديا كرتے هيں ۔ “يَا نُورَ النُّورِ يَا مُدَبِّرَ الْأُمُورِ يَا بَاعِثَ مَنْ فِي الْقُبُورِ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَ آلِ مُحَمَّدٍ وَ اجْعَلْ لِي وَ لِشِيعَتِي مِنْ كُلِّ ضِيقٍ فَرَجاً وَ مِنْ كُلِّ هَمٍّ مَخْرَجاً وَ أَوْسِعْ لَنَا الْمَنْهَجَ وَ أَطْلِقْ لَنَا مِنْ عِنْدِكَ وَ افْعَلْ بِنَا مَا أَنْتَ أَهْلُهُ يَا كَرِيمُ ” اے نور سب نوروں كے نور ، اے امور كو منظم ركھنے والے اے مردوں كو قبروں سے اٹھانے والے محمدﷺ و آل محمدﷺ پر درود بھيج ، اور مجھے اور ميرے شيعوں كو مشكلات سے نجات عطا كر ، اور غم و اندوه كو دور فرما اور همارے راسته كو وسيع كردے اور اپنے پاس سے وه چيزدے جو باعث گشايش اور خوشحالي هو اور همارے ساتھ وهي سلوك كر جو تيرے شايان شاں هے ، اے كريم! پوري بحث كا نچوڑ يه هے امام زمانه عج الله نور هے اور ان كي غيبت ان كے وجود كي بركتوں سے فيضياب هونے ميں مانع نهيں هوتي ۔ آپ عج الله آج بھي سورج كي طرح ابر غيبت ميں فيض پهنونچا رهے هيں ، ليكن هم اپني ناسمجھي ، بے حسي اور لاپرواهي كي وجه سے استفاده سے محروم هيں ، يه استفاده سے محرومي هي كا نتيجه هے كه اغيار هماري خاميوں كو غيبت امام پر اعتراض كا بهانه بنا ليتے هيں! لهذا هميں اپنے عقيدے اور عمل كا جايزه لينا هوگا كه آيا هميں اس عقيدے پر يقين هے يا نهيں كه امام زمانه عج الله كے حضور همارے روزانه كے اعمال همارے دونوں فرشتے پيش كرتے هيں‌، جس پر حضرت خوشي يا رنج كا اظهار فرماتے هيں‌، اگر ايسا هے تو پھر سب هي باعقيده اور خوش افراد كو طبقه وار اپني اپني ذمه داريوں پر نظر ركھتے هوے اپنے كردار اور گفتار ميں نظر ثاني كرني چاهيے۔ الله تعاليٰ هم سب كو توفيق عطا فرما كه هم غيبت امام زمانه عج الله ميں اپني انفرادي اور اجتماعي فريضه كو ادا كرتے رهيں تاكه حضرت سے شرمنده نه هوں ۔ * آمين ثم آمين *www.alasrpari.com

9 Jan 2012 |

 
 

طولانی عمرسائنس اورتاریخ کےمنظرمیں

طولانی عمرسائنس اورتاریخ کےمنظرمیں
  احقر العباد: غلام مہدی حکیمی اینگوئی۔
سب سے پہلے ہم سائنسی اعتبار سے یہ دیکھیں گے کہ کیا انسان کی زندگی کی کوئی حد ہے؟
ماضی میں کچھ دانشوروں کا خیال تھا کہ زندہ موجودات میں طبعی عمر کا ایک نظام موجود ہے۔
مشہور سائنسدان پاولوف کے مطابق انسان کی طبعی عمر سو ١٠٠ سال۔
روسی سائنسدان میچنکوف کے مطابق عمر انسان کا اوسط ڈیڑھ سو سال۔
جرمن ڈاکٹر کو فلاند کے مطابق دو سو سال۔
مشہور فزیولوجسٹ فلوگرمعتقد تھا کہ انسان کی طبعی عمر چھ سو سال۔
انگریز فلسفی بیکن نے اس عدد کو بڑھا کر ہزار سال قرار دیا۔
لیکن اس دور کے ماہرین علم الاعضاء نے ان عقائد کے محل کو مسمار کر دیا ہے۔
اور یہ ثابت کر دیا ہے کہ انسان کی عمر طبعی کی حدمعین کرنا غلط ہے۔
اس سلسلے میں کیمیا یونیورسٹی کے استاد پروفیسر اسمبس کہتے ہیں۔
جس طرح آخر کار صوتی(صوتی آواز کی) دیوار ٹوٹ گئی اور آواز کی سرعت سے بھی زیادہ تیز رفتار سواریاں اور حمل و نقل کے ذرائع ایجاد ہو گئے ہیں اس طرح ایک دن انسان کی عمر کی سرحدیں بھی ٹوٹ جائیں گی اور ہم نے اب تک جتنی عمر کا مشاہدہ کیا ہے وہ اس سے بھی آگے بڑھ جائے گی۔
پروفیسر آتینگر نے اپنی ایک تقریر میں کہا: کہ جوان نسل ایک دن انسان کی جاویدانی اور ابدی حیات کو اسی طرح قبول کرے گی جیسا کہ آج لوگوں نے فضائی سفر کو تسلیم کیا ہے میرا نظریہ ہے کہ ٹیکنالوجی کی ترقی اور اس تحقیق سے جو ہم نے شروع کر رکھی ہے کم از کم آئندہ صدی کا انسان ہزاروں سال کی زندگی بسر کرے گا۔ بحوالہ دانشمند شمارہ۔
ان سائنسدانوں کی تائید وہ جرائد بھی کرتے ہیں جس سے پتہ چلتا ہے کہ وقت گزرنے کے ساتھ انسان کی عمر بڑھتی جا رہی ہے مثلاً برطانیہ میں١٨٣٨ء سے ١٨٥٤ء تک مردوں کی عمر کا اوسط ٩١/٣٩ اور عورتوں کی عمر کا اوسط ٨٥/٤١تھا لیکن ١٩٣٨ء میں مردوں کی عمر کا اوسط ١٨/٦٩ اور عورتوں کا اوسط ٤٠/٦٤ تھا۔
١٩٥١ء میں امریکہ میں مردوں کی عمر کا اوسط ٢٣/٤٨ اور عورتوں کا اوسط٨٠/٥١ تھا جب کہ ١٩٤٤ میں مردوں کی عمر کا اوسط ٥٠/٦٣ اور عورتون کی عمر کا اوسط٩٥/٦٨ تک پہنچ چکا تھا یہ اضافہ بچوں کو شامل کرتے ہیں اور یہ طبعی حالت کی بہتری اور بیماریوں میں خصوصاً متعدی بیماریوں کے سدباب کا مرہون منت ہے۔
اس عقیدے کا ثابت کرنے کے لیے جو زندہ دلیلیں پیش کر سکتے ہیں وہ بعض دانشوروں کے وہ تجربے جو انہوں نے مختلف حیوانوں اور نباتات پر کی ہیں۔
وہ لوگ لیبارٹری کی ایک مخصوص فضا اور کفیت میں بعض اوقات ایک زندہ موجود کی عمر کو بارہ گنا بڑھانے میں کامیاب ہو سکے ہیں قابل اعتماد سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ حیوان کے بدن کے اعضائ رئیسہ میں سے ہر ایک میں لا محدود مدت تک رہنے کی صلاحیت موجود ہے۔ اگرانسان کے سامنے ایسے عوارض اور حادثات سامنے نہ آئیں جو کہ اس کی حیات کو منقطع کریں تو وہ ہزاروں سال تک زندہ رہ سکتا ہے۔
ان سائنسدانوں کا نظریہ کوئی خیال تخمینہ نہیں ہے بلکہ ان کے تجربوں کا نتیجہ ہے۔
ایک جراح ڈاکٹر الکیس کارل جو کہ راکفلر کے علمی ادارے نیویارک کا ملازم تھا اس نے چوزے کے کٹے ہوئے جز پر تجریہ کیا اور وہ اس جز کو اس چوزے کی عام زندگی سے زیادہ دنوں تک زندہ رکھنے میں کامیاب ہوا اور اس نتیجہ پر پہنچا ہے کہ کٹے ہوئے جز کی حیات کا دارومدار اس کے لیے فراہم کی جانے والی غذا پر منحصر ہے جب تک اسے کافی غذا ملتی رہے گی اس وقت تک وہ زندہ رہے گا۔
موصوف اور دوسرے افراد نے یہی تجربہ انسان کے مصطوع اجزائ پر کیا جیسے عضلات قلب اور پھیپھڑے وغیرہ پر اور اس نتیجہ پر پہنچے کہ جب تک ان اجزائ کو غذا اور مناسب فضا ملتی رہے اس وقت تک وہ انہی حیات کا رشد و نمو جاری رکھ سکتے ہیں۔
جونس ہیکس یونیورسٹی کے پروفیسر ریمنڈیلوربرل کہتے ہیں۔
انسان کے جسم کے اعضائ رئیسہ میں دائمی قابلیت و استعداد موجود ہے یہ بات تجربات سے ثابت ہو چکی ہے اور یہ نظریہ نہایت واضح ہے۔
جاک لوب جو کہ خود بھی راکفلر میں ملازم تھا جس وقت وہ مینڈک کو تلقیع نہ شدہ تخم سے پیدا کرنے والے موضوع پر تحقیق میں مشغول تھا۔
اس وقت اچانک اس بات کی طرف متوجہ ہوا کہ بعض انڈوں کو مدت دراز تک زندہ رکھا جا سکتا ہے اس کے بر عکس بہت سے کم عمر مر جاتے ہیں یہ قضیہ باعث ہوا کہ وہ مینڈک کے اجزائ پر تجربہ کریں چنانچہ اس تجربے میں انہیں مدت دراز تک زندہ رکھنے میں کامیاب ہو گیا۔
ڈاکٹر ورن لویس نے اپنی زوجہ کے تعاون سے یہ ثابت کیا کہ پرندے کے جنین کے اجزائ کو نمکین پانی میں زندہ رکھا جا سکتا ہے اس طرح کہ جب بھی اس میں آبی مواد کا ضمیمہ کیا جائے گا اسی وقت ان کے رشد و نمو کی تجدید ہو گی ایسے تجربے مسلسل ہوتے رہے اور اس بات کو ثابت کرتے رہے کہ حیوان کے زندہ خلیے ایسی سیال چیز میں اپنی حیات جاری رکھ سکتے ہیں جس میں ضروری غذائی مواد موجود ہے۔
موت کے کارشناس و ماہر پروفیسر متالینکف لکھتے ہیں انسان کا بدن تیس ٹریلین خلیوں سے تشکیل پاتا ہے وہ سب یکبازگی نہیں ہو سکتے اس بنائ پر موت اس وقت مسلمہ ہو گی جب انسان کے مغز میں اسے کیمیائی تغیرات واقع ہو جائیں کہ جن کی مرمت ممکن نہ ہو۔
٣٠ اگست ١٩٥٩ء کو ڈاکٹر ہانس یسلی کینیڈا کے شہر مونٹرال میں اخباری نمائندوں کو خلیے کی ساخت اور بافت دیکھائی اور بتایا کہ یہ زندہ خلیہ حرکت میں ہے اور ہر گز نہیں مرے گا اس نے مزید دعویٰ کیا کہ یہ خلیے ازلی ہے اور کہا: کہ انسان کے بافت خلیے کو بھی اسی شکل میں لے آئیں تو انسان ایک ہزار سال تک زندہ رہے گا پروفیسر یسلی کا نظریہ ہے کہ موت تھیوری کے نقطہ نگاہ سے ایک تدریجی بیماری ہے موصوف ہی کا نظریہ ہے کہ کوئی شخص بڑھاپے کی وجہ سے نہیں مرتا کیونکہ اگر کوئی شخص ضعیفی کی وجہ سے مرے تو اس کے بدن کے خلیوں کو فرسودہ اور بیکار ہوجانا چاہیے جب کہ ایسا نہیں ہے بلکہ بہت سے بوڑھوں کے اعضائ اور ان کے بدن کے مختلف خلیے سالم رہتے ہیں ان میں کوئی نقص واقع نہیں ہوتا بعض لوگوں کا انتقال اچانک اس لیے ہوتا ہے کہ اچانک ان کے بدن کا کوئی عضو بیکار ہو جاتا ہے اور چونکہ بدن کے تمام اعضائ ایک مشین کے پرزوں کی طرح مربوط اور متصل ہیں اس لیے ایک کے بیکار ہونے سے سارے بیکار ہوتے ہیں پروفیسر میل نے اعلان کیا کہ علم طب اور میڈیکل ایک دن اتنی ترقی کرے گا کہ فرسودہ خلیے کی جگہ نیا خلیہ انجکشن کے ذریعے رکھ دیا جائے گا اس طرح انسان جب تک چاہے گا زندہ رہے گا بحوالہ دانشمند شمارہ۔
ڈاکٹر کارل نے اپنے پے در پے تجربوں سے ثابت کیا ہے کہ وہ اجزائ ضعیف نہیں ہوتے جن پر تجربہ کیا جاتا ہے اور پھر جوانی کی مدت بھی طویل ہوتی ہے اس نے جنوری ١٩١٣ئ میں اپنے کام کا آغاز کیا اس سلسلے میں مشکلات بھی پیش آئے لیکن اس اور اس کے عملے نے کامیابی حاصل کی اور درج ذیل موضوعات کا انکشاف کیا۔
جب تک تجربہ کیے جانے والے زندہ خلیوں پر کوئی ایسا عارضہ نہ ہو جوان کی موت کا باعث ہو جیسے جراثیم کا داخل ہونا یا غذائی مواد کا کم ہونا تو وہ زندہ رہیں گے اور رشد پاتے ہیں۔
مذکورہ اجزائ صرف حیات ہی نہیں رکھتے بلکہ ان میں رشد و نمو بھی پائی جاتی ہے بالکل ایسے ہی جیسے یہ اس وقت رشد و نمو اختیار کرتے جب حیوان کے بدن کا جز ہوتے۔
ان کے نمو و تکاثر کا ان کے لیے فراہم کی جانے والی غذا سے موازنہ کیا جا سکتا ہے اور اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔
ان پر مرورزمان کا اثر نہیں ہوتا ضعیف اور بوڑھے نہیں ہوتے بلکہ ان میں ضعیفی کا معمولی بھی اثر مشاہدہ نہیں کیا جا سکتا وہ ہر سال ٹھیک گزشتہ سال کا نمو پاتے ہیں۔
مندرجہ بالا موضوعات سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ بڑھاپا علت نہیں بلکہ معلول ہے پھر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ انسان مرتا کیوں ہے؟
وہ کونسے عوامل ہے جس سے عمر کو بڑھایا جا سکتا ہے؟
اور وہ کونسے عوامل ہے جو عمر کو کم کر دیتے ہیں؟
ہم باالترتیب ان سوالوں کا جواب دیں گے۔(انشائ اللہ)

انسان مرتا کیوں ہے؟
جہاں تک انسان کے مرنے کا اور اس کی زندگی کے محدود ہونے کا سبب ہے وہ یہ کہ حیوان کے جسم کے اعضائ زیادہ اور مختلف ہیں اور ان کے درمیان کمال ارتباط و اتصال موجود ہے ان میں سے بعض کی حیات دوسرے بعض کی زندگی پر موقوف ہے اگر ان میں سے کوئی کسی وجہ سے ناتواں ہو جائے اور مرجائے تو اس کی موت کی وجہ سے دوسرے اعضائ کی بھی موت آجاتی ہے اس کے ثبوت کے لیے وہ موت کافی ہے جو کہ جراثیم کے حملے سے اچانک واقع ہو جاتی ہے یہی چیز اس بات کا سبب ہوئی کہ عمر کا اوسط ستر اسی سال سے بھی کم قرار پائی۔

طول عمر کے عوامل
عمر کو بڑھانے والے کچھ عوامل ہیں جو کہ درج ذیل ہیں۔

موروثی عامل:
طول عمر میں موروثی عامل کی اہمیت و اثر واضح ہے ایسے خاندان بھی پائے جاتے ہیں کہ جس کے افراد کی اوسط عمر کا اوسط عام طور پر زیادہ ہیں مگر یہ کہ کوئی ان میں سے حادثاتی طور پر مر جائے۔
اس سلسلے میں جو دلچسپ اور تحقیقی مطالعات ہوئے ہیں ان میں سے ایک ریمونڈپیرل کا مطالعہ ہے اس نے اپنی بیٹی کے تعاون سے ایک کتاب تالیف کی اور اس میں ایک خاندان کی طویل العمری کے بارے میں لکھا جس میں ایک فرد کی سات پشتوں، دادا، پردادا، نواسہ، نواسے کی اولاد اور موخراند کر کی اولاد کی اولاد کی مجموعی عمر ٦٩٩ سال ہوتی ہے جب کہ اس خاندان کے دو افراد حادثے سے مرجاتے ہیں۔
بیمہ کمپنیوں کی تحقیق سے جو نئی شرح لوٹی دو بلین اور ہر برٹ مارکس نے پیش کی ہے اس میں انہوں نے ثابت کیا ہے کہ اسلاف کی درازی عمر اخلاف واولاد کی عمر پر اثر انداز ہوتی ہے۔

ماحول:
جس ماحول کی ہوا معتدل، صاف، جراثیم اور زہر سے پاک، سورو ہنگامے سے خالی، سکون سے مالا مال اور سورج کی شعاعوں کا مرکز ہو گی اس کے باشندوں کی عمر دراز ہو گی۔

غذا کی کیفیت:
غذا بھی مقدار اور نوعیت کے اعتبار سے درازی عمر پر گہرا اثر چھوڑتی ہے جن لوگوں کی عمر سو سال سے زیادہ تھی ان میں سے اکثر کم خوراک تھے اس لیے ایک سائنسدان نے کہا کہ تم اپنے دانتوں سے خود اپنی قبر کھودتے ہیں یعنی زیادہ کھا کر غذائی امور کے ماہرین معتقد ہیں کہ طول عمر تغزیہ کے طریقے اور اقلیمی شرائط سے بہت قریبی تعلق رکھتی ہے وہ لوگ شہد کی مکھیوں کی ملکہ پر جو دوسری مکھیوں کی نسبت کئی گنا زیادہ عمر رکھتی ہے تحقیقی مطالعہ کر کے اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ ملکہ کی طول عمر کا راز یہ ہے کہ وہ اس مخصوص غذا کو استعمال کرتی ہے جس کو مزدور شہد کی مکھیاں اپنی ملکہ کے لیے فراہم کرتی ہیں یہ غذا عام شہد سے بہت فرق رکھتی ہے اس سے پتہ چلا کہ مناسب غذا اور بہترین غذا استعمال کر کے زندگی کو کئی گنا بڑھا سکتے ہیں۔

ہایبرنیشن
جن طریقوں سے انسان کی عمر کو بڑھا سکتے ہیں اور اسے نیم جاں کر کے قابل مطالعہ قرار دیا جا سکتا ہے ان میں سے ایک ہایبرنیشن (سردی کی نیند) پر نیند بعض حیوانات پر سردی کے موسم میں طاری ہوتی ہے اور گرمی کے موسم میں بھی ہو سکتی ہے جب حیوان پر یہ نیند طاری ہوتی ہے تو اس وقت اس کی غذا کی احتیاج ختم ہوجاتی ہے اور بدن کے مایحتاج چیزوں میں ٣٠ سے ١٠٠ تک کمی واقع ہوتی ہے اس کی حرارت کو منظم رکھنے والی مشینری وقتی طور پر بند ہو جاتی ہے اور فضا کی حرارت کم ہونے سے کھال اور باٹھٹھڑ کر سخت نہیں ہوتے اس کے بدن پر لرزہ طاری نہیں ہوتا بلکہ اسکے بدن کی حرارت فضا اور ماحول کی مانند ہو جاتی ہے کہ ممکن ہے درجہ اول نقطہ انجماد سے ٣٩۔٤١F سے بھی اوپر پہنچ جائے کہ جس سے سانس کی رفتار کم اور نا منظم ہو جاتی ہے اور حرکت قلب کبھی کبھی ہوتی ہے اعصاب کے مختلف رفلکس رک جاتے ہیں اور ٥٢ سے ٦٦ فارن ہائیٹ درجہ حرارت سے نیچے مغز کی برقی امواج کا مشاہدہ کیا جاسکتا ہے جس کی زندہ مثال وہ مچھلی ہے جو کچھ عرصہ پہلے قلبی برف کے تودوں کے درمیان منجمد حالت میں ہاتھ آئی۔
اس پر جمی ہوئی برف کی تہہ بتا رہی تھی کہ اس مچھلی کی عمر پانچ ہزار سال تک ہے پہلے یہ خیال ہوا کہ یہ مچھلی مر چکی ہے لیکن جب اس کو معتدل پانی میں رکھا گیا تو سب نے تعجب سے دیکھا کہ وہ مچھلی تیرنے لگی معلوم ہوا کہ یہ مچھلی اتنے ہزاروں ساال زندہ رہی۔

بڑھاپے کے عوامل
بڑھاپے کے عوامل عام طور پر کسی بھی شخص میں معین وقت پر ظاہر ہوتے ہیں لیکن یہ مسلمہ نہیں ہے کہ بڑھاپے کی اصل وجہ عمر کی یہی مقدار ہے کہ بدن کے اعضائ پر اتنی مدت گزر جائے تو بڑھاپا آجاتاہے بلکہ ضعیفی کی بنیادی وجہ اختلال کی پیدائش کو قرار دیا جا سکتا ہے اور یہ اختلال عام طور پر اسی عمر میں ظاہر ہوتے ہیں اور یہ اختلال کبھی بدن کے زیادہ محنت و مشقت کرنے سے ضعیف ہوتے ہیں کبھی غیر معمولی حوادث اور پریشانیوں کی وجہ سے تو کبھی بیماریوں اوربری عادتوں کی وجہ سے اختلال جو کہ اس عمر میں بدن میں پیدا ہوتا ہے اور بدن کی مختلف مشنریوں کی فعالیت میں کمی واقع ہوتی ہے اورتشریح الاعضائ کے نقطہ نظر سے ان کی مختلف صنعیں سکڑ جاتی ہیں ان کی رگوں کی تعداد کم ہوتی ہے نظام ہاضمہ بیکار اور ضروری غذائیں فراہم کرنے سے عاجز ہوجاتاہے اور نتیجے میں پورے بدن پر ضعف طاری ہوتا ہے طاقت تناسل کم اور مغز کی حرکت مدہم پڑھ جاتی ہے بعض افراد کاحافظہ خصوصاً اسمائ کے سلسلے میں بیکار پڑھ جاتاہے نیز قوت ارادی متاثر ہوتی ہے مذکورہ حوادث و توانیاں بدن میں واقع ہونے والے اختلال کی پیدا وار ہے پس ضعیفی علت نہیں ہے بلکہ معلول ہے یہاں تک کہ اگر کوئی شخص ایسا پایا جائے کہ جس کے اعضائ بدن میں طویل عمر کے باوجود طبیعی حالات کے تحت اختلال پیدا نہیں ہوا ہے تو وہ سالم اور شاداب بدن کے ساتھ عرصہ دراز تک زندہ رہ سکتا ہے۔
قارئین کرام!
یہاں تک ہم نے ثابت کیا کہ طول عمر سائنس کی دنیا میں کوئی نئی بات نہیں اور نہ کوئی تعجب خیز مسئلہ ہے اب ہم تاریخ کی طرف رخ کریں گے۔ (انشائ اللہ)

تاریخی حوالے
کیا دنیا میں ایسے افراد جو کہ طویل العمر ہوں اور حیرت میں ڈال دیاہو موجود ہیں؟ جی ہاں ایسے جاندار جنہوں نے انسانوں کو حیران کر دیا ہے وہ نہ صرف انسانوں میں ہیں بلکہ نباتات اور حیوانوں میں بھی موجود ہیں اگر آپ کو شک ہے تو درج ذیل افراد کی طرف نظر کرے انشائ اللہ شک دور ہو گا۔

نباتات کے طویل عمر افراد
جن لوگوں نے اسکاٹ لینڈ کی سیر کی ہے وہ ایسے عجیب و غیر درخت کا پتہ بتاتے ہیں جس کے تنے کا قطر٩٠ فٹ اور اس کی عمر کا اندازہ پانچ ہزار سال ہے۔
کیلیفورنیا میں ایک ایسا درخت دیکھا گیا ہے جس کی لمبائی سو میٹر نیز نچلے حصے میں اس کا قطر دس میٹر ہے اور اس کی عمر کا اندازہ چھ ہزار سال ہے۔
جزائر کا ناری میں پائے جانے والے خوبصورت درختوں کے بیج میں دم الاخوین قسم کے درخت نے دانشوروں کو اپنی طرف متوجہ کیا ہے اس درخت کے بارے میں کہا جاتا ہے اس کے رشد و نمو میں کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے لیکن اس کے باوجود ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اس کی عمر بہت طولانی ہے حالانکہ اس عرصے میں زمانے کے گزرنے کے اثرات کے اوپر ظاہر نہیں ہوئے لہذا بعض لوگوں کا خیال ہے کہ یہ درخت خلقت آدمٴ سے بھی پہلے موجود تھا۔
قدیم مصر میں کھدائی ہوئی تو مصر کے جوان مرگ فرعون کے مقبرے مں گیہوں نکلے اور اخباروں میں بتایا گیا کہ بعض علاقوں میں انہیں بویا گیا تو وہ کامل طورپر سر سبز و شاداب ہوئے اس سے ثابت ہوا کہ گندم کا حیاتی نقطہ نظر تقریباً تین چار ہزار سال تک زندہ رہنا ہے۔

حیوانوں میں طویل العمر افراد
علم حیات کے ماہرین نے کچھ ایسی مچھلیوں کا انکشاف کیا ہے جن کی عمر کا تخمینہ تیس لاکھ سال لگایا گیا ہے۔
حیوانات کے طویل العمر افراد میں سے ایک وہ زندہ کچھوا ہے جو کہ گارگوش جزیرے میں موجود ہے اس کی عمر ایک سو ستر سال(١٧٠) وزن تقریباً ٢٥٠ پونڈ ہے اور طول چار فٹ۔ بحوالہ دائرۃ المعارف۔
انہیں افراد میں سے ایک متعدی بیماری کے جراثیم کو قدیم ترین زندہ موجود قراردیاجاتا ہے یہ ایسے زندہ موجودات ہیں کہ ممکن ہے جو زندگی کا مطالعہ حیات کے راز کو منکشف کر دے ان ہی سے بعض نباتی، حیوانی اور انسانی بیماریاں جیسے زکام انفلوانزا، خسرہ، چیچک جیسی بیماریاں پیدا ہوتی ہیں۔
اثار قدیمہ کے ماہروں نے ان جراثیم کا وجود ما قبل تاریخ بتایا ہے یعنی یہ موجودات ایک لاکھ سال کے بعد بھی زندہ ہیں اور ان کی زندگی کے آثار ختم نہیں ہوئے ہیں۔
اگرچہ اس دوران انہوں نے ففتہ اور نہفتہ زندگی بسر کی ہے بحوالہ دائرۃ المعارف۔
سنکھوں کے درمیان ایسے سنکھے بھی نظرآتے ہیں جن کی عمریں کئی ہزارسال ہیں۔

تاریخ انسانیت کے طویل افراد
اصحاب کہف:
اصحاب کہف کے بارے میں قرآن میں صریحاً موجود ہے کہ وہ لوگ تین سو نو سال تک اس غار میں رہے جیسا کہ ارشاد الہیٰ ہے: وکھفہم ثلث مآۃ سنین و اذدادوتسعا اصحاب کہف کے اس واقعے سے بخوبی پتہ چلتا ہے کہ انہوں نے اس پورے عرصے میں ایک ہی لباس پہنے رکھا تین سوسال تک سوتے رہے اور پھر بیدار ہوئے پھر دوبارہ سو گئے یہاں تک کہ ہمارے آخری پیغمبر۰ کا زمانہ آیا اور آنحضرت نے علی ٴ کو حکم دیا کہ آپ اندر جائیں علی ٴ اندر تشریف لے گئے اور انہیں سلام کرنے کے بعد ان کی احوال پرسی کی انہوں نے سلام کا جواب دیا اور پھر تیسری بار سو گئے اب وہ امام زمانہٴ کے ظہور پر نور تک سوتے رہیں گے پھر بیدار ہوں گے امامٴ کے اصحاب میں شامل ہوں گے اصحاب کہف کے اب تک زندہ رہنے سے پتہ چلا کہ جو ذات امامٴ کے اصحاب کو اتنے عرصے زندہ رکھیں وہ ذات اگر ان کے امام و آقا کو آج تک زندہ رکھیں تو تعجب کی کونسی بات ہے۔

حضرت عزیز کا واقعہ
انہیں واقعات میں سے ایک حضرت عزیز کا واقعہ ہے جس کا ذکر قرآن میں آیا کہ خدا نے ایک سو سال تک انگور کے خوشے کو ترو تازہ رکھا اور اس عرصے میں حضرت عزیز کے بدن مبارک کو محفوظ رکھا۔
البتہ اس عرصے میں ان کا گدھا اپنے طبعی تقاضوں کے مطابق ہو گیا اور اس کا جسم بھی بوسیدہ ہو گیا اور عزیز کے سامنے اللہ تعالیٰ نے پھر اس کو زندہ کیا اس واقعے سے صاف پتہ چلتا ہے وہ ذات جوانگور کے ایک خوشے کو ایک سو سال تروتازہ رکھ سکتی ہے وہ امام عصرٴ کو کچھ صدیاں زندہ رکھیں تو کیا بعید۔

حضرت نوحٴ:
تاریخ میں دیکھا جائے تو پتہ چلتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت نوحٴ کو تمام نبیوں سے زیادہ زندگی دی تھی اس لیے انہیں شیخ الانبیائ(نبیوں میں سب سے بوڑھے) کہا جاتا ہے قرآن کے صریح اور واضح بیان سے پتہ چلتاہے کہ حضرت نوحٴ کی نبوت کازمانہ طوفان نوح سے پہلے ساڑھے نو سو سال(٩٥٠) کا تھا فلبث فیھم الف سنۃ الاخمین عاما۔ اب مجموعی عمر ڈیڑھ ہزار سال یا دو ہزار لکھی گئی ہے۔

حضرت خضرٴ:
حضرت خضرٴ کے روئے زمین میں موجود ہونے سے کوئی انکار نہیں کر سکتا حضرت ذوالقرنینٴ کو معلوم ہوا تھا کہ جو شخص چشمہ آب حیات کا پانی پی لے اس کو اس وقت تک موت نہیں آئے گی جب تک صور نہ پھونکا جائے یا خود خواہش نہ کرے حضرت ذوالقرنین تلاش میں نکلے بارہ برس کا سفر کیا ظلمات میں گشت کرتے رہے مگر چشمہ ان کو نہ ملا لیکن ان کے وزیر حضرت خضرٴ کو مل گیا انہوں نے اس چشمے سے پانی پیا اور غسل بھی کیا اور اب تک زندہ ہیں پس جب قدرت نے آب حیات میں اتنا اثر رکھا ہے تو حضرت حجت ٴ کی طولانی عمر پر کیسے شک کر سکتے ہیں جو کہ خدا کی طرف سے سارے عالم کی حیات اور آب حیات کے وجود کا باعث ہیں۔

افراد دیگر:
حضرت عیسیٰ علیہ السلام، حضرت ادریسٴ، حضرت الیاسٴ ابھی تک زندہ ہیں جن کو خزانہ غیب سے روزی ملتی ہے ان کے علاوہ تاریخ میں لا تعداد طویل العمر افراد ہیں جن میں سے کچھ یہ ہیں حضرت آدمٴ کی عمر ٩٣٦ برس حضرت شیث ٩١٢ سال۔
حضرت سام ابن نوحٴ چھ سو برس لقمان حکیم کی ایک ہزار برس لقمان ابن عاد تین ہزار برس عوج ابن عناق دشمن خدا کی تین ہزار چھ سو شداد کی نو سو برس۔
اس کے علاوہ اتنے افراد ہیں جن کا ذکرکرنا باعث خستگی ہو سکتا ہے لہذا اکتفا کرتا ہوں۔

دعوت فکر:
پس جب ہم نے سائنس کے اعتبار سے ثابت کیا کہ اگر حوادث دنیا نہ ہوتے تو انسان عرصہ دراز تک عمر پا سکتا ہے نیز تاریخ اعتبار سے بھی ثابت کیا کہ ایسے طویل عمر افراد نہ صرف انسانوں میں ہیں بلکہ نباتات اور حیوانوں میں بھی موجود ہیں اور خصوصاً حضرت خضرٴ اور حضرت الیاسٴ جو ہزاروں برس پہلے سے موجود ہیں ان کا یہ بقائ اور درازی عمرکا مقصد ان کی پیغمبری نہیں ہو سکتی جو کہ آئندہ وہ اظہار فرمائیں گے اور نہ ان پر کوئی آسمانی کتاب نازل ہونے والی ہے نہ ان کے پیش نظر کسی تازہ شریعت کی ترویج ہے جس کی اطاعت فرض ہو۔
بلکہ ان کی حیات کا فلسفہ یہ ہے کہ مخلوق خدا ان کے طول عمر کو دیکھتے ہوئے آخری حجت الہیہٰ کی عمر طویل ہونے سے متعجب نہ ہوں اور حضرت کی وجود سے انکار نہ کریں اوراس حیثیت سے بھی بندوں پر حجت خدا قائم ہو جائے اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے زندہ رکھنے کا فلسفہ یہ ہے کہ ان کی تصدیق سے پیغمبر اکرم۰ کی رسالت پر اہل کتاب ایمان لائیں اور ان کی زندگی سے حضرت حجت خدا۰ کی زندگی کا ثبوت ہو جائے اور کتنا افسوس ہے اس انسان کے اوپر جسے خدا نے اشرف المخلوقات کا تاج پہنا کر دنیا میں بھیجا تا کہ وہ عقل استعمال کرے اچھے برے کی تمیز کرے مگر انسان کو دیکھیں کہ شیطان جو کہ عدو مبین ہے اس کی زندگی کو آدمٴ سے لے کے اب تک ماننا ہے لیکن امام مبین، بقیۃ اللہ، امام زمانہٴ کی کچھ صدیوں پر مشتمل زندگی پر شک کرتا ہے اولئک کالانعام بل ھم اضل کے مصداق ہیں لوگ ہیں اگر یہ لوگ اپنے تعصب کے چشموں کواتار کر اور قلب سلیم کے ساتھ صحیح راہ کی تلاش میں نکلیں تو بہت جلد ہدایت پائیں گے کیونکہ ذات خداوندی کا یہ وعدہ ہے کہ جو ہماری راہ میں ہدایت حاصل کرنے کی کوشش کریں ہم ان کی راہنمائی ضرور کرتے ہیں ہم بھی اس دعا کے ساتھ پروردگار ہمیں بھی ہدایت کے راستے پر ثابت قدم رکھ ان لوگوں کے راستے پر جن پر تیری نعمتیں نازل ہوئی اور ہمارے امامٴ کے ظہور میں تعجیل فرما اور ہمیں ان کے اعوان و انصار میں شامل ہونے کے قابل بنا دے۔(آمین)
دنیا کو ہے اس مہدیٴ برحق کی ضرورت
ہو جس کی نگاہ زلزلہ عالم افکار

بشکریہ www.zuhoor.com
 

9 Jan 2012 |

 
 

کیا پانچ سال کا بچہ امام ہوسکتا ہے ؟

کیا پانچ سال کا بچہ امام ہوسکتا ہے ؟
  ،مولف:محمود حسین حیدری
یہ بات واضح ہے کہ مہدی موعود(عج) ایک مخصوص ومعین فرد ہیں جو کہ ائمہ اہل بیت علیہم السلام میں سے گیارہویں امام ، حسن العسکری (ع) الخالص کے فرزند ارجمند بلافصل ہیں ، اور پندرہ (۱۵)شعبان ۲۵۵ھ یا ۲۵۶ھ کو سامراءمیں پیدا ہوئے اور ۲۶۰ھ تک اپنے والد بزرگوار حضرت امام حسن عسکری (ع) سے تربیت حاصل کرتے رہے ، ایک قول کے مطابق چار ۴ سال کی عمر میں امامت وخلافت کے عظیم مرتبہ پر فائز ہوئے کچھ لوگوں کو یہ پریشانی ہے کہ اگر حضرت امام مہدی(ع) اپنے والد کے وفات کے وقت طفل تھے جن کی عمر پانچ سال سے زیادہ نہ تھی ، اوروہ اس عمر میں اپنے والد سے فکری اور دینی تربیت حاصل نہین کرسکتے تھے تو اپنی دینی فکری اور علمی ذمہ داری پوری کرنے کے لئے وہ کیسے تیار ہوئے ؟ دوسرے لفظوں مین ” کیا پانچ سال کا بچہ امام ہوسکتا ہے ؟

ہمارا جواب
جو لوگ سوچتے ہیں کہ ایک کمسن بچے کا امامت وخلافت کے مرتبہ پر فائز ہونا صحیح نہیں ہے ، یہ لوگ اس سلسلے میں غلط فہمی کا شکار ہیں وہ لوگ خیال کرتے تھے کہ پیغمبر اولیاءالہیٰ اور ائمہ ہدیٰ عام لوگوں کی طرح ہیں یعنی انہیں بھی بالغ ہونا چاہئے تاکہ مقام نبوت وامامت کے لائق ہوسکیں یہ ان کی کم علمی ہے کیونکہ مقام نبوت وامامت کے لئے بلوغ شرط نہیں ہے ، مشاہدے کی بات ہے کہ ہزاروں لوگ اس دنیا میں بالغ ہوتے ہیں اورہوتے رہیں گے ، لیکن بالغ ہوکر بھی ایک بچے کی حدتک فہم وادراک نہیں رکھتے ادھر نہ جانے کتنے ایسے نابالغ بچے ہیں جو عقل وفراست میں کسی رشید سے کم نہیں ۔
مختصر یہ کہ بلوغ وبزرگی شرط امامت ونبوت نہیں ہے ۔ لہذا اس قسم کے استبعاد یاوہم وگمان کا راستہ باالکل مسدود ہے بلکہ قرآن مجید کی بھی مخالفت ہے ، کیونکہ قرآن مجید کی نظر میں یہ انتخاب کبھی بلوغ کے بعد یابزرگی کے زمانے میں ہوتا ہے، تو کبھی عہد طفولیت میں ، جیسا کہ حضرت عیسی(ع) نے گھوارہ میں لوگوں سے گفتگو کی اور کہا:” انّی عبداللّہ آتانی الکتاب وجعلنی نبیّاً “ میں خدا کا بندہ ہوں مجھے اس نے کتاب اورنبوت عطا کی ہے میں جہاں بھی رہوں گا بابرکت ہوں اور تاقیامت مجھے نماز وزکوٰة کی وصیّت کی ہے !! اس آیہ مبارکہ سے یہ بات سمجھ میں آجاتی ہے کہ حضرت عیسیٰ (ع)بچپنے ہی سے نبی اور صاحب کتاب تھے اسی بناپرکہ پانچ سال کے بچے کا عالم غیب سے ارتباط رکھنے اور تبلیغ احکام جیسی عظیم ذمہ داری کے لئے منصوب ہونے میں کوئی حرج نہیں ہے اس لئے کہ وہ اس امامت کے عہدہ برآہونے اور اپنی پوری ذمہ داری کو ادا کرنے کی الہیٰ طاقت رکھتے ہیں ۔
اسی سورہ مبارکہ کی آیت ۲۱ میں ایک اور پیغمبرخدا کے بارے میں ارشاد ہوتا ہے :
یایحیٰ خذالکتاب بقوة وآتیناہ الحکم صبیاً رحناناً من لدنا وزکوٰة وکان تقیّاً۔
اے یحیٰ کتاب ( تورات ) مضبوطی کے ساتھ لو اورہم نے انہیں بچپنے ہی میں اپنی بارگاہ سے نبوت اور رحمدلی اور پاکیزہ گی عطا فرمائی اور وہ خود بھی پرہیز گار تھے ۔
آپ ہی فیصلہ کیجئے آخر اس میں کیا فرق ہے کہ خداوند متعال اپنے ایک بندہ کو بچپنے میں نبوت عطا کرے ، اورایک کو امامت ، علماءاوراہل سنت کے بزرگ دانشمند بھی ہماری اس بات کی تائید کرتے ہیں کہ جب حضرت عیسیٰ(ع) اور حضرت یحیٰ(ع) کو بچپنے میں نبوت عطا ہوسکتی ہے تو حضرت امام مہدی(ع) یادوسرے ائمہ معصومین علیہم السلام کو منصب امامت کے عطا ہونے میں کوئی مضائقہ نہیں اسی لئے امام مہدی(ع) کے بارے میں پانچ سالہ سن وسال میں درجہ امامت پر فائز ہونے کا صریحاً اقرار کیا ہے ۔ ذیل میں چند بزرگ اہل سنت جید علماءکے بیان ملاحظہ فرمائیں ۔
۱۔ابو العباس احمد بن یوسف دمشقی ، متوفی ۹۱۰۱ ھ” اخبار الدول والآثارالاول “ میں لکھتے ہیں :
الفصل الحادی عشر، فی ذکر خلف الصالح الامام ابی القاسم محمدبن حسن العسکری (ع) وکان عمرہ عند وفات ابیہ خمس سنین آتاہ اللّہ فیہا الحکمة کما اوتیہا یحی¸ٰ علیہ السلام۔
گیارہویں فصل ، خلف صالح امام ابوالقاسم محمد ابن حسن عسکری (ع) کے بارے میں ہے آپ کی عمر والد کی وفات کے وقت پانچ سال تھی، لیکن خدا وند متعال نے اس کم عمری میں آپ کو حکمت [امامت] عطا کی جس طرح حضرت یحیٰؑ کو [نبوت] عطا کی تھی۔(۔اخبار الدول والآثارالاول، فصل الحادی عشر، ص ۱۴۱۔)
۲۔ جناب عبداللہ بسمل ” ارحج المطالب “ میں حضرت امام مہدی(ع) کے بارے میں لکھتے ہیں :
الامام المہدی ، اسمہ محمد، کنیتہ ابوالقاسم بقیة اللہ ، الحجة ، والمہدی ، والخلف الصالح وعمرہ عند وفات ابیہ خمس سنین آتاہ اللّہ فیہا الحکمة۔
امام مہدی(عج) کا نام محمد ، کنیت ابوالقاسم ، بقیة اللہ ، حجت خدا خلف صالح، قائم منتظر وصاحب الزمان یعنی زمانے کے امام ہیں اپنے والد کی وفات کے وقت آپ کی عمر پانچ ساتھی لیکن اس کم سنی میں اللہ تعالیٰ نے آپ کو حکمت عطا کی ۔
ان علماءنے صریحاً آپ کو فرزند بلا فصل امام حسن عسکری (ع) اور پانچ سال کی عمر میں آپ کے منصب امامت پر فائز ہونے کا اقرار کیا ہے ۔ورنہ کوئی وجہ نہیں ہے کہ یہ کہیں ” آتاہ اللّہ فیہا الحکمة کما اوتیہا یحیٰ علیہ السلام۔“ کیا اس سے صریح اورواضح بیان ہوسکتا ہے ۔

نابغہ بچے
کبھی کبھی بچوں کے درمیان بھی نادر افراد مشاہدہ کئے جاتے ہیں کہ استعداد کے اعتبار اپنے زمانے کے نابغہ ہوتے ہیں جن کا فہم وادراک پچاس ساٹھ سال کے بوڑھوں سے کہیں اچھا ہوتا ہے ان ہی میں سے ایک ” بو علی سینا“ ہیں جن کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ بارہ سال کی عمر میں امام ابو حنیفہ کی فقہ کے مطابق فتویٰ دیتے تھے اورسولہ (۱۶) سال کی عمر میں طب کے موضوع پر ” القانون“ جیسی شہرہ آفاق کتاب کی تصنیف کی اور چوبیس (۲۴) سال کی عمر میں تمام علوم کے ماہر ہوگئے ۔
فاضل ہندی کے بارے میں بھی منقول ہے کہ تیرہ (۱۳) سال کی عمر سے پہلے انہوں نے تمام علوم منقول ومعقول کو مکمل کرلیا تھا اوربارہ سال کی عمر سے پہلے ہی کتاب کی تصنیف میں مشغول ہوگئے تھے ۔
” ٹوماس سنیگ“ برطانیہ کے عظیم دانشور بچپنے ہی سے ایک عجوبہ تھے دو سال کی عمر میں پڑھنا جانتے تھے آٹھ سال کی عمر میں خود ہی سے ریاضیات کا مطالعہ شروع کیا۔ چودہ ۱۴ سال کی عمر تک وہ فرانس ، اطالوی ، عربی اورفارسی زبان کو اچھی طرح سیکھ گئے بیس سال کی عمر میں نظریہ رویت پر ایک مقالہ لکھ کر دربار شاہی میں پیش کیا، دور کیوں جائے آپ ایران میں دیکھ لیں آپ کو درجنوں بچے ایسے ملیں گے جو پانچ سے چھے سال کی عمر میں قرآن مجید اورنہج البلاغہ کے نہ فقط حافظ کل ہیں بلکہ ترجمہ وتفسیر پر بھی عبور حاصل اورایران T.V ٹی وی ان کے درس تفسیر کو باقاعدہ نشر کرتی ہے جن میں محمد حسین طباطبائی کا نام سرفہرست ہے جو پانچ سال کی عمر میں تمام قرآن اور پورے نہج البلاغہ کے حافظ ہوگئے اوراسی کمسنی میں وہ سوال کا جواب قرآن مجید سے دیتے ہیں ایک بار نہیں دس بار اس حقیر نے بھی ان کے سوال وجواب کے جلسوں میں شرکت کی ہے وہ آیات قرآن صفحہ نمبر آیت نمبر اورترجمہ وتوضیح کے ساتھ سناتے ہیں اورجس موضوع کے بارے میں قرآن مجیدسے سوال کریں وہ بیان کرتے ہیں اب تک انہوں نے ۵ سال کے سن میں دنیا کی مختلف یونیورسٹیوں سے جن میں امریکہ ، فرانس ، برطانیہ ، مصر وغیرہ شامل ہیں ( پی ایچ ڈی) کی متعدداعزازی ڈگریاں حاصل کرچکے ہیں ۔
مختصریہ کہ اگر آپ مشرق ومغرب کی تاریخ کا مطالعہ کریں ، یا مشرق ومغرب کی سیر کریں تو ایسے بہت سے نابغہ بچے ملیں گے : ۔ قارئین محترم نابغہ بچے ایسے دماغ کے حامل ہوتے ہیں کہ کم عمر میں ہزاروں قسم کی چیزیں یاد کرلیتے ہیں اور علوم کی مشکلوں کو حل کرتے ہیں اوران کی محیّر العقول صلاحیت لوگوں کو انگشت بہ دندان کردیتی ہے ۔ تو اگر خدا وند متعال حضرت حجت ، قائم آل محمد امام زمانہ حضرت مہدی(عج) جو ان انسانوں کی بقاءکے ضامن ہیں پانچ سال کی عمر میں منصب امامت وخلافت پر فائز کردے اور احکام الہیٰ کی حفاظت بقاءکی ذمہ داری انہیں سونپ دے تواس میں تعجب کی کیا بات ہے ؟ جب کہ پیغمبر اکرم وپیغمبران الہیٰ اور ائمہ اطہار (علیہم السلام) نے بھی آپ کی کمسنی کے بارے میں پیشین گوئی کی ہے ۔
لہذا نوعمری میں امامت کوئی فرضی چیز نہیں ہے بلکہ ایک حقیقت ہے جس کی تائید خود قرآن کریم ، سنت رسول اور تاریخ وعقل نے کی ہے ۔ لہذا امام مہدی(ع) پر یہ اعتراض نہیں کیا جاسکتا کہ آپ بچپنے میں اپنے والد کی جانشینی اور مسلمانوں کے امام وخلیفہ کیسے بن گئے ؟

ضیاء الرحمن فاروقی کااعتراض
اہل عقل جانتے ہیں کہ بچہ مکلف نہیں ہوتا ، شریعت نے اسے مرفوع القلم ٹھہرایا ہے اوردنیا کی کسی عدالت میں بچے کی شہادت معتبر نہیں ہے ، عقل کا فتویٰ یہ ہے کہ اگر سلسلہ امامت اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہوتا تواللہ تعالیٰ اس بات کا بھی انتظام کرتا کہ جب تک مستقبل کا امام بالغ نہ ہوجائے تب تک امام حاضر کو دنیا سے نہ اٹھایا جائے تاکہ امام کا جانشین بالغ ہو، نابالغ بچہ نہ ہو، لیکن عقل وشرع کے خلاف حضرات امامیہ نابالغ بچوں کی امامت کے قائل ہیں اوراس کو خدای متعال سے منسوب کرتے ہیں نعوذ باللہ۔(۔حضرت امام مہدی، فاروقی ، ص ۱۶۔)

ہمارا جواب
آپ کی مشکل یہ ہے کہ الہیٰ نمائندوں کو بھی ایک عام آدمی کی طرح سمجھتے ہیں، رہا دنیوی عدالت کا مسئلہ تو اتنا عرض کروں گا، دنیا اورانسان کے بنائے ہوئے قوانین میں بچے کی شہادت معتبر نہیں ، لیکن اللہ تعالیٰ کے قانون کے مطابق بچہ اگر ولی خدا ہوتو اس کی گواہی معتبر ہے جس کی واضح مثال حضرت عیسیٰ بن مریم (ع) کی شہادت اور گواہی ہے، جوانہوں نے اپنی والدہ کی پاکیزگی پر دی تھی ۔
اور جہاں تک نابالغ کی امامت پر آپ کو اعتراض ہے تواس سلسلے میں ہم آپ سے پوچھتے ہیں کہ حضرت عیسیٰ(ع) اور حضرت یحیٰ (ع)کے بارے میں کیا فرمائیں گے ؟ اورآپ کا یہ کہنا کہ عقل وشرع کے خلاف امامیہ نابالغ بچوں کی امامت کے قائل ہیں تو ہم آپ ہی سے سوال کرتے ہیں کہ وہ کونسی آیت اور روایت ہے جس میں یہ کہا گیا ہے کہ امام معصوم اور جانشین رسول کے لئے بالغ ہونا شرط ہے ؟
احادیث نبوی [ شرع سے] تو یہ ثابت ہے کہ حضور نے ذوالعشیرہ میں علی بن ابی طالب کو نو (۹)سال کی عمر میں جو کہ دنیوی اوردینی اعتبار سے سن بلوغ نہیں ہے اپنا جانشین اور امیرالمومنین اور امام المسلمین قرار دیا اور فرمایا تھا ” ہذا اخی وصیِ وخلیفتی من بعدی“ ثانیاً: شایدانسان کی عقل یہ تسلیم نہ کرے کہ نابالغ بچہ بھی امام ہوسکتا ہے لیکن کیا کیا جائے خالق عقل کہہ رہا ہے کہ میں چاہوں تو کسی کو بچپنے میں نبوت عطا کروںاور چاہوں تو کسی کو امامت وخلافت عطا کروں جیسا کہ قرآن نے صراحت کی ہے ” یایحیٰ خذالکتاب بقوة وآتیناہ الحکم صبیاً“ویا” انی عبداللہ آتانی الکتاب وجعلنی نبیاً “
کیونکہ خالق بھی وہی ہے حاکم بھی وہی شارع بھی وہی اور قانون گذار بھی وہی ہے پس جب خالق عقل کہہ رہا ہے نابالغ بچہ نبی اور امام بن سکتا ہے تو اگر مخلوق کی عقل اسے بعید سمجھتی ہے تو سمجھتی رہے یہ خود اس کی عقل کی نارسائی ہے ،ہمارے دوستوں کی مشکل یہ کہ ہرچیز میں ” قیاس“ کرتے ہیں کہ جس کی کوئی دلیل قرآن وسنت سے نہیں ملتی یعنی ایک عام نابالغ بچہ چونکہ مکلف نہیں ہوتا اور اس میں رہبری کی صلاحیت نہیں ہوتی اس لئے اولیاءخدا کو بھی اس منصب پر فائز ہونے کے لئے حتماً بالغ ہونا لازمی ہے جب کہ یہ فکر ہی غلط ہے اس لئے کہ عقل انسانی محدود ہے اس بناءپر اللہ تعالیٰ کے ہرفعل کی حکمت ومصلحت کو عقل انسانی کا درک کرنا اور تسلیم کرنا ضروری نہیں ہے ، اورنہ ہی انسان اس کو سمجھ سکتا ہے ، کیونکہ انسان کو اللہ تعالیٰ نے تھوڑا ساعلم دیا ہے جیسا کہ ارشاد ہے” وما اوتیتم من العلم الاّ قلیلاً“ لہذا کسی کے عقل کا قبول کرنا یا نہ کرنا معیار نہیں بن سکتا اس کے علاوہ قرآن کریم میں اس کی واضح مثال حضرت یحیٰ اور حضرت عیسیٰ(ع) کی شکل میں موجود ہے وہی عیسیٰ (ع) جو حضرت مہدی(ع) کے ظہور کے بعد آپ کی اقتداءمیں نماز پڑھیں گے ، اور تمام امور میں آپ کے تابع فرمان ہوں گے پھر اگر ماموم کو پیدا ہوتے ہی نبوت عطا ہوسکتی ہے ، جیسا کہ قرآن کریم کا ارشاد ہے ” بچہ [قدرت خداسے] بول اٹھا کہ میں بے شک خدا کا بندہ ہوں مجھ کو اس نے کتاب [انجیل] عطا فرمائی ہے اورمجھ کو ” نبی“ بنایا اور میں چاہے کہیں رہوں مجھ کو مبارک بنایا“۔( مریم ، ۰۳، ۱۳”قال انی عبداللہ آتانی الکتاب وجعلنی نبیاً وجعلنی مبارکاً این ماکنتُ“)
تو پھر اگر پانچ سال کی عمر میں خود امام اور مقتدیٰ کو ( امامت کا عہدہ عطا ہوا اور ان کے کاندہوں پر پوری امت کی ہدایت وارشاد کی ذمہ داری ڈالدی جائے تو نہ کوئی بعید از عقل بات ہے نہ ہی تعصب کا مقام ، بلکہ اس کی بنیاد قرآن کریم اور ارشاد الہیٰ ہے ” اللّہ اعلم حیث یجعل رسالتہ “(۔مائدہ ۸۴)
اس آیت میں علم کا حوالہ خود واضح کرتا ہے کہ خداوند کریم اپنے منصب کے قابل افراد کو خوب پہچانتا ہے جس میں انسانی عقل کا عمل دخل اتنا ہی ہے کہ وہ فرمان خدا کے مقابل تسلیم ہوجاتے اس لئے کہ مقصد نبوت وامامت لوگوں کی صحیح رہبری وہدایت ہے اور وہ ”علم ، عصمت ، عقل “کے ساتھ بحسن وخوبی پورا ہورہا ہے ، لہذا سن وسال بلوغ وعدم بلوغ کی قید عام انسانوں کے یہاں تو لازم ہوسکتی ہے مگر خدائی منصب اور عہدے اس سے بالاتر ہیں ، بلکہ ممکن ہے الہیٰ آزمایش کا ایک ذریعہ خود بچپنے میں عہدہ نبوت وامامت کا عطا ہونا ہو۔ جیسا کہ یہودی حضرت عیسیٰ(ع) کے ذریعے آزمائے گئے اورابولہب وابوجہل ہمارے نبی اکرم (ص) کے ذریعے ، جوان کفّار کے مدّ مقابل سن وسال کے اعتبار سے چھوٹے تھے ۔” فااعتبروا یااولی الابصار“(۔سورہ حشر، ”فااعتبروا یااولی الابصار“۔)
آنکھیں رکھنے والوعبرت حاصل کرو، اس لئے آنکھیں آندھی نہیں ہوا کرتی بلکہ سینے میں جو دل ہے وہ اندھے ہوجاتے ہیں۔(۔سورہ حج، ۶۴” فانّہا الاتعمی الابصار ولکن تعمی القلوب۔۔۔۔۔۔۔۔۔)
 

9 Jan 2012 |

 
 

تواتر احادیث مہدی(عج)

تواتر احادیث مہدی(عج)
  ،مولف:محمود حسین حیدری
--------
حضرت امام مہدی(عج) کے وجود اور ظہور کے بارے میں کتب فریقین میں اتنی احادیث وارد ہوئی ہیں کہ تواتر کی حدتک پہنچ چکی ہیں ، بلکہ اہل سنت کے بہت بزرگ علماءنے حضرت امام مہدی سے متعلق احادیث کو متواتر جانا ہے ، یاان کے تواتر کو دوسروں سے نقل کیا ہے ۔
( محقق معاصر اہل سنت ، ناصر الدین البانی نے ساٹھ (۶۰)سے زیادہ علماء کا نام لیا ہے جنہوں نے احادیث مہدی(عج) کے متواتر ہونے پر تصریح کیا ہے ، رجوع کریں ، مجلہ ” تمدن اسلامی ، مقالہ حول المہدی(عج) “ ش، ذی قعدہ ۱۳۷۱ھ ، سال ۲۲ ، چاپ دمشق۔)
حتی بعض علماءنے اس پر کتاب لکھی ہے مثال کے طور پر علامہ شوکانی نے ایک کتاب ” التوضیح فی تواتر ماجآءفی المنتظر ولدجال والمسیح “ کے نام لکھی ہے ہم یہاں پر بطور نمونہ کچھ اقوال قارئین کی خدمت میں پیش کرتے ہیں :

۱۔ حافظ ابو عبداللہ محمد بن یوسف کنجی شافعی متوفی ۶۷۵ھ ، اپنی کتاب ” البیان فی اخبار صاحب الزمان “ میں لکھتے ہیں :
”تنبیہ آخر، ان الاحادیث الواردة فیہ اختلاف کثیر روایاتہا لاتکاد تنحصر ، فقد قال محمدبن الحسن الاسنوی الشافعی فی کتاب مناقب الشافعی ، قد تواتر الاخبار عن رسول اللّہ بذکر المہدی وانّہ من اہل بیتہ۔“
جان لیں ، کہ حضرت مہدی(ع) کے بارے میں وارد ہونے والی احادیث بہت زیادہ ہیں اورجن کا شمار ممکن نہیں ہے اسی لئے محمدبن حسن اسنوی نے ”مناقب شافعی“ میں کہا ہے ، حضرت مہدی(ع) کے وجود اور ان کا اہل بیت(ع) رسول سے ہونے کے بارے میں ہیں پیغمبر اکرم (ص)سے بہت زیادہ روایات وارد ہوئی ہیں جو تواتر تک پہنچیں ہیں۔
( البیان فی اخبار صاحب الزمان ، باب الثالث فی الاشراط العالم والامارات القریبہ ، ص ۸۱۔)
ایک اور جگہ فرماتے ہیں:
”تنبیہ آخر، قد علمت ان احادیث وجود المہدی وخروجہ فی آخرالزمان وانّہ من عترت رسول اللہ من ولد فاطمہ بلغت حدا لتواتر المعنوی، فلا معنی لانکار ہ ومن ثمّ ورد ” من کذب باالدجال فقد کفر ومن کذب بالمہدی فقد کفر۔“
ایک اور یاد آوری ، آپ نے جان لیا کہ حضرت مہدی(عج) کے وجود اوران کے آخری زمانے میں خروج اوران کا اہل بیت(ع) رسول اور اولاد فاطمہ (ع) سے ہونا حد تواتر معنوی تک پہنچا ہوا ہے لہذا اس سے انکار کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا، اس کے علاوہ روایت میں آیا ہے ” جس نے دجال کو جھٹلایا وہ کافر ہوگیا اور جس نے حضرت مہدی(ع) کو جھٹلایا وہ بھی کافر ہوگیا۔
( البیان فی اخبار صاحب الزمان ، باب الثالث فی الاشراط العالم والامارات القریبہ ، ص۲۱ ۱۔)

۲۔قاضی محمدبن علی شوکانی ، متوفی، ۱۳۵۰ھ” التوضیح فی تواتر ماجاءفی المہدی“ میں لکھتے ہیں :
والاحادیث الواردة فی المہدی الّتی امکن الوقوف منہا خمسون حدیثا فیہا الصحیح والحسن والضعیف المنجبرة وہی متواترة بلاشک ولاشبہہ۔“
اوروہ احادیث جو حضرت مہدی(ع) کے بارے میں وارد ہوئیں ۵۰ پچاس حدیثیں ہیں ان میں سے کچھ صحیح ، کچھ حسن ، اور کچھ ضعیف منجبرہ ، اور یہ احادیث متواتر ہیں جس میں کسی قسم کے شک وشبہ کی گنجائش نہیں ۔

۳۔بزرگ سنی عالم محمد بن جعفر بن ادریس بن محمد کتانی فاسی مالکی متوفی ۱۳۴۵ھ اپنی کتاب نظم المتناثر من الحدیث المتواتر “ میں لکھتے ہیں :
الاحادیث الواردة فی المہدی النتظر بکثرة رواتہامن المصطفٰی بخروج المہدی وانّہ من اہل بیتہ وانّہ یملاءالارض عدلاً“(نظم المتنا ثر ، ص۲۲۵سے ۲۲۸۔ح۲۸۹)۔
بہت سے راویوں کی نقل شدہ احادیث متواتر ہیں کہ حضرت محمد مصطفی (ص) نے ارشاد فرمایا :
حضرت مہدی(ع) کا ظہو ر ہوگا اور وہ میرے اہل بیت(ع) سے ہوں گے وہ سات سال تک حکومت کریں گے اورزمین کو عدل وانصاف سے پر کردیں گے ۔

۴۔سید محمدصدیق حسن قنوجی متوفی ۱۳۰۷ھ ” الا ذاعہ بما کان ومایکون بین یدی الساعة “ میں لکھتے ہیں :
”والاحادیث الواردة فی المہدی علی اختلاف روایاتہا کثیرة جدّاً حتی تبلغ تواتر المعنوی“
حضرت مہدی (ع) کے بارے میں وارد ہونے والی احادیث روایتوں کے مختلف ہونے کے باوجود بہت زیادہ ہیں، یہاں تک کہ تواتر معنوی کی حد تک پہنچ گئی ہیں ۔
(الا ذاعہ بما کان ومایکون بین یدی الساعة، ص ۶۳۱۔)

۵۔ شیخ محمدبن احمد سفارینی اثر ی حنبلی متوفی۱۱۸۸ھ ” لوامع الانوار البہیہ وسواطع الاسرار الاشریہ“ میں لکھتے ہیں ۔
”وقد کثرت بخروجہ ، یعنی المہدی الروایات حتی بلغت حدالتواتر المعنوی وشاع ذالک بین علماءالسنّة حتی عدّ من معتقد اتہم ۔“
خروج حضرت مہدی(ع) کے بارے میں بہت سی روایات وارد ہوئی ہیں ، یہاں تک کہ حدتواتر معنوی تک پہنچی ہوئی ہیں اوریہ علماءاہل سنت کے درمیان شہرہ آفاق ہے یہاں تک کہ اسے اپنے اعتقادات میں شمار کیا گیا ہے ۔(لوامع الانوار لاالبہیہ ، ص ۳۷۔)
پھر فرماتے ہیں:
تبیہ، قد علمت ان احادیث وجود المہدی (ع) وخروجہ فی آخر الزمان وانہ من عترت رسول اللہ من ولد فاطمہ بلغت حدالتواتر المعنوی فلا معنی لانکارہا وغایة ماتشبت باالاخبار الصحیحة الشہیرة الکثیرة التی بلغت تواتر المعنوی ، وجودالآیات العظام التی منا ، بل ادلہا خروج المہدی وانّہ یاتی فی آخر الزمان من ولد فاطمہ یملاءالارض عدلاً کماملئت ظلماً۔“
” یاد آوری “ آپ نے جان لیا کہ مہدی(ع) کا وجود ، ان کا آخری زمانے میں ظہور فرمانا اور اولاد فاطمہ سے ہونا روایتوں میں حد تواتر معنوی تک پہنچا ہوا ہے جس سے انکار کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا اور بہت سی صحیح اور مشہور روایات یہ (امر تواترمعنوی ) تک پہنچ گیاہے کہ قیامت سے پہلے سی بڑی بڑی علامات ظاہر ہوں گی انہی میں ایک، بلکہ پہلی علامت”ظہور حضرت مہدی(ع) “ ہے، وہ آخری زمانے میں ظہور فرمائیں گے ، وہ اولاد فاطمہ (ع) سے ہوں گے اورزمین کو اسی طرح عدل سے بھر دیں گے جس طرح وہ ظلم سے بھر چکی ہوگی (لوامع انور البہیة،ص۸۳)۔

۶۔شیخ محمد زاہد کوثری ” نظرة عابرة “ میں لکھتے ہیں :
”وامّا تواتر احادیث المہدی والدّجال والمسیح فلیس بموضع ریبة عنداہل العلم باالحدیث ۔“
” لیکن احادیث مہدی(ع) ودجال ومسیح کا علماءحدیث کے نزدیک متواتر ہونے میں کوئی شک نہیں ہے ۔
مذکورہ علماءکے علاوہ اہل سنت کے دوسرے بہت سے علماءنے حضرت مہدی(عج) سے متعلق احادیث کو متواتر جانا ہے ، یاان کے تواتر کو دوسروں سے نقل کیا ہے اوران پر اعتراض نہیں کیا ہے ،
جیسے ابن حجر ہیثمی نے”الصواعق المحرقہ“میں، مومن شلنجی ” نورالابصار“میں محمد جان نے ” اصعاف الراغبین “ میں، ابن صباغ مالکی نے ” الفصول المہمة “میں، ” مفتی سید احمد شیخ الاسلام شافعی نے ” الفتوحات الاسلامیہ “ میں ، حافظ محمدبن ابراہیم قندوزی حنفی، نے ” ینابیع المودة “میں اوردوسرے علماءومحدثین نے اپنی کتابوں میں ان احادیث کو متواتر قرار دیا ہے ۔ان علماء کے اقال کے دقیق ماخذات یہ ہیں:
الصواعق ، باب ۱۱،۔
۔نورا لابصار ، ص ۱۸۷۔۱۸۸۔
اسعاف الراغبین ، ص ۱۴۵و۱۴۷۔
الفصول المہمہ ، باب ؟؟ ص ؟؟
ینابیع المودة، باب ۸۹، ۹۶۔
قرطبی مالکی ” تفسیر قرطبی ، ج۸ ، ص ۱۲۱، ۱۲۲؛
حافظ جمال الدین المری متوفی ، ۷۴۲ھ ،
” تہدیب الکمال ، ج۲۵، ش ۵۱۸۱؛ احمد بن حجر عسقلانی ، متوفی ، ص۸۵۲ ھ ،
” تہذیب التھذیب ، ج۹، ص ۱۲۵ش۲۰۱،
محمد رسول بزنجی شافعی ، متوفی ، ۱۱۰۳ھ ” الاشاعة لاشراط الساعة ، ص ۸۷،
مولانا ضیاءالرحمن فاروقی ، حضرت امام مہدی“ ص ۱۴۶۔
اور فن رجال کے ماہر وحافظ ” احمدبن حجر عسقلانی ” نزہة النظر “ میں لکھتے ہیں :” خبر متواتر سے یقین حاصل ہوجاتا ہے اوراس پر عمل کرنے کے سلسلے میں کسی بحث کی ضرورت نہیں رہتی ۔
 

9 Jan 2012 |

 
 

بشارت ظہور حضرت مہدی (عج)

بشارت ظہور حضرت مہدی (عج)
  ،مولف:محمود حسین حیدری
--------
صدر اسلام میں ” عقیدہ مہدویت“ کے مسلم اوررائج العقیدة ہونے کی وجہ سے سنی روایات بھی حضرت مہدی (عج) کے ظہور پر گواہ ہیں جو کہ کتب حدیثی ، رجالی ، تاریخی وغیرہ میں نقل ہوئی ہے ، قارئین کی آگہی کے لئے چند نمونے پیش کرتے ہیں ۔

ظہور حضرت مہدی (عج) کے بارے میں حدیثیں:

1:” احمد بن حنبل ، حدثنا عبداللہ، حدثنی ابی ، حدثنا عبدالرزاق، ثنا جعفر عن المعلیٰ بن زیاد، ثنا العلاءبن بشیر، عن ابی الصدیق النااجی ، عن ابی سعید الخدری رض قال: قال رسول اللہ: ابشرکم باالمہدی یبعث اللہ فی امتی علی اختلاف من الناس وزلازل ، فیملاالارض قسطا وعدلاً کما ملئت ظلماً وجوراً یرض عنہ ساکن السماء وساکن الارض “
امام احمد بن حنبل کہتے ہیں ، ہم سے عبداللہ نے حدیث بیان کی ، ان سے ان کے والد نے حدیث بیان کی ، ان سے عبدالرزاق نے حدیث بیان کی ان سے جعفر نے ، ان سے معلی بن زیاد نے ان سے علاءبن بشیر نے حدیث بیان کی انہوں نے ابی صدیق ناجی سے ، انہوں نے ابی سعید خدری سے کہ انہوں نے کہا: رسول اللہ نے فرمایا: میں تمہیں مہدی (عج) کی بشارت دیتا ہوں کہ وہ میری امت میں اس وقت مبعوث ہوں گے جب لوگوں میں اختلاف پھوٹ پڑے گا اورگمراہی عام ہوجائے گی ، پس وہ زمین کو عدل وانصاف سے اسی طرح بھر دیں گے جس طرح وہ ظلم وجور سے بھر چکی ہوگی ، زمین وآسمان کے رہنے والے ان سے راضی ہوں گے
(۔ مسند احمد بن حنبل، ج۶، ص ۰۳، باب اشراط الساعہ؛ عقد الدرر، باب۷، ص ۷۰۲۔)

2:ابی داوود ، ذکر عبدالرز اق ، اخبرنا معمر بن ابی ہارون العبدی ، عن معاویة بن قرة، عبن ابی الصدیق الناجی ، عن ابی سعید الخدری قال: ذکر رسو اللہ : بلایا تصیب ہذہ الامة لایجد ملجاءاً یلجاءالیہ من الظلم ، فبعث اللہ رجلاً من عترتی اہل بیتی فیملاءالارض قسطاً وعدلاً کما ملئت جوراً وظلماً یرضی عنہ ساکن السماءوالارض
” ابی سعید خدری نے کہا: رسول خدا نے فرمایا: میری امت پر ایسی مصیبتیں پڑیں گی کہ انہیں ظلم سے نجات حاصل کرنے کے لئے کوئی جائے پناہ حاصل نہیں ہوگی ۔ اس وقت اللہ تعالیٰ میرے اہل بیت عترت مین سے ایک شخص کو مبعوث کرے گا جو زمین کو اسی طرح عدل وانصاف سے بھر دے گا جس طرح وہ ظلم وجور سے بھر چکی ہوگی ، زمین وآسمان کے رہنے والے ان سے راضی ہوگے۔
“(۔ سنن ابی داوود ، کتاب المہدی ، ج۴، ص ۷۰۱ ؛ البیان فی اخبار صاحب الزمان ( کنجی شافعی) باب ۹، ص ۴۰۱۔)

3:عن ابی جعفررضی اللہ عنہ اذا تشبہ الرّجال بالنساءولنساءباالرجال وامات النّاس الصلواة ، والتبعوا الشہوات واستخفوا بالسمائ وتظاہروا باالزناءوشیدً والنساء،واستحلو الکذب واتبعو الہویٰ وباعوالدّین باالدنیا، وقطعوا الارحام وکان الحلم ضعفاً والظلم فخراً ، والامراءفجرة والوزراءکذبہ ، ولامناءخونة والاعوان الظلمة ، والقرّاءفسقہ وظہر الجور وکثر الطلاق وبداءالفجور وقبلت شہادة الزور وشرب الخمور ورکبت الذکور بالذکور ، واستغنت النساءباالنساء، واتخذ الفیءمغنماً والصدقہ مغنما واتقیٰ الاشرار مخانة السنتہم ، وخرج السفیانی من الشّام والیمانی من الیمان وخسف بالبیداءبین مکہ ومدینہ وقتل غلام من آل محمد بین الرکن والمقام وصاح صالح من السماءبان الحق معہ ومع اتباعہ قال فاذا خرج السندہ ظہرہ الی الکعبة واجتمع الیہ ثلثماة وثلاثة عشر رجلاً من اتباعہ فاوّل ماینطق بہ ہذہ الایة بقیة اللّہ خیر لکم ان کنتم مومنین ثم یقول: انابقیة ، وخلیفتہ ، وحجتہ علیکم ، فلا یسلم علیہ احدالاّ قال َ السلام علیک یابقیة اللّہ فی الارض ، فاذا اجتمع عندہ العقد عشرة الآف رجلٍ ، فلا یبقی یہودیَّ ولانصرانی ، ولااحد عن یعبد غیر اللّہ الاّ آمن وصدقہ وتکون الملک واحدہ ملة الاسلام ، وکل ماکان فی الارض من معبود، سوی اللہ تعالیٰ تنزّل علیہ ناراً من السماءفتحرقہ۔
ابی جعفر [ امام محمد باقر(ع) ] رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ” جب مرد عورتوں سی وضع قطع اختیار کریں اور عورتیں مردانی شکل وصورت بنائیں اور جب لوگ نماز کو ترک کریں خواہشات نفسانی کی اتباع کریں خون بہانا آسان سمجھنےلگیں اورلوگ علناً زنا کے مرتکب ہونے لگیں مرد اپنی عورتوں کے مطیع ہوجائیں جھوٹ اور رشوت حلال ہوجائے خواہشات نفسانی کی پیروی کرنے لگیں دین کو دنیا کے مقابلے میں بیچنے لگیں ، قطع رحم کرنے لگیں جب حلم کو ضعف کی علامت اور ظلم کو فخر سمجھا جانے لگے حاکمان وقت فاجر ہوں گے ان کے وزرا خائن اور ظالم حکمرانوں کے مدد گار ہوں قاریان قرآن فاسق ہوں گے اورظلم وفساد ظاہر ہوجائے اورکثرت سے طلاق ہونے لگے فسق وفجور عام ہوجائے اورجھوٹی گواہی قبول کرنے لگیں اور شراب پینے لگیں مرد ، مرد پر سوار ہوں گے اور عورتیں دوسری عورتوں کی وجہ سے مردوں سے بے نیاز ہو جائیں گیں ، فئی اور صدقہ[بیت المال] کو مال غنیمت سمجھا جانے لگے آدمی کی اس کے شر اوربد گوئی کے خوف سے اس کی عزت کی جائے ،شام سے سفیانی اور یمن سے یمانی خروج کریں ۔ اور آل محمد کے ایک جوان کو رکن یمانی اور مقام ابراہیم کے درمیان قتل کیا جائے اور آسمان سے ندا دینے والا ندا دے گا کہ حق اس کے حضرت مہدی اور اس کی اتباع کرنے والوں کےساتھ ہے پس اس وقت جب وہ حضرت مہدی (عج) ظہور فرمائیں بیداءکی زمین ، جو کہ مکہ اورمدینہ کے درمیان گے خانہ کعبہ سے ٹیک لگائے ہوں گے اور ارد گرد تین سو تیرہ (۳۱۳) افراد ان کے پیروکاروں میں سے جمع ہوجائیں گے اور جس چیز کی سب سے پہلے تلاوت ہوگی یہ آیت ہے۔” بقیة اللّہ خیر لکم ان کنتم مومنین “ اس کے بعدآپ (عج) فرمائیں گے ، میں بقیة اللہ اس کا خلیفہ اورحجت خدا ہوں پس کوئی سلام کرنے والا ایسا نہ ہوگا ، مگر یہ کہ سب کہیں گے ہمارا سلام ہو تم پر ای ذخیرہ خدا پس جب ان کے پاس دس ہزار افراد ( انصار) جمع ہوجائیں گے تو اس وقت [روی زمین پر]نہ کوئی یہودی باقی رہے گا اور نہ نصرانی اورنہ کوئی ایسا شخص جو غیر خدا کی عبادت کرتا ہومگر یہ کہ سب لوگ اس پرایمان لائیں گے اوراس کی تصدیق کریں گے (اس وقت)ایک ہی حکومت ہوگی اور وہ ملت اسلامیہ کی حکومت ہے اور سوای اللہ تعالی کے زمین پر موجود تمام معبودوں [ یعنی ہر وہ شیءجس کی لوگ پرستش کرتے ہیں] پر اللہ تعالی آسمان سے آگ نازل کرے گا اوروہ آگ سب کو جلادے گی۔
۔“(نورالابصار ، باب الثانی، ص ۵۵۱، مومن شلنجی متوفی ، ۱۹۲۱ھ ق ۱)۔

4:”ابن ماجہ ، حدثنا حرملة بن یحی المصری وابراہیم بن سعید الجوہر قالاثنا ابو صالح عبدالغفار بن داود والحیرانی ثنا ابن ابی الھیعہ عن ابی زرعہ عمرو بن جابر الحضرمی عن عبداللّہ بن الحرث بن جزءالزبیدی قال: قال رسول اللّہ یخرج الناس من المشرق فیوطﺅن للمہدی یعنی سلطانہ
حافظ ابن ماجہ متوفی ۳۷۲ھ لکھتے ہیں ، ہم سے حرملہ ابن یحیٰ مصری نے وابراہیم سعید جوہر نے حدیث بیان کی کہ ان دونوں نے کہا ہم سے عبدالغفارابن داوود حیرانی نے حدیث بیان کی ، ان سے ابن ابی لھیعہ نے حدیث بیان کی ان سے ابی زرعہ عمرو بن جابر حضرمی نے ، ان سے عبداللہ بن حرث بن جزءزبیدی نے کہ انہوں نے کہا کہ رسول اللہ نے فرمایا: مشرق سے لوگوں کا ایک گروہ قیام کرے گا وہ مہدی یعنی اپنے سلطان کے لیے تیار ہونگے۔
“(سنن ابن ماجہ ، ابواب الفتن باب خروج المہدی ص ۸۶۳۱ ، ج۲ومنتخب کنزالعمال برحاشیہ مسند احمد ابن حنبل ، ج۶، ص۹۲)۔

5:ابن ابی شیبہ حدثنی مجاہد حدثنی فلان رجل من النّبی : ان المہدی لایخرج حتی یقتل النفس الزکیہ فاذا قتلت النفس الزکیہ غضب علیہم من فی السماءومن فی الارض فاتی الناس المہدی فزقّوہ کما تزفّ العروس الی زوجہا لیلة عِرسِہا وہو یملاءالارض قسطاً وعدلاً
ابن ابی شیبہ کہتے ہیں ہم سے مجاہد نے حدیث بیان کی ،ان سے ایک صحابی نے حدیث بیان کی ، کہ پیغمبر اکرم نے فرمایا نفس زکیہ کے قتل کے بعد خلیفہ خدا مہدی کا ظہور ہوگا جس وقت نفس زکیہ قتل کردئے جائیں گے زمین وآسمان والے ان کے قاتلین پر غضبناک ہوں گے اس کے بعد لوگ مہدی کے پاس آئیں گے اورانہیں شوق وشتیاق سے دلہن کی طرح اراستہ وپیراستہ کریں گے اوروہ اس وقت زمین کو عدل وانصاف سے بھر دیں ( ان کے زمانے میں ) زمین اپنی پیداوار بڑھادے گی اور آسمان سے پانی خوب برسے گااور ان کے دور خلافت میں امت میں اس قدر خوشحال ہوگی کہ ایسی خوش حالی کہ اس سے پہلے لوگوں کو کبھی نصیب نہ ہوئی ہوگی
( المصنف ابن ابی شیبہ ، متوفی ۳۵۲ ،ص ۸۹۱، الحادی للقنادی ، سیوطی ، باب الادب والرتق ، ج۲ ، باب اخبار المہدی) ۔

6:الصدیق الناجی عن ابی سعید الخدری قال، قال النّبی : ینزل بامتی فی آخر الزمان بلاءشدید من سلطان فہم لم سمع بلآءاشد منہ حتّی تفیق عنہم الارض الرحبہ وحتی یملاءالارض جوراً وظلماً لایجد المومن ملجاءاً یلتجی الیہ من الظّلم فیبعث اللّہ عز وجل من عترتی فیملاءالارض قسطاً وعدلاً کماملئت ظلماً وجوراً یرضی عنہ ساکن السماءوساکن الارض لاتدخر الارض من بذرھا شیئاً الّا صبّہ اللّہ علیہم مدراراً یعیش فیہم سبع سنین او ثمان او تسع تتمنّٰی الاحیاءالاموات ممّا صنع اللّہ ۔
رسول اللہ نے فرمایا: ” آخری زمانے میں میری امت کے سرپر ان کے پادشاہ کی جانب سے ایسی مصیبتیں نازل ہوں گے اس سے پہلے کسی نے اس کے بارے میں نہ سنا ہوگا اور میری امت پر زمین اپنی وسعت کے باوجود تنگ ہوجائے گی زمین ظلم وجور سے بھر جائے گی ، مومنین کا کوئی فریاد رس اور پناہ دینے والا نہ ہوگا ، اس وقت خدا وند عالم میرے اہل بیت میں سے ایک شخص کو بھیجے گا جو کہ زمین کو اسی طرح عدل وانصاف سے پر کرے گا جس طرح وہ ظلم وجور سے پرہوچکی ہوگی ۔ آسمان وزمین کے رہنے والے ان سے راضی ہوں گے ، اس کے لئے زمین اپنے خزانے اگل دے گی اور آسمان سے مسلسل بارشیں ہوںگی سات یا آٹھ یانو سال لوگوں
کے درمیان زندگی بسر کرے گا اورزمین میں رہنے والوں پر [ آپ کے دور میں ] اللہ تعالیٰ کی طرفسے جورحمتیں نازل ہوں گی [ اسے دیکھ کر] جو زندہ ہیں وہ مردوں کے زندہ ہونے کی آرزو کریں گے ، اوریہ حدیث سند کے لحاظ سے صحیح ہے ۔
(۔مستدرک الحاکم ، ج۴، ص ۲۱۵کتاب الفتی و الملاحم ”عن ابی سعید الخدری)

7:”حافظ ترمذی حدثنا عثمان بن ابی شیبہ ، ثنا الفضل بن وکین ، ثنا فطر، عن القاسم بن ابی بزہ عن ابی طفیل عن علی رضی اللہ عنہ، عن النّبی قال لولم یبق من الدہر الاّ یوم یبعث اللہ رجلاً من اہل بیتی یملائہا عدلاً کما ملئت جوراً۔“
حافظ ترمزی ، ہم سے عثمان بن ابی شیبہ نے حدیث بیان کی ، ان سے فضل بن وکین نے حدیث بیان کی ، ان سے فطر نے حدیث بیان کی ان سے قاسم ابن ابی بزہ نے ، ان سے ابی طفیل نے انہوں نے علی ابن طالب سے انہوں نے پیغمبر اکرم سے کہ آنحضرت نے فرمایا: اس دنیا کی عمر اگرچہ ایک دن ہی کیوں نہ رہ گئی ہو ، پر بھی اللہ تعالی اس دن کو طولانی کردے گا اوراس میں میرے اہل بیت میں سے ایک شخص کو مبعوث فرمائے گا جو زمین کو عدل وانصاف سے اسی طرح بھر دے گا جس طرح وہ ظلم وجور سے بھر چکی ہوگی۔
( سنن ترمذی ، ابواب الفتن ، باب ماجاءفی المہدی ، ج۴، ص ۳۴؛ ایضاً جامع الاصول من احادیث الرسول ، ج۱۱، حدیث ۱۱۸۷؛ البیان فی اخبار صاحب الزمان باب اول ، ذکر خروج المہدی فی آخر الزمان ، ص ۶۸ ؛ الصواعق المحرقہ ، الایة الثانیة عشر، ص ۳۶۱)

8:” ترمذی ، حدثنا عبیدبن اسباط بن محمد القرشی ، اخبرنا ابی ، اخبرنا سفیان الثوری عن عاصم بن بھدلة عن زرِّ ، عن عبداللہ قال: قال رسول اللہ : لاتذہب الدنیا حتی یملک العرب رجل من اہل بیتی یواطی اسمہ اسمی “ وھذا حدیث حسن صحیح۔
ترمذی ، ہم سے عبیدبن اسباط بن محمد قرش نے حدیث بیان کی ، ان کو ان کے والد نے خبردی ان کی سفیان ثوری نے خبردی ، انہوں نے عاصم بن بدلہ سے ، انہوں نے رز [بن جیش] سے انہوں نے عبداللہ [ بن مسعود] سے کہ انہوں نے کہا: رسول خدا نے فرمایا: دنیا اس وقت تک ختم نہیں ہوگی جب تک میراہم نام ایک شخص میرے اہل بیت میں سے پورے عرب پر حکومت نہ کرے ۔
اور اس باب میں علی ، ابوسعید ام سلمہ اورابوہریرہ سے بھی احادیث منقول ہیں اوریہ حدیث حسن صحیح ہے ۔
( سنن ترمذی ، ابواب الفتن ، باب ماجاءفی المہدی ، ج۱، ص ۲۰۸۔)

9:”احمد بن حنبل ، عن رزّ ، عن عبداللّہ ، عن النّبی ” لاتقوم الساعة حتی یلی رجل من اہل بیتی ، یواطئی السمہ اسمی“
احمد رز نے عبداللہ سے ، انہوں نے پیغمبر اکرم کہ حضور نے فرمایا: اس وقت تک قیامت برپانہ ہوگی جب تک میرے اہل بیت میں سے میر ا ہم نام ایک شخص ظہور نہ کرے
(مسند احمد، باب اشراط الساعة ، ج۵، ص۰۳)

10:”کنجی شافعی ، عن ابن عباس انّہ قال ، قال رسول اللہ کیف تہلک امة انا فی اولّہا وعیسیٰ فی آخر ہا والمہدی فی وسطہا۔“
ابن عباس رسول اللہ سے ناقل ہیں کہ آپ نے فرمایا: وہ امت کیوں کر ہلاک ہوسکتی ہے جس کا اول میں ، آخر میں عیسیٰ اور وسط میں ”مہدی “ ہیں
( البیان ، ص ۶۲۱ ؛ کنز العمال ، ج۴۱ ص ۶۲۲۔)
نوٹ: اس حدیث سے ممکن ہے ، یہ توہم پیدا ہو کہ حضرت امام مہدی کے بعد حضرت عیسیٰ زندہ رہیں گے اورامت اسلامی کی قیادت کریں گے ، لیکن یہ توہم صحیح نہیں ہے ، کیوں کہ دوسری احادیث میں وارد ہوا ہے ” لاخیر فی العیش بعدہ “ ( امام مہدی) ولاخیر فی الحیات بعدہ “ ان کے[مہدی] بعد زندگانی میں کوئی بھلائی نہیں اور
نہ ہی ان کے بعد زندہ رہنے میں کوئی بھلائی ہے ۔ اس قسم کی احادیث اس بات پر دلالت کرتیں ہیں کہ حضرت عیسیٰ(ع) حضرت مہدی (عج) سے پہلے رحلت فرمائیں گے ، ورنہ ، جس قوم میں عیسیٰ بن مریم (ع) جیسا نبی اور ولی خدا موجود ہو ”لاخیر فی الحیات بعدہ“ معنی نہیں رکھتا ، ثانیاً : لازم آتا ہے کہ مخلوق الہیٰ بغیر امام اور حجت خدا کے باقی رہے یہ صحیح نہیں ہے
(البیان فی اخبار صاحب الزمان باب العاشر ، ذکر کرم المہدی ، ص ۰۲۱)۔
 

9 Jan 2012 |

 
 

عقیدہ مہدویت تمام مذاہب میں

عقیدہ مہدویت تمام مذاہب میں
  :،مولف:محمود حسین حیدری
مہدی موعود کا عقیدہ مسلمانوں سے مخصوص ہے یایہ عقیدہ دوسرے مذاہب میں بھی پایا جاتا ہے ؟
جیسا کہ بعض منکرین مہدویت کاکہنا ہے : عقیدہ مہدویت کی اصل یہودیوں وغیرہ کے عقاید میں ہے جہاںسے مسلمانوں میں سرایت کرگیا ہے ورنہ اس عقیدے کی ایک افسانہ سے زیادہ حقیقت نہیں ہے (المہدیہ فی الاسلام ، ص ۸۰۴۔)

جواب
مہدویت یعنی ایک عالمی نجات دھندہ کا تصور اس وقت سے ہے جب کہ اسلام نہیں آیا تھا اوریہ تصور صرف اسلام میں محدود نہیں ہے ، ہاں اس کی تفصیلی علامتوں کی اسلام نے اس طرح حدبندی کی ہے کہ وہ ان آرزووں کو مکمل طور پر پورا کرتی ہے ، جو دینی تاریخ کی ابتداءہی سے عقیدہ مہدویت سے وابستہ کی گئی ہیں ، جوتاریخ کے مظلوموں اور دبے ہوئے انسانوں کے احساسات کو ابھارنے کے لئے ہے ، اس کی وجہ یہ ہے کہ اسلام نے غیب پرایمان وعقیدے کو واقعیت میں بدل دیا ہے اوراسے مستقبل سے حال میں پہنچادیا ہے اور مستقبل بعید کے نجات دہندہ کو موجودہ نجات دہندہ پر ایمان میں بدل دیا ہے (بحوث حول المہدی ، ص ۳۱ باقر الصد (رح) تھوڑا لفظی رد وبدل کے ساتھ )۔
مختصر یہ کہ عقیدہ مہدویت سارے مذاہب وادیان اور ملتوں میں موجود ہے اوروہ ایسے ہی
طاقتورغیبی موعود کے انتظار میں زندگی بسر کرتے ہیں البتہ ہر مذہب والے اسے مخصوص نام سے پہچانتے ہیں ۔
مثال کے طور پر ہندوں کے مذہبی رہنما ” شاکونی“ کی کتاب سے نقل ہوا ہے کہ ” دنیا کا خاتمہ سید خلایق دو جہاں ” کِش “ [پیامبر اسلام ]ہوگا جس کے نام ستادہ [ موعود] خدا شناس ہے۔
اسی طرح ہندوں کی کتاب ” وید“ میں لکھا ہے ” جب دنیا خراب ہو جائے گی تو ایک بادشاہ جس کا نام ” منصور “ ہے آخری زمانے میں پیدا ہوگا اورعالم بشریت کا رہبر وپیشوا ہوگا۔اوریہ وہ ہستی ہے جو تمام دنیا والوں کو اپنے دین پر لائے گا۔
اورہندوں ہی کی ایک اور کتاب ” باسک “ میں لکھا ہے ” آخری زمانے میں دین ومذہب کی قیادت ایک عادل بادشاہ پر ختم ہوگی جو جن وانس اور فرشتوں کا پیشوا ہوگا، اسی طرح ” کتاب پاتیکل“ میں آیا ہے جب دنیا اپنے آخری زمان کو پہنچے تو یہ پرانی دنیا نئی دنیامیں تبدیل ہوجائے گی اوراس کے مالک دو پیشواوں ” ناموس آخرالزمان [ حضرت محمد مصطفی اور ” پشن[ علی بن ابی طالب ] کے فرزندہوں گے جس کا نام راہنما ہوگا۔(۔ستارگان درخشان ، ج۴۱، ص ۲۳۔)
اوریہی ہے جیسے زردتش مذہب میں اسے ” سوشیانس“ یعنی دنیا کو نجات دلانے والا ، یہودی اسے ” سرور میکائلی “ یا ” ماشع“ عیسائی اسے ” مسیح موعود“ اور مسلمان انہیں ” مہدی موعود(عج) “ کے نام سے پہچانتے ہیں لیکن ہر قوم یہ کہتی ہے کہ وہ غیبی مصلح ہم میں سے ہوگا۔
اسلام میں اس کی بھر پور طریقے سے شناخت موجود ہے ، جب کہ دیگر مذاہب نے اس کی کامل شناخت نہیں کرائی ۔
قابل توجہ بات یہ ہے کہ اس دنیا کو نجات دینے والے کی جو علامتیں اور مشخصات دیگر مذاہب میں بیان ہوئے ہیں وہ اسلام کے مہدی موعود(عج) یعنی امام حسن عسکری (علیہ السلام) کے فرزند پر منطبق ہوتے ہیں ۔
( آفتاب عدالت ، ابراہیم امینی ، مترجم نثار احمد خان زینپوری ، ص ۳۸ ، ۴۸۔)
مختصر یہ کہ ایک غیر معمولی عالمی نجات دہندہ کے ظہور کا عقیدہ تمام ادیان ومذاہب کا مشترکہ عقیدہ ہے جس کا سرچشمہ وحی ہے اورتمام انبیاء نے اس کی بشارت دی ہے ساری قومیں اس کی انتظار میں ہیں لیکن اس مطابقت میں اختلاف ہے ۔
 

9 Jan 2012 |

 
 

عقیدہ مہدی (عج) کا مسلم ہونا

عقیدہ مہدی (عج) کا مسلم ہونا
  ،مولف:محمود حسین حیدری
حضرت امام مہدی سے متعلق پیغمبر اکرم (ص) کی احادیث میں غور کرنے سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ ” حضرت مہدی(ع) “ کا موضوع پیغمبر اکرم (ص) کے زمانے میں مسلم تھا چنانچہ لوگ ایسے شخص کے منتظر تھے حق کی ترویج اور عدل وانصاف کے لئے قیام کرے ، یہ عقیدہ لوگوںمیں اتنا مشہور تھا کہ لوگ اس کو مسلم سمجھتے تھے ، اوراس کے فروغ اورخصوصیات کے بارے میں گفتگو کرتے تھے اور ان کے نسبت کنیت اور القاب وغیر کے بارے میں سوال کرتے تھے رسول اللہ (ص) بھی گاہ بگاہ آپ (ع) کے وجود وظہور اورخصوصیات سے متعلق خبردیا کرتے اورفرماتے تھے ،
مہدی بارہ اماموں میں سے آخری امام ہے ، جو میری نسل ہیں اورفاطمہ(س) وعلی(ع) کے فرزند حسین (ع) کی اولاد سے ہوگا ، زمین کے ظلم وجور سے بھر جانے کے بعد ظہور کرے گا اوردنیا کو اسی طرح عدل وانصاف سے بھر دے گا جس طرح وہ ظلم وستم سے بھر چکی ہوگی ، مکہ سے ظہور کرے گا رکن ومقام کے درمیان بیعت لے گا وہ دین کا مددگار اور سچے ولی خدا ہوگا آپ کے زمانے میں کفار اور ملحدین سے زمین کی طاقت چھن جائے گی اور پوری دنیا میں اسلام کی مقتدر حکومت ہوگی ہرجگہ اسلام کا بول بالا ہوگا آپ کی حکومت دنیا کی آخری حکومت ہوگی آپ کی سیرت وہی ہوگی جو رسول اللہ کی تھی ایسی قرآن اوردین سے دفاع کریں گے جو آپ کے جدّامجد پر نازل ہواتھا۔
مختصر یہ کہ ” عقیدہ مہدویت “ لوگوں میں اتناراسخ ہوگیا تھا کہ وہ صدر اسلام ہی سے ان کے انتظار میں دن گنا کرتے تھے اورحق کی کامیابی کو یقینی سمجھتے تھے ، یہ انتظار خطرناک حالات اورمعاشرے میں پھیلتی زیادتی وظلم کی وجہ سے اورزیادہ شدید ہوجاتا تھا ، یہاں تک لوگ ہرلمحہ حقیقی منتظر کی تلاش میں رہتے اورکبھی غلطی سے بعض افراد کو مہدی(ع) سمجھ بیٹھے تھے ۔مثال کے طور پر جناب (محمد حنیفہ (رض) رسول اللہ کے ہمنام ) وہم کنیہ تھے اس لئے مسلمانوں کا ایک گروہ انہیں مہدی سمجھ بیٹھا۔
اسی طرح مسلمانوں کا ایک گروہ محمد بن عبداللہ بن حسن کو مہدی سمجھ بیٹھا فرقہ ابی سلمہ ابو مسلم خراسانی کو اور ہابی احمد باربلی کو ، قادیانی مرزا احمد قادیانی کو ، بنی امیہ سفیانی کو اور بنی عباس مہدی عباسی کو بابی ، محمد علی باب کو اور بہائی فرقہ مرزا حسین نوری کو مہدی سمجھتا ہے ۔

عقیدہ مہدویت صد در صد اسلامی ہے
گذشتہ بحثوں سے بات واضح ہوگی کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ عقیدہ مہدویت خالص اسلامی عقائد میں سے ایک ہے جس کا اصلی سرچشمہ کتاب وسنت ہیں ا ور تمام مسلمان صدر اسلام سے لے کر آج تک اس سلسلے میں اتفاق نظر رکھتے ہیں یہاں تک کہ بہت سے علماءومحققین نے ان احادیث کے متواتر ہونے کی تصریح کی ہے اوریہ ایک ایسا عقیدہ ہے جس کی بنیاد محکمترین دلیل عقلی اورنقلی پر استوار ہے اورتاریخ اسلام کے مطالعہ سے یہ بھی واضح ہوجاتا ہے کہ کسی بھی شیعہ وسنی مسلمان نے صدر اسلام سے لے کر آج تک اس عقیدے سے انکار یااس کے بارے میں شک نہیں کیا ہے ، مگر یہ کہ اس آخری صدی میں کچھ نافہم اوراستعمار کے ایجنٹ اورکچھ لوگ جو مغرب والوں کے پڑوپیگنڈے سے متاثر ہوکر ہرچیز کی مادی نقطہ نگا ہ سے تفسیر وتحلیل کرتے ہیں ان کج فکر لوگوں نے یہ کوشش کی ہے کہ ایک ایسا راستہ نکالیں جس کے ذریعے قرآن وسنت کے بارے میں مسلمانوں کے درمیان شکوک وشبہات ایجاد کریں۔
خدا نخواستہ اگریہ راستہ کھل گیا تو کتاب وسنت سے اعتماد اٹھ جائے گا اور قوانین اسلامی ہواپرستوں اور بدعت گزاروں کی خواہش کے مطابق تحریف کا شکار ہوجائیں گے۔
انصاف سے بتائے اگر ایسی احادیث وروایت جن کے متواتر ہونے پر علماءحدیث ورجال وتاریخ نے تصریح کی ہو، سے انکار اوران کے بارے میں شکوک وشبہات پیدا کریں تو ان احادیث کا کیا ہوگا جو خبرواحد شمار ہوتیں ہیں یہی وجہ ہے کہ دانشمندوں اورعلماءاسلام میں سے ایک گروہ نے منحرفین اور مغرضین کے ان ناپاک عزائم کو درک کرتے ہوئے اِن کے خطرات اور عزائم سے مسلمانوں کو آگاہ کرنے کے لئے اس منحرف گروہ کی ردّ میں کتابیں لکھی ہیں اور دور حاضر کے علماءکا بھی یہ فریضہ بنتا ہے کہ منحرفین کے غلط تبلغ سے متاثر ہونے کے بجائے ان کے اصلی چہرے سے مسلمانوں کو آگاہ کرنے کے لئے قلم اٹھائیں اور اسلام کے صحیح عقائد سے مسلمانوں خصوصاً جوانان اسلام کو آگاہ کریں۔
 

9 Jan 2012 |

 
 

امام مہدی (عج) کے عقیدہ پر مسلمانوں کا اجماع

امام مہدی (عج) کے عقیدہ پر مسلمانوں کا اجماع
  ،مولف:محمود حسین حیدری
----
عقیدہ مہدویت کے مسلم الثبوت ہونے پر صدر اسلام کے مسلمانوں میں اجماع واضح اور بلا شبہ ہے

اجماع مسلمین سے مرادصرف اجماع شیعہ نہیں ہے کیونکہ یہ واضحات میں سے ہے اورسب جانتے ہیں کہ عقیدہ وجو دوظہور امام مہدی(عج) اصول وضروریات مذہب شیعہ اثنا عشری میں سے ہے جس میں کوئی بحث کی گنجائش نہیں ۔ بلکہ اجماع مسلمین سے مراد اجماع شیعہ و اہل سنت ہے رسول اللہ کی وفات کے بعد صحابہ و تابعین کے درمیان عقیدہ مہدی(عج) مسلم تھا اورظہور حضرت امام مہدی (عج) کے بارے میں کوئی اختلاف نہیں تھا، اسی طرح قرن اول کے بعد سے لے کر چودہوں صدی ہجری تک آپ کے ظہور کے سلسلے میں بھی تمام مسلمانوں کے درمیان اتفاق تھا ، اوراگر کوئی ان احایث کی صحت اوران کے رسول خدا سے صادر ہونے کے بارے میں شک یاتردد کرتے تو اس شخص کی ناواقفیت پر حمل کرتے تھے ، یہی وجہ ہے آج تک تاریخ اسلام میں جھوٹے اور جعلی مہدیوں کی رد میں کسی نے یہ نہیں کہا کہ یہ عقیدہ ہی باطل ہے ، بلکہ حضرت مہدی(عج) کے اوصاف اور علامتوں کے نہ ہونے کے ذریعے رد کیا ہے ۔
مثال کے طور پر ” ابو الفرج“ لکھتے ہیں : ” ابوالعباس “ نے نقل کیا ہے کہ میں نے مروان سے کہا” محمد[بن عبداللہ] “ خود کو مہدی کہتے ہیں ، اس نے کہا: نہ وہ مہدی موعود (عج) ہے نہ ان کے باپ کی نسل سے ہوگا بلکہ وہ ایک کنیز کا بیٹا ہے ۔( مقاتل الطالبین ،ص۲۴۱ ؛ آفتاب عدالت ، ص ۸۵۔)
ابو الفرج ہی لکھتے ہیں : جعفر بن محمد [ امام جعفر الصادق] علہ اسلام جب بھی محمدبن عبداللہ کو دیکھتے گریہ کرتے تھے اورفرماتے تھے ” ان پر [ حضرت مہدی (عج)] میری جان فدا ہو، لوگ خیال کرتے ہیں کہ یہ شخص مہدی موعود ہے جب کہ یہ قتل کیا جائے گا اورکتاب علی علیہ السلام میں امت کے خلفاءکی لسٹ میں اس کا نام نہیں ہے ۔( مقاتل الطالبین ،ص۶۶۱ ؛ آفتاب عدالت ، ص ۱۶۔)
مختصریہ کہ ” عقیدہمہدویت “ صدر اسلام سے ہی مسلمانوں کے درمیان مشہور تھا اورلوگوں میں اتنا راسخ ہوگیا تھا کہ وہ صدر اسلام ہی سے ان کے انتظار میں تھے اورہر لمحہ صحیح مصداق کی تلاش میں رہتے تھے اورکبھی غلطی سے بعض افراد کو مہدی سمجھ بیٹھتے تھے ، اور جیسا کہ عرض کیا مسئلہ مہدی (عج) پر مسلمانوں کا اجما ہے ۔چنانچہ :

۱۔ ” سویدی “ ” سبائک الذہب“ میں تحریر کرتے ہیں :
”الذین اتفق علیہ العلماءان المہدی ھو القائم فی آخر الوقت ، انّہ یملاءالارض عدلاً والاحادیث فیہ وفی ظہورہ کثیرہ ۔“
وہ چیز جس پر علماءاسلام کا اتفاق ہے وہ یہ ہے مہدی قائم کی شخصیت جو آخری زمانے میں ظہور فرمائیں گے اورزمین کو عدل سے پر کردیں گے۔ اورحضرت مہدی(عج) کے وجود اورظہور کے بارے میں احادیث بہت زیادہ ہیں۔(سویدی ، سبائک الذہب ، ص ۸۷۔)

۲۔ جناب ابن ابی الحدید معتزلی ” شرح نہج البلاغہ “ میں لکھتے ہیں :
” قد وقع اتفاق الفریقین من المسلمین اجمعین علی انّ الدنیا والتکلیف لاینقض الّا علیہ ۔“( شرح نہج البلاغہ ، ج۳،ص ۵۳۵۔)
تمام شیعہ وسنی مسلمانوں کا اس بات پر اتفاق ہے کہ یہ دنیا اور تکلیف ختم نہیں ہوگی مگر یہ کہ حضرت مہدی پر ، یعنی حضرت مہدی کے ظہور کے بعد۔

۳۔ شیخ علی نامف ” غایة المامول “ میں لکھتے ہیں:
”اتّضح مماسبق ان المہدی المنتظر من ہذہ الامة وعلی ہذا سلفاً وخلفاً۔(۔غایة المامول شرح تاج جامع الاصول ، ج۵، ص۹۹۲۔)
” مہدی منتظر اسی امت میں سے ہیں اوراہل سنت میں سے جو لوگ گزر گئے اور جو آنے والے ہیں سب کا یہی عقیدہ تھا اور ہے ۔“

۴۔ علامہ شیخ محمد سفاری حنبلی ؛ ” لوایع الانوار البہیّة“ میں لکھتے ہیں :
”فاالایمان بخروج المہدی واجب کما ہو مقرر عنداہل العلم ومدوّن فی عقاید اہل السنہ والجماعة“
امام مہدی کے خروج اور ظہور پر ایمان رکھنا واجب ہے جیسا کہ یہ بات اہل علم کے نزدیک مشخص اور عقائد ہ اہل سنت والجماعت میں لکھی ہوئی ہے ۔( لوایع الانوار البہیہ وسواطع الاسرار الاثر یہ ، ج۲، ص ۷۳۔)

۵۔ جناب ابن خلدون ” المقدمہ میں لکھتے ہیں :
”اعلم انّ المشہور بین الکافہ من اہل الاسلام علی ممرالاعصار انّہ لابدّ من آخر الزمان من ظہور رجل من اہل البیت یوید الدّین ویظہر العدل ویتبعہ المسلمون ویستولی علی الممالک الاسلامیہ ویُسمی باالمہدی “
” جان لیں ! تمام اہل اسلام [ اعم از شیعہ وسنی ] میں یہ بات مشہور تھی اورہے کہ آخر ی زمانے میں اہل بیت پیغمبر میں سے ایک شخص ظہور فرمائے گا وہ دین کی مدد کرے گا اور عدل کا قیام کرے گا اورتمام مسلمان اس کی پیروی کریں گے ، وہ اسلامی ممالک کی سرپرستی کرے گا اوراس کا نام مہدی ہوگا۔( ۔مقدمہ ابن خلدون ج۲، ص ۱۸۷، باب فی امر الفاطمی ومایذہب الیہ الناس۔)
۶۔علامہ محمد جواد مغنیہ مصری ” الشیعہ والتشیع “ کے ص، ۶۳۲ پر لکھتے ہیں ”وجود مہدی(عج) کو عقل کے سامنے پیش کیا تو انکار نہیں کیا، قرآن کی طرف رجوع کیا تو اس موضوع کے مشابہ بہت پایا، حدیث نبوی کی طرف مراجعہ کیا ، حدیثیں بہت زیادہ تھیں ، اہل سنت والجماعت کی کتابوں میں تلاش وجستجو کی تو سب کو اپنا ہم عقیدہ پایا، پس کس طرح یہ مسئلہ[ مہدی(عج)] مسائل خرافی میں سے ہے ؟ فاضل مصنف حضرت مہدی(عج) کے بارے میں علماءاہل سنت کے اقوال کو بیان کرنے کے بعد لکھتے ہیں” پس یہ مہدی(ع) جسے ترمذی، ابن ماجہ ، ابی داوود، ابن حجر ، ابن صباغ مالکی وصفدی وغیرہ کہتے ہیں وہی مہدی موعود ہیں جن کے وجود کے شیعہ قائل ہیں :اگر حضرت مہدی(عج) کا وجود مسائل خرافی میں سے ہے تو اس کے ،ذمہ دار خود پیغمبراکرم(ص) ہیں ، اور وہ لوگ جو وجود مہدی(ع) کا مذاق اڑاتے ہیں حقیقت میں یہ لوگ اسلام اور رسول اکرم (ص)کا مذاق اڑاتے ہیں ، کیوں کہ پیغمبراکرم (ص) نے فرمایا :” من انکر المہدی فقد کفر بما انزل علیٰ محمد “ جس نے مہدی کا انکار کیا وہ کافر ہوگیا ۔( الشیعہ والتشیع، ص ۶۳۲۔)
۷۔قاضی بھلول آفندی المحاکمہ فی تاریخ آل محمد “ میں لکھتے ہیں :”انّ ظہورہ امراتفق علیہ المسلمون فلا حاجة الیٰ ذکر الدلیل۔“حضرت مہدی(عج) کا ظہور ایک ایسا امر ہے جس پر تمام مسلمانوں کا اتفاق ہے ، لہذا کسی دلیل کے ذکر کرنے کی ضرورت نہیں ہے ۔
یہ تھے چند بزرگ سنی علماءکے اقوال جن میں وجود اور ظہور حضرت امام مہدی(عج) پر اجماع کا دعوی کیا گیا ہے ۔
۸۔ ایک اورقول ملاحظہ فرمائیں ” حضرت مہدی(ع) کے ظہور اورآمد کے بارے میں دنیا کے کسی مسلمان کا اختلاف نہیں، اہل سنت کے چاروں امام اور عہد حاضر میں مسلمانوں کے تمام مکاتب فکر حضرت امام مہدی(عج) کے ظہور اورآمد پر متفق ہیں البتہ اہل سنت اور شیعہ! دونوں کے عقاید کے مطابق
امام مہدی(عج) کا ایک ہونا کسی بھی چھوٹی سی روایت اورآنحضرت کی بیان کردہ کسی بھی حدیث سے ثابت نہیں ہوتا۔
” ہم نہیں جان سکے کہ شیعہ نے ظہور مہدی کے بارے میں جو عقیدہ اپنا یا ہے اس کا مآخذ کیا ہے ، صرف آنحضرت ہی نہیں بلکہ شیعہ کے مذکورہ عقیدے کی تائید میں حضرت علی رض حضرت حسن ؛اورحضرت حسین رض کی طرف سے بھی کوئی سند نہیں ملتی۔“
”آنحضرت کی بیان کردہ احادیث کے مطابق ” بعثت مہدی“ کا عقیدہ تو تیار ہوگیا ، لیکن وہ آنحضرت کی بیان کردہ ساٹھ ۶۰ سے زیادہ علامات کو اپنے مزعوم ” امام مہدی ع “ پر منطبق نہ کرسکے۔ انہیں یہ مشکل ہر دور میں پیش آئی ہے (حضرت امام مہدی، ضیاءالرحمن فاروقی،ص۱۷،۱۸،۲۰)
یہ تھے جناب فاروقی صاحب کے الفاظ کہ انہوں نے بھی تسلیم کیا ہے کہ ظہور حضرت مہدی(عج) کے بارے میں مسلمانوں کے تمام مکاتب اتفاق نظر رکھتے ہیں ان کے اور دوسرے علماءاہل سنت کے اقوال کا نتیجہ یہ ہے کہ ” عقیدہ وجود وظہور حضرت مہدی (ع)“ ؛مسلمانوں کے متفق علیہ عقاید میں سے ایک ہے اوراس عقیدے کے واضع خود پیغمبر اکرم (ص) ہیں ۔
لیکن جناب فاروقی کا یہ کہنا کہ ” شیعہ اوراہل سنت کے عقاید کے مطابق امام مہدی(عج) کا ایک ہونا کسی بھی چھوٹی سی روایت سے ثابت نہیں ہوتا“
ایک غلط دعویٰ ہے ، کیونکہ حضرت مہدی(ع) کے بارے میں جوروایتیں وارد ہوئی ہیں اسے شیعوں نے بھی نقل کیا ہے اورسنی محدثین نے بھی،
رہا شیعوں کی روایات کے مآخذ ، ! تو اسے جناب فاروقی صاحب بھی جانتے تھے کہ شیعہ روایات کاماخذ ومنبع وحی الہیٰ ہے جو خاندان وحی ( یعنی آل رسول ) کے توسط سے ان تک پہنچی ہے ، لہذا کبھی بھی مقام تطبیق میں مشکل سے دچار نہیں ہوئے ۔
کاش فاروقی صاحب ( عدم تطبیق) کی تہمت لگانے سے پہلے شیعہ علماءاورمحققین کی کتابیں پڑھنے کی زحمت گوارا کرتے تو جس طرح وجود وظہور حضرت مہدی(عج) کا انکار نہ کرسکے اسی طرح واضح ہوتا کہ شیعوں کے نزدیک حتی وجود وذات والامقام حضرت مہدی(ع) بھی کبھی مبہم نہیں رہا اور وہ ابھی تک اس مسئلے میں دوسروں کے برخلاف مطمئن رہے ہیں اس لئے کہ جس کے ظہور کے وہ منتظر ہیں ابھی ان کا ظہور ہوا ہی نہیں ورنہ روایات شیعہ جن اوصاف کا ذکر کرتیں ہیں وہ سب ان کے امام پر کاملاً منطبق ہیں ۔
لیکن افسوس اہل سنت کے کچھ افراطی وتفریطی گروہ پر جو مدارک سند تاریخ اوراسلامی افکار کے گہرے مطالعہ کی محرومی یاکتب اہل سنت میں موجود متضاد احادیث کی وجہ سے مشکلات کا شکار ہوئے ہیں یاہورہے ہیں ، لیکن جن بزرگ سنی علماءنے اسلامی افکار اوراحادیث کا گہرا اور دقیق مطالعہ کیا ہے انہوں نے پہلے گروہ کے خلاف امام مہدی (عج) کے شیعی تصور ( جسے پیغمبر اکرم (ص) اوران کے اہل بیت(ع) نے پیش کیا تھا) کو قبول کیا
رسول خدا (ص)اورائمہ اہل بیت(ع) سے ایسی سیکڑوں احادیث وارد ہوئی ہیں جن سے حضرت مہدی (ع) کا تعیین ہوتا ہے ، نیز ان احادیث کی دلالت اس بات پر ہے کہ حضرت امام مہدی(عج) ، اہل بیت(ع) میں سے ہون گے ،اولاد فاطمہ (س) میں سے ہوں گے ، حضرت امام حسین(ع) کی ذریت میں سے ہوں گے وہ امام حسین (ع) کی نویں پشت میں ہیں ۔
امام یاخلیفہ وامیر بارہ ہوں گے ، ان میں پہلے علی (ع)اورآخری مہدی (ع) ہوں گے یعنی مہدی(عج) بارہ اماموں میںسے ایک ہیں ۔
یہ روایات اس عام تصور کو ائمہ اہل بیت(ع) کے بارہویں امام ( حضرت مہدی بن حسن عسکری (ع) ) میں محدود کردیتی ہیں اور سب سے بڑی بات تو یہ ہے کہ ان روایات کو نقل کرنے والے جناب بخاری ومسلم وابی داوود واحمد ، امام محمد تقی وامام علی النقی اورامام حسن العسکری کے ہمعصر تھے اس سے یہ بات واضح سمجھ میں آتی ہے کہ اس احادیث کو رسول اللہ سے اس وقت نقل کیاگیا جب کہ خارج میں اس کا مصداق نہیں تھا اور ائمہ کی تعداد مکمل نہیں ہوئی تھی۔ لہذا یہ شک نہیں کیا جاسکتا کہ یہ احادیث ، شیعہ ائمہ (ع)کی واقعی تعداد کے مطابق نقل کردی گئی ہے تاکہ ان کے بارہ امام کے عقیدے کی تقویت ہو جائے اورجب تک ہمارے پاس یہ دلیل ہے کہ مذکورہ احادیث ائمہ اثناعشر ( جن کے شیعہ قائل ہیں ) کی واقعی تعداد مکمل ہونے سے پہلے ہی کتابوں میں نقل کی گئی ہے تو ہم اعتماد سے کہ سکتے ہیں کہ یہ حدیث کسی طے شدہ منصوبے کے تحت جعل نہیں ہوئی ہے بلکہ یہ ایک الہیٰ حقیقت ہے جسے اس نے بیان کیا ہے جو اپنی طرف سے اوراپنی خواہش سے کچھ نہیں کہتا ہے [ وماینطق عن الہویٰ ان ہو الاّ وحی یوحیٰ] اور خلیفہ یاامام ، یاامیر ، بارہ ہوں گے آپ کی یہ پیشین گوئی اس وقت پوری ہوئی جب یہ تعداد امام المتقین امیر المومنین علی ابن ابی طالب(ع) سے شروع ہوک امام مہدی(ع) تک بارہ ہوگئی اس طرح حدیث نبوی کاایک مصداق خارج مین متحقق ہوگیا ،” فماذا بعد الحقّ الاّ الضلال فانّیٰ تصرفون۔“ (سورہ یونس ، آیت ۲۳۔)

اور حق کی روشن راہ کے بعد بجز گمراہی کچھ نہیں تو تم کہا بہکے جارہے ہو؟
 

9 Jan 2012 |

 
 

منکرین مہدی (عج) کی ضعیف دلیلیں اور انکا رد

منکرین مہدی (عج) کی ضعیف دلیلیں اور انکا رد
  ،مولف:محمود حسین حیدری
--------
اہل مطالعہ و تحقیق جانتے ہیں کہ کتب اہل سنت میں احادیث ظہور حضرت مہدی(عج) اتنی زیادہ ہیں کہ جو بھی غیر جانب دارانہ اورانصاف کے ساتھ ان کی طرف رجوع کرے گا اسے اس بات کا یقین حاصل ہوجائے گا کہ ان سب کی دلالت اس بات پر ہے کہ وجود مہدی(عج) اسلام ومسلمین کے ان مسلم عقاید وموضوعات میں ہے کہ جن کا بیچ خود حضور پاک(ص) نے بویا، اورآئمہ علیہم السلام اور اصحاب کرام نے ان کی آبیاری کی ہے ، لہذا یقین کے ساتھ کہا جاسکتا ہے کہ وجود ظہور حضرت امام مہدی(عج) کے بارے میں متون اسلامی میں جتنی حدیثیں وارد ہوئیں ہیں اتنی احادیث کسی اورموضوع کے بارے میں وارد نہیں ہوئیں ہیں ، واضح رہے ابتداءبعثت سے حجة الوادع تک پیغمبر اکرم(ص) نے سینکڑوں مرتبہ حضرت مہدی (عج) کے بارے میں گفتگو کی ہے ، اورعہد رسول اکرم(عج) سے ہی لوگ ان کے انتظار میں دن گنتے تھے یہاں تک کہ کبھی تو بعض لوگ کسی کو اس کا حقیقی مصداق سمجھ بیٹھے تھے، ان سے متعلق شیعہ وسنی دونوں راویوں نے احادیث نقل کی ہے، ان کے رایوں میں عرب، عجم ، مکی ومدنی ،کوفی بغدادی، بصری، قمی ، کرخی، بلخی ، خراسانی ، وغیرہم شامل ہیں ، کیا ان ہزاروں سے زائد احادیث کے باوجود کوئی مسلمان وجود مہدی(عج) کے بارے میں شک کرے گا اوریہ کہے گا کہ یہ احادیث متعصب شیعوں نے جعل کر کے پیغمبراکرم(عج) کی طرف منسوب کردیں ہیں ؟؟
ان واضح حقائق کے مقابلے میںحضرت مہدی(عج) کی شخصیت کے بارے میں شکوک وشبہات ایجاد کرنا اور آپ کی شخصیت کو کسی ایک فرقے سے منسوب کرنے کی کوشش واقعیت پر پردہ ڈالنا ہے، اسلام کے ایک بنیادی عقیدہ کو دبانا اوراسلام کو ضعیف کرنا ہے ، اورآج کی حالت کو دیکھ کر کہا جاسکتا ہے ، یہ منفی پڑوپیگینڈہ یقینا ، جہل کی بنیاد پر نہیں علم کی بنیاد پر کیا جارہا ہے ، اس مذموم پروپیگینڈے کا اصل مرکز دنیا کے کسی اورگوشے میں ہے، جسے برصغیر بالخصوص وطنِ عزیز پاکستان میں بھی پھلانا چاہتے ہیں جس سے غافل نہیں رہا جاسکتا، اس سلسلے میں کچھ توضیحات دیں گے تاکہ جوانان اسلام زیادہ سے زیادہ اسلام دشمن عناصر کی حقیقت اوران کے ناپاک عزائم سے آشنا ہوسکیں ۔
ہم یہا ں امام مہدی (عج) کے منکرین کی کچھ ضعیف دلیلوں کو بیان کرتے ہیں تاکہ قارءین پر واضح ہو کہ امام زمانہ کے منکر کیسی ناپاک سازشوں میں مصروف ہیں:

منکرین عقیدہ مہدویت کی دلیل :

پہلا سبب عبداللہ بن سبا
کچھ اہل سنت کے نام نہاد لوگوں نے اپنی معتبر حدیثوں کی کتب میں امام مہدی (عج) پر سینکڑوں احا دیث اور باب المہدی یا کتاب المہدی جیسے عناوین کو نظر انداز کرتے ہویے ڈھٹایی سے یہ کہنا شروع کر دیا کہ عقیدہ مہدویت صرف شیعہ عقاید میں سے ہے اور انہوں نے اس عقیدے کو دوسرے مذاہب خصوصاً یہودیوں سے لیا ہے، یعنی صدر اسلام میں مادی فوائد کے حصول اوراسلام کی بنیادوں کو کھوکھلا کرنے کی غرض سے یہودیوں کی ایک جماعت نے اسلام کا لبادہ اوڑھ کر اپنے مخصوص مکر وفریب سے مسلمانوں کے درمیان مقام بنالیا تھا، جس کا مقصد مسلمانوں کے درمیان تفرقہ اندازی اپنے عقاید کی اشاعت اورمسلمانوں کے استحصال کے علاوہ کچھ اورنہ تھا ، ان ہی میں سے ایک ” عبداللہ بن سبا“ ہے جس کوان کا نمایاں فرد تصور کرنا چاہے ،پس اس عقیدے کی ترقی کے دو سبب ہیں ۔ ۱۔ بیرونی سبب ۲۔ اندرونی سبب ۔ چنانچہ المہدی فی الاسلام کے مصنف لکھتے ہیں :
” کانت الشیعہ الفرق الاسلامیہ الی التعلیق بہٰذہ الاسطورة الّتی ترتکز فی وجود ہا عاملین ، خارجیّ یہودی وقد دخل ہذا العامل الیہودی البیئة الاسلامیہ علی ید عبداللہ بن سبا“( المہدیہ فی الاسلام سعد حسن ، ص ۴۸۔ ۶۰ الشیعہ والتشیع احسان ظہیر الہی، ص ۳۷۸ کے بعد)

ہمارا جواب
ان کے اس دعوی کی صرف ایک ہی دلیل ہے اوروہ ایک ضعیف تاریخی روایت ہے جس کو
جناب” طبری “نے سب سے پہلے اپنی تاریخ میں نقل کیا اوران کے بعد آنے والے تمام مورخین نے اس بے بنیاد مجعول شدہ روایت کو جناب طبری پر اعتماد کرتے ہوئے اپنی کتب تاریخی میں نقل کیا ہے ۔
اورشیعہ دشمن عناصر نے متعدد مقامات پر اس سے استفادہ کرتے ہوئے ان کوشیعہ مذہب کا بانی اورموجد قرار دیتے ہوئے بہت سے اسلامی عقاید کو مخدوش بنانے کی کوشش کی ہے ، ان میں سے ایک ” عقیدة مہدویت“ ہے ، تمام مغرضین اورمنحرفین نے اسی روایت سے تمسک کیا ہے اورعبداللہ بن سبا کے یہودی ہونے کو ثابت کرنے کی کوشش کی ہے ۔
لہذا اس تاریخی روایت کو قارئیں کی خدمت میں پیش کرتے ہوئے اہل سنت کی کتب ” رجالی“کی روشنی میں اس روایت میں موجود افراد ، یعنی رجال کے بارے میں مختصر سی گفتگو کرتے ہیں ، تاکہ عبداللہ بن سبا کی حقیقت اور اس کی حیثیت سے قارئین محترم کاملاً آشنا ہوسکیں روایت یہ ہے :
” کتب الی السّری عن شیعب عن سیف عن عطیّہ ، عن یزید الفقسعی کان عبداللہ بن سبا یہودیاً من اہل صنعا امہ سوداء، فاسلم زمان عثمان ثم تنتقل فی بلدان المسلمین یحاول ضلالتہم ۔“ (۔تاریخ طبری ، ج۲، ص ۶۲۲، باب ذکر حوادث ۳۵ھ ۔)
سری نے شعیب سے انہوں ے سیف سے انہوں نے عطیہ سے انہوں نے یزید فقسعی سے روایت نقل کی ہے کہ عبداللہ بن سباءیہودی تھا صنعا کا رہنے والا تھا، حضرت عثمان کے زمانے میں مسلمان ہوا اورمسلمانوں کو گمراہ کرنے کی کوشش کرتا تھا۔

سند روایت کی تحقیق
اب ہم خود اہل سنت کی رجالی کتب سے بالترتیب ان راویوں کا جایزہ لیتے ہیں:
۱۔ السری ، چاہے اس سے مراد ” سری بن اسماعیل کوفی “ ہو ں یا سری بن عاصم دونوں رجال اہلسنت والجماعت کے نزدیک جھوٹا اوروضاع تاریخ وحدیث ہے ۔۱
۲۔ شعیب سے مراد ، شعیب بن ابراہیم کوفی ہیں اور وہ مجہول الحال اور گمنام ہیں ۔۲
(۱۔۲۔تہذیب التہذیب ، ج۳، ص ۴۰۱” عن احمد ترک الناس حدیثہ ، وقال نسائی ، لیس شیعہ کان یغلب الاسانیدو ؛ میزان الاعتدال ، ج۱،ص ۳۷، تاریخ الخطیب ( تاریخ بغدادی) ج۹، ص ۱۹۳ ، لسان المیزان ، ج۳، ص ۱۳۔)
۳۔یزید الفقسعی مجہول الحال اورگمنام ہے۔
(تہذیب التہذیب ، ج۴، ص ۲۶۲؛میزان الاعتدال ، ج۱،ص ۴۳۸)
۴۔ سیف بن عمر ، جھوٹا آدمی تھا۔ انہ کان یضع الحدیث ، واتّہم بالذندقہ۔
(تہذیب التہذیب ، ج۴، ص ۲۶۲؛میزان الاعتدال ، ج۱،ص ۴۳۸۔)
۵۔ وعطیّہ ضعیف ، مجہول الحال اورگمنام شخص تھا ۔
(ذہبی ، میزان الاعتدال ، ج۳، ص ۷۹۔)
یہ تھی اس حدیث کے راویوں کی حقیقت کہ سب کے سب غیر معتبرہیں، جس کی وجہ سے خود حدیث بھی اپنا اعتبار کھودیتی ہے لہذا اس حدیث کو سندبنا کر پیش کرنا غیر معقول اور غیر قابل قبول ہے، افسوس کی بات تو یہ ہے کہ کچھ لوگ اپنے کو اہل قلم سمجھتے ہوئے اسلام کے ٹھکیدارہونے کا دعویٰ تو کرتے ہیں لیکن صحیح تحقیق کرنے اور حقیقت پسندی سے کام لینے کے بجائے خواہشات تعصبات کی آندہھیوں میں بہہ گئے ،اسی لئے غیر منطقی اوربے بنیاد باتوں کو لکھ کر مسلمانوں کے درمیان انتشار پھیلا کراسلام ومسلمین کی جڑیں کاٹنے میں استکباری طاقتوں خصوصاً یہودیوں کی مدد کرتے ہیں ۔
یہ مختصر سی تنقید ہم نے اس لئے پیش کی ہے تاکہ نوجوانا ن اسلام ان گمراہ کن بیانات اور غیر منطقی کتابوں کے مطالعہ سے پریشان نہ ہوں ، اورایسے مصنفین اپنی آنکھیں کھولیں اور مبانی اسلام سے زیادہ سے زیادہ آشنائی حاصل کریں ، اورتقلید اور تعصب کی دنیا سے نکل کر حقیقت کی دنیا میں قدم رکھتے ہوئے اپنی بساط کے مطابق قدم اٹھائیں تاکہ اپنی اور دوسرے مستضعفین کی عاقبت خراب نہ کریں ، مختصریہ کہ ” عبداللہ بن سبا“ کا وجود تاریخ کے مسلمات میں سے نہیں ہے اور اس کے وجود کو ، مسلمانوں خصوصاً شیعہ مسلمانوں کے دشمنوں نے گڑھ لیا ہے اوراگر واقعاً کوئی ایسا شخص موجود تھا تو ان باتوں کا کوئی ثبوت کیوں نہیں ہے ؟جن کو ان کی طرف منسوب کیا جاتا ہے ، کیونکہ کوئی عقلمند شخص اس بات کو قبول نہیں کرسکتا کہ ایک نومسلم یہودی نے ایسی غیر معمولی قوت وطاقت پیدا کرلی تھی کہ وہ اس ایک گھٹن سے بھرے ہوئے ( استبدادی) ماحول میں بھی ، جب کہ کوئی بھی اہل بیت عصمت وطہارت کے سلسلے میں ایک بات بھی کہنے کی جرات نہیں کرتاتھا اس نے اس وقت ایسے بنیادی اقدامات کئے اور مستقل تبلیغات اور وسایل کی فراہمی سے لوگوں کو اہل بیت کی طرف دعوت دیتے ہوئے خلیفہ وقت کے خلاف ایساہنگامہ برپا کیا کہ لوگ قتل خلیفہ کے درپے ہوگئے مگر خلیفہ کے جاسوسوں کو اس کی خبر بھی نہ ہوئی !!! یعنی ان لوگوں کے مطابق ایک نومسلم یہودی نے ان کے عقاید کی بنیادیں متزلزل کردیں اور کسی شخص میں کچھ کہنے کی ہمت بھی ہوئی ۔ ایسے کارناموں کے حامل انسان کا وجود صرف تصورات کی دنیا میں ہی ممکن ہے۔
( علی وفرزندان علی ، ڈاکٹر طٓہ حسین مصری ، بحوالہ آفتاب عدالت۔)
مختصریہ کہ یہ بات صحیح نہیں ہے کہ ” عقیدہمہدویت“ کو” عبداللہ بن سبا“مفروض الوجود یہودی نے مسلمانوں کے درمیان فروغ دیا ہو، اس لئے کہ ہم پہلے ثابت کرچکے ہیں کہ مصلح عالم حضرت مہدی(عج) کی آمد کی بشارت دینے والے خود پیغمبر اکرم (ص) ہیں ۔ ثانیاً داستان ”عبداللہ بن سبا“ایک افسانہ ہے جس کی کوئی حقیقت نہیں ۔

دوسرا سبب
منکرین ” عقیدہ مہدویت“ کا کہنا ہے کہ اس عقیدے کی ترقی کاایک اندرونی سبب بھی ہے چنانچہ ” المہدیہ فی الاسلام“ کے مصنف لکھتے ہیں ” وامّا العامل الثانی فی خلق ہذاالمعتقد فی البیئة الاسلامفہو اسلامی منتزع من بیئة الاسلام ، اذ عند ما افلت زمام الامر الشیعة۔ ۔ ۔ “۱۔(المہدیہ فی الاسلام، ص ۴۸۔ ۶۰)۔
مصنف مذکور کے بیان کا خلاصہ یہ ہے کہ رسول اکرم (ص) کی وفات کے بعدآپ کے اہل بیت اور رشتہ دار منجملہ علی بن ابی طالب(ع) خود کو زیادہ خلافت کا حقدار سمجھتے تھے ،چند اصحاب بھی ان کے ہم خیال تھے ، لیکن ان کی توقع کے برخلاف حکومت خاندان رسالت سے چھن گئی جس سے انہیں بہت صدمہ ہوا یہاں تک کہ جب حضرت علی(ع) کے ہاتھوں زمام خلافت آئی تو وہ مسرور ہوگئے !! اوریہ سمجھنے لگے اب خلافت اس خاندان سے باہر نہیں جائے گی ، لیکن علی(ع) داخلی جنگوں کی وجہ سے اسے کوئی ترقی نہ دے سکے !! نتیجہ میں آپ کو ابن ملجم نے شہید کیا پھر ان کے فرزند حسن (ع) بھی کامیاب نہ ہوسکے آخر کار خلافت بنی امیہ کے پاس چلی گئی ۔
رسول اللہ کے دو فرزند امام حسن (ع) وحسین (ع) خانہ نشینی کی زندگی گزار رہے تھے اور اسلامی حکومت اور اقتدار دوسروں کے ہاتھو میں تھا ، رسول خدا کے اہل بیت اوران کے چاہنے والے فقر وتنگدستی میں زندگی بسر کرتے رہے اورمال غنیمت مسلمانوں کا بیت المال بنی امیہ اوربنی عباس کی ہوس رانی پر خرچ ہوتا تھا، ان تمام چیزوں کی وجہ سے روز بہ روز اہل بیت کے طرفداروں میں اضافہ ہوتا گیا اور گوشہ وکنار سے اعترض ہونے لگے ، دوسری طرف حکومت کے عہدہ داروں نے دل جوئی اور مصالحت کے بجائے سختی سے کام لیا اورانہیں دار پر چڑھایا ، کسی کوقید کسی کو جلاوطن کیا۔
مختصریہ کہ رسول خدا کی وفات کے بعد آپ کے اہل بیت اوران کے طرفداروں کو مصیبتیں اٹھانا پڑیں ،فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کو باپ کی میراث سے محروم کردیا ۔ علی ابن طالب (ع) کو خلافت سے دور رکھا گیا ، حسن ابن علی (ع) کو زہر دے کر شہید کردیا گیا حسین ابن علی (ع) کو اولاد واصحاب سمیت کربلا میں شہید کیا گیا اور ان کی مخدرات کو قیدی بنالیا گیا، مسلم بن عقیل اورہانی ابن عروہ کوامان دینے کے بعد قتل کرڈالا گیا، ابوذر غفاری کو ” ربذہ “ میں جلاوطن کردیا گیا ، ہجر بن عدی : عمر وبن حمق، میثم تمّار ، سعید بن جیر کمیل بن زیاد اورایسے سیکڑوں اصحاب خاندان اہل بیت کو تہ تیغ کردیا، یزید بن معاویہ کے حکم سے مدینہ النبی کو تاراج کیا گیا ایسے ہی اور بہت سے واقعات رونما ہوئے کہ جن سے تاریخ بھری پڑھی ہے ، ایسے تلخ زمانے کو بھی شیعیان علی نے استقامت کے ساتھ گزارا ، اورمہدی کے منتظر رہے ، کبھی علویوں میں سے کسی نے قیام کیا لیکن کامیابی نہ مل سکی اور قتل کردیا گیا ، ان ناگوار حوادث سے اہل بیت کے قلیل ہمنوا ہر طرف سے مایوس ہوگئے اور اپنی کامیابی کا انہیں کوئی راستہ نظر نہ آیا، تو وہ ایک امید دلانے والا منصوبہ بنانے کے لئے تیار ہوئے ، ظاہر ہے مذکورہ حالات اور حوادث نے ایک غیبی نجات دینے والے اور ” مہدویت“ کے عقیدے کو قبول کرنے کے لئے مکمل طور پر زمین ہموار کردی تھی ، اس موقع پر نومسلم یہودی نے فائدہ اٹھایا اور اپنے عقاید کی ترویح کی ، یعنی غیبی نجات دینے والے کے معتقد ہوگئے !
ہرجگہ سے مایوس شیعوں نے اسے اپنے درد دل کی تسکیں اور ظاہری شکست کی تلافی کے لئے مناسب سمجھا اوردل وجان سے قبول کر لیا، لیکن اس میں کچھ رد وبدل کرکے کہنے لگے ، وہ عالمی مصلح یقینا اہل بیت میں سے ہوگا۔ وقت گذرنے کے ساتھ ، ساتھ لوگ اس کی طرف مایل ہوگئے اور اس عقیدے نے موجودہ صورت اختیار کرلی ۔(المہدیہ فی الاسلام، ص ۶۹۔)

ہمار ا جواب
اہل بیت اوران کے ماننے والوں سے متعلق جس مشکلات اور مصیبتوں کا ذکر فاضل مصنف نے کیا ہے وہ باالکل صحیح ہیں، لیکن ” عقیدہ مہدویت “ کے اثبات کے لئے توجیہ کی ضرورت نہیں ہے ، اس لئے کہ تحلیل وتوجیہ کی ضرورت اس وقت پیش آتی ہے ، جب ہمیں ” عقیدہ مہدویت “ کے اصل سرچشمہ کا علم نہ ہوتا۔ لیکن ہم اہل سنت کے صحاح وسنن ومسانید اور دوسری کتابوں سے پہلے یہ ثابت کرچکے ہیں کہ خود پیغمبر اکرم (ص)نے اس عقیدے کو مسلمانوں میں رواج دیا اور ایسے مصلح کی پیدائش کی بشارت دی ہے ۔
اس کے علاوہ آج کے زمانے میں جو دنیا بھر میں غیر مسلمان انسانوں پر مختلف صورتوں میں ظلم وستم ہورہا ہے یاخود اسلامی ممالک کے حکمران فقط اسلامی جمہوریت یا حکومت کے نام پر مسلمان عوام کا ہر وسیلہ سے خون چوس رہے ہیں ، خونریزی ، بے جاغصب اموال ،بے انصافی وغیرہ کا بازار گرم ہے، اسے بھی شیعوں کے اماموں پر ظلم وزیادتی اوران کے جائز حقوق سے محرومی کا نتیجہ تصور کیا جاسکتا ہے ؟ زرا غور فرمائیں اورپھر جواب دیں ، کیا حکیم مطلق خدائے رحیم کی عدالت کا تقاضا یہی ہے کہ دنیا روز بروز مظلوموں کی زیادتیوں سے پرہوتی جائے ظالم وجابر پوری آزادی سے ان پر ستم کرتے رہیں مگر یہ دنیا بغیر کسی عالمی مصلح کے اپنی زندگی تمام کردے اور قصہ تمام ہوجائے؟ نہیں بلکہ ایک پرسکون ذہن اورانسانی عقل ، دنیا کی بگڑتی حالت دیکھ کر بڑی سادگی اورآسانی سے اس نتیجہ پر پہنچ کر سکون واطمنان کا سانس لیتی ہے کہ کڑوڑوں مظلوموں اور ستم دیدہ انسانون کی امید کا مرکز کسی نہ کسی کو ضرور ہونا چاہئےے اوروہی مرکز سکون ، ” عقیدہ مہدویت “ ہے جس کا ثبوت نقل سے پہلے عقل ہے ، یعنی یہ وہ عقیدہ ہے جس پر قرآن ، سنت ، عقل اورتجربہ تاریخ ، (جو کہ خون وآہ ونالہ وشیون سے بھری ہوئی ہے ) مستحکم دلیل ہیں۔ اب ذرا اس عقیدہ کا اجمالی جائزہ قرآن میںلیتے ہیں تاکہ نادرست تجزئےے اور بے جا تصورات ذہنون سے خارج ہوسکیں ۔

مہدی قرآن کی نظر میں
بعض مصنفین لکھتے ہیں ” اگر عقیدہ مہدویت “ صحیح ہوتا تو قرآن میں بھی اس کاذکر آیا ہوتا، جب کہ اس آسمانی کتاب میں لفظ مہدی کہیں نظر نہیں آتا اوربعض مصنفین نے لکھا ہے ، کہ شیعوں نے اپنے اس غلط عقیدے کی تائید کے لئے جان بوجھ کر آیات قرآنی سے تمسک کرتے ہوئے غلط تاویلات وتوجیہات کی ہیں ، لیکن واقعیت یہ ہے کہ شیعوں کی یہ تفسیر نہ تو قرآن کریم کے مضمون آیات سے موافق ہے اورنہ موافق عقیدہ اہل سنت ہے اورنہ اہل لغت(المہدیہ فی الاسلام، ص۸۲)

ہمارا جواب
بعض لوگ گمان کرتے ہیں کہ لفظ علی وحسن وحسین ومہدی(ع) ، متن قرآن میں ہونا چاہئے تاکہ ہم ان کے امامت وخلافت کے قایل ہوجائیں باالفاظ دیگر ، اگر علی(ع) واولاد علی(ع) کو خداوند متعال نے امام وخلیفہ مسلمین بنایا ہے تو قرآن کریم میں کیوں ان کا ذکر نہیں ہے ؟ جب کہ آپ جانتے ہیں یہ ایک غلط سوچ ہے کیوں کہ۔
۱۔ آپ بتائےے کہ جن کی خلافت کے آپ معتقد ہیں اوراس پر زور دیتے ہیں ان کے اسماءکہاں قرآن مجید میں آئے ہیں ؟ پس کیوں ان کی خلافت کو تسلیم کرتے ہیں ؟؟
۲۔آپ حضرت علی(ع) اور اولاد علی(ع) کے نام قرآن مجید میں نہ ہونے کی وجہ سے ان کی امامت وخلافت کو قبول نہیں رکھتے جب کہ ایسے کئی موضوعات اور مسائل ہیں جن کا نام قرآن مجید میں نہیں آیا ہے لیکن آپ اسے قبول کرتے ہیں اوران کے بارے میں زرا سے بھی شکوک وشبہات کا اظہار نہیں کرتے ، مثال کے طور پر قرآن کریم میں کئی مقامات پر نماز کا حکم دیا گیا ہے لیکن قرآن مجید کے کئی سورہ میں یہ نہیں لکھا ہے کہ صبح کی نماز ۲ دو رکعت پڑھیں مغرب کی تین ظہر وعصر وعشاءچار۴ چار۴رکعتیں
اسی طرح قرآن مجید میں متعدد مقامات پر زکواة کا حکم دیا گیا ہے لیکن متن قرآن کریم سے یہ استفادہ نہیں ہوتا کہ ہر چالیس درہم پرایک درہم زکوٰة فرض ہے ۔
قرآن کریم نے حج کو افراد مستطیع پر واجب وفرض قرار دیا ہے ، لیکن یہ مشخص نہیں کیا کہ خانہ خدا کے طواف کے وقت سات ۷ مرتبہ چکر لگایا جائے ۔
سارے مسلمان چاہے شیعہ ہوں یا سنی ایسے تمام مسایل جن کے بارے میں قرآن کریم میں صراحتاً ذکر نہیں ہے، کو پیغمبر اکرم کے کہنے پر قبول کرتے ہیں ، اور ان پر عمل کبھی کرتے ہیں ، اور کوئی بھی جو اپنے آپ کو مسلمان سمجھتا ہے ان مسائل کے بارے میں زرا سابھی شک وشبہ نہیں رکھتا اورنہ ہی رکھنا چاہئےے۔
میں فیصلے کو قارئین پر چھوڑتا ہوں : آپ خود ہی فیصلہ کریں مذکورہ موضوعات اور ” عقیدہ امامت ومہدویت“ جس کے بارے میں احادیث متواتر کتب صحاح وسنن ، ومسانید وغیرہم میں اہل سنت سے نقل ہوچکی ہیں اور مسلمانوں کا اجماع بھی ہے اورعقل بھی اس بات کو تسلیم کرتی ہے ، میں کیافرق ہے؟
ایک روایت نہیں دس نہیں بلکہ ہزاروں کی تعداد میں احادیث اس سلسلے میں رسول اکرم سے شیعہ وسنی معتبر کتب میں نقل ہوئی ہیں جو کہ وجود اور ظہور حضرت امام مہدی(عج) کو اثبات کرتیں ہیں دوسری جانب کسی بھی فرد مسلم کو اس میں بھی شک نہیں کہ حضور کے کلام اور آیات قرآنی میں کوئی فرق نہیں ہے کیونکہ آنحضرت کے بارے میں خود قرآن مجید کا ارشاد ہے : ”وماینطق عن الہویٰ ان ھو الّا وحی یوحیٰ۔“
اس کے علاوہ یہ کہنا بھی غلط ہے کہ امام مہدی(عج) کا ذکر قرآن مجید میں نہیں آیا ہے اگرچہ صریحاً آپ کا نام نہیں آیا ہے اور ضروری بھی نہیں کہ آپ یادیگر ائمہ معصومین کا نام قرآن مجید میں صریحاً موجود ہو پھر بھی بعض محققین کے خیال میں ۳۵۰ آیات قرآنی میں حضرت بقیة اللہ الاعظم امام مہدی (عج) کے وجود اور ظہور کی طرف اشارہ ہوا ہے ۔(معجم احادیث المہدی ، ج۵۔)
ذیل میں ان آیات میں چند نمونے جن کی بزرگ سنی علماءنے تصریح وتفسیر کی ہے کہ یہ آیات امام مہدی(عج) کے بارے میں نازل ہوئی ہیں : قارئین کی خدمت میں پیش کرتا ہوں ۔

قرانی آیات مہدویت
۱۔ ابن ابی الحدید معتزلی جو کہ اہل سنت کے مقتدر اور بزرگ علماءمیں سے ایک ہیں ، اپنی کتاب ” شرح نہج البلاغہ “ میں سورہ مبارکہ قصص کی چوتھی آیت کے ذیل میں لکھتے ہیں :” علماءاہل سنت کہتے ہیں یہ آیت [ ونرید ان نّمنّ علی الذین استضعفوا ونجعلہم الوارثین] اشارہ ہے اس امام کی طرف جس کا تمام روی زمین اور حکومتوں پر غلبہ ہوگا۔( شرح نہج البلاغہ، ابن ابی الحدید معتزلی، ج۴، ص ۳۳۶۔)
۲۔ شیخ جمال الدین یوسف بن علی بن عبدالعزیر مقدسی شافعی جو قرن ہفتم کے بزرگ علماءمیں سے ایک ہیں ” عقدالدرفی اخبار المنتظر“ میں تفسیر ثعلبی سے نقل کرتے ہوئے ” حٓمٓعٓسٓقٓ “کی تفسیر میں لکھتے ہیں :
(حٓ)سے مراد ایک جنگ ہے جو قریش اور موالید کے درمیان پیش آئے گی اور قریش کو فتح حاصل ہوگی ۔
(مٓ) سے مراد سلطنت بنی امیہ ہے
(عٓ) سے مراد برتری بنی عباس ہے
(سٓ)سے مراد نور اوررفعت وبلندی حضرت امام مہدی(ع) ہے
(قٓ) سے مراد نزول عیسیٰ ہے ۔ البتہ یہ ان کی اورصاحب ثعلبی کی تفسیر ہے !
۳۔ محدث بزرگ شیخ علی بن محمدا بن احمد ، مالکی ( ابن صباغ) ” الفصول المہمّہ فی معرفة احوال الائمہ “میں آیہ ۲۳سورہ مبارکہ توبہ کی آیت( لیُظہرہُ علی الدّین کلہ) کی تفسیر میں سعید ابن جیر سے روایت نقل کی ہے کہ وہ حضرت امام مہدی(ع) ہیں جن کے ذریعے دین اسلام تمام ادیان پر غالب ہوگا، اورحضرت مہدی ، حضرت فاطمہ الزہراءسلام اللہ علیہا کی اولاد میں سے ہیں ۔( الفصول المہمہ ، باب الثانی والتسعون ، ص۹۲۔)
۴۔ علامہ زید بن احمد بن سھیل بلخی ” البدءوالتاریخ “ میں لکھتے ہیں ، اور ایک گروہ کا کہنا ہے کہ ان کی [ امام مہدی]جائے پیدائش مدینہ منورہ اور قیام فرمانے کی جگہ مکہ ہے لوگ ان سے صفا ومروہ کے درمیان بیعت کریں گے اورانہیں میں سے بعض کا کہنا ہے کہ وہ روی زمین سے ظلم وستم کا خاتمہ کردیں گے اور عدل انصاف قائم کریں گے ، کمزور اور طاقتوروں کے درمیان ، عدل وانصاف ہوگا اوریہ کہ زمین کے مشرق اور مغرب میں پہنچ جائے گا، قسطنطنیہ فتح ہوجائے گا اورروی زمین کے تمام علاقے یاتو اسلام میں داخل ہوچکے ہوں گے یاپھر جزیہ ادا کرنے والے ممالک ہوں گے اوریہی وہ موقع ہوگا جب اللہ تعالیٰ کایہ وعدہ ( لیُظہرہُ علی الدّین کلہ)کہ اسلام تمام ادیان پر غالب ہوجائے پورا ہوگا۔
( البداءوالتاریخ ، ص ۱۷۸، ایضاً مشکاة المصابح عبداللہ بن خطیب عمری ذیل تفسیر آیہ ۴ سورہ شعراء” ان نشاءتنزل علیہم من السماءآیة مطلت فی اعناقہم لہا خاصعین )۔“
۵۔ بزرگ سنی مفسر امام فخررازی نے مفاتیح الغیب میں ” قرطبی “ نے جامع الاحکام القرآن الکریم مین ” سُدی“ سے روایت کی ہے کہ انہوں نے کہا غلبہ دین حضرت امام مہدی(ع) کے ظہور کے وقت ہوگا۔(تفسیر کبیر، مفاتح الغیب ، ج۱۶ ، ص ۴۲۔)
۶۔ جناب سیوطی ” درالمنثور “ میں ” انّ الساعة آتیة لاریب فیہا“ کی تفسیر میں ابی سعید خدری کے ان دو روایتوں سے ” لاتقوم السّاعة حتّی یملک رجل میں اہل بیتی ، اور ” ابشرکم بالمہدی لیظہر باختلاف والزلازل ۔“ سے استدلال کرتے ہوئے لکھا ہے کہ یہ آیت حضرت امام مہدی (ع) کے بارے میں نازل ہوئی ہے کیونکہ اولین علامت قیامت، ظہور حضرت مہدی(ع)ہے ۔(درالمنثور، سیوطی ، ج۵، ص ۲۳۰۔)
۷۔”علامہ حسکانی “سورہ مبارکہ (نسائ) کی آیت ۶۹ ”وحسن اولٰٓئک رفیقاً “ کے ذیل میں پیغمبراکرم (ص) سے روایت نقل کرتے ہیں کہ اس سے مراد قائم آل محمد ہے ۔
( شواہد التنزیل ، ج۱،ص ۱۵۴۔)
مصنف مذکورہ سورہ (نسائ) کی آیت ۸۳ ” اطیعوا اللہ واطیعواالرّسول واولی الامرمنکم“ کے ذیل میں لکھتے ہیں ، اس سے مردا علی (ع) اور اولاد علی(ع) ہیں کہ ان میں سے آخری مہدی(ع) ہیں ( شواہد التنزیل ، ج۱،ص ۱۵۰؛ ینابیع المودة، ص ۱۱۶۔)
۸۔حافظ ابرہیم بن محمدحنفی قندوزی سورہ بقرہ کی تیسری آیت ” الذین یومنون بالغیب“ کی تفسیر میں لکھتے ہیں ” غیب “ سے مراد حضرت مہدی (ع) ہیں ، اور آیہ ۱۴۸ سورہ بقرہ ” فااستبقو الخیرات“ کی ذیل میں امام جعفر بن محمدجعفر الصادق (ع) سے روایت نقل کی ہے کہ ان سے مراد حضرت امام مہدی(ع) کے اصحاب خاص تینسو تیرہ (۳۱۳)ا فراد مراد ہیں جو بادل کی طرح دنیا کے کونے کونے سے مکے میں جمع ہوں گے ،حافظ مذکور سورہ آل عمران کی آیت ۱۴۱ ” ویمحّص مافی قلوبکم “ کے ذیل میں ابن عباس سے روایت نقل کرتے ہیں کہ رسول خدا نے فرمایا اس سے مراد میرے اوصیاءہیں ان میں علی اور میرے فرزند مہدی ہے کہ زمین کو اس طرح عدل وانصاف سے بھر دیں گے جس طرح ظلم وجور سے بھر چکی ہوگ۔
(ینابیع المودة ، الباب الثامن ، والسبعون ، ص ۵۰۶۔)
۹۔ حافظ ابن صباغ مالکی آیہ ” بقیة اللّہ خیر لکم ان کنتم مومنین۔“ کے ذیل میں لکھتے ہیں ، اس سے مراد حضرت مہدی (ع)ہیں ۔
(الفصول المہمہ ، باب الثانی الستعون ، ص ۹۲۔)
۱۰۔شیخ محمد بن احمد سفارینی اثری حنبلی لکھتے ہیں ” قال مقاتل ابن سلیمان ومن تبعہ من المفسرین فی قولہ تعالیٰ ” وانّہ لعلم للسّاعة “ انہا نزلت فی المہدی مقاتل ابن سلیمان اوران کے اتباع کرنے والے مفسرین نے لکھا ہے کہ آیت” البتہ وہ قیامت کی علامت ہے “حضرت امام مہدی کے بارے میں نازل ہوئی ہے ۔
( زخرف ؛ آیت ۶۱ ، لوائع انوار البہیة وسواطع الاسرار الاثریہ ، ج۲ص ۲۲۔سورہ زخرف آیت ۶۱۔)
 

9 Jan 2012 |

 
 

قرآن اور حسین

قرآن اور حسین
 
استادقرأتی
مترجم : مولانا سید حسنین باقری
اہلبیت فاونڈیشن
اگر قرآن سید الکلام ہے (١)تو امام حسین سید الشہداء ہیں(٢) ہم قرآن کے سلسلے میں پڑھتے ہیں، ''میزان القسط''(٣)تو امام حسین فرماتے ہیں،''امرت بالقسط''(٤)اگر قرآن پروردگار عالم کا موعظہ ہے،''موعظة من ربکم''(٥)تو امام حسین نے روز عاشورا فرمایا''لا تعجلوا حتیٰ اعظکم بالحق''(٦)(جلدی نہ کرو تاکہ تم کو حق کی نصیحت و موعظہ کروں)اگر قرآن لوگوں کو رشد کی طرف ہدایت کرتا ہے، ''یھدی الی الرشد''(٧)تو امام حسین نے بھی فرمایا،''ادعوکم الی سبیل الرشاد''(٨)(میں تم کو راہ راست کی طرف ہدایت کرتاہوں) اگر قرآن عظیم ہے، ''والقرآن العظیم''(٩) تو امام حسین بھی عظیم سابقہ رکھتے ہیں،''عظیم السوابق''(١٠)۔
اگر قرآن حق و یقین ہے،''وانہ لحق الیقین''(١١)تو امام حسین کی زیارت میں بھی ہم پڑھتے ہیں کہ :صدق و خلوص کے ساتھ آپ نے اتنی عبادت کی کہ یقین کے درجہ تک پہنچ گئے''حتیٰ اتاک الیقین''(١٢)اگر قرآن مقام شفاعت رکھتا ہے ،''نعم الشفیع القرآن''(١٣)تو امام حسین بھی مقام شفاعت رکھتے ہیں''وارزقنی شفاعة الحسین''(١٤)اگر صحیفہ سجادیہ کی بیالیسویں دعا میں ہم پڑھتے ہیں کہ قرآن نجات کا پرچم ہے ،''علم نجاة''تو امام حسین کی زیارت میں بھی ہم پڑھتے ہیں کہ آپ بھی ہدایت کا پرچم ہیں،''انہ راےة الھدیٰ''(١٥)اگر قرآن شفا بخش ہے،''وننزل من القرآن ما ھو شفائ''(١٦)تو امام حسین کی خاک بھی شفا ہے ،''طین قبر الحسین شفائ''(١٧)۔
اگر قرآن منار حکمت ہے (١٨) تو امام حسین بھی حکمت الٰہی کا دروازہ ہیں ،''السلام علیک یا باب حکمة رب العالمین''(١٩)اگر قرآن امر بالمعروف کرتا ہے ،''فالقرآن آمروا زاجراً''(٢٠)تو امام حسین نے بھی فرمایا،''میرا کربلا جانے کا مقصد امر بالمعروف ونھی عن المنکر ہے۔ارید ان آمر بالمعروف و انھیٰ عن المنکر''(٢١)اگر قرآن نور ہے،''نوراً مبیناً''تو امام حسین بھی نور ہیں ،''کنت نوراً فی اصلاب الشامخة''(٢٢)اگر قرآن ہر زمانے اور تمام افرادکے لئے ہے،''لم یجعل القرآن لزمان دون زمان ولا للناس دون ناس''(٢٣) تو اما م حسین کہ سلسلہ میں بھی پڑھتے ہیں کہ کربلا کے آثار کبھی مخفی نہیں ہوں گے،''لا یدرس آثارہ ولا یمحیٰ اسمہ''(٢٤)۔
اگر قرآن مبارک کتاب ہے،''کتاب انزلناہ الیک مبارک''(٢٥)تو امام حسین کی شہادت بھی اسلام کے لئے برکت و رشد کا سبب ہے،''اللہم فبارک لی فی قتلہ''(٢٦)اگر قرآن میں کسی طرح کا انحراف و کجی نہیں ہے،''غیر ذی عوج''(٢٧)تو امام حسین کے سلسلے میں بھی ہم پڑھتے ہیں کہ آپ ایک لمحہ کے لئے بھی باطل کی طرف مائل نہیں ہوئے،''لم تمل من حق الی الباطل''(٢٨)اگر قرآن ،کریم ہے ،''انہ لقرآن کریم''(٢٩)تو امام حسین بھی اخلاق کریم کے مالک ہیں،''وکریم الاخلاق''(٣٠)اگر قرآن ،عزیز ہے،''انہ لکتاب عزیز''(٣١)تو امام حسین نے بھی فرمایا:کبھی بھی ذلت کو برداشت نہیں کرسکتا،''ھیھات من الذلة''(٣٢)۔
اگر قرآن مضبوط رسی ہے،''ان ھٰذا القرآن والعروة الوثقیٰ''(٣٣)تو امام حسین بھی کشتی نجات اور مضبوط رسی ہیں،''ان الحسین سفینة النجاة والعروة الوثقیٰ''(٣٤)اگر قرآن بین اور روشن دلیل ہے ،''جائکم بینة من ربکم''(٣٥)تو امام حسین بھی اس طرح ہیں،''اشھد انک علیٰ بینة من ربکم''(٣٦)اگر قرآن آرام سے ٹھہر ٹھہر کر پڑھنا چاہئے ،''ورتل القرآن ترتیلا''(٣٧)تو امام حسین کی قبر کی زیارت کو بھی آہستہ قدموں سے انجام دینا چاہئے،''وامش یمشی العبید الذلیل''(٣٨)اگر قرآن کی تلاوت حزن کے ساتھ ہونا چاہیئے ،''فاقروا بالحزن''(٣٩)تو امام حسین کی زیارت کو بھی حزن کے ساتھ ہونا چاہیئے ،''وزرہ وانت کشیب شعث''(٤٠)۔
ہاں! کیوں نہ ہو حسین قرآن ناطق اور کلام الٰہی کا نمونہ ہیں۔

حوالہ جات:
(١)مجمع البیان،ج٢،ص٣٦١۔ (٢)کامل الزیارات۔
(٣)جامع الاحادیث الشیعہ،ج١٢،ص٤٨١۔ (٤)سورہ یونس/٥٧۔
(٥)لواعج الاشجان،ص٢٦۔ (٦) سورہ جن/٢۔
(٧)لواعج الاشجان،ص١٢٨۔ (٨)سورہ حجر/٨٧۔
(٩)بحار،ج٩٨،ص٢٣٩۔ (١٠)سورہ الحاقہ/٥١۔
(١١)کامل الزیارات،ص٢٠٢۔ (١٢)نھج الفصاحة،جملہ،ص٦٦٢۔
(١٣)زیارات عاشورا۔ (١٤)کامل الزیارات،ص٧٠۔
(١٥)سورہ اسرائ/٨٢۔ (١٦)من لا یحضر ہ الفقیہ،ج٢،ص٤٤٦۔
(١٧)الحیاة،ج٢،ص١٨٨۔ (١٨)مفاتیح الجنان۔
(١٩)نھج البلاغہ،ح١٨٢۔ (٢٠)مقتل خوارزمی،ج١،ص١٨٨۔
(٢١)سورہ نسائ/١٧٤۔ (٢٢)کامل الزیارات،ص٢٠٠۔
(٢٣)سفینة البحار،ج٢،ص١١٣۔ (٢٤)مقتل مقرم۔
(٢٥)سورہ ص/٢٩۔ (٢٦)مقتل خوارزمی یہ پیغمبر کا جملہ ہے۔
(٢٧)سورہ زمر/٢٨۔ (٢٨)فروع کافی،ج٤،ص٥٦١۔
(٢٩)سورہ واقعہ /٧٧۔ (٣٠)نفس المہموم،ص٧۔
(٣١)فصلت/٤١۔ (٣٢)لہوف،ص٥٤۔
(٣٣)بحار،ج٢،ص٣١۔ (٣٤)پرتوی از عظمت امام حسین ،ص٦۔
(٣٥)سورہ انعام/١٥٧۔ ( ٣٦)فروع کافی،ج٢،ص٥٦٥۔
(٣٧)سورہ مزمل/٤۔ (٣٨)کامل الزیارات۔
(٣٩)وسائل،ج٢،ص٨٥٧۔ (٤٠)کامل الزیارات۔
 


9 Jan 2012 |

 
 

کیوں عاشور کے بارے میں صرف گفتگو پر ہی اکتفا نہیں کیا جاتا؟

کیوں عاشور کے بارے میں صرف گفتگو پر ہی اکتفا نہیں کیا جاتا؟
 
آیت اللہ مصباح یزدی
س: کیوں عاشور کے بارے میں صرف گفتگو پر ہی اکتفا نہیں کیا جاتا؟
عاشور کی یاد کو زندہ رکھنا صرف اس بات پر منحصر نہیں ہے کہ انسان سر و سینہ پیٹے گریہ و زاری کرے سارے شہر کو سیاہ پوش کرے اسے عزادار بنا دے۔لوگ آدھی آدھی رات تک جاگ کر عزاداری کریں یہاں تک کہ بعض دنوں میں بھی اپنے تمام مشاغل اور روز مرہ کے امور کو ترک کردیں۔ جبکہ ممکن ہے بعض اوقات اس سے لوگوں کو اقتصادی نقصان کا سامنا کرنا پڑے۔ حالانکہ اس واقعہ اور اس کی یاد کو باقی رکھنے کے لیے کسی دوسرے طریقے کو بھی اپنایا جا سکتا ہے جس سے مذکورہ بالا نقصانات سے معاشرہ محفوظ ہو جائے یا پھر کمتر نقصان اٹھانا پڑے۔ اگر مذکورہ بالا سوال کو اس طرح پیش کریں تو یہ بہت سارے لوگوں کی روح اور ان کے مادی اور اقتصادی مسائل سے بہت زیادہ سازگار ہے۔ اور لوگ اس قسم کے مسائل کی طرف زیادہ توجہ دیتے ہیں اور اپنے مسائل کو مادی اور اقتصادی منافع اور ضرر کے حوالے سے پرکھتے ہیں۔ جب لوگ آدھی آدھی رات تک عزاداری کرتے ہیں تو اس کے دوسرے دن ان کے اندر کام یا دوسرے روز مرہ کے مشاغل انجام دینے کی سکت باقی نہیں رہتی لہذا دو مہینہ ماحول کے اندر سستی اور کاہلی چھائی رہتی ہے صرف اس لیے کہ عاشور اور اس کی یاد کو باقی رکھ سکیں حالانکہ اس واقعہ کی یاد اور اس کے احترام کو باقی رکھنے کے لیے دوسرے بہت سارے راستے موجود ہیں جیسے بحث و مباحثہ، علمی نشستیں، کانفرنسیں، علمی تقاریر، مقالات وغیرہ۔ پھر کیوں مہینہ بھر عزاداری اور گریہ و ماتم کو برپا کیا جائے؟ پھر کیوں اس روش کو اپنایا جائے؟ حتی اگر ایک جلسہ کافی نہ ہو تو متعدد جلسے سمینار وغیرہ کروائے جائیں۔
ج:اس سوال کا جواب ایک حد تک پہلے والے سوال کے جواب کی نسبت پیچیدہ اور مشکل ہے اس کا جواب یوں ہے کہ اگر یہ بات خود شخصیت امام حسین(ع) سے متعلق ہے تو یہ کانفرنسیں، سمینار ،علمی ،نشستیں ،تقاریر، مقالہ نویسی کے مسابقات وغیرہ جیسے دوسرے علمی اور ثقافتی امور اور تحقیقات بے حد مفید اور ضروری ہیں البتہ یہ سبھی چیزیں ہمارے سماج میں انجام دی جاتی ہیں لیکن سوال یہ ہے کہ کیا عاشوارہ جیسے عظیم حادثہ سے بہرہ مند ہونے کے لیے کیا یہ سب کافی ہے؟ یااس سے جتنا فائدہ اٹھانا چاہیے کیا اس کے یہ سب مقدمات کافی اور وافی ہیں؟ اس سوال کا جواب متوقف ہے اس بات پر کہ ہم وجود انسان پر ایک نفسیاتی نگاہ ڈالیں اور اس وجود انسان کا بے طرفہ جائزہ لیں کیا انسان کی رفتار اور کردار پر جو عوامل اثر انداز ہوتے ہیں کیا وہ یہی مشخص عوامل ہیں یا کچھ دوسرے عوامل بھی درکار ہیں جو انسان کی اجتماعی اور فردی زندگی پر اثر انداز ہوتے ہیں؟
جس وقت ہم اپنے کردار اور رفتار کا دقیق نگاہوں سے جائزہ لیتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ ہماری رفتار اور کردار پر کم از کم دو طرح کے عوامل ہیں جو بنیادی طور پر اثرانداز ہوتے ہیں ان میں سے ایک قسم کے عوامل تو مشخص ہیں کہ جو باعث بنتے ہیں کہ ہم کسی بات کو سمجھیں اور قبول کریں۔
اس کے بعد جب ہمارے لیے واضح ہو گیا کہ امام حسین (ع) کا کردار سعادت بشری میں ایک اہم رول ادا کرتا ہے تو انشاءاللہ ہم اس نکتہ کی طرف بھی متوجہ ہو جائیں گے کہ شناخت خود بخود ہمارے لیے محرک نہیں ہوتی بلکہ ہمارے احساسات اور جذبات کو بیدار کرنے کی ضرورت ہے جب تک ہمارے احساسات اور جذبات بیدار نہ ہوجائیں اس وقت تک اس قیام جیسا قیام کرنا مشکل ہے۔ اگر ہم چاہیں کہ امام حسین (ع) جیسا عمل انجام دیں تو اس کے لیے احساسات اور عواطف کی بیداری بہت ضروری ہے۔ اس طرح کے امور کے انجام دینے میں دونوں طرح کے عوامل کی ضرورت ہے لہذا علمی نشستیں تقاریر کانفرنسیں سمینار وغیرہ پہلی قسم کی ضرورت کو پورا کر سکتے ہیں یعنی یہ تمام کی تمام چیزیں ہمیں صرف لازم شناخت عنایت کریں گی۔
اب ہم دوسری قسم کے بارے میں عرض کریں:
ضروری ہے اس طرح کے مناظر وجود میں لائے جائیں جن سے عام شناخت کے علاوہ احساسی اور عاطفی عوامل بھی ہمارے اندر قوی ہو جائیں۔ جب یہ احساسات اور عواطف ہمارے اندر بر انگیختہ ہو جائیں گے اس وقت صحیح اثر دکھائیں گے۔ ان اثرات کے نمونہ اپنی اجتماعی اور انفرادی زندگی میں ملاحظہ کر سکتےہیں ان آخری تیس چالیس سالوں میں امام خمینی (رہ) کیطرف سے طاغوت اور ستمگر حکومت کے خلاف چلائی جانے والی تحریک نے لوگوں کو بیدار کرنے میں ایک خاص رنگ دکھایا ہے۔ آپ نے ملاحظہ کیا ہو گا کہ لوگوں کے دلوں میں ایام محرم اور سفر میں نام اور عزاداری سید الشھداء نے ایسا جوش و ولولہ پیدا کیا کہ لوگ تحرک میں آگئے۔ یہ جوش و خروش ایام عاشورا اور دوسرے مراسم عزاداری کے علاوہ لوگوں کے دلوں میں پیدا نہیں ہوتا۔

 


9 Jan 2012 |

 
 


25 Dec 2011 |

 
 

فکر و نظر


25 Dec 2011 |

 
 

فکر و نظر


25 Dec 2011 |

 
 


25 Dec 2011 |

 
 

سيرت


25 Dec 2011 |

 
 

قرآن کی روشنی میں منافقین کے ثقافتی صفات

قرآن کی روشنی میں منافقین کے ثقافتی صفات
 
خودی اور اپنائیت کا اظھار
منافقین کو اپنی تخریبی اقدامات جاری رکھنے کے لئے تاکہ صاحب ایمان حضرات کی اعتقادی اور ثقافتی اعتبار سے تخریب کاری کرسکیں، انھیں ھر چیز سے اشد ضرورت مسلمانوں کے اعتماد و اعتبار کی ھے تاکہ مسلمان منافقین کو اپنوں میں سے تصور کریں اور ان کی اپنائیت میں شک سے کام نہ لیں، اس لئے کہ منافقین کے انحرافی القائات معاشرے میں اثر گذار ھوں اور ان کے منحوس مقاصد کی تکمیل ھوسکے۔
ان کی تمام سعی و کوشش یہ ھے کہ خود معاشرے میں اپنائیت کی جلوہ نمائی کرائیں، اس لئے کہ وہ جانتے ھیں اگر ان کے باطن کا افشا، اور ان کے اسرار آشکار ھوگئے تو کوئی شخص بھی منافقین کی باتوں کو قبول نھیں کریگا اور ان کی سازشیں جلد ھی ناکام ھوجائیں گی، ان کے راز افشا ھونے کی بنا پر اسلام کے خلاف ھر قسم کی تبلیغی فعالیت، نیز سیاسی سر گرمی سے ھاتھ دھو بیٹھیں گے، لھذا منافقین کا بنیادی اور ثقافتی ھدف اپنے خیر خواہ ھونے کی جلوہ نمائی اور عمومی مسلمانوں کے اعتماد کو کسب کرنا ھے اور یہ بھت عظیم خطرہ ھے کہ افراد و اشخاص، بیگانے اور اجنبی شخص کو اپنوں میں شمار کرنے لگیں، اور معاشرہ میں خواص کی نگاہ سے دیکھا جانے لگے، ثقافتی حادثہ اس وقت وجود میں آتا ھے کہ جب مسلمین منافقین کی ثقافتی روش طرز سے آشنائی نہ رکھتے ھوں اور ان کو اپنا دوست بھی تصور کریں، امیر المومنین حضرت علی علیہ السلام مختلف افراد کے ظواھر پر اعتماد کرنے کے خطرات اور اشخاص کی اھمیت پر توجہ کرنے کی ضرورت کے متعلق فرماتے ھیں۔
((انما اتا کبا لحدیث اربعۃ رجال لیس لھم خامس رجل منافق مظھر للایمان متصنع بالاسلام لا یتأثم ولا یتحرج یکذب علی رسول اللہ متعمدا فلو علم الناس انہ منافق کاذب لم یقبلوا منہ ولم یصدقوا قولہ ولکنھم قالوا صاحب رسول اللہ رآہ وسمع منہ و لقف عنہ فیاخذون بقولہ) ([1])
یاد رکھو کہ حدیث کے بیان کرنے والے چار طرح کے افراد ھوتے ھیں جن کی پانچویں کوئی قسم نھیں ایک وہ منافق ھے جو ایمان کا اظھار کرتا ھے اسلام کی وضع و قطع اختیار کرتا ھے لیکن گناہ کرنے اور افترا میں پڑنے سے پرھیز نھیں کرتا ھے اور رسول اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے خلاف قصداً جھوٹی روایتیں تیار کرتا ھے کہ اگر لوگوں کو معلوم ھوجائے کہ یہ منافق اور جھوٹا ھے تو یقیناً اس کے بیان کی تصدیق نھیں کریں گے لیکن مشکل یہ ھے کہ وہ سمجھتے ھیں کہ یہ صحابی ھیں انھوں نے حضور کو دیکھا ھے ان کے ارشاد کو سنا ھے اور ان سے حاصل کیا ھے اور اسی طرح اس کے بیان کو قبول کرلیتے ھے۔

اظھار اپنائیت کے لئے منافقین کی راہ و روش
منافقین اظھار اپنائیت کے لئے مختلف روش و طریقے سے استفادہ کرتے ھیں، چونکہ یہ مبدا و معاد پر ایمان ھی نھیں رکھتے ھیں، لھذا راہ و روش کی مشروعیت یا عدم جواز ان کے لئے کوئی معنی نھیں رکھتا، اور ان کے نزدیک قابل بحث بھی نھیں ھے ان کی منطق میں ھدف کی تحصیل و تکمیل کے لئے، ھر وسائل سے استفادہ کیا جاسکتا ھے خواہ وسائل ضد انسانی ھی کیوں نہ ھوں یھاں منافقین کی اظھار اپنائیت کے سلسلہ میں فقط پانچ طریقوں کی جانب اشارہ کیا جارھا ھے۔

۱۔ کذب و ریاکاری کے ذریعہ اظھار کرنا:
جیسا کہ پھلے اشارہ کیا گیا ھے نفاق کا اصلی جو ھر کذب اور اظھار کا ذبانہ ھے منافقین اظھار اپنائیت کے لئے وسیع پیمانہ پر حربۂ کذب سے استفادہ کرتے ھیں کبھی اجتماعی اور گروھی شکل میں پیامبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آتے ھیں اور آپ کی رسالت کا اقرار کرتے ھیں، خداوند عالم با صراحت ان کو اس اقرار میں کاذب تعارف کراتا ھے اور پیامبر عظیم الشان سے فرماتا ھے، اگر چہ تم واقعاً فرستادہ الھی ھو لیکن وہ اس اقرار میں کاذب ھیں اور دل سے تمھاری رسالت پر ایمان نھیں رکھتے ھیں۔
(اذا جاءک المنافقون قالوا نشھد انک لرسول اللہ واللہ یعلم انک لرسولہ واللہ یشھد ان المنافقون لکاذبون) ([2])
پیامبر! یہ منافقین آپ کے پاس آتے ھیں تو کھتے ھیں کہ ھم گواھی دیتے ھیں کہ آپ اللہ کے رسول ھیں اور اللہ بھی جانتا ھے کہ آپ اس کے رسول ھیں لیکن اللہ گواھی دیتا ھے کہ یہ منافقین اپنے دعوے میں جھوٹے ھیں۔
جس وقت مومنین، منافقین کو ایجاد فساد و تباھی سے منع کرتے ھیں، خود کو تاکید کے ساتھ مصلح و آباد گر کھتے ھیں خداوند عالم ان کی گفتار کی تکذیب کرتے ھوئے ان کے مفسد ھونے کا اعلان کررھا ھے۔
(واذا قیل لھم لا تفسدوا فی الارض قالوا انما نحن مصلحون الا انھم ھم المفسدون ولکن لا یشعرون) ([3])
جب ان سے کھا جاتا ھے کہ زمین میں فساد نہ برپا کرو تو کھتے ھیں کہ ھم تو صرف اصلاح کرنے والے ھیں حالانکہ یہ سب مفسد ھیں اور اپنے فساد کو سمجھتے بھی نھیں ھیں۔
منافقین اپنی کذب بیانی سے، پہلے کھی گئی بات کو آسانی سے انکار بھی کردیتے ھیں، تاریخی شواھد کے مطابق کسی مودر میں جب یہ کوئی بات کرتے تھے اور اس کی خبر رسول اسلا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ھوجاتی تھی تو یہ سرے ھی سے اس کا انکار اور شدت سے اس خبر کی تکذیب کردیتے تھے۔
نقل کیا گیا ھے کہ"جلاس" نام کا منافق جنگ تبوک کے زمانہ میں پیامبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعض خطبے کو سننے کے بعد اس کا انکار کرتے ھوئے پیامبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تکذیب بھی کی، حضور کی مدینہ واپسی کے بعد عامر ابن قیاس نے پیامبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں جلاس کی حرکات کو بیان کیا، جب جلاس حضور کے خدمت میں پھونچا تو عامر بن قیس کی گزارش کو انکار کر بیٹھا، آپ نے دونوں کو حکم دیا کہ مسجد نبوی میں منبر کے نزدیک قسم کھائیں کہ جھوٹ نھیں بول رھے ھیں دونوں نے قسم کھائی، عامر نے قسم میں اضافہ کیا خدایا! اپنے پیامبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر آیت نازل کرکے جو صادق ھے اس کا تعارف کرادے، حضور اور مومنین نے آمین کھی، جبرئیل نازل ھوئے اور اس آیت کو پیامبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں پیش کیا۔
(یحلفون باللہ ما قالوا ولقد قالوا کلمۃ الکفر وکفروا بعد اسلامھم) ([4])
یہ اپنی باتوں پر اللہ کی قسم کھاتے ھیں کہ ایسا نھیں کھا حالانکہ انھوں نے کلمہ کفر کھا اور اپنے اسلام کے بعد کافر ھوگئے ھیں۔
یہ اور مذکورہ آیات سے استفادہ ھوتا ھے کہ کذب اور تکذیب، منافقین کا ایک طرۂ امتیاز ھے تاکہ مومنین کی صفوف میں نفوذ کرکے اپنائیت کا اظھار کرسکیں۔
منافقین پیامبر عظیم الشان(ص) کے دور میں تصور کرتے تھے کہ کذب و تکذیب کے ذریعہ آپ کو فریب دے سکتے ھیں تاکہ اپنے باطن کو مخفی کرسکیں خداوند عالم منافقین کی اس روش کو افشا کرتے ھوئے تاکید کررھا ھے کہ ایسا نھیں ھے کہ پیامبر گرامی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تمھارے احوال و اوضاع سے بے خبر ھیں یا خوش خیالی کی بنا پر تمھاری باتوں پر اطمینان کرلیتے ھیں۔
نقل کیا جاتا ھے کہ جماعت نفاق کے افراد آپس میں بیٹھے ھوئے پیامبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ناسزا الفاظ سے یاد کررھے تھے، ان میں سے ایک نے کھا: ایسا نہ کرو، ڈرتا ھوں کہ یہ بات (حضرت) محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے کانوں تک پہنچ جائے اور وہ ھم کو برا بھلا کھیں اور افراد کو ھمارے خلاف ورغلائیں، ان میں سے ایک نے کھا: کوئی اھم بات نھیں، جو ھمارا دل چاھے گا کھیں گے، اگر یہ بات ان کے کانوں تک پہنچ بھی جائے، تو ان کے پاس جاکر انکار کردیں گے چونکہ (حضرت) محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خوش خیال و منھ دیکھے ھیں، کوئی جو کچھ بھی کھتا ھے قبول کرلیتے ھیں اس موقع پر سورہ توبہ کی ذیل آیت نازل ھوئی اور ان کے اس غلط تصور و فکر کا سختی سے جواب دیا۔
(منھم الذین یوذون النبی ویقولون ھو اذن) ([5])
ان (منافقین)میں سے جو پیامبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اذیت دیتے ھیں اور کھتے ھیں وہ تو صرف کان (سادہ لوح و خوش باور) ھیں۔

۲۔ باطل قسمیں یاد کرنا:
دوسری وہ روش جس کو استعمال کرتے ھوئے منافقین مومنین کے حلقہ میں نفوذ کرتے ھیں، باطل قسمیں کھانا ھے، وہ ھمیشہ شدید قسموں کے ذریعہ سعی کرتے ھیں تاکہ اپنے باطن کو افشا ھونے سے بچا سکیں اور اسی کے سایہ میں تخریبی حرکتیں انجام دیتے ھیں۔
(اتخذوا ایمانھم جنۃً فصدوا عن سبیل اللہ) ([6])
انھوں نے اپنی قسموں کو سپر بنا لیا ھے اور لوگوں کو راہ خدا سے روک رھے ھیں۔ منافقین باطل اور جھوٹی قسموں کے ذریعہ کوشش کرتے ھیں کہ خود کو مومنین کا خیر خواہ ثابت کریں، اور صاحب ایمان کے حلقہ میں اپنا ایک مقام بنالیں۔
(ویحلفون باللہ انھم لمنکم وما ھم منکم و لکنھم قوم یفرقون) ([7])
اور یہ اللہ کی قسم کھاتے ھیں اس بات پر کہ یہ تمھیں میں سے ھیں حالانکہ یہ تم میں سے نھیں ھیں یہ بزدل لوگ ھیں۔
منافقین چونکہ واقعی ایمان کے حامل نھیں، رضائے الھی کا حصول ان کے لئے اھمیت نھیں رکھتا ھے اور معاشرے میں اپنی ساکھ اور اعتبار بھی بنائے رکھنا چاھتے ھیں اور معاشرہ کے افراد کی توجہ کی حصول کے لئے زیادہ اھتمام بھی کرتے ھیں لھذا مختلف میدان میں جھوٹی قسمیں کھاکر مومنین حضرات کی رضایت و خشنودی کو حاصل کرتے ھیں۔
خدا قرآن میں تصریح کررھا ھے کہ منافقین کا بنیادی مقصد مومنین کی رضایت کو حاصل کرنا ھے حالانکہ رضایت الھی کا حصول اھمیت کا حامل ھے جب تک خدا راضی نہ ھو بندگان خدا کی رضایت منافقین کے لئے سودمند ھو ھی نھیں سکتی ھے شاید مومنین کی رضایت سے سوء استفادہ کرتے ھوئے مزید کچھ دن تخریبی کاروائی انجام دے سکیں۔
(یحلفون باللہ لکم لیرضوکم واللہ ورسولہ احق ان یرضوہ ان کانوا مومنین)[8]
یہ لوگ تم لوگوں کو راضی کرنے کے لئے خدا کی قسم کھاتے ھیں حالانکہ خدا و رسول اس بات کے زیادہ حق دار تھے اگر یہ صاحبان ایمان تھے تو واقعاً انھیں اپنے اعمال و کردار سے راضی کرتے۔
(یحلفون لکم لترضوا عنھم فان ترضوا عنھم فان اللہ لا یرضی عن القوم الفاسقین) [9]
یہ تمھارے سامنے قسم کھاتے ھیں کہ تم ان سے راضی ھوجاؤ اگر تم راضی بھی ھوجاؤ تو بھی خدا فاسق قوم سے راضی ھونے والا نھیں۔

۳۔ غلط اقدامات کی توجیہ کرنا:
منافقین صاحبان ایمان کی تحصیل رضایت اور حسن نیت کی اثبات کے لئے اپنے غلط اقدامات و حرکات کی توجیہ کرتے ھیں کہ اپنائیت کا اظھار کرتے ھوئے فائدہ حاصل کرسکیں منافقین کی نفسیاتی خصوصیت میں یہ نکتہ مورد بحث قرار دیا گیا ھے اور تصریح کیا گیا ھے کہ منافقین تاویل و توجیہ کے ھتکنڈے کو تمام ھی موارد میں استعمال کرتے ھیں۔
منافقین عمومی افکار اور اعتماد کو ھاتھ سے جانے دینا نھیں چاھتے لھذا اظھار اپنائیت کرتے ھوئے اپنے غلط اقدامات و حرکات کی توجیہ کرتے ھیں اور اپنے باطل مقاصد کو حق کے لباس اور قالب میں پیش کرتے ھیں۔
امیر المومنین حضرت علی علیہ السلام اھل نفاق کی توصیف کرتے ھوئے فرماتے ھیں:
((یقولون فیشبھون ویصفون فیموھون))[10]
جب بات کرتے ھیں تو مشتبہ انداز میں اور جب تعریف کرتے ھیں تو باطل کو حق کا رنگ دے کر، کرتے ھیں۔
قرآن مجید نے منافقین کے مختلف عذر اور غلط اقدامات کا ذکر کیا ھے اور ان کی تکذیب بھی کی ھے، بطور مثال جنگ تبوک میں اپنے عدم حضور کی توجیہ، ناتوانی و عدم قدرت کی شکل میں پیش کرنا چاھتے تھے کہ خداوند عالم ان سے قبل ان کی اس توجیہ کی تکذیب کرتے ھوئے فرماتا ھے:
(لو کان عرضاً قریباً و سفرا قاصدا لا تبعونک ولکن بعدت علیھم الشقّہ وسیحلفون باللہ لو استطعنا لخرجنا معکم یھلکون انفسھم واللہ یعلم انھم لکاذبون)[11]
پیامبر! اگر کوئی فوری فائدہ یا آسان سفر ھوتا تو تمھارا اتباع کرتے لیکن ان کے لئے دور کا سفر مشکل بن گیا ھے اور عنقریب یہ خدا کی قسمیں کھائیں گے اس بات پر کہ اگر ممکن ھوتا تو ھم ضرور آپ کے ساتھ چل پڑتے، یہ اپنے نفس کو ھلاک کررھے ھیں اور خدا خوب جانتا ھے کہ یہ جھوٹے ھیں۔
منافقین کے غلط اقدام کی توجیہ کا ایک اور موقع یہ ھے کہ، تقریباً منافقین میں سے ایک سو اسّی افراد نے غزوہ تبوک میں شرکت نھیں کی، جب رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور مسلمان وھاں سے واپس آئے تو منافقین مختلف توجیہ کرنے لگے۔
ذیل کی آیت منافقین کی اس غلط حرکات کی سرزنش کے لئے نازل ھوئی ھے خداوند عالم بطور واضح بیان کررھا ھے کہ ان کے جھوٹے عذر خدا کے لئے پوشیدہ نھیں ھیں ان کے حالات سے مومنین کو باخبر کرکے منافقین کے اسرار سے پردہ اٹھا رھا ھے۔
(یعتذرون الیکم اذا رجعتم الیھم قل لا تعتذروا لن نؤمن لکم قد نبّأنا اللہ من اخبارکم و سیری اللہ عملکم ورسولہ ثم تردون الی عالم الغیب و الشھادۃ فینبئکم بما کنتم تعملون)[12]
یہ تخلف کرنے والے منافقین تم لوگوں کی واپسی پر طرح طرح کے عذر بیان کریں گے تو آپ کہہ دیجئے کہ تم لوگ عذر نہ بیان کرو ھم تصدیق کرنے والے نھیں ھیں اللہ نے ھمیں تمھارے حالات بتادیئے ھیں وہ یقیناً تمھارے اعمال کو دیکھ رھا ھے اور رسول بھی دیکھ رھا ھے اس کے بعد تم حاضر و غائب کے عالم (خدا) کی بارگاہ میں واپس کئے جاؤ گے اور وہ تمھیں تمھارے حال سے باخبر کرے گا۔

۴۔ ظاھر سازی کرنا:
ظواھر دینی کی شدید رعایت، خوش نما و اشخاص پسند گفتگو، اصلاح طلب نظریات و افکار کا اظھار، منافقین کے حربہ ھیں تاکہ طرف کے مقابل کو اپنا ھمنوا بناکر خودی ھونے کا القاء کرسکیں۔
امیر المومنین حضرت امام علی علیہ السلام کے ھم عصر بعض منافقین ظاھر میں عبّاد و زہاّد دھر تھے نماز شب، قرآن کی تلاوت، ان سے طولانی ترین سجدے ترک نھیں ھوتے تھے، ان کی ظاھر سازی سے اکثر مومنین فریب کے شکار ھوجاتے تھے، بھت کم ھی تھے جو ان کے دین و ایمان میں شک رکھتے ھوں۔
منافقین کی ظاھر سازی کچھ اس نوعیت کی تھی کہ بقول قرآن، خود پیامبر عظیم الشان(ص) کے لئے بھی باعث حیرت و تعجب خیز تھی۔
(واذا رأیتھم تعجبک اجسامھم ان یقولوا تسمع لقولھم)[13]
اور جب آپ انھیں دیکھیں گے تو ان کے جسم بھت اچھے لگیں گے اور بات کریں گے تو اس طرح کہ آپ سننے لگیں گے۔
منافقین کی ظواھر سازی، رفتار و کردار سے اختصاص نھیں رکھتی بلکہ ان کی گفتار بھی فریب و جاذبیت سے لبریز ھے۔
(ومن الناس من یعجبک قولہ فی الحیوة الدنیا و یشھد اللہ علی ما فی قلبہ وھو الدّ الخصام)[14]
انسانوں میں ایسے لوگ بھی ھیں جن کی باتیں زندگانی دنیا میں بھلی لگتی ھیں اور وہ اپنے دل کی باتوں پر خدا کو گواہ بتاتے ھیں حالانکہ وہ بدترین دشمن ھیں۔

۵۔ جھوٹے عھد و پیمان کرنا:
خودی ظاھر کرنے کے لئے منافقین کا ایک اور وطیرہ وعدہ اور اس کی خلاف ورزی ھے بسا اوقات منافقین سے عادتاً ایسی خطائیں سرزد ھوتی تھیں کہ جس کی کوئی توجیہ و تاویل ممکن نھیں تھی یا مومنین کے لئے قابل قبول نھیں ھوتی تھی ایسے مقام پر وہ توبہ کو وسیلہ بناتے تھے اور عھد کرتے تھے اب ایسی خطائیں نھیں کریں گے اور صحیح راستہ پر مستحکم و ثابت قدم رھیں گے لیکن چونکہ دین اور دین کے اعتبارات کے لئے منافقین کے قلب میں کوئی جگہ تھی ھی نھیں جو اپنے عھد و پیمان پر باقی رھتے، تخلف وعدہ ایسے ھی تھا جیسے ان کے لئے کذب وغیرہ…… جنگ احزاب میں منافقین کی وعدہ خلافی کی بنا پر ذیل کی آیت کا نزول ھوا:
(ولقد کانوا عاھدوا اللہ من قبل لا یولون الأدبار وکان عھد اللہ مسئولا)[15]
اور ان لوگوں نے اللہ سے یقینی عھد کیا تھا کہ ھرگز پشت نھیں دکھائیں گے، اور اللہ کے عھد کے بارے میں بھر حال سوال کیا جائے گا۔
خداوند عالم "ثعلبہ بن حاطب" کی عھد گزاری نیز پیمان شکنی کے واقعہ کو یاد دھانی کے طور پر پیش کررھا ھے، ثعلبہ بن حاطب ایک فقیر مسلمان تھا اس نے پیامبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے دعا کرنے کی خواھش کی تاکہ وہ صاحب ثروت ھوجائے حضرت نے فرمایا: وہ تھوڑا مال جس کا تم شکر ادا کرسکتے ھو اس زیادہ اموال سے بھتر ھے جس کی شکر گزاری نھیں کرسکتے ھو، ثعلبہ نے کھا: اگر خدا عطا کرے تو اس کے تمام واجب حقوق کو ادا کرتا رھوں گا۔
پیامبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی دعا سے اموال میں اضافہ ھونے لگا، یھاں تک کہ اس کے لئے مدینہ میں قیام، نماز جماعت نیز جمعہ میں شرکت کرنا مشکل ھوگیا اطراف مدینہ میں منتقل ھوگیا، جب زکوٰۃ لینے والے گئے تو یہ کہہ کر واپس کردیا کہ مسلمان اس لئے ھوئے ھیں تاکہ جزیہ و خراج نہ دینا پڑے، اگر چہ بعد میں ثعلبہ پشیمان تو ھوا لیکن رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کی تنبیہ اور دوسروں کی عبرت کے لئے زکوٰۃ لینے سے انکار کردیا، ذیل کی آیت اسی واقعہ کو بیان کررھی ھے۔
(ومنھم من عاھد اللہ لئن آتانا من فضلہ لنصدقن و لنکونن من الصالحین فلما آتیھم من فضلہ بخلوا بہ وتولوا وھم معرضون فاعقبھم نفاقاً فی قلوبھم الی یوم یلقونہ)[16]
ان میں سے وہ بھی ھیں جنھوں نے خدا سے عھد کیا اگر وہ اپنے فضل و کرم سے عطا کرے گا، تو اس کی راہ میں صدقہ دیں گے اور نیک بندوں میں شامل ھوجائیں گے، اس کے بعد جب خدا نے اپنے فضل سے عطا کردیا تو بخل سے کام لیا، اور کنارہ کش ھوکر پلٹ گئے تو ان کے بکل نے ان کے دلوں میں نفاق راسخ کردیا، اس دن تک کے لئے جب یہ خدا سے ملاقات کریں گے اس لئے کہ انھوں نے خدا سے کئے ھوئے وعدہ کی مخالفت کی ھے اور جھوٹ بولتے ھیں۔
پیمان گزاری و پیمان شکنی، وعدہ اور وعدہ کی خلاف ورزی، آئندہ صالح ھونے کا پیمان اور اس سے روگردانی وغیرہ……، یہ وہ طریقے ھیں جس سے منافقین استفادہ کرتے ھوئے مومنین کے حلقہ و دینی معاشرے میں خود کو مخفی؛ کئے رھتے ھیں اور عوام فریبی کے لئے زمین ھموار کرتے ھیں۔

منافقین کی ثقافتی خصائص

دینی یقینیات و مسلّمات کی تضعیف
منافقین کی ثقافتی رفتار و کردار کی دوسری خصوصیت دینی و مذھبی یقینیات و مسلّمات کی تضعیف ھے یقیناً جب تک انسان کا عقیدہ تحریف، تزلزل، ضعف سے دوچار نہ ھوا ھو۔ کوئی بھی طاقت اس کے عقیدہ کے خلاف زور آزمائی نھیں کرسکتی قدرت کا اقتدار، حکومت کی حاکمیت اجسام و ابدان پر تو ھوسکتی ھے دل میں نفوذ و قلوب پر مسلط نھیں ھوسکتی سر انجام انسان کی رسائی اس شی تک ھو ھی جا تی ھے جسے دل اور قلب پسند کرتا ھے اسلام کا اھم ترین اثر مسلمانوں پر، بلکہ تمام ھی ادیان کا اپنے پیروکاروں پر یہ رھا ھے کہ فرضی و خرافاتی رسم و رواج کو ختم کرتے ھوئے منطقی و محکم اعتقاد کی بنیاد ڈالیں، پہلے تو اسلام نے انسانوں کے اندرونی تحول و انقلاب کے لئے کام کیا ھے پھر اسلامی حکومت کے استقرار کی کوشش کی ھے تاکہ ایسا سماج و معاشرہ وجود میں آئے جو اسلام کے نظریہ کے مطابق اور مورد تایید ھو۔
پیامبر عظیم الشان(ص) پہلے مکہ میں تیرہ سال تک انسان سازی اور ان کے اخلاقی، فکری، اعتقادی ستون کو محکم مضبوط کرنے میں مصروف رھے اس کے بعد مدینہ میں اسلام کی سیاسی نظریات کی تابع ایک حکومت تشکیل دی منافقین جانتے تھے کہ جب تک مسلمان پیامبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی انسان ساز تعلیمات پر گامزن اور خالص اسلامی عقیدہ پر استوار و ثابت قدم رھیں گے، ان پر نہ تو حکومت کی جاسکتی ھے اور نہ ھی وہ تسلیم ھوسکتے ھیں، لھذا ان کی طرف سے ھمیشہ یہ کوشش رھی ھے کہ مومنین عقائد، دینی و مذھبی تعلمیات کے حوالہ سے ھمیشہ شک و شبہ میں مبتلا رھیں جیسا کہ آج بھی اغیار کے ثقافتی یلغار و حملہ کا اھم ترین ھدف یھی ھے۔
منافقین کے اھداف یہ ھیں کہ اھل اسلام سے روح اسلام اور ایمان کو سلب کرلیں، منافقین کی تمام تر سعی، دین کے راسخ عقائد اس کے اھداف و نتائج، مذھب کی حقانیت و مسلمات سے مسلمانوں کو دور کردینا ھے تاکہ شاید اس کے ذریعہ اسلامی حکومت کی عنان اپنے ھاتھ میں لے سکیں اور مسلمانوں پر تسلط و قبضہ کرسکیں لھذا منافقین کا اپنے باطل مقاصد کے تکمیل کے لئے بھترین طریقۂ کار یہ ھوتا ھے کہ لوگوں کے دلوں میں طرح طرح کے شکوک پیدا کریں، اور انواع و اقسام کے شبھات کے ذریعہ مسلمانوں کو دینی مسلّمات کے سلسلہ میں وادی تردید میں ڈال دینے کی کوشش کرتے ھیں، تاریخی شواھد اور وہ آیات جو منافقین کی اس روش کو اجاگر کرتی ھیں، بیان کرنے سے قبل، ایک مختصر وضاحت سوال اور ایجاد شبہ کے سلسلہ میں عرض کرنا لازم ھے، اس میں کوئی شک نھیں کہ سوال اور جستجو کی فکر ایک مستحسن اور مثبت پہلو ھے، تمام علوم و معارف انھیں سوالات کے رھین منت ھیں جو بشر کے لئے پیش آئے ھیں اور جس کے نتیجہ میں اس نے جوابات فراھم کئے ھیں، اگر انسان کے اندر جستجو و تلاش کا جذبہ نہ ھوتا جو اس کی فطرت کا تقاضا ھے نیز ان سوالات کا حل تلاش کرنے کی فکر دامن گیر نہ ھوتی تو یقیناً موجودہ علوم و دانش کی یہ ترقی کسی صورت سے حاصل نہ ھوتی۔
ان سوالات کے حل کے لئے جو انسان کے لئے پیش آتے ھیں دین اسلام میں فراوان تاکید کی گئی ھے، یہ کھا جاسکتا ھے جس قدر علم و تحصیل کی تشویق و ترغیب کی گئی ھے اسی طرح سوالات اور اس کے حل پر بھی زور دیا گیا ھے، قرآن مجید صریح حکم دے رھا ھے اگر کسی چیز کو نھیں جانتے ھو تو اس علم کے علماء اور دانشمندوں سے سوال کرو۔
(فاسئلوا اھل الذکر ان کنتم لا تعلمون)[17]
اگر نھیں جانتے ھو تو اھل ذکر (علماء) سے سوال کرو۔
دوسرا وہ مطلب جو اسلام میں جواب و سوال کی اھمیت کو ظاھر کرتا ھے وہ جوابات ھیں جو خداوند عالم نے قرآن میں بیان کئے ھیں یہ سوالات پیامبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کئے جاتے تھے خدا نے قرآن میں "یسئلونک" سے بات آغاز کرتے ھوئے ان کے جوابات دئے ھیں[18]
پیامبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے جب روح، ھلال، انفال شراب و قمار کے بارے میں سوال کیا گیا تو آپ سوال اور فکر سوال کی تشویق و تمجید کرتے ھوئے فرماتے ھیں:
((العلم خزائن و مفاتیحھا السوال فاسئلوا یرحمکم اللہ فانہ یوجر فیہ اربعۃ السائل والعالم و المستمع والمحب لھم))[19]
علم خزانہ ھے اور اس کی کنجیاں سوال کرنا ھے، سوال کرو، (جس چیز کو نھیں جانتے ھو) خداوند متعال تم کو اپنی خاص رحمت سے نوازے گا ھر سوال میں چار فرد کو فائدہ نفع حاصل ھوتا ھے سوال کرنے والے، جواب دینے والے، سننے والے اور اس فرد کو جو ان کو دوست رکھتا ھے۔
ائمہ حضرات کے بھت سارے دلائل، بحث و مباحثات نیز مختلف افراد کے سوالات کا جواب دینا، حتی دشمنوں اور کافرین کے مسائل کا حل پیش کرنا اس بات کی دلیل ھے کہ سوال ایک امر پسندیدہ و مطلوب شی ھے، ائمہ حضرات کی سیرت میں اس امر کا اھتمام کافی حد تک مشھور ھے[20]
ظاھر ھے کہ وہ سوالات جو درک و فھم اور استفادہ کے لئے کیا جائے، وہ مفید ھے اور فھم و کمال کو بلندی عطا کرتا ھے، لیکن وہ سوالات جو دوسروں کی اذیت، آزمایش یا ایسے علم کے حصول کے لئے ھو جو انسان کے لئے فائدہ مند نھیں ھے، صرف یھی نھیں کہ ایسے سوالات بے قدر و قیمت ھیں بلکہ ممنوع قرار دئے گئے ھیں۔
امیر المومنین حضرت امام علی علیہ السلام نے ایک پیچیدہ اور بی فائدہ سوال کے جواب میں فرمایا:
((سل تفقھا ولا تسأل تعنتا))[21]
سمجھنے کے لئے دریافت کرو الجھنے کے لئے نھیں۔
قرآن مجید میں بھی پیامبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کئے گئے بعض سوالوں کے جواب کے لحن و طرز سے اندازہ ھوتا ھے کہ ایسے سوالات نھیں کرنا چاھئے جن کے جوابات ثمر بخش نھیں ھیں۔
بعض مسلمانوں نے ھلال (ماہ) کے سلسلہ میں سوالات کئے کہ ماہ کیا ھے، وہ کیوں تدریجاً کامل ھوتا ھے، پھر کیوں پہلی حالت پر پلٹ آتا ھے[22]
اللہ اس سوال کے جواب میں پیامبر عظیم الشان کو حکم دیتا ھے کہ ھلال کے تغییرات کے آثار و فوائد کو بیان کریں، ھلال کے متعلق اس جواب کا مفھوم یہ ھے کہ وہ چیز جو سوال کرنے و جاننے کے قابل ھے وہ ھلال کی تغییرات کی بنا پر اس کے آثار و فوائد ھیں نہ یہ کہ، کیوں ماہ تغییر کرتا ھے اور اس کی علت کیا ھے (علت شناسی زیادہ اھمیت کی حامل نھیں)۔
سوال اور شبہ کا اساسی و بنیادی فرق یہ ھے کہ شبہ القا کرنے والے کا ھدف، جواب کا حاصل کرنا نھیں ھے بلکہ شبہ کا موجد اپنے باطل مطلب کو حق کے لباس میں ان افراد کے سامنے پیش کرتا ھے، جو حق و باطل میں تشخیص دینے کی صلاحیت نھیں رکھتے ھیں امیر المونین حضرت علی علیہ السلام شبہ کی اسم گزاری کے سلسلہ میں فرماتے ھیں:
((وانما سمیت الشبھۃ شبھۃ لانھا تشبہ الحق))[23]
شبہ کو اس لئے شبہ کا نام دیا گیا کہ حق سے شباھت رکھتا ھے۔
اگر شبہ ایجاد کرنے والے کو علم ھوجائے کہ کسی مقام پر ھمارا مغالطہ کشف ھوجائے گا اور اس کا باطن ھونا آشکار ھوجائے گا تو ایسی صورت میں وہ اس مقام یا فرد کے پاس اصلاً شبہ کو طرح و پیش ھی نھیں کرتا بلکہ وہاں پیش کرنے سے گریز کرتے ھیں سعی و کوشش یہ ھوتی ھے کہ شبہ کے احتمالی جواب کو بھی مخدوش کرکے پیش کرے۔
ایسے افراد کے اھداف بعض اشخاص کو اپنے میں جذب اور ان کے مبانی و اصول میں تزلزل پیدا کرنا ھوتا ھے، تاکہ حق کو دور و جدا کرسکیں، شبہ کرنے والے حضرات اپنے باطل کو حق میں اس طرح آمیزش کردیتے ھیں کہ وہ افراد جو تفریق و تمیز کی صلاحیت نھیں رکھتے ھیں وہ فریب کا شکار ھوجائیں۔
شبھات ھمیشہ حق کے لباس میں پیش کئے جاتے ھیں اور آسانی سے سادہ لوح افراد مجذوب ھوجاتے ھیں، شبہ خالص باطل نھیں ھے اس لئے کہ باطل محض اور خالص آسانی سے ظاھر ھوجاتا ھے۔
حضرت امیر المومنین علی علیہ السلام فتنہ کا سر چشمہ حق و باطل کی آمیزش کو بیان کرتے ھیں، آپ مزید فرماتے ھیں کہ اگر حق و باطل ایک دوسرے سے جدا کردئے جائیں تو راستہ کی تشخیص بھت ھی آسان اور سھل ھوجاتی ھے۔
((انما بدء وقوع الفتن اھواء تتبع و احکام تبتدع یحلاف فیھا کتاب اللہ ویتولی علیھا رجال رجالا علی غیر دین اللہ فلو ان الباطل خلص من مزاج الحق لم یخف علی المرتادین ولو ان الحق خلص من لبس الباطل انقطعت عنہ السن المعاندین ولکن یوخذ من ھذا ضغث و من ھذا ضغث فیمز جان))[24]
فتنہ کی ابتدا ان خواھشات سے ھوتی ھے جن کا اتباع کیا جاتا ھے اور ان جدید ترین احکام سے ھوتی ھے جو گڑھ لئے جاتے ھیں اور سراسر کتاب خدا کے خلاف ھوتے ھیں اس میں کچھ لوگ دوسرے لوگوں کے ساتھ ھوجاتے ھیں اور دین خدا سے الگ ھوجاتے ھیں کہ اگر باطل حق کی آمیزش سے الگ رھتا تو حق کے طلبگاروں پر مخفی نھیں رہ سکتا تھا اور اگر حق باطل کی ملاوٹ سے الگ رھتا تو دشمنوں کی زبانیں کھل نھیں سکتی تھیں، لیکن ایک حصہ اس میں سے لیا جاتا ھے اور ایک اس میں سے، اور پھر دونوں کو ملا دیا جاتا ھے۔
تحقیقی اور تخصصی مسائل کو علمی ظاھر کرتے ھوئے، غیر علمی حلقے و ماحول میں پیش کرنا ایجاد کرنے کا روشن ترین مصداق ھے۔

شبہ کا القا
دینی و اعتقادی مسلّمات کو ضعیف و کمزور کرنے کے لئے منافقین کی اھم ترین روش، القا شبہ ھے جس کے ذریعہ دین و ایمان کی روح و فکر کو خدشہ دار کردیتے ھیں۔
منافقین سخت اور حساس مواقع پر خصوصاً جنگ و معرکہ کے ایام میں شبہ اندازی کرکے مومنین کی مشکلات میں اضافہ اور مجاھدین کی فکر و حوصلہ کو تباہ اور برباد کر دیتے ھیں تاکہ میدان جنگ و نبرد کے حساس مواقع پر شرکت کرنے سے روک سکیں۔
اس مقام پر منافقین کی طرف سے پیش کئے گئے دو شبہ قرآن مجید کے حوالہ سے پیش کئے جارھے ھیں۔

۱۔ دین کے لئے فریب کی نسبت دینا
منافقین جنگ بدر کے موقع پر خداوند عالم کی نصرت و مدد اور مسلمین کی کامیابی و فتح یابی کے وعدے کی تکذیب کرتے ھوئے، ان کے وعدے کو فریب و خوش خیالی قرار دے رھے تھے، قصد یہ تھا کہ ایجاد اضطراب کے ذریعہ وعدہ الھی کے سلسلہ میں مسلمانوں کے اعتقاد و ایمان میں ضعف و تزلزل پیدا کردیں، تاکہ وہ میدان جنگ میں حاضر نہ ھوسکیں۔
خداوند عالم اس مسئلہ کی یاد دھانی کرتے ھوئے مسلمانوں کے لئے تصریح کرتا ھے کہ خدا کا وعدہ یقینی ھے اگر توکل و اعتماد رکھو گے تو کامیاب و کامران ھوجاؤ گے۔
(واذ یقول المنافقون والذین فی قلوبھم مرض غرّ ھولاء دینھم ومن یتوکل علی اللہ فان اللہ عزیز حکیم)[25]
جب منافقین اور جن کے دل میں کھوٹ تھا کہہ رھے تھے کہ ان لوگوں (مسلمان) کو ان کے دین نے دھوکہ دیا ھے حالانکہ جو شخص اللہ پر اعتماد کرتا ھے تو خدا ھر شی پر غالب آنے والا اور بڑی حکمت والا ھے۔
منافقین نے اسی سازش کو جنگ احزاب (خندق) میں بھی استعمال کیا۔
(واذ یقول المنافقون والذین فی قلوبھم مرض ما وعدنا اللہ ورسولہ الا غرورا)[26]
اور جب منافقین اور جن کے دلوں میں مرض تھا یہ کہہ رھے تھے کہ خدا و رسول نے ھم سے صرف دھوکہ دینے والا وعدہ کیا ھے۔
آیت فوق کی شان نزول یہ ھے کہ مسلمان خندق کھودتے وقت ایک بڑے پتھر سے ٹکرائے، سعی فراوان کے بعد بھی پتھر کو نہ توڑ سکے، رسول اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے مدد کے لئے درخواست کی، آپ نے الھی طاقت کا مظاھرہ کرتے ھوئے تین وار اور ضرب سے پتھر کو توڑ ڈالا، اور آپ نے فرمایا: یھاں سے حیرہ، مدائن، کسریٰ و روم کے قصر و محل میرے لئے واضح و آشکار ھیں، فرشتۂ وحی نے مجھے خبر دی ھے کہ میری امت ان پر کامیاب اور فتحیاب ھوگی نیز ان کے تمام قصر و محل زیر تصرف ھوں گے پھر آپ نے فرمایا: خوش خبری اور مبارک ھو تم مسلمانوں پر اور اس خدا کا شکر ھے کہ اس محاصرہ و مشکلات کے بعد فتح و ظفر ھے۔
اس موقع پر ایک منافق نے بعض مسلمانوں کو مخاطب کرتے ھوئے کھا: تم محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بات پر تعجب نھیں کرتے ھو، کس طریقہ سے تم کو بے بنیاد وعدوں کے ذریعہ خوش کرتے ھیں اور کھتے ھیں کہ یھاں سے روم و حیرہ و مدائن کے قصر کو دیکھ رھا ھوں اور جلد ھی فتح نصیب ھوگی، یہ اس حال میں تم کو وعدہ دے رھے ھیں کہ تم دشمن سے مقابلہ کرنے میں خوف و ھراس کے شکار ھو [27]

۲۔ حق پر نہ ھونے کا شبہ ایجاد کرنا
دوسرا وہ القاء شبہ جسے ھمیشہ منافقین خصوصاً میدان جنگ اور معرکہ میں ایجاد کرتے تھے حق پر نہ ھونے کا شبہ تھا، جب جنگوں میں مسلمان خسارہ اور نقصان میں ھوتے تھے یا بعض مجاھدین درجہ شھادت پر فائز ھوتے تھے، یا اھل اسلام شکست سے دوچار ھوتے تھے تو منافقین اس کا بھانہ لے کر طرح طرح کے شبہ ایجاد کرتے تھے کہ اگر حق پر ھوتے تو شکست نھیں ھوتی، یا قتل نھیں کئے جاتے، اور اس طرح سے مسلمانوں کو شک اور تزلزل میں ڈال دیتے تھے۔
قرآن مجید سے استفادہ ھوتا ھے کہ منافقین نے جنگ احد اور اس کے بعد سے اس انحرافی فکر کو القا کرنے میں اپنی سعی تیز تر کردی تھی۔
(ویقولون لو کان لنا من الأمر شیء ما قتلنا ھھنا)[28]
اور کھتے ھیں کہ اگر اختیار ھمارے ھاتھ میں ھوتا ھم یھاں نہ مارے جاتے۔
منافقین میدان جنگ میں شکست کو نبوت پیامبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور ان کے آئین کی نا درست و ناسالم ھونے کی علامت سمجھتے تھے اور یہ شبہ ایجاد کرتے تھے اگر یہ (شھدا) میدان جنگ میں نہ جاتے تو شھید نہ ھوتے۔
(الذین قالوا لأخوانھم و قعدوا لو اطاعونا ما قتلوا)[29]
یھی (منافقین) وہ ھیں جنھوں نے اپنے مقتول بھائیوں کے بارے میں یہ کھنا شروع کردیا کہ وہ ھماری اطاعت کرتے تو ھرگز قتل نہ ھوتے۔
خداوند عالم ان کے اس شبہ (جنگ میں شرکت قتل کئے جانے کا سبب ھے) کا جواب بیان کررھا ھے، موت ایک الھی تقدیر و سر نوشت ھے موت سے فرار میسر نھیں، اور معرکہ احد میں قتل کیا جانا نبوت و پیامبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے نا سالم ھونے اور ان کے نادرست اقدام کی علامت نھیں، جن افراد نے اس جنگ میں شرکت نھیں کی ھے موت سے گریز و فرار نھیں کرسکتے ھیں یا اس کو موخر کرنے کی قدرت و توانائی نہیں رکھتے ھیں۔
(قل لو کانوا فی بیوتکم لبرز الذین کتب علیھم القتل الی مضاجعھم)[30]
تو آپ کہہ دیجئے کہ اگر تم گھروں میں بھی رہ جاتے تو جن کے لئے شھادت لکھ دی گئی ھے وہ اپنے مقتل تک بہر حال جاتے۔
قرآن موت و حیات کو خدا کے اختیار میں بتاتا ھے معرکہ و جنگ کے میدان میں جانا موت کے آنے یا تاخیر سے آنے میں مؤثر نھیں ھے۔
(واللہ یحیی و یمیت واللہ بما تعملون بصیر)[31]
موت و حیات خدا کے ھاتھ میں ھے اور وہ تمھارے اعمال سے خوب باخبر ھے اس مطلب کی تاکید کی کہ موت و حیات انسان کے اختیار میں نھیں ھے منافقین کے لئے اعلان کیا جارھا ھے کہ اگر تمھارا عقیدہ یہ ھے کہ موت و حیات تمھارے اختیار میں ھے تو جب فرشتۂ مرگ نازل ھو تو اس کو اپنے سے دور کردینا اور اس سے نجات حاصل کرلینا۔
(قل فادرئوا عن انفسکم الموت ان کنتم صادقین)[32]
پیامبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان سے کہہ دیجئے کہ اگر اپنے دعوے میں سچے ھو تو اب اپنی ھی موت کو ٹال دو۔
مسلمانوں کو اپنے مذھب و عقیدہ میں شک سے دوچار کرنے کے لئے منافقین ھمیشہ یہ نعرہ بلند کیا کرتے تھے، اگر ھم حق پر تھے تو کیوں قتل ھوئے اور کیوں اس قدر ھمیں قربانی دینی پڑی، ھمیں جو جنگ احد میں ضربات و شکست سے دوچار ھونا پڑا ھے اس کا مطلب یہ ھے کہ ھمارا دین اور آئین حق پر نھیں ھے۔
قرآن کے کچھ جوابات اس شبہ کے سلسلہ میں گزر چکے ھیں، اساسی و مرکزی مطلب اس شبہ کو باطل کرنے کے لئے مورد توجہ ھونا چاھئے وہ یہ کہ ظاھری شکست حق پر نہ ھونے کی علامت نھیں ھے جس طریقہ سے ظاھری کامیابی بھی حقانیت کی دلیل نھیں ھے۔
بھت سے انبیاء حضرات کہ جو یقیناً حق پر تھے، اپنے پروگرام کو جاری کرنے میں کامیابی سے ھم کنار نھیں ھوسکے، بنی اسرائیل نے بین الطلوعین ایک روز میں ستر انبیاء کو شھید کر ڈالا اور اس کے بعد اپنے کاموں میں مشغول ھوگئے جیسے کچھ ھوا ھی نھیں، کوئی حادثہ وجود میں آیا ھی نھیں، تو کیا ان پیامبران الھی کا شھید و مغلوب ھونا ان کے باطل ھونے کی دلیل ھے؟ اور بنی اسرائیل کا غالب ھوجانا ان کی حقانیت کی علامت ھے؟ یقیناً اس کا جواب نھیں میں ھے، دین کے سلسلہ میں فریب کی نسبت دینا اور حق پر نہ ھونے کے لئے شبہ پیدا کرنا، منافقین کے القاء شبھات کے دو نمونہ تھے جسے منافقین پیش کرتے تھے لیکن ان کے شبھات کی ایجاد ان دو قسموں پر منحصر و محصور نھیں ھے۔
دین کو اجتماع و معاشرت کے میدان سے جدا کرکے صرف آخرت کے لئے متعارف کرانا، دین کے تقدس کے بھانے دین و سیاست کی جدائی کا نعرہ بلند کرنا، تمام ادیان و مذاھب کے لئے حقانیت کا نظریہ پیش کرنا، صاحب ولایت کا تمام انسانوں کے برابر ھونا، صاحب ولایت کی درایت میں تردید اور اس کے اوامر میں مصلحت سنجی کے نظریہ کو پیش کرنا، احکام الھی کے اجرا ھونے کی ضرورت میں تشکیک وجود میں لانا، خدا محوری کے بجائے انسان محوری کی ترویج کرنا، اس قبیل کے ھزاروں شبھات ھیں جن کو منافقین ترویج کرتے تھے اور کررھے ھیں، تا کہ ان شبھات کے ذریعہ دین کے حقایق و مسلّمات کو ضعیف اور اسلامی معاشرہ سے روح ایمان کو خالی کردیں اور اپنے باطل و بیھودہ مقاصد کو حاصل کرلیں۔
البتہ یہ بات ظاھر و عیاں ھے کہ منافقین مسلمانوں کے اعتقادی و مذھبی یقینیات و مسلّمات میں القاء شبھات کے لئے اس نوع کے مسائل کا انتخاب کرتے ھیں جو اسلامی حکومت و معاشرے کی تشکیل میں مرکزی نقش رکھتے ھیں اور ان کے تسلط و قدرت کے لئے موانع ثابت ھوتے ھیں، اسی بنا پر منافقین کے القاء شبھات کے لئے زیادہ تر سعی و کوشش دین کے سیاسی و اجتماعی مبانی نیز دین و سیاست کی جدائی اور دین کو فردی مسائل سے مخصوص کردینے کے لئے ھوتی ھیں۔
--------
[1] نھج البلاغہ، خطبہ ۲۱۰۔
[2] سورہ منافقون/۱۔
[3] سورہ بقرہ/۱۱، ۱۲۔
[4] سورہ توبہ/۷۴۔
[5] سورہ توبہ/۶۱۔
[6] سورہ منافقون/۲۔
[7] سورہ توبہ/۵۶۔
[8] سورہ توبہ/۶۲۔
[9] نھج البلاغہ، خطبہ۱۹۴۔
[10] نھج البلاغہ، خطبہ ۱۹۴۔
[11] سورہ توبہ/۴۲۔
[12] سورہ توبہ/۹۴۔
[13] سورہ منافقون/۲۔
[14] سورہ بقرہ/۲۰۴۔
[15] سورہ احزاب/۱۵۔
[16] سورہ توبہ/۷۵/۷۷۔
[17] سورہ نحل/۴۲ و سورہ انبیاء/۷۔
[18] رجوع کریں بقرہ/۸۹ /۲۱۵ /۲۱۷ /۲۱۹۔
[19] میزان الحکمۃ ج۴، ص۳۳۰۔
[20] بعض مطالب کو کتاب الاحتجاج، مرحوم طبرسی، ج۱، ۲ میں حاصل کیا جاسکتا ھے۔
[21] نھج البلاغہ، حکمت۳۲۰۔
[22] سورہ بقرہ/۱۸۹۔
[23] نھج البلاغہ، خطبہ۳۸۔
[24] نھج البلاغہ، خطبہ۵۰۔
[25] سورہ انفال/۴۹۔
[26] سورہ احزاب/۱۲۔
[27] سیرۃ ابن ھشام، ج۲، ص۲۱۹، منشور جاوید، ص۷۴، ۷۵۔
[28] سورہ آل عمران/۱۵۴۔
[29] سورہ آل عمران/۱۶۸۔
[30] سورہ آل عمران/۱۵۴۔
[31] سورہ آل عمران/۱۵۶۔
[32] سورہ آل عمران/۱۶۸۔
 

24 Dec 2011 |

 
 

اہمیت شہادت؛ قرآن وحدیث كی روشنی میں

اہمیت شہادت؛ قرآن وحدیث كی روشنی میں
 
استاد:شاہد رضا كاشفی

ولا تحسبن الذین قتلوا فی سبیل اللہ امواتا بل احیاء عند ربھم یرزقون ۩ فرحین بماء اتھم اللہ من فضلہ و یستبشرون بالذین لم یلحقوا بھم من خلفھم ألاخوف علیھم ولا ھم یحزنون ۩ ویستبشرون بنعمۃ من بنعمۃ من اللہ و فضل وان اللہ لایضیع اجر المومنین ۩ (آل عمران ۔ ۱۶۹، ۱۷۱)
,, اور خبردار راہ خدا میں قتل ہونے والوں كو مردہ خیال نہ كرنا وہ زندہ ہیں اور اپنے پروردگار كے یہاں رزق پارہے ہیں۔ خدا كی طرف سے ملنے والے فضل و كرم سے خوش ہیں اور ابھی تك ان سے ملحق نہیں ہوسكتے ہیں ان كے بارے میں یہ خوش خبری ركھتے ہیں كہ ان كے واسطے بھی نہ كوئی خوف ہے اور نہ حزن۔ وہ اپنے پروردگار كی نعمت اس كے فضل اور اس كے وعدہ سے خوش ہیں كہ وہ صاحبان ایمان كے اجر كو ضائع نہیں كرتا ۔ ٬٬
اللہ كی راہ میں شہید ہوجانا یعنی ,, القتل فی سبیل اللہ ٬٬ ایك ایسا بلند ارفع اور اعلی ہدف ہے كہ جس كی جستجو میں ایك با ایمان شخص كہ جو اسلام كی نسبت، پختہ، مضبوط اور غیر متزلزل عقیدے كا حامل انسان ہواكرتا ہے اپنے پورے سرمایہ حیات كو داؤ پر لگاتا دیتا ہے ۔ لہذا شاید اسی وجہ سے اگر تاریخ انبیاء، آئمہ طاہرین (ع)، اولیا كرام كو ملاحظہ كریں تو ان پاك ہستیوں كا بھی ہدف، یہی شہادت (القتل فی سبیل اللہ ) دكھائی دیتا ہے ۔ اس كی وجہ یہ ہے كہ (شہادت) وہ راستہ ہے كہ جو مختلف قسم كی مشكلات اور درد والم كے سایے میں زندگی اور حیات كو اس كا صحیح مفہوم عطا كرتا ہے ۔ یہ مشكلات اور دردو الم كے سایہ میں زندگی اور حیات كو اس كا صحیح مفہوم عطا كرتا ہے ۔ یہ مشكلات اور دردو الم وہ مشكلات ہیں كہ جنھیں اللہ كے مومن بندے اس روئے زمین پر اللہ كے مقصد اور ہدف كو تحقق بخشنے كے لئے تحمل اور برداشت كرتے ہیں ۔ اور شاید اس كی وجہ یہ بھی ہوسكتی ہے كہ شہادت ایك ایسا راستہ ہے كہ جس پر چلتے ہوئے اللہ كے مخلص بندے اپنے نفس كو پاك اور پاكیزہ كرتے اور اسے اس بات پر آمادہ كرتے ہیں كہ ہمیشہ ہوی و ہوس اور دنیا كی ان لذتوں سے بیزاری كا اظہار كرے كہ جو انھیں اپنے معبود حقیقی سے اور اس كی رضا و خوشنودی سے دور ركھتی ہیں ۔

1۔ قرآن ،حدیث اور شہادت
اگر ہمیں شہادت كی عظمت و اہمیت اور اس كے فلسفے كو قرآن اور حدیث كی نگاہ سے دیكھنا اور سمجھنا ہو تو پھر سب سے پہلے ہمیں زندگی كا مفہوم اور جودو بقا كے مفہوم اور اس كے فلسفے كو سمجھنا ہوگا ۔ دوسرے الفاظ میں ہمیں یہ دیكھنا ہوگا كہ خدا كو انسان كو وجود پسند ہے یا اس كا عدم ؟ كیا خدا كو اس كا (ہونا) پسند ہے یا (نہ ہونا) ؟ اس كی (بقا) پسند ہے یا اس كا (فنا) ہونا پسند ہے ؟ كیا خدا انسان كی نابودی اور ہلاك كے درپے ہے ؟ ان مندرجہ بالا سوالوں كا جواب اگر یہ دیاجائے كہ خدا كو اس كا ( نہ ہونا) نابودی اور فنا پسند ہے تو پھر یہ سوال پیدا ہوتا ہے كہ اسے پھر خدا نے كیوں (خلق) كیا ؟ كیوں اسے (وجود) عطاكیا ؟
یہ مذكورہ جواب قرآن وحدیث اور عقل كے مطابق صحیح نہیں ۔ لہذا اس كا سوالوں كا جواب جاننے كے لئے ہمیں قرآن اور كلام رسول (ص) وآئمہ طاہرین (ع) كی طرف رجوع كرنا ہونا ۔ خداوند عالم نے قلب پیغمبر (ص) پر سب سے پہلے جس سورہ كی آیات كو نازل كیا وہ سورۃ علق كی ابتدائی (۵) آیات ہیں ۔
اقرا باسم ربك الذی خلق۩ خلق الانسان من علق ۩
ان مذكورہ آیات میں خداوند عالم نے انسان كو عطا كردہ مختلف نعمتوں كا تذكرہ كیا ہے ۔ سب سے پہلے جس نعمت كا تذكرہ كیا ہے وہ اس انسان كی ( خلقت اور تكوین ) ہے اگر یہ نعمت الہی نہ ہوتی تو ہرگز انسان كا وجود نہ ہوتا ۔ كیونكہ یہ خداوند عالم كی ہی ذات ہے كہ جو اس بات پر قدرت ركھتی ہے كہ (وجود) كی عظیم نعمت سے سرفراز كرسكے ۔
اس كے بعد جس نعمت كا تذكرہ كیا ہے وہ (علم اور معرفت) كی نعمت ہے كہ جس كی ہدایت انسان كو اس بات كا علم ہوا كہ خدا نے اسے وجود كی نعمت سے نواز ہے ۔ اور وہ یوں اس دینوی زندگی میں اپنے وجود كی حیثیت اور اہمیت كو جان كر الہی اہداف اور مقاصد كی بنیاد پر زندگی گزارتاہے ۔ اسی طرح خداوند عالم كا (سورہ مومنون میں آیت نمبر ۱۱۵ ) میں ارشاد ہے كہ
,, افحسبتم انما خلقنكم عبثا و انكم الینا لاترجعون ٬٬
,,كیا تم گمان كرتے ہو كہ تمہیں بے كار پیدا كیا گیا ہے ۔ اور تم ہماری جانب واپس نہیں پلٹائے جاؤگے ۔ ٬٬
اس آیت كریمہ پر معمولی سے غور اور قائل كے بعد یہ بات سامنے آتی ہے كہ خدانے اس انسان كو (وجود) جیسی عظیم نعمت سے سرفراز كیا ہے یہ كوئی معمولی نعمت نہیں ۔ خدا نے اسے (وجود) عطا كیا یعنی اسے (ہونا) عطا كیا ہے نہ (نہ ہونا) كہ جو ,, عدم ٬٬ ہے ۔ بلكہ خدا نے اسے ,, كتم عدم ٬٬ سے نكال كر ,, عالم وجود امكانی ٬٬ كا محور قرار دیا ہے ۔ خدا نے اسے خلق كركے اور وجود عطا كركے كوئی عبث اور بے ہودہ كام انجام نہیں دیا ۔ بلكہ اس ( وجود) كو عطا كركے اسے (بقا) كی نعمت سے نوازا ہے ۔
اس كے لئے (فنا مطلق) كی نفی كردی ۔ اس مطلب پر اس آیت كا دوسرا حصہ یعنی (۔ ۔وانكم الینا لاترجعون )دلالت كرتا ہوا نظر آرہا ہے ۔ یعنی كیا تمہیں ہماری جانب پلٹ كر نہیں آنا ؟ واپس جانا ،خود ( وجود) اور (بقا) كی دلیل ہے ۔ ,, رجوع٬٬ كا لفظ (وجود) سے تعلق ركھتا ہے ۔ نہ (عدم ) سے ۔
ان مذكورہ آیات كریمہ سے یہ معلوم ہوا كہ جب خدا كی نگاہ میں انسان كی نسبت اس كا بہترین تحفہ اور نعمت، اس كا خلق ہونا ہے تو پھر كیونكر خدا اس كے لئے فنا اور نابودی كو پسندیدہ قرار دے كر اسے ( شہادت اور قتل فی سبیل اللہ ) پر اكسا كر متحرك كرسكتا ہے ۔ لہذا خدا انسان كے لئے زندگی چاہتا ہے وجود چاہتا ہے، بقا چاہتا ہے، نہ فنا، نابودی اور ہلاكت ۔
حدیث قدسی میں ہے كہ یابن آدم خلقت الاشیاء لاجلك و خلقتك لاجلی ,, یعنی اے آدم كے فرزند میں نے دنیا اور اس كون ومكان كی تمام چیزوں كو تیرے لئے خلق كیا ہے ۔ جب كہ تجھے میں نے اپنے لئے خلق كیا ہے ۔
اس مذكورہ حدیث قدسی كو دقت كے ساتھ ملاحظہ كرنے كے بعد اگر ہم اسماء الہیہ قدسیہ كو ملاحظہ كریں تو اسماء الہیہ كے درمیان ایك اہم بنام ( باقی ) دكھائی دیتا ہے ۔ یعنی ( اسی كی ذات كو بقا حاصل ہے ) اب اگر ہم غور كریں تو معلوم ہوگا كہ مگر وہ ذات كہ جو باقی ہو اور فنا، اس كی ذات میں نہ ہو تو كیا یہ ممكن ہےكہ جس (وجود) كواس نے اپنے لئے خلق كیا ہو ۔ وہ فنا ہوجائے اور خود باقی رہے !؟
یہاں پر آكر كوئی ہماری اس مذكورہ بات اور گفتگو كو سن كر اور دیكھ كر ہم سے سوال كرے كہ سورۃ ( رحمن آیت ۲۶ ) میں خداوند عالم صاف اور واضح طور پر ہرچیز كے فنا اور نابود ہونے كا تذكرہ كررہا ہے ۔
,, كل من علیھا فان ۩ ویبقی وجہ ربك ذوالجلال والاكرام ۩ فبائ الاء ربكما تكذبین ۩
,, یعنی ہر چیز كہ جو اس روئے زمین پر ہے اسے فنا ہونا ہے جب كہ باقی رہنے والی ذات، خدا كی ذات ہے ۔ تو پھر تم ( اے جنوں اور انسانوں ) اپنے رب كی كون كون سی نعمتوں كو جھٹلاؤ گے ۔ ٬٬
اس آیت كا ظاہر یہ بتلارہا ہے كہ انسان ,, فانی ,, ہے ۔ تو پھر كس طرح سے ہم یہ یقین كریں كہ وہ (باقی ) رہنے كے لئے ( وجود) میں ایا ہے ؟
جواب: اس آیت كریمہ پر اگر مزید غور كریں تو معلوم ہوگا (فنا) خدا كی نعمتوں میں سے
ایك نعمت ہے ۔ ! وہ كس طرح ؟
وہ اس طرح سے كہ خدا نے جب یہ كہا (كل من علیھا فان ) اس كے فورا بعد یہ كہا ( فبائ الاء ربكما تكذبن ) یعنی یہ (فنا) ایك نعمت ہے تم دونوں ( جنوں اور انسانوں ) كس طرح سے اس نعمت كو جھٹلاؤ گے ۔
اب سوال یہ ہے كہ یہ (فنا) كس طرح س نعمت ہے ؟ مگر (فنا) نعمت ہوسكتی ہے ؟ علامہ طباطبائی اپنی تفسیر تیم (المیزان ) میں اس آیت كے ذیل میں فرماتے ہیں دنیا كا ختتام، آخرت كا آغاز ہے ۔ كہ جو خدا كی نعمتوں میں سے ایك نعمت ہے ۔ كیونكہ دنیوی زندگی، اخروی زندگی كے لئے مقدمہ ہے ۔ جب كہ یہ بدیہی امر ہے كہ مقدمہ سے نتیجے اور غرض كی جانب حركت كرنا اور منتقل ہونا، نعمت ہے ۔
لہذا (فنا) ایك نعمت ہے، كہ جس كے ذریعے سے ( آخرت ) یعنی نتیجے كی جانب پیش قدمی شروع ہوتی ہے ۔ اور خدائے متعال كی جانب انتقال ہے ۔
دوسرا الفاظ میں یہ بات صحیح ہے كہ انسان (عدم ) سے (وجود) میں آیا ہے ۔ لیكن فلاسفہ اور محققین كی رائے كے مطابق ( وجود) فنا اور عدم كے قابل نہیں ۔ ورنہ ایك شئے كا اس كی ضد كے ساتھ متصف ہونا لازم آئے گا ۔ اور یہ محال ہے ۔ ہاں موجودات، عدم اور فنا كو قبول كرتے ہیں ۔ لیكن اپنے اپنے اعتبار سے ۔ نہ موجودات ہونے كے عنوان سے عدم اور فنا سے متصف ہوتے ہیں ۔ (فكركریں )
لہذا اس وجہ سے شاید خداوند عالم نے سورہ آل عمران (۱۶۹۔ ۱۷۱) میں یہ فرمایا كہ !
,, ولا تحسبن الذین قتلوا فی سبیل اللہ امواتا بل احیاء ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اجر المومنین ۔
,, اور خبردار راہ خدا میں قتل ہونےوالوں كو مردہ خیال نہ كرنا وہ زندہ ہیں اور اپنے پروردگار كے یہاں رزق پارہے ہیں ۔ خدا كی طرف سے ملنے والے فضل و كرم سے خوش ہیں اور جو ابھی تك ان سے ملحق نہیں ہوسكے ہیں ان كے بارے میں یہ خوش خبری ركھتے ہیں كہ ان كے واسطے بھی نہ كوئی خوف ہے اور نہ حزن ۔ وہ اپنے پروردگار كی نعمت اس كے فضل اور اس كے وعدہ سے خوش ہیں كہ وہ صاحبان ایمان كے اجر كو ضائع نہیں كرتا ۔ ٬٬
مندرجہ بالا بیان سے معلوم ہوا كہ دنیا سے چلاجانا، ظاہری طور پر دكھائی نہ دینا، یعنی موت كا طاری ہوجانا، انسان كے لئے فنا اور نابودی نہیں ۔ بلكہ (موت) آئمہ طاہرین (ع) كے اقوال كے مطابق (پل ) ہے جس سے ایك جہاں (دنیا) سے دوسرے جہاں (آخرت ) تك پہنچا جاسكتا ہے ۔ (موت ) اللہ سے ملاقات (بقا) كا ذریعہ ہے ۔ (موت ) متقین كے لئے اور اولیاء خدا كے لئے بہترین چیز ہے ۔ مولائے كائنات خطبہ (۱۹۳ خطبہ ) فرماتے ہیں ۔كہ !
,, ہعنی اگر خدا كی جانب سے مقرر كردہ (موت ) ان كے لئے نہ ہوتی تو ہرگز ان كی روحیں ثواب الہی كے حصول اور عقاب سے محفوظ رہنے كی خاطر ایك لحظہ بھی ان كے جسموں میں باقی نہ رہتی ۔,,
خداوند عالم كا ارشاد ہے سورہ ملك كی آیت ۲ میں ,, الذی خلق الموت والحیوۃ لیبلوكم ایكم احسن عملا ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ٬٬ یعنی خدا نے موت اورحیات كو (خلق) كیا تا كہ تمہیں آزمائے كہ تمہارے درمیان بہترین عمل كس كا ہے ؟
اس آیت پر غور كركے معلوم ہورہا ہے كہ (موت ) فنا كا نام نہیں ۔ بلكہ (وجود اور تكوین ) كا نام ہے ۔ (ہونے ) كا نام ہے ۔ نہ ( نہ ہونے) كا یعنی خدا نے جس طرح سے ,, حیات ,, كو خلق كیا اس طرح ,, موت ,, كو بھی خلق كیا ۔ یعنی دونوں خدا كی مخلوق ہیں ۔

2۔ موت كی بہترین صورت
خداوند عالم كا ارشاد ہے ۔ ( ,, كل نفس ذائقۃ الموت و نبلوكم بالشر والخیر فتنۃ ,,
,, یعنی ہر نفس كو موت كا ذائقہ چكھنا ہے ۔ ٬٬ ( سورہ انبیاء آیت نمبر ۳۵)
جب خدا كے اس فرمان كے مطابق موت كا ذائقہ لازمی طورپر چكھنا قراردیا ہے تو پھر آیا موت كی كوئی ایسی صورت یا انداز ہے جو شیرین ہو لذت آور ہو ۔ ؟ رسول خدا (ص) كا ارشاد ہے ( اشرف الموت قتل الشھادۃ ) یعنی اشرف ترین موت، شہادت كی موت ہے ۔ ( بحار الانوار جلد ۱۰۰ صفحہ ۸ )
سورہ آل عمران كی آیت ( ۱۶۹ ۔ ۱۷۱ ) میں موت كی بہترین صورت شہادت كو قرار دے دیا ہے ۔ یعنی اس س بڑھ كر موت كی اور كون سی اچھی صورت ہوسكتی ہے كہ جس میں خدا شہیدوں كی شہادت كے بعد كی كیفیت كو بیان كررہا ہے كہ یہ لوگ شہادت كے ذریعے سے موت كو حاصل كرنے كے بعد خدا كے لطف و كرم سے رزق پاتے اور خدا كی عنایت اور فضل سے خوش اور مطمئن ہیں اور اپنے اہل خانہ، عزیزوں اور دوستوں كو پیغام دیتے ہیں ۔ كہ وہ ان كا غم اور افسوس نہ كریں ۔ اور ان كی فكر نہ كریں ۔ خدا نے انھیں بہترین نعمتوں اور فضل سے ہم كنار كیا ہے ۔
امیرالمومنین (ع) كا نھج البلاغہ خطبہ ۱۳۲ میں ارشاد ہے ,, تحقیق موت تمہاری جستجو میں ہے ۔ چاہے انسان میدان كارراز میں ہو یا میدان جنگ سے بھاگنے والا ہو بہترین اور مكرم ترین موت اللہ كی راہ میں قتل ہوجانا ہے ۔ اس ذات كی قسم كہ جس ك قبضہ قدرت میں علی ابن ابی طاہب (ع) كی جان ہے ۔ میرے لئے ہزار مرتبہ شمشیر كی ضربت كو كھانا آسان ہے ۔ اس موت سے كہ جو خدا كی مخالفت كی حالت میں بستر پر آئے ۔ ٬٬

3 ۔ شہادت، شكر كا مقام ہے نہ صبر
امیرالمومنین (ع) نھج البلاغہ خطبہ ۱۵۶ میں ارشاد ہے !
,, میں نے رسول خدا (ص) سے كہا اے پیغمبر خدا(ص) كیا آپ نے جنگ احد كے دن كہ جب چند اصحاب ( مسلمان ) درجہ شہادت پر فائز ہوئے اور مجھے شہادت نصیب نہ ہوئی كہ جو مجھ پر بڑا گراں گزرا تو آپ(ص) نے اس وقت مجھے كہا تھا كہ ( اے علی (ع) ) تمہیں آنے والے دنوں میں شہادت نصیب ہوگی ۔
اس كے بعد مولا (ع) فرماتے ہیں كہ رسول خدا (ص) نے مجھ سے فرمایا كہ ,, ایساہی ہوگا كہ تم شہادت پاؤ گے ۔ جب تم شہادت كے درجے پرفائز ہوگے تو اس وقت تمہارے صبر كا كیا عالم ہوگا ؟ میں نے رسول (ص) كو جواب دیا كہ ,, اے پیغمبر خدا (ص) شہادت، صبر كا مقام نہیں بلكہ خوشی اور شكر كا مقام ہے ٬٬
مولا امیرالمومین (ع) كا ۱۹ رمضان كی شب كوابن ملجم كے ضربت كے بعد مشہور معروف جملہ (فزت و رب الكعبۃ) اس بات پر دلیل ہے كہ موت اور شہادت اولیاء خدا كے لئے خوشی اور شادمانی اور كامیابی كی علامت ہے ۔

4 ۔ شہادت اور الہی تحفے
۱۔ تمام گناہوں كا معاف ہوجانا ۔ كنزالعمال میں رسول (ص) كی روایت ہے: ,, ہرچیز كی بخشش كا ذریعہ شہادت ہے ۔ سوائے قرض كے ۔ ,, ایك اور روایت میں ہے كہ شہید كا ہر گناہ قرضہ كے علاوہ معاف ہوجاتا ہے ۔
۲۔ قبر میں آزمائش اور امتحان سے محفوظ رہتا ہے ۔
روایت میں ہے كہ ,, جو دشمن كے ساتھ مقابلہ كرتے ہوئے صبر سے ( اور استقامت ) سے كام لے یہاں تك كہ قتل ہوجائے یا غالب آجائے تو اس سے قبر میں سوال و جواب نہیں ہوں گے ۔ ٬٬ (رسول خدا(ص) كنزالعمال )
۳۔ زندگی اور حیات كا عطا ہونا:
شہید اپنی شہادت پیش كركے موت كو حیات اور زندگی عطا كرتاہے ۔
,, ولاتحسبن الذین قتلوا فی سبیل اللہ امواتا بل احیاء عند ربھم یرزقو ٬٬
جو لوگ اللہ كی راہ میں مارے جائیں تم انھیں مردہ تصور مت كرو بلكہ وہ زندہ ہیں ۔ ( آل عمران ۔ ۱۶۹ )
" ولا تقولو المن یقتل فی سبیل اللہ اموات بل احیاء و لكن لاتشعرون "
جو اللہ كی راہ میں مار جائیں تم انھیں مردہ مت كہو بلكہ وہ زندہ ہیں مگر تم اس كا شعور نہیں ركھتے ) (بقرہ ۱۵۴ )
شہادت ایك ایسا معنوی امر ہے كہ ایك انسان مومن اسكی معرفت اور شفاعت حاصل كرنے كے بعد اس دنیا كو سیلہ سمجھتا ہے نہ ہدف جب كہ رسول خدا (ص) كا فرمان ہے ( الدنیا مزرعۃ الآخرۃ ) ,, دنیا، آخرت كی كھیتی ہے ٬٬ ۔ دنیا ایساوسیلہ ہے كہ جس سے اولیاء اللہ سہارا لیتے ہوئے منزل مقصد اور ہدف تك پہنچتے ہیں ۔ لہذا اس نظر اور منطق كا حامل شخص (مومن ) دنیا كی ظاہری نعمتوں كو اپنے ہاتھ سے جاتے ہوئے دیكھ كر شرمندگی اور افسوس كا احساس نہیں كرتا ۔ كیونكہ اس كی نگاہ ان چیزوں اور تحائف پر ہے كہ جو خدا كے پاس ہے لہذا آئمہ معصومین (ع) كے فرمان كے مطابق شہداء كے سوا كسی دوسرے مرنے والے كی دنیا میں واپس آنے كی آرزو نہیں ہوتی ) كیونكہ انھوں نے خدا كی جانب س اپنے لئے جو اكرام اور احترام اور انعامات ملاحظہ كئے ہوتے ہیں وہ باعث بنتے ہیں كہ دنیا میں جاكر دوبارہ شہادت كے مرتبے پر فائز ہوں ۔
اگر شہادت كی محبت نہ ہوتی تو دین باقی نہ رہتا اور نہ ہی دین كا درخت سرسبز و شاداب ہوتا ۔ بلكہ یہ اسی كی محبت ہے كہ جس كی وجہ سے دین ہرا اور بھرا ہے كیونكہ شہادت ہی انسان كو بلند معنوی قوت عطا كرتی ہے ۔ كیونكہ شہادت سےمحبت ركھنے والے انسان، اللہ كی عطا كردہ قوت سے جہاد كرتے ہیں اس كے ارادے سے فعالیت دكھاتے ہیں اور اس نظر سے دیكھتے ہیں ۔ لہذا انھیں اللہ كی راہ میں شہادت كا رتبہ ملتا ہے ۔ (شہادت ) یعنی گواہی دیتے ہیں كہ واقعا اللہ كی ذات حق ہے لہذا اس بنا پر شہداء گرام كی سیرت كو اگر ملاحظہ كریں تو ان كی سیرت كی بنیاد اللہ كی ذات حق ہے لہذا اس بنا پر شہداء كرام كی سیرت كو اگر ملاحظہ كریں تو ان كی سیرت كی بنیاد اللہ پر ایمان كامل اور قوی اعتماد ہے ۔ یہ ایسا ایمان ہے كہ شہادت اور شہداء كی معرفت نہ ركھنے والے انسانوں كو حیران اور ششدر ہونے پر مجبور كرتے ہیں اور وہ اس بات پر قادر نہیں ہے كہ شہداء كی عظیم حركت اور فعالیت كی تفسیر كرسكیں ۔ لہذا نا سمجھی كی بنیاد پر (شہادت ) كو ایك نامعقول اور غیر سنجیدہ حركت قرار دے كر تسمخر كی نگاہ سے ملاحظہ كرتے ہوئے دشمنان اسلام و دین و مذہب كو حق كی بنیادیں متزلزل كرنے كا موقع فراہم كرتے ہیں ۔
منبع: ماہنامہ سحر (پاكستان) / اگست ۲۰۰5

24 Dec 2011 |

 
 

 

 

پیوندهای روزانه

 

مطالب اخیر
فرزند رسول حضرت امام علی نقی علیہ السلام
کویتی روزنامہ: "ظہور" عالمی سیاست کا اصول؛ عنقریب "ہم امام مہدی (عج) کے خواہاں ہیں" کا نعرہ لگنے وال
علامات ظہور
طلوع شمس امامت
ظہور مہدی (ع) کا عقیدہ اسلامی عقیدہ ہے
حضرت فاطمه کي نگاه ميں خاندان کي اهميت
تاریخ بلتستان کا ایک ناقابل فراموش شخصیت،قائدشمالی علاقه جات علامه شیخ غلام محمد غروی
زمانه غيبت ميں وجود امام كے فوائد
طولانی عمرسائنس اورتاریخ کےمنظرمیں
کیا پانچ سال کا بچہ امام ہوسکتا ہے ؟
 

Weblog Theme By Blog Skin

پیج رنک

آرایش

طراحی سایت