islamic education & cultural

quran-o-ahlulbait-a.s

 

کویتی روزنامہ: "ظہور" سے اقتباس

کویتی روزنامہ: "ظہور" عالمی سیاست کا اصول؛ عنقریب "ہم امام مہدی (عج) کے خواہاں ہیں" کا نعرہ لگنے وال

کویتی روزنامہ: "ظہور" عالمی سیاست کا اصول؛ عنقریب "ہم امام مہدی (عج) کے خواہاں ہیں" کا نعرہ لگنے والا ہے                                

منگل, 19 جولائی 2011 12:18

دنیا کے موجودہ حکام کو معلوم ہے کہ "ظہور" آج کی سیاست کا رکن ہے دنیا کے لوگ عنقریب "ہم امام مہدی (عج) کے خواہاں ہیں" کے نعرے لگائے گی / کویتی روزنامے صحیفة الدار نے لکھا ہے کہ دنیا ـ اور خاص طور پر عالم اسلام ـ میں وسیع البنیاد ظلم و نا انصافی کا دور دورہ ہے اور یہود بھی "ظہور کے بارے میں خبردار کررہے ہیں"، اور ظہور صرف شیعیان اہل بیت (ع) ہی کا عقیدہ ہی نہیں ہے، دنیا کے لوگ بہت جلد "ہم امام مہدی (عج) کے خواہاں ہیں" کا نعرہ اٹھائیں گے۔


ادامه مطلب...

9 Jan 2012 |

 
 

علامات ظہور

علامات ظہور
 

مصنف: سید ذیشان حیدر جوادی
امام عصر کے ظہور کے بارے میں روایات میں جن علامات کا ذکر کیا گیا ہے۔ ان کی دو قسمیں ہیں:

(۱) حتمی اور (۲) غیر حتمی۔


حتمی علامات
بعض علامتیں حتمی ہیں جن کا وقوع بہرحال ضروری ہے اور ان کے بغیر ظہور کا امکان نہیں ہے۔ اور بعض غیر حتمی ہیں جن کے بعد ظہور ہو بھی سکتا ہے اور نہیں بھی ہو سکتا ہے۔ یعنی اس امر کا واضح امکان موجود ہے کہ ان علامات کا ظہور نہ ہو اور حضرت کا ظہور ہو جائے اور اس امر کا بھی امکان ہے کہ ان سب کا ظہور ہو جائے اور اس کے بعد بھی حضرت کے ظہور میں تاخیر ہو۔
 

 

 


ادامه مطلب...

9 Jan 2012 |

 
 

طلوع شمس امامت

 
 
طلوع شمس امامت
 کلام: شہید محسن نقوی 
اے    فخر    ابن    مریم    وسلطان   فقر   خو
تیرے   کرم   کا   ابر   برستا   ہے   چار   سُو
تیرے   لیے   ہوائیں  بھٹکتی  ہیں  کو  بہ  کو
تیرے   لئے   ہی   چاند   اترتا  ہے  جوبجو  !


 



 


ادامه مطلب...

9 Jan 2012 |

 
 

ظہور مہدی (ع) کا عقیدہ اسلامی عقیدہ ہے

ظہور مہدی (ع) کا عقیدہ اسلامی عقیدہ ہے
 
تحریر: آیۃ اللہ العظمیٰ صافی گلپائگانی
www.tebyan.net


جو لوگ شیعوں کے بارہ میں غلط فہی میں مبتلا ہوکر شیعہ حقائق کا مطالعہ کرتے ہیں یا دشمنان اسلام کے سیاسی اغراض پر مبنی مسموم افکار کی ترویج کرتے ہیں وہ جادۂ تحقیق سے منحرف ہوکر اپنے مقالات یا بیانات میں یہ اظہار کرتے ہیں کہ ظہور مہدی (ع) کا عقیدہ ،شیعہ عقیدہ ہے اور اسے تمام اسلامی فرقوں کا عقیدہ تسلیم کرتے ہوئے انھیں زحمت ہوتی ہے۔
 



 


ادامه مطلب...

9 Jan 2012 |

 
 

حضرت فاطمه کي نگاه ميں خاندان کي اهميت

 

ام الحسنین اور تربیت اولاد
مقدمه
فاطمه کي ولادت
اولاد کي تعريف
معني تربيت
حضرت فاطمه کي نگاه ميں خاندان کي اهميت
تمام صفحات غلام مرتضیٰ انصاری

الحمد للہ رب العالمین وصلی اللہ علی محمد وآلہ الطاہرین ولعنۃ اللہ علی اعدائھم اجمعین ۔ السلام علیک یا فاطمۃ الزھراء یابنت رسول اللہ اشفعی لنا عنداللہاما بعد قال اللہ تعالی فی کلامہ المجید بسم اللہ الرحمن الرحیم انا اعطیناک الکوثر فصل لربک وانحر ان شانئک ہو الابتر ۔ یه مختصر مقاله" سیدہ کونین ام الحسنین اور تربیت اولاد" کے موضوع پر اپنی بساط کے مطابق تربیت اولاد سے مربوط چہاردہ معصومین E کےفرامین کو رنگ فاطمی میں رقم کرنے کی کوشش کی ہے اس امید کے ساتھ کہ روز جزا ،آپ کی شفاعت ہم سب کو نصیب ہوں۔ہیں۔ 


ادامه مطلب...

9 Jan 2012 |

 
 

تاریخ بلتستان کا ایک ناقابل فراموش شخصیت،قائدشمالی علاقه جات علامه شیخ غلام محمد غروی

تاریخ بلتستان کا ایک ناقابل فراموش شخصیت،قائدشمالی علاقه جات علامه شیخ غلام محمد غروی

 http://www.alasrpari.com

پیغمبرگرامی اسلامﷺ کا فرمان هے : میرے امت کا بهترین فرد وه هے جولوگوں کو خدا کی طرف بلائے اور بندگان خدا کو اپنا دوست بنائے انبیاء اور اولیای الهیٰ کےبعد علمائے با عمل بهترین افراد امت کے زمرے میں گنے جاسکتے هیں اور بلاشبه فرمان ،


ادامه مطلب...

9 Jan 2012 |

 
 

زمانه غيبت ميں وجود امام كے فوائد

www.alasrpari.com

زمانه غيبت ميں وجود امام كے فوائد

تمهيد:

هماري بحث امام غائب كے فوائد كے متعلق هے اس لئے ضروري هے پهلے “امام” اور غيبت پر مختصر سي گفتگو هو۔

امام كے لغوي و اصطلاحي معني


ادامه مطلب...

9 Jan 2012 |

 
 

طولانی عمرسائنس اورتاریخ کےمنظرمیں

طولانی عمرسائنس اورتاریخ کےمنظرمیں
  احقر العباد: غلام مہدی حکیمی اینگوئی۔
سب سے پہلے ہم سائنسی اعتبار سے یہ دیکھیں گے کہ کیا انسان کی زندگی کی کوئی حد ہے؟
ماضی میں کچھ دانشوروں کا خیال تھا کہ زندہ موجودات میں طبعی عمر کا ایک نظام موجود ہے۔
مشہور سائنسدان پاولوف کے مطابق انسان کی طبعی عمر سو ١٠٠ سال۔
 

ادامه مطلب...

9 Jan 2012 |

 
 

تواتر احادیث مہدی(عج)

تواتر احادیث مہدی(عج)
  ،مولف:محمود حسین حیدری
--------
حضرت امام مہدی(عج) کے وجود اور ظہور کے بارے میں کتب فریقین میں اتنی احادیث وارد ہوئی ہیں کہ تواتر کی حدتک پہنچ چکی ہیں ، بلکہ اہل سنت کے بہت بزرگ علماءنے حضرت امام مہدی سے متعلق احادیث کو متواتر جانا ہے ، یاان کے تواتر کو دوسروں سے نقل کیا ہے ۔
( محقق معاصر اہل سنت ، ناصر الدین البانی نے ساٹھ (۶۰)سے زیادہ علماء کا نام لیا ہے جنہوں نے احادیث مہدی(عج) کے متواتر ہونے پر تصریح کیا ہے ، رجوع کریں ، مجلہ ” تمدن اسلامی ، مقالہ حول المہدی(عج) “ ش، ذی قعدہ ۱۳۷۱ھ ، سال ۲۲ ، چاپ دمشق۔)
حتی بعض علماءنے اس پر کتاب لکھی ہے مثال کے طور پر علامہ شوکانی نے ایک کتاب ” التوضیح فی تواتر ماجآءفی المنتظر ولدجال والمسیح “ کے نام لکھی ہے ہم یہاں پر بطور نمونہ کچھ اقوال قارئین کی خدمت میں پیش کرتے ہیں :

۱۔ حافظ ابو عبداللہ محمد بن یوسف کنجی شافعی متوفی ۶۷۵ھ ، اپنی کتاب ” البیان فی اخبار صاحب الزمان “ میں لکھتے ہیں :
”تنبیہ آخر، ان الاحادیث الواردة فیہ اختلاف کثیر روایاتہا لاتکاد تنحصر ، فقد قال محمدبن الحسن الاسنوی الشافعی فی کتاب مناقب الشافعی ، قد تواتر الاخبار عن رسول اللّہ بذکر المہدی وانّہ من اہل بیتہ۔“
جان لیں ، کہ حضرت مہدی(ع) کے بارے میں وارد ہونے والی احادیث بہت زیادہ ہیں اورجن کا شمار ممکن نہیں ہے اسی لئے محمدبن حسن اسنوی نے ”مناقب شافعی“ میں کہا ہے ، حضرت مہدی(ع) کے وجود اور ان کا اہل بیت(ع) رسول سے ہونے کے بارے میں ہیں پیغمبر اکرم (ص)سے بہت زیادہ روایات وارد ہوئی ہیں جو تواتر تک پہنچیں ہیں۔
( البیان فی اخبار صاحب الزمان ، باب الثالث فی الاشراط العالم والامارات القریبہ ، ص ۸۱۔)
ایک اور جگہ فرماتے ہیں:
”تنبیہ آخر، قد علمت ان احادیث وجود المہدی وخروجہ فی آخرالزمان وانّہ من عترت رسول اللہ من ولد فاطمہ بلغت حدا لتواتر المعنوی، فلا معنی لانکار ہ ومن ثمّ ورد ” من کذب باالدجال فقد کفر ومن کذب بالمہدی فقد کفر۔“
ایک اور یاد آوری ، آپ نے جان لیا کہ حضرت مہدی(عج) کے وجود اوران کے آخری زمانے میں خروج اوران کا اہل بیت(ع) رسول اور اولاد فاطمہ (ع) سے ہونا حد تواتر معنوی تک پہنچا ہوا ہے لہذا اس سے انکار کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا، اس کے علاوہ روایت میں آیا ہے ” جس نے دجال کو جھٹلایا وہ کافر ہوگیا اور جس نے حضرت مہدی(ع) کو جھٹلایا وہ بھی کافر ہوگیا۔
( البیان فی اخبار صاحب الزمان ، باب الثالث فی الاشراط العالم والامارات القریبہ ، ص۲۱ ۱۔)

۲۔قاضی محمدبن علی شوکانی ، متوفی، ۱۳۵۰ھ” التوضیح فی تواتر ماجاءفی المہدی“ میں لکھتے ہیں :
والاحادیث الواردة فی المہدی الّتی امکن الوقوف منہا خمسون حدیثا فیہا الصحیح والحسن والضعیف المنجبرة وہی متواترة بلاشک ولاشبہہ۔“
اوروہ احادیث جو حضرت مہدی(ع) کے بارے میں وارد ہوئیں ۵۰ پچاس حدیثیں ہیں ان میں سے کچھ صحیح ، کچھ حسن ، اور کچھ ضعیف منجبرہ ، اور یہ احادیث متواتر ہیں جس میں کسی قسم کے شک وشبہ کی گنجائش نہیں ۔

۳۔بزرگ سنی عالم محمد بن جعفر بن ادریس بن محمد کتانی فاسی مالکی متوفی ۱۳۴۵ھ اپنی کتاب نظم المتناثر من الحدیث المتواتر “ میں لکھتے ہیں :
الاحادیث الواردة فی المہدی النتظر بکثرة رواتہامن المصطفٰی بخروج المہدی وانّہ من اہل بیتہ وانّہ یملاءالارض عدلاً“(نظم المتنا ثر ، ص۲۲۵سے ۲۲۸۔ح۲۸۹)۔
بہت سے راویوں کی نقل شدہ احادیث متواتر ہیں کہ حضرت محمد مصطفی (ص) نے ارشاد فرمایا :
حضرت مہدی(ع) کا ظہو ر ہوگا اور وہ میرے اہل بیت(ع) سے ہوں گے وہ سات سال تک حکومت کریں گے اورزمین کو عدل وانصاف سے پر کردیں گے ۔

۴۔سید محمدصدیق حسن قنوجی متوفی ۱۳۰۷ھ ” الا ذاعہ بما کان ومایکون بین یدی الساعة “ میں لکھتے ہیں :
”والاحادیث الواردة فی المہدی علی اختلاف روایاتہا کثیرة جدّاً حتی تبلغ تواتر المعنوی“
حضرت مہدی (ع) کے بارے میں وارد ہونے والی احادیث روایتوں کے مختلف ہونے کے باوجود بہت زیادہ ہیں، یہاں تک کہ تواتر معنوی کی حد تک پہنچ گئی ہیں ۔
(الا ذاعہ بما کان ومایکون بین یدی الساعة، ص ۶۳۱۔)

۵۔ شیخ محمدبن احمد سفارینی اثر ی حنبلی متوفی۱۱۸۸ھ ” لوامع الانوار البہیہ وسواطع الاسرار الاشریہ“ میں لکھتے ہیں ۔
”وقد کثرت بخروجہ ، یعنی المہدی الروایات حتی بلغت حدالتواتر المعنوی وشاع ذالک بین علماءالسنّة حتی عدّ من معتقد اتہم ۔“
خروج حضرت مہدی(ع) کے بارے میں بہت سی روایات وارد ہوئی ہیں ، یہاں تک کہ حدتواتر معنوی تک پہنچی ہوئی ہیں اوریہ علماءاہل سنت کے درمیان شہرہ آفاق ہے یہاں تک کہ اسے اپنے اعتقادات میں شمار کیا گیا ہے ۔(لوامع الانوار لاالبہیہ ، ص ۳۷۔)
پھر فرماتے ہیں:
تبیہ، قد علمت ان احادیث وجود المہدی (ع) وخروجہ فی آخر الزمان وانہ من عترت رسول اللہ من ولد فاطمہ بلغت حدالتواتر المعنوی فلا معنی لانکارہا وغایة ماتشبت باالاخبار الصحیحة الشہیرة الکثیرة التی بلغت تواتر المعنوی ، وجودالآیات العظام التی منا ، بل ادلہا خروج المہدی وانّہ یاتی فی آخر الزمان من ولد فاطمہ یملاءالارض عدلاً کماملئت ظلماً۔“
” یاد آوری “ آپ نے جان لیا کہ مہدی(ع) کا وجود ، ان کا آخری زمانے میں ظہور فرمانا اور اولاد فاطمہ سے ہونا روایتوں میں حد تواتر معنوی تک پہنچا ہوا ہے جس سے انکار کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا اور بہت سی صحیح اور مشہور روایات یہ (امر تواترمعنوی ) تک پہنچ گیاہے کہ قیامت سے پہلے سی بڑی بڑی علامات ظاہر ہوں گی انہی میں ایک، بلکہ پہلی علامت”ظہور حضرت مہدی(ع) “ ہے، وہ آخری زمانے میں ظہور فرمائیں گے ، وہ اولاد فاطمہ (ع) سے ہوں گے اورزمین کو اسی طرح عدل سے بھر دیں گے جس طرح وہ ظلم سے بھر چکی ہوگی (لوامع انور البہیة،ص۸۳)۔

۶۔شیخ محمد زاہد کوثری ” نظرة عابرة “ میں لکھتے ہیں :
”وامّا تواتر احادیث المہدی والدّجال والمسیح فلیس بموضع ریبة عنداہل العلم باالحدیث ۔“
” لیکن احادیث مہدی(ع) ودجال ومسیح کا علماءحدیث کے نزدیک متواتر ہونے میں کوئی شک نہیں ہے ۔
مذکورہ علماءکے علاوہ اہل سنت کے دوسرے بہت سے علماءنے حضرت مہدی(عج) سے متعلق احادیث کو متواتر جانا ہے ، یاان کے تواتر کو دوسروں سے نقل کیا ہے اوران پر اعتراض نہیں کیا ہے ،
جیسے ابن حجر ہیثمی نے”الصواعق المحرقہ“میں، مومن شلنجی ” نورالابصار“میں محمد جان نے ” اصعاف الراغبین “ میں، ابن صباغ مالکی نے ” الفصول المہمة “میں، ” مفتی سید احمد شیخ الاسلام شافعی نے ” الفتوحات الاسلامیہ “ میں ، حافظ محمدبن ابراہیم قندوزی حنفی، نے ” ینابیع المودة “میں اوردوسرے علماءومحدثین نے اپنی کتابوں میں ان احادیث کو متواتر قرار دیا ہے ۔ان علماء کے اقال کے دقیق ماخذات یہ ہیں:
الصواعق ، باب ۱۱،۔
۔نورا لابصار ، ص ۱۸۷۔۱۸۸۔
اسعاف الراغبین ، ص ۱۴۵و۱۴۷۔
الفصول المہمہ ، باب ؟؟ ص ؟؟
ینابیع المودة، باب ۸۹، ۹۶۔
قرطبی مالکی ” تفسیر قرطبی ، ج۸ ، ص ۱۲۱، ۱۲۲؛
حافظ جمال الدین المری متوفی ، ۷۴۲ھ ،
” تہدیب الکمال ، ج۲۵، ش ۵۱۸۱؛ احمد بن حجر عسقلانی ، متوفی ، ص۸۵۲ ھ ،
” تہذیب التھذیب ، ج۹، ص ۱۲۵ش۲۰۱،
محمد رسول بزنجی شافعی ، متوفی ، ۱۱۰۳ھ ” الاشاعة لاشراط الساعة ، ص ۸۷،
مولانا ضیاءالرحمن فاروقی ، حضرت امام مہدی“ ص ۱۴۶۔
اور فن رجال کے ماہر وحافظ ” احمدبن حجر عسقلانی ” نزہة النظر “ میں لکھتے ہیں :” خبر متواتر سے یقین حاصل ہوجاتا ہے اوراس پر عمل کرنے کے سلسلے میں کسی بحث کی ضرورت نہیں رہتی ۔
 

9 Jan 2012 |

 
 

کیا پانچ سال کا بچہ امام ہوسکتا ہے ؟

کیا پانچ سال کا بچہ امام ہوسکتا ہے ؟
  ،مولف:محمود حسین حیدری
یہ بات واضح ہے کہ مہدی موعود(عج) ایک مخصوص ومعین فرد ہیں جو کہ ائمہ اہل بیت علیہم السلام میں سے گیارہویں امام ، حسن العسکری (ع) الخالص کے فرزند ارجمند بلافصل ہیں ،
 

ادامه مطلب...

9 Jan 2012 |

 
 

بشارت ظہور حضرت مہدی (عج)

بشارت ظہور حضرت مہدی (عج)
  ،مولف:محمود حسین حیدری
--------
صدر اسلام میں ” عقیدہ مہدویت“ کے مسلم اوررائج العقیدة ہونے کی وجہ سے سنی روایات بھی حضرت مہدی (عج) کے ظہور پر گواہ ہیں جو کہ کتب حدیثی ، رجالی ، تاریخی وغیرہ میں نقل ہوئی ہے ، قارئین کی آگہی کے لئے چند نمونے پیش کرتے ہیں ۔

ظہور حضرت مہدی (عج) کے بارے میں حدیثیں:

1:” احمد بن حنبل ، حدثنا عبداللہ، حدثنی ابی ، حدثنا عبدالرزاق، ثنا جعفر عن المعلیٰ بن زیاد، ثنا العلاءبن بشیر، عن ابی الصدیق النااجی ، عن ابی سعید الخدری رض قال: قال رسول اللہ: ابشرکم باالمہدی یبعث اللہ فی امتی علی اختلاف من الناس وزلازل ، فیملاالارض قسطا وعدلاً کما ملئت ظلماً وجوراً یرض عنہ ساکن السماء وساکن الارض “
امام احمد بن حنبل کہتے ہیں ، ہم سے عبداللہ نے حدیث بیان کی ، ان سے ان کے والد نے حدیث بیان کی ، ان سے عبدالرزاق نے حدیث بیان کی ان سے جعفر نے ، ان سے معلی بن زیاد نے ان سے علاءبن بشیر نے حدیث بیان کی انہوں نے ابی صدیق ناجی سے ، انہوں نے ابی سعید خدری سے کہ انہوں نے کہا: رسول اللہ نے فرمایا: میں تمہیں مہدی (عج) کی بشارت دیتا ہوں کہ وہ میری امت میں اس وقت مبعوث ہوں گے جب لوگوں میں اختلاف پھوٹ پڑے گا اورگمراہی عام ہوجائے گی ، پس وہ زمین کو عدل وانصاف سے اسی طرح بھر دیں گے جس طرح وہ ظلم وجور سے بھر چکی ہوگی ، زمین وآسمان کے رہنے والے ان سے راضی ہوں گے
(۔ مسند احمد بن حنبل، ج۶، ص ۰۳، باب اشراط الساعہ؛ عقد الدرر، باب۷، ص ۷۰۲۔)

2:ابی داوود ، ذکر عبدالرز اق ، اخبرنا معمر بن ابی ہارون العبدی ، عن معاویة بن قرة، عبن ابی الصدیق الناجی ، عن ابی سعید الخدری قال: ذکر رسو اللہ : بلایا تصیب ہذہ الامة لایجد ملجاءاً یلجاءالیہ من الظلم ، فبعث اللہ رجلاً من عترتی اہل بیتی فیملاءالارض قسطاً وعدلاً کما ملئت جوراً وظلماً یرضی عنہ ساکن السماءوالارض
” ابی سعید خدری نے کہا: رسول خدا نے فرمایا: میری امت پر ایسی مصیبتیں پڑیں گی کہ انہیں ظلم سے نجات حاصل کرنے کے لئے کوئی جائے پناہ حاصل نہیں ہوگی ۔ اس وقت اللہ تعالیٰ میرے اہل بیت عترت مین سے ایک شخص کو مبعوث کرے گا جو زمین کو اسی طرح عدل وانصاف سے بھر دے گا جس طرح وہ ظلم وجور سے بھر چکی ہوگی ، زمین وآسمان کے رہنے والے ان سے راضی ہوگے۔
“(۔ سنن ابی داوود ، کتاب المہدی ، ج۴، ص ۷۰۱ ؛ البیان فی اخبار صاحب الزمان ( کنجی شافعی) باب ۹، ص ۴۰۱۔)

3:عن ابی جعفررضی اللہ عنہ اذا تشبہ الرّجال بالنساءولنساءباالرجال وامات النّاس الصلواة ، والتبعوا الشہوات واستخفوا بالسمائ وتظاہروا باالزناءوشیدً والنساء،واستحلو الکذب واتبعو الہویٰ وباعوالدّین باالدنیا، وقطعوا الارحام وکان الحلم ضعفاً والظلم فخراً ، والامراءفجرة والوزراءکذبہ ، ولامناءخونة والاعوان الظلمة ، والقرّاءفسقہ وظہر الجور وکثر الطلاق وبداءالفجور وقبلت شہادة الزور وشرب الخمور ورکبت الذکور بالذکور ، واستغنت النساءباالنساء، واتخذ الفیءمغنماً والصدقہ مغنما واتقیٰ الاشرار مخانة السنتہم ، وخرج السفیانی من الشّام والیمانی من الیمان وخسف بالبیداءبین مکہ ومدینہ وقتل غلام من آل محمد بین الرکن والمقام وصاح صالح من السماءبان الحق معہ ومع اتباعہ قال فاذا خرج السندہ ظہرہ الی الکعبة واجتمع الیہ ثلثماة وثلاثة عشر رجلاً من اتباعہ فاوّل ماینطق بہ ہذہ الایة بقیة اللّہ خیر لکم ان کنتم مومنین ثم یقول: انابقیة ، وخلیفتہ ، وحجتہ علیکم ، فلا یسلم علیہ احدالاّ قال َ السلام علیک یابقیة اللّہ فی الارض ، فاذا اجتمع عندہ العقد عشرة الآف رجلٍ ، فلا یبقی یہودیَّ ولانصرانی ، ولااحد عن یعبد غیر اللّہ الاّ آمن وصدقہ وتکون الملک واحدہ ملة الاسلام ، وکل ماکان فی الارض من معبود، سوی اللہ تعالیٰ تنزّل علیہ ناراً من السماءفتحرقہ۔
ابی جعفر [ امام محمد باقر(ع) ] رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ” جب مرد عورتوں سی وضع قطع اختیار کریں اور عورتیں مردانی شکل وصورت بنائیں اور جب لوگ نماز کو ترک کریں خواہشات نفسانی کی اتباع کریں خون بہانا آسان سمجھنےلگیں اورلوگ علناً زنا کے مرتکب ہونے لگیں مرد اپنی عورتوں کے مطیع ہوجائیں جھوٹ اور رشوت حلال ہوجائے خواہشات نفسانی کی پیروی کرنے لگیں دین کو دنیا کے مقابلے میں بیچنے لگیں ، قطع رحم کرنے لگیں جب حلم کو ضعف کی علامت اور ظلم کو فخر سمجھا جانے لگے حاکمان وقت فاجر ہوں گے ان کے وزرا خائن اور ظالم حکمرانوں کے مدد گار ہوں قاریان قرآن فاسق ہوں گے اورظلم وفساد ظاہر ہوجائے اورکثرت سے طلاق ہونے لگے فسق وفجور عام ہوجائے اورجھوٹی گواہی قبول کرنے لگیں اور شراب پینے لگیں مرد ، مرد پر سوار ہوں گے اور عورتیں دوسری عورتوں کی وجہ سے مردوں سے بے نیاز ہو جائیں گیں ، فئی اور صدقہ[بیت المال] کو مال غنیمت سمجھا جانے لگے آدمی کی اس کے شر اوربد گوئی کے خوف سے اس کی عزت کی جائے ،شام سے سفیانی اور یمن سے یمانی خروج کریں ۔ اور آل محمد کے ایک جوان کو رکن یمانی اور مقام ابراہیم کے درمیان قتل کیا جائے اور آسمان سے ندا دینے والا ندا دے گا کہ حق اس کے حضرت مہدی اور اس کی اتباع کرنے والوں کےساتھ ہے پس اس وقت جب وہ حضرت مہدی (عج) ظہور فرمائیں بیداءکی زمین ، جو کہ مکہ اورمدینہ کے درمیان گے خانہ کعبہ سے ٹیک لگائے ہوں گے اور ارد گرد تین سو تیرہ (۳۱۳) افراد ان کے پیروکاروں میں سے جمع ہوجائیں گے اور جس چیز کی سب سے پہلے تلاوت ہوگی یہ آیت ہے۔” بقیة اللّہ خیر لکم ان کنتم مومنین “ اس کے بعدآپ (عج) فرمائیں گے ، میں بقیة اللہ اس کا خلیفہ اورحجت خدا ہوں پس کوئی سلام کرنے والا ایسا نہ ہوگا ، مگر یہ کہ سب کہیں گے ہمارا سلام ہو تم پر ای ذخیرہ خدا پس جب ان کے پاس دس ہزار افراد ( انصار) جمع ہوجائیں گے تو اس وقت [روی زمین پر]نہ کوئی یہودی باقی رہے گا اور نہ نصرانی اورنہ کوئی ایسا شخص جو غیر خدا کی عبادت کرتا ہومگر یہ کہ سب لوگ اس پرایمان لائیں گے اوراس کی تصدیق کریں گے (اس وقت)ایک ہی حکومت ہوگی اور وہ ملت اسلامیہ کی حکومت ہے اور سوای اللہ تعالی کے زمین پر موجود تمام معبودوں [ یعنی ہر وہ شیءجس کی لوگ پرستش کرتے ہیں] پر اللہ تعالی آسمان سے آگ نازل کرے گا اوروہ آگ سب کو جلادے گی۔
۔“(نورالابصار ، باب الثانی، ص ۵۵۱، مومن شلنجی متوفی ، ۱۹۲۱ھ ق ۱)۔

4:”ابن ماجہ ، حدثنا حرملة بن یحی المصری وابراہیم بن سعید الجوہر قالاثنا ابو صالح عبدالغفار بن داود والحیرانی ثنا ابن ابی الھیعہ عن ابی زرعہ عمرو بن جابر الحضرمی عن عبداللّہ بن الحرث بن جزءالزبیدی قال: قال رسول اللّہ یخرج الناس من المشرق فیوطﺅن للمہدی یعنی سلطانہ
حافظ ابن ماجہ متوفی ۳۷۲ھ لکھتے ہیں ، ہم سے حرملہ ابن یحیٰ مصری نے وابراہیم سعید جوہر نے حدیث بیان کی کہ ان دونوں نے کہا ہم سے عبدالغفارابن داوود حیرانی نے حدیث بیان کی ، ان سے ابن ابی لھیعہ نے حدیث بیان کی ان سے ابی زرعہ عمرو بن جابر حضرمی نے ، ان سے عبداللہ بن حرث بن جزءزبیدی نے کہ انہوں نے کہا کہ رسول اللہ نے فرمایا: مشرق سے لوگوں کا ایک گروہ قیام کرے گا وہ مہدی یعنی اپنے سلطان کے لیے تیار ہونگے۔
“(سنن ابن ماجہ ، ابواب الفتن باب خروج المہدی ص ۸۶۳۱ ، ج۲ومنتخب کنزالعمال برحاشیہ مسند احمد ابن حنبل ، ج۶، ص۹۲)۔

5:ابن ابی شیبہ حدثنی مجاہد حدثنی فلان رجل من النّبی : ان المہدی لایخرج حتی یقتل النفس الزکیہ فاذا قتلت النفس الزکیہ غضب علیہم من فی السماءومن فی الارض فاتی الناس المہدی فزقّوہ کما تزفّ العروس الی زوجہا لیلة عِرسِہا وہو یملاءالارض قسطاً وعدلاً
ابن ابی شیبہ کہتے ہیں ہم سے مجاہد نے حدیث بیان کی ،ان سے ایک صحابی نے حدیث بیان کی ، کہ پیغمبر اکرم نے فرمایا نفس زکیہ کے قتل کے بعد خلیفہ خدا مہدی کا ظہور ہوگا جس وقت نفس زکیہ قتل کردئے جائیں گے زمین وآسمان والے ان کے قاتلین پر غضبناک ہوں گے اس کے بعد لوگ مہدی کے پاس آئیں گے اورانہیں شوق وشتیاق سے دلہن کی طرح اراستہ وپیراستہ کریں گے اوروہ اس وقت زمین کو عدل وانصاف سے بھر دیں ( ان کے زمانے میں ) زمین اپنی پیداوار بڑھادے گی اور آسمان سے پانی خوب برسے گااور ان کے دور خلافت میں امت میں اس قدر خوشحال ہوگی کہ ایسی خوش حالی کہ اس سے پہلے لوگوں کو کبھی نصیب نہ ہوئی ہوگی
( المصنف ابن ابی شیبہ ، متوفی ۳۵۲ ،ص ۸۹۱، الحادی للقنادی ، سیوطی ، باب الادب والرتق ، ج۲ ، باب اخبار المہدی) ۔

6:الصدیق الناجی عن ابی سعید الخدری قال، قال النّبی : ینزل بامتی فی آخر الزمان بلاءشدید من سلطان فہم لم سمع بلآءاشد منہ حتّی تفیق عنہم الارض الرحبہ وحتی یملاءالارض جوراً وظلماً لایجد المومن ملجاءاً یلتجی الیہ من الظّلم فیبعث اللّہ عز وجل من عترتی فیملاءالارض قسطاً وعدلاً کماملئت ظلماً وجوراً یرضی عنہ ساکن السماءوساکن الارض لاتدخر الارض من بذرھا شیئاً الّا صبّہ اللّہ علیہم مدراراً یعیش فیہم سبع سنین او ثمان او تسع تتمنّٰی الاحیاءالاموات ممّا صنع اللّہ ۔
رسول اللہ نے فرمایا: ” آخری زمانے میں میری امت کے سرپر ان کے پادشاہ کی جانب سے ایسی مصیبتیں نازل ہوں گے اس سے پہلے کسی نے اس کے بارے میں نہ سنا ہوگا اور میری امت پر زمین اپنی وسعت کے باوجود تنگ ہوجائے گی زمین ظلم وجور سے بھر جائے گی ، مومنین کا کوئی فریاد رس اور پناہ دینے والا نہ ہوگا ، اس وقت خدا وند عالم میرے اہل بیت میں سے ایک شخص کو بھیجے گا جو کہ زمین کو اسی طرح عدل وانصاف سے پر کرے گا جس طرح وہ ظلم وجور سے پرہوچکی ہوگی ۔ آسمان وزمین کے رہنے والے ان سے راضی ہوں گے ، اس کے لئے زمین اپنے خزانے اگل دے گی اور آسمان سے مسلسل بارشیں ہوںگی سات یا آٹھ یانو سال لوگوں
کے درمیان زندگی بسر کرے گا اورزمین میں رہنے والوں پر [ آپ کے دور میں ] اللہ تعالیٰ کی طرفسے جورحمتیں نازل ہوں گی [ اسے دیکھ کر] جو زندہ ہیں وہ مردوں کے زندہ ہونے کی آرزو کریں گے ، اوریہ حدیث سند کے لحاظ سے صحیح ہے ۔
(۔مستدرک الحاکم ، ج۴، ص ۲۱۵کتاب الفتی و الملاحم ”عن ابی سعید الخدری)

7:”حافظ ترمذی حدثنا عثمان بن ابی شیبہ ، ثنا الفضل بن وکین ، ثنا فطر، عن القاسم بن ابی بزہ عن ابی طفیل عن علی رضی اللہ عنہ، عن النّبی قال لولم یبق من الدہر الاّ یوم یبعث اللہ رجلاً من اہل بیتی یملائہا عدلاً کما ملئت جوراً۔“
حافظ ترمزی ، ہم سے عثمان بن ابی شیبہ نے حدیث بیان کی ، ان سے فضل بن وکین نے حدیث بیان کی ، ان سے فطر نے حدیث بیان کی ان سے قاسم ابن ابی بزہ نے ، ان سے ابی طفیل نے انہوں نے علی ابن طالب سے انہوں نے پیغمبر اکرم سے کہ آنحضرت نے فرمایا: اس دنیا کی عمر اگرچہ ایک دن ہی کیوں نہ رہ گئی ہو ، پر بھی اللہ تعالی اس دن کو طولانی کردے گا اوراس میں میرے اہل بیت میں سے ایک شخص کو مبعوث فرمائے گا جو زمین کو عدل وانصاف سے اسی طرح بھر دے گا جس طرح وہ ظلم وجور سے بھر چکی ہوگی۔
( سنن ترمذی ، ابواب الفتن ، باب ماجاءفی المہدی ، ج۴، ص ۳۴؛ ایضاً جامع الاصول من احادیث الرسول ، ج۱۱، حدیث ۱۱۸۷؛ البیان فی اخبار صاحب الزمان باب اول ، ذکر خروج المہدی فی آخر الزمان ، ص ۶۸ ؛ الصواعق المحرقہ ، الایة الثانیة عشر، ص ۳۶۱)

8:” ترمذی ، حدثنا عبیدبن اسباط بن محمد القرشی ، اخبرنا ابی ، اخبرنا سفیان الثوری عن عاصم بن بھدلة عن زرِّ ، عن عبداللہ قال: قال رسول اللہ : لاتذہب الدنیا حتی یملک العرب رجل من اہل بیتی یواطی اسمہ اسمی “ وھذا حدیث حسن صحیح۔
ترمذی ، ہم سے عبیدبن اسباط بن محمد قرش نے حدیث بیان کی ، ان کو ان کے والد نے خبردی ان کی سفیان ثوری نے خبردی ، انہوں نے عاصم بن بدلہ سے ، انہوں نے رز [بن جیش] سے انہوں نے عبداللہ [ بن مسعود] سے کہ انہوں نے کہا: رسول خدا نے فرمایا: دنیا اس وقت تک ختم نہیں ہوگی جب تک میراہم نام ایک شخص میرے اہل بیت میں سے پورے عرب پر حکومت نہ کرے ۔
اور اس باب میں علی ، ابوسعید ام سلمہ اورابوہریرہ سے بھی احادیث منقول ہیں اوریہ حدیث حسن صحیح ہے ۔
( سنن ترمذی ، ابواب الفتن ، باب ماجاءفی المہدی ، ج۱، ص ۲۰۸۔)

9:”احمد بن حنبل ، عن رزّ ، عن عبداللّہ ، عن النّبی ” لاتقوم الساعة حتی یلی رجل من اہل بیتی ، یواطئی السمہ اسمی“
احمد رز نے عبداللہ سے ، انہوں نے پیغمبر اکرم کہ حضور نے فرمایا: اس وقت تک قیامت برپانہ ہوگی جب تک میرے اہل بیت میں سے میر ا ہم نام ایک شخص ظہور نہ کرے
(مسند احمد، باب اشراط الساعة ، ج۵، ص۰۳)

10:”کنجی شافعی ، عن ابن عباس انّہ قال ، قال رسول اللہ کیف تہلک امة انا فی اولّہا وعیسیٰ فی آخر ہا والمہدی فی وسطہا۔“
ابن عباس رسول اللہ سے ناقل ہیں کہ آپ نے فرمایا: وہ امت کیوں کر ہلاک ہوسکتی ہے جس کا اول میں ، آخر میں عیسیٰ اور وسط میں ”مہدی “ ہیں
( البیان ، ص ۶۲۱ ؛ کنز العمال ، ج۴۱ ص ۶۲۲۔)
نوٹ: اس حدیث سے ممکن ہے ، یہ توہم پیدا ہو کہ حضرت امام مہدی کے بعد حضرت عیسیٰ زندہ رہیں گے اورامت اسلامی کی قیادت کریں گے ، لیکن یہ توہم صحیح نہیں ہے ، کیوں کہ دوسری احادیث میں وارد ہوا ہے ” لاخیر فی العیش بعدہ “ ( امام مہدی) ولاخیر فی الحیات بعدہ “ ان کے[مہدی] بعد زندگانی میں کوئی بھلائی نہیں اور
نہ ہی ان کے بعد زندہ رہنے میں کوئی بھلائی ہے ۔ اس قسم کی احادیث اس بات پر دلالت کرتیں ہیں کہ حضرت عیسیٰ(ع) حضرت مہدی (عج) سے پہلے رحلت فرمائیں گے ، ورنہ ، جس قوم میں عیسیٰ بن مریم (ع) جیسا نبی اور ولی خدا موجود ہو ”لاخیر فی الحیات بعدہ“ معنی نہیں رکھتا ، ثانیاً : لازم آتا ہے کہ مخلوق الہیٰ بغیر امام اور حجت خدا کے باقی رہے یہ صحیح نہیں ہے
(البیان فی اخبار صاحب الزمان باب العاشر ، ذکر کرم المہدی ، ص ۰۲۱)۔
 

9 Jan 2012 |

 
 

عقیدہ مہدویت تمام مذاہب میں

عقیدہ مہدویت تمام مذاہب میں
  :،مولف:محمود حسین حیدری
مہدی موعود کا عقیدہ مسلمانوں سے مخصوص ہے یایہ عقیدہ دوسرے مذاہب میں بھی پایا جاتا ہے ؟
جیسا کہ بعض منکرین مہدویت کاکہنا ہے : عقیدہ مہدویت کی اصل یہودیوں وغیرہ کے عقاید میں ہے جہاںسے مسلمانوں میں سرایت کرگیا ہے ورنہ اس عقیدے کی ایک افسانہ سے زیادہ حقیقت نہیں ہے (المہدیہ فی الاسلام ، ص ۸۰۴۔)

جواب
مہدویت یعنی ایک عالمی نجات دھندہ کا تصور اس وقت سے ہے جب کہ اسلام نہیں آیا تھا اوریہ تصور صرف اسلام میں محدود نہیں ہے ، ہاں اس کی تفصیلی علامتوں کی اسلام نے اس طرح حدبندی کی ہے کہ وہ ان آرزووں کو مکمل طور پر پورا کرتی ہے ، جو دینی تاریخ کی ابتداءہی سے عقیدہ مہدویت سے وابستہ کی گئی ہیں ، جوتاریخ کے مظلوموں اور دبے ہوئے انسانوں کے احساسات کو ابھارنے کے لئے ہے ، اس کی وجہ یہ ہے کہ اسلام نے غیب پرایمان وعقیدے کو واقعیت میں بدل دیا ہے اوراسے مستقبل سے حال میں پہنچادیا ہے اور مستقبل بعید کے نجات دہندہ کو موجودہ نجات دہندہ پر ایمان میں بدل دیا ہے (بحوث حول المہدی ، ص ۳۱ باقر الصد (رح) تھوڑا لفظی رد وبدل کے ساتھ )۔
مختصر یہ کہ عقیدہ مہدویت سارے مذاہب وادیان اور ملتوں میں موجود ہے اوروہ ایسے ہی
طاقتورغیبی موعود کے انتظار میں زندگی بسر کرتے ہیں البتہ ہر مذہب والے اسے مخصوص نام سے پہچانتے ہیں ۔
مثال کے طور پر ہندوں کے مذہبی رہنما ” شاکونی“ کی کتاب سے نقل ہوا ہے کہ ” دنیا کا خاتمہ سید خلایق دو جہاں ” کِش “ [پیامبر اسلام ]ہوگا جس کے نام ستادہ [ موعود] خدا شناس ہے۔
اسی طرح ہندوں کی کتاب ” وید“ میں لکھا ہے ” جب دنیا خراب ہو جائے گی تو ایک بادشاہ جس کا نام ” منصور “ ہے آخری زمانے میں پیدا ہوگا اورعالم بشریت کا رہبر وپیشوا ہوگا۔اوریہ وہ ہستی ہے جو تمام دنیا والوں کو اپنے دین پر لائے گا۔
اورہندوں ہی کی ایک اور کتاب ” باسک “ میں لکھا ہے ” آخری زمانے میں دین ومذہب کی قیادت ایک عادل بادشاہ پر ختم ہوگی جو جن وانس اور فرشتوں کا پیشوا ہوگا، اسی طرح ” کتاب پاتیکل“ میں آیا ہے جب دنیا اپنے آخری زمان کو پہنچے تو یہ پرانی دنیا نئی دنیامیں تبدیل ہوجائے گی اوراس کے مالک دو پیشواوں ” ناموس آخرالزمان [ حضرت محمد مصطفی اور ” پشن[ علی بن ابی طالب ] کے فرزندہوں گے جس کا نام راہنما ہوگا۔(۔ستارگان درخشان ، ج۴۱، ص ۲۳۔)
اوریہی ہے جیسے زردتش مذہب میں اسے ” سوشیانس“ یعنی دنیا کو نجات دلانے والا ، یہودی اسے ” سرور میکائلی “ یا ” ماشع“ عیسائی اسے ” مسیح موعود“ اور مسلمان انہیں ” مہدی موعود(عج) “ کے نام سے پہچانتے ہیں لیکن ہر قوم یہ کہتی ہے کہ وہ غیبی مصلح ہم میں سے ہوگا۔
اسلام میں اس کی بھر پور طریقے سے شناخت موجود ہے ، جب کہ دیگر مذاہب نے اس کی کامل شناخت نہیں کرائی ۔
قابل توجہ بات یہ ہے کہ اس دنیا کو نجات دینے والے کی جو علامتیں اور مشخصات دیگر مذاہب میں بیان ہوئے ہیں وہ اسلام کے مہدی موعود(عج) یعنی امام حسن عسکری (علیہ السلام) کے فرزند پر منطبق ہوتے ہیں ۔
( آفتاب عدالت ، ابراہیم امینی ، مترجم نثار احمد خان زینپوری ، ص ۳۸ ، ۴۸۔)
مختصر یہ کہ ایک غیر معمولی عالمی نجات دہندہ کے ظہور کا عقیدہ تمام ادیان ومذاہب کا مشترکہ عقیدہ ہے جس کا سرچشمہ وحی ہے اورتمام انبیاء نے اس کی بشارت دی ہے ساری قومیں اس کی انتظار میں ہیں لیکن اس مطابقت میں اختلاف ہے ۔
 

9 Jan 2012 |

 
 

عقیدہ مہدی (عج) کا مسلم ہونا

عقیدہ مہدی (عج) کا مسلم ہونا
  ،مولف:محمود حسین حیدری
حضرت امام مہدی سے متعلق پیغمبر اکرم (ص) کی احادیث میں غور کرنے سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ ” حضرت مہدی(ع) “ کا موضوع پیغمبر اکرم (ص) کے زمانے میں مسلم تھا چنانچہ لوگ ایسے شخص کے منتظر تھے حق کی ترویج اور عدل وانصاف کے لئے قیام کرے ، یہ عقیدہ لوگوںمیں اتنا مشہور تھا کہ لوگ اس کو مسلم سمجھتے تھے ، اوراس کے فروغ اورخصوصیات کے بارے میں گفتگو کرتے تھے اور ان کے نسبت کنیت اور القاب وغیر کے بارے میں سوال کرتے تھے رسول اللہ (ص) بھی گاہ بگاہ آپ (ع) کے وجود وظہور اورخصوصیات سے متعلق خبردیا کرتے اورفرماتے تھے ،
مہدی بارہ اماموں میں سے آخری امام ہے ، جو میری نسل ہیں اورفاطمہ(س) وعلی(ع) کے فرزند حسین (ع) کی اولاد سے ہوگا ، زمین کے ظلم وجور سے بھر جانے کے بعد ظہور کرے گا اوردنیا کو اسی طرح عدل وانصاف سے بھر دے گا جس طرح وہ ظلم وستم سے بھر چکی ہوگی ، مکہ سے ظہور کرے گا رکن ومقام کے درمیان بیعت لے گا وہ دین کا مددگار اور سچے ولی خدا ہوگا آپ کے زمانے میں کفار اور ملحدین سے زمین کی طاقت چھن جائے گی اور پوری دنیا میں اسلام کی مقتدر حکومت ہوگی ہرجگہ اسلام کا بول بالا ہوگا آپ کی حکومت دنیا کی آخری حکومت ہوگی آپ کی سیرت وہی ہوگی جو رسول اللہ کی تھی ایسی قرآن اوردین سے دفاع کریں گے جو آپ کے جدّامجد پر نازل ہواتھا۔
مختصر یہ کہ ” عقیدہ مہدویت “ لوگوں میں اتناراسخ ہوگیا تھا کہ وہ صدر اسلام ہی سے ان کے انتظار میں دن گنا کرتے تھے اورحق کی کامیابی کو یقینی سمجھتے تھے ، یہ انتظار خطرناک حالات اورمعاشرے میں پھیلتی زیادتی وظلم کی وجہ سے اورزیادہ شدید ہوجاتا تھا ، یہاں تک لوگ ہرلمحہ حقیقی منتظر کی تلاش میں رہتے اورکبھی غلطی سے بعض افراد کو مہدی(ع) سمجھ بیٹھے تھے ۔مثال کے طور پر جناب (محمد حنیفہ (رض) رسول اللہ کے ہمنام ) وہم کنیہ تھے اس لئے مسلمانوں کا ایک گروہ انہیں مہدی سمجھ بیٹھا۔
اسی طرح مسلمانوں کا ایک گروہ محمد بن عبداللہ بن حسن کو مہدی سمجھ بیٹھا فرقہ ابی سلمہ ابو مسلم خراسانی کو اور ہابی احمد باربلی کو ، قادیانی مرزا احمد قادیانی کو ، بنی امیہ سفیانی کو اور بنی عباس مہدی عباسی کو بابی ، محمد علی باب کو اور بہائی فرقہ مرزا حسین نوری کو مہدی سمجھتا ہے ۔

عقیدہ مہدویت صد در صد اسلامی ہے
گذشتہ بحثوں سے بات واضح ہوگی کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ عقیدہ مہدویت خالص اسلامی عقائد میں سے ایک ہے جس کا اصلی سرچشمہ کتاب وسنت ہیں ا ور تمام مسلمان صدر اسلام سے لے کر آج تک اس سلسلے میں اتفاق نظر رکھتے ہیں یہاں تک کہ بہت سے علماءومحققین نے ان احادیث کے متواتر ہونے کی تصریح کی ہے اوریہ ایک ایسا عقیدہ ہے جس کی بنیاد محکمترین دلیل عقلی اورنقلی پر استوار ہے اورتاریخ اسلام کے مطالعہ سے یہ بھی واضح ہوجاتا ہے کہ کسی بھی شیعہ وسنی مسلمان نے صدر اسلام سے لے کر آج تک اس عقیدے سے انکار یااس کے بارے میں شک نہیں کیا ہے ، مگر یہ کہ اس آخری صدی میں کچھ نافہم اوراستعمار کے ایجنٹ اورکچھ لوگ جو مغرب والوں کے پڑوپیگنڈے سے متاثر ہوکر ہرچیز کی مادی نقطہ نگا ہ سے تفسیر وتحلیل کرتے ہیں ان کج فکر لوگوں نے یہ کوشش کی ہے کہ ایک ایسا راستہ نکالیں جس کے ذریعے قرآن وسنت کے بارے میں مسلمانوں کے درمیان شکوک وشبہات ایجاد کریں۔
خدا نخواستہ اگریہ راستہ کھل گیا تو کتاب وسنت سے اعتماد اٹھ جائے گا اور قوانین اسلامی ہواپرستوں اور بدعت گزاروں کی خواہش کے مطابق تحریف کا شکار ہوجائیں گے۔
انصاف سے بتائے اگر ایسی احادیث وروایت جن کے متواتر ہونے پر علماءحدیث ورجال وتاریخ نے تصریح کی ہو، سے انکار اوران کے بارے میں شکوک وشبہات پیدا کریں تو ان احادیث کا کیا ہوگا جو خبرواحد شمار ہوتیں ہیں یہی وجہ ہے کہ دانشمندوں اورعلماءاسلام میں سے ایک گروہ نے منحرفین اور مغرضین کے ان ناپاک عزائم کو درک کرتے ہوئے اِن کے خطرات اور عزائم سے مسلمانوں کو آگاہ کرنے کے لئے اس منحرف گروہ کی ردّ میں کتابیں لکھی ہیں اور دور حاضر کے علماءکا بھی یہ فریضہ بنتا ہے کہ منحرفین کے غلط تبلغ سے متاثر ہونے کے بجائے ان کے اصلی چہرے سے مسلمانوں کو آگاہ کرنے کے لئے قلم اٹھائیں اور اسلام کے صحیح عقائد سے مسلمانوں خصوصاً جوانان اسلام کو آگاہ کریں۔
 

9 Jan 2012 |

 
 

امام مہدی (عج) کے عقیدہ پر مسلمانوں کا اجماع

امام مہدی (عج) کے عقیدہ پر مسلمانوں کا اجماع
  ،مولف:محمود حسین حیدری
----
عقیدہ مہدویت کے مسلم الثبوت ہونے پر صدر اسلام کے مسلمانوں میں اجماع واضح اور بلا شبہ ہے

اجماع مسلمین سے مرادصرف اجماع شیعہ نہیں ہے کیونکہ یہ واضحات میں سے ہے اورسب جانتے ہیں کہ عقیدہ وجو دوظہور امام مہدی(عج) اصول وضروریات مذہب شیعہ اثنا عشری میں سے ہے جس میں کوئی بحث کی گنجائش نہیں ۔ بلکہ اجماع مسلمین سے مراد اجماع شیعہ و اہل سنت ہے رسول اللہ کی وفات کے بعد صحابہ و تابعین کے درمیان عقیدہ مہدی(عج) مسلم تھا اورظہور حضرت امام مہدی (عج) کے بارے میں کوئی اختلاف نہیں تھا، اسی طرح قرن اول کے بعد سے لے کر چودہوں صدی ہجری تک آپ کے ظہور کے سلسلے میں بھی تمام مسلمانوں کے درمیان اتفاق تھا ، اوراگر کوئی ان احایث کی صحت اوران کے رسول خدا سے صادر ہونے کے بارے میں شک یاتردد کرتے تو اس شخص کی ناواقفیت پر حمل کرتے تھے ، یہی وجہ ہے آج تک تاریخ اسلام میں جھوٹے اور جعلی مہدیوں کی رد میں کسی نے یہ نہیں کہا کہ یہ عقیدہ ہی باطل ہے ، بلکہ حضرت مہدی(عج) کے اوصاف اور علامتوں کے نہ ہونے کے ذریعے رد کیا ہے ۔
مثال کے طور پر ” ابو الفرج“ لکھتے ہیں : ” ابوالعباس “ نے نقل کیا ہے کہ میں نے مروان سے کہا” محمد[بن عبداللہ] “ خود کو مہدی کہتے ہیں ، اس نے کہا: نہ وہ مہدی موعود (عج) ہے نہ ان کے باپ کی نسل سے ہوگا بلکہ وہ ایک کنیز کا بیٹا ہے ۔( مقاتل الطالبین ،ص۲۴۱ ؛ آفتاب عدالت ، ص ۸۵۔)
ابو الفرج ہی لکھتے ہیں : جعفر بن محمد [ امام جعفر الصادق] علہ اسلام جب بھی محمدبن عبداللہ کو دیکھتے گریہ کرتے تھے اورفرماتے تھے ” ان پر [ حضرت مہدی (عج)] میری جان فدا ہو، لوگ خیال کرتے ہیں کہ یہ شخص مہدی موعود ہے جب کہ یہ قتل کیا جائے گا اورکتاب علی علیہ السلام میں امت کے خلفاءکی لسٹ میں اس کا نام نہیں ہے ۔( مقاتل الطالبین ،ص۶۶۱ ؛ آفتاب عدالت ، ص ۱۶۔)
مختصریہ کہ ” عقیدہمہدویت “ صدر اسلام سے ہی مسلمانوں کے درمیان مشہور تھا اورلوگوں میں اتنا راسخ ہوگیا تھا کہ وہ صدر اسلام ہی سے ان کے انتظار میں تھے اورہر لمحہ صحیح مصداق کی تلاش میں رہتے تھے اورکبھی غلطی سے بعض افراد کو مہدی سمجھ بیٹھتے تھے ، اور جیسا کہ عرض کیا مسئلہ مہدی (عج) پر مسلمانوں کا اجما ہے ۔چنانچہ :

۱۔ ” سویدی “ ” سبائک الذہب“ میں تحریر کرتے ہیں :
”الذین اتفق علیہ العلماءان المہدی ھو القائم فی آخر الوقت ، انّہ یملاءالارض عدلاً والاحادیث فیہ وفی ظہورہ کثیرہ ۔“
وہ چیز جس پر علماءاسلام کا اتفاق ہے وہ یہ ہے مہدی قائم کی شخصیت جو آخری زمانے میں ظہور فرمائیں گے اورزمین کو عدل سے پر کردیں گے۔ اورحضرت مہدی(عج) کے وجود اورظہور کے بارے میں احادیث بہت زیادہ ہیں۔(سویدی ، سبائک الذہب ، ص ۸۷۔)

۲۔ جناب ابن ابی الحدید معتزلی ” شرح نہج البلاغہ “ میں لکھتے ہیں :
” قد وقع اتفاق الفریقین من المسلمین اجمعین علی انّ الدنیا والتکلیف لاینقض الّا علیہ ۔“( شرح نہج البلاغہ ، ج۳،ص ۵۳۵۔)
تمام شیعہ وسنی مسلمانوں کا اس بات پر اتفاق ہے کہ یہ دنیا اور تکلیف ختم نہیں ہوگی مگر یہ کہ حضرت مہدی پر ، یعنی حضرت مہدی کے ظہور کے بعد۔

۳۔ شیخ علی نامف ” غایة المامول “ میں لکھتے ہیں:
”اتّضح مماسبق ان المہدی المنتظر من ہذہ الامة وعلی ہذا سلفاً وخلفاً۔(۔غایة المامول شرح تاج جامع الاصول ، ج۵، ص۹۹۲۔)
” مہدی منتظر اسی امت میں سے ہیں اوراہل سنت میں سے جو لوگ گزر گئے اور جو آنے والے ہیں سب کا یہی عقیدہ تھا اور ہے ۔“

۴۔ علامہ شیخ محمد سفاری حنبلی ؛ ” لوایع الانوار البہیّة“ میں لکھتے ہیں :
”فاالایمان بخروج المہدی واجب کما ہو مقرر عنداہل العلم ومدوّن فی عقاید اہل السنہ والجماعة“
امام مہدی کے خروج اور ظہور پر ایمان رکھنا واجب ہے جیسا کہ یہ بات اہل علم کے نزدیک مشخص اور عقائد ہ اہل سنت والجماعت میں لکھی ہوئی ہے ۔( لوایع الانوار البہیہ وسواطع الاسرار الاثر یہ ، ج۲، ص ۷۳۔)

۵۔ جناب ابن خلدون ” المقدمہ میں لکھتے ہیں :
”اعلم انّ المشہور بین الکافہ من اہل الاسلام علی ممرالاعصار انّہ لابدّ من آخر الزمان من ظہور رجل من اہل البیت یوید الدّین ویظہر العدل ویتبعہ المسلمون ویستولی علی الممالک الاسلامیہ ویُسمی باالمہدی “
” جان لیں ! تمام اہل اسلام [ اعم از شیعہ وسنی ] میں یہ بات مشہور تھی اورہے کہ آخر ی زمانے میں اہل بیت پیغمبر میں سے ایک شخص ظہور فرمائے گا وہ دین کی مدد کرے گا اور عدل کا قیام کرے گا اورتمام مسلمان اس کی پیروی کریں گے ، وہ اسلامی ممالک کی سرپرستی کرے گا اوراس کا نام مہدی ہوگا۔( ۔مقدمہ ابن خلدون ج۲، ص ۱۸۷، باب فی امر الفاطمی ومایذہب الیہ الناس۔)
۶۔علامہ محمد جواد مغنیہ مصری ” الشیعہ والتشیع “ کے ص، ۶۳۲ پر لکھتے ہیں ”وجود مہدی(عج) کو عقل کے سامنے پیش کیا تو انکار نہیں کیا، قرآن کی طرف رجوع کیا تو اس موضوع کے مشابہ بہت پایا، حدیث نبوی کی طرف مراجعہ کیا ، حدیثیں بہت زیادہ تھیں ، اہل سنت والجماعت کی کتابوں میں تلاش وجستجو کی تو سب کو اپنا ہم عقیدہ پایا، پس کس طرح یہ مسئلہ[ مہدی(عج)] مسائل خرافی میں سے ہے ؟ فاضل مصنف حضرت مہدی(عج) کے بارے میں علماءاہل سنت کے اقوال کو بیان کرنے کے بعد لکھتے ہیں” پس یہ مہدی(ع) جسے ترمذی، ابن ماجہ ، ابی داوود، ابن حجر ، ابن صباغ مالکی وصفدی وغیرہ کہتے ہیں وہی مہدی موعود ہیں جن کے وجود کے شیعہ قائل ہیں :اگر حضرت مہدی(عج) کا وجود مسائل خرافی میں سے ہے تو اس کے ،ذمہ دار خود پیغمبراکرم(ص) ہیں ، اور وہ لوگ جو وجود مہدی(ع) کا مذاق اڑاتے ہیں حقیقت میں یہ لوگ اسلام اور رسول اکرم (ص)کا مذاق اڑاتے ہیں ، کیوں کہ پیغمبراکرم (ص) نے فرمایا :” من انکر المہدی فقد کفر بما انزل علیٰ محمد “ جس نے مہدی کا انکار کیا وہ کافر ہوگیا ۔( الشیعہ والتشیع، ص ۶۳۲۔)
۷۔قاضی بھلول آفندی المحاکمہ فی تاریخ آل محمد “ میں لکھتے ہیں :”انّ ظہورہ امراتفق علیہ المسلمون فلا حاجة الیٰ ذکر الدلیل۔“حضرت مہدی(عج) کا ظہور ایک ایسا امر ہے جس پر تمام مسلمانوں کا اتفاق ہے ، لہذا کسی دلیل کے ذکر کرنے کی ضرورت نہیں ہے ۔
یہ تھے چند بزرگ سنی علماءکے اقوال جن میں وجود اور ظہور حضرت امام مہدی(عج) پر اجماع کا دعوی کیا گیا ہے ۔
۸۔ ایک اورقول ملاحظہ فرمائیں ” حضرت مہدی(ع) کے ظہور اورآمد کے بارے میں دنیا کے کسی مسلمان کا اختلاف نہیں، اہل سنت کے چاروں امام اور عہد حاضر میں مسلمانوں کے تمام مکاتب فکر حضرت امام مہدی(عج) کے ظہور اورآمد پر متفق ہیں البتہ اہل سنت اور شیعہ! دونوں کے عقاید کے مطابق
امام مہدی(عج) کا ایک ہونا کسی بھی چھوٹی سی روایت اورآنحضرت کی بیان کردہ کسی بھی حدیث سے ثابت نہیں ہوتا۔
” ہم نہیں جان سکے کہ شیعہ نے ظہور مہدی کے بارے میں جو عقیدہ اپنا یا ہے اس کا مآخذ کیا ہے ، صرف آنحضرت ہی نہیں بلکہ شیعہ کے مذکورہ عقیدے کی تائید میں حضرت علی رض حضرت حسن ؛اورحضرت حسین رض کی طرف سے بھی کوئی سند نہیں ملتی۔“
”آنحضرت کی بیان کردہ احادیث کے مطابق ” بعثت مہدی“ کا عقیدہ تو تیار ہوگیا ، لیکن وہ آنحضرت کی بیان کردہ ساٹھ ۶۰ سے زیادہ علامات کو اپنے مزعوم ” امام مہدی ع “ پر منطبق نہ کرسکے۔ انہیں یہ مشکل ہر دور میں پیش آئی ہے (حضرت امام مہدی، ضیاءالرحمن فاروقی،ص۱۷،۱۸،۲۰)
یہ تھے جناب فاروقی صاحب کے الفاظ کہ انہوں نے بھی تسلیم کیا ہے کہ ظہور حضرت مہدی(عج) کے بارے میں مسلمانوں کے تمام مکاتب اتفاق نظر رکھتے ہیں ان کے اور دوسرے علماءاہل سنت کے اقوال کا نتیجہ یہ ہے کہ ” عقیدہ وجود وظہور حضرت مہدی (ع)“ ؛مسلمانوں کے متفق علیہ عقاید میں سے ایک ہے اوراس عقیدے کے واضع خود پیغمبر اکرم (ص) ہیں ۔
لیکن جناب فاروقی کا یہ کہنا کہ ” شیعہ اوراہل سنت کے عقاید کے مطابق امام مہدی(عج) کا ایک ہونا کسی بھی چھوٹی سی روایت سے ثابت نہیں ہوتا“
ایک غلط دعویٰ ہے ، کیونکہ حضرت مہدی(ع) کے بارے میں جوروایتیں وارد ہوئی ہیں اسے شیعوں نے بھی نقل کیا ہے اورسنی محدثین نے بھی،
رہا شیعوں کی روایات کے مآخذ ، ! تو اسے جناب فاروقی صاحب بھی جانتے تھے کہ شیعہ روایات کاماخذ ومنبع وحی الہیٰ ہے جو خاندان وحی ( یعنی آل رسول ) کے توسط سے ان تک پہنچی ہے ، لہذا کبھی بھی مقام تطبیق میں مشکل سے دچار نہیں ہوئے ۔
کاش فاروقی صاحب ( عدم تطبیق) کی تہمت لگانے سے پہلے شیعہ علماءاورمحققین کی کتابیں پڑھنے کی زحمت گوارا کرتے تو جس طرح وجود وظہور حضرت مہدی(عج) کا انکار نہ کرسکے اسی طرح واضح ہوتا کہ شیعوں کے نزدیک حتی وجود وذات والامقام حضرت مہدی(ع) بھی کبھی مبہم نہیں رہا اور وہ ابھی تک اس مسئلے میں دوسروں کے برخلاف مطمئن رہے ہیں اس لئے کہ جس کے ظہور کے وہ منتظر ہیں ابھی ان کا ظہور ہوا ہی نہیں ورنہ روایات شیعہ جن اوصاف کا ذکر کرتیں ہیں وہ سب ان کے امام پر کاملاً منطبق ہیں ۔
لیکن افسوس اہل سنت کے کچھ افراطی وتفریطی گروہ پر جو مدارک سند تاریخ اوراسلامی افکار کے گہرے مطالعہ کی محرومی یاکتب اہل سنت میں موجود متضاد احادیث کی وجہ سے مشکلات کا شکار ہوئے ہیں یاہورہے ہیں ، لیکن جن بزرگ سنی علماءنے اسلامی افکار اوراحادیث کا گہرا اور دقیق مطالعہ کیا ہے انہوں نے پہلے گروہ کے خلاف امام مہدی (عج) کے شیعی تصور ( جسے پیغمبر اکرم (ص) اوران کے اہل بیت(ع) نے پیش کیا تھا) کو قبول کیا
رسول خدا (ص)اورائمہ اہل بیت(ع) سے ایسی سیکڑوں احادیث وارد ہوئی ہیں جن سے حضرت مہدی (ع) کا تعیین ہوتا ہے ، نیز ان احادیث کی دلالت اس بات پر ہے کہ حضرت امام مہدی(عج) ، اہل بیت(ع) میں سے ہون گے ،اولاد فاطمہ (س) میں سے ہوں گے ، حضرت امام حسین(ع) کی ذریت میں سے ہوں گے وہ امام حسین (ع) کی نویں پشت میں ہیں ۔
امام یاخلیفہ وامیر بارہ ہوں گے ، ان میں پہلے علی (ع)اورآخری مہدی (ع) ہوں گے یعنی مہدی(عج) بارہ اماموں میںسے ایک ہیں ۔
یہ روایات اس عام تصور کو ائمہ اہل بیت(ع) کے بارہویں امام ( حضرت مہدی بن حسن عسکری (ع) ) میں محدود کردیتی ہیں اور سب سے بڑی بات تو یہ ہے کہ ان روایات کو نقل کرنے والے جناب بخاری ومسلم وابی داوود واحمد ، امام محمد تقی وامام علی النقی اورامام حسن العسکری کے ہمعصر تھے اس سے یہ بات واضح سمجھ میں آتی ہے کہ اس احادیث کو رسول اللہ سے اس وقت نقل کیاگیا جب کہ خارج میں اس کا مصداق نہیں تھا اور ائمہ کی تعداد مکمل نہیں ہوئی تھی۔ لہذا یہ شک نہیں کیا جاسکتا کہ یہ احادیث ، شیعہ ائمہ (ع)کی واقعی تعداد کے مطابق نقل کردی گئی ہے تاکہ ان کے بارہ امام کے عقیدے کی تقویت ہو جائے اورجب تک ہمارے پاس یہ دلیل ہے کہ مذکورہ احادیث ائمہ اثناعشر ( جن کے شیعہ قائل ہیں ) کی واقعی تعداد مکمل ہونے سے پہلے ہی کتابوں میں نقل کی گئی ہے تو ہم اعتماد سے کہ سکتے ہیں کہ یہ حدیث کسی طے شدہ منصوبے کے تحت جعل نہیں ہوئی ہے بلکہ یہ ایک الہیٰ حقیقت ہے جسے اس نے بیان کیا ہے جو اپنی طرف سے اوراپنی خواہش سے کچھ نہیں کہتا ہے [ وماینطق عن الہویٰ ان ہو الاّ وحی یوحیٰ] اور خلیفہ یاامام ، یاامیر ، بارہ ہوں گے آپ کی یہ پیشین گوئی اس وقت پوری ہوئی جب یہ تعداد امام المتقین امیر المومنین علی ابن ابی طالب(ع) سے شروع ہوک امام مہدی(ع) تک بارہ ہوگئی اس طرح حدیث نبوی کاایک مصداق خارج مین متحقق ہوگیا ،” فماذا بعد الحقّ الاّ الضلال فانّیٰ تصرفون۔“ (سورہ یونس ، آیت ۲۳۔)

اور حق کی روشن راہ کے بعد بجز گمراہی کچھ نہیں تو تم کہا بہکے جارہے ہو؟
 

9 Jan 2012 |

 
 

منکرین مہدی (عج) کی ضعیف دلیلیں اور انکا رد

منکرین مہدی (عج) کی ضعیف دلیلیں اور انکا رد
  ،مولف:محمود حسین حیدری
--------
اہل مطالعہ و تحقیق جانتے ہیں کہ کتب اہل سنت میں احادیث ظہور حضرت مہدی(عج) اتنی زیادہ ہیں کہ جو بھی غیر جانب دارانہ اورانصاف کے ساتھ ان کی طرف رجوع کرے گا اسے اس بات کا یقین حاصل ہوجائے گا کہ ان سب کی دلالت اس بات پر ہے کہ وجود مہدی(عج) اسلام ومسلمین کے ان مسلم عقاید وموضوعات میں ہے کہ جن کا بیچ خود حضور پاک(ص) نے بویا، اورآئمہ علیہم السلام اور اصحاب کرام نے ان کی آبیاری کی ہے ، لہذا یقین کے ساتھ کہا جاسکتا ہے کہ وجود ظہور حضرت امام مہدی(عج) کے بارے میں متون اسلامی میں جتنی حدیثیں وارد ہوئیں ہیں اتنی احادیث کسی اورموضوع کے بارے میں وارد نہیں ہوئیں ہیں ، واضح رہے ابتداءبعثت سے حجة الوادع تک پیغمبر اکرم(ص) نے سینکڑوں مرتبہ حضرت مہدی (عج) کے بارے میں گفتگو کی ہے ، اورعہد رسول اکرم(عج) سے ہی لوگ ان کے انتظار میں دن گنتے تھے یہاں تک کہ کبھی تو بعض لوگ کسی کو اس کا حقیقی مصداق سمجھ بیٹھے تھے، ان سے متعلق شیعہ وسنی دونوں راویوں نے احادیث نقل کی ہے، ان کے رایوں میں عرب، عجم ، مکی ومدنی ،کوفی بغدادی، بصری، قمی ، کرخی، بلخی ، خراسانی ، وغیرہم شامل ہیں ، کیا ان ہزاروں سے زائد احادیث کے باوجود کوئی مسلمان وجود مہدی(عج) کے بارے میں شک کرے گا اوریہ کہے گا کہ یہ احادیث متعصب شیعوں نے جعل کر کے پیغمبراکرم(عج) کی طرف منسوب کردیں ہیں ؟؟
ان واضح حقائق کے مقابلے میںحضرت مہدی(عج) کی شخصیت کے بارے میں شکوک وشبہات ایجاد کرنا اور آپ کی شخصیت کو کسی ایک فرقے سے منسوب کرنے کی کوشش واقعیت پر پردہ ڈالنا ہے، اسلام کے ایک بنیادی عقیدہ کو دبانا اوراسلام کو ضعیف کرنا ہے ، اورآج کی حالت کو دیکھ کر کہا جاسکتا ہے ، یہ منفی پڑوپیگینڈہ یقینا ، جہل کی بنیاد پر نہیں علم کی بنیاد پر کیا جارہا ہے ، اس مذموم پروپیگینڈے کا اصل مرکز دنیا کے کسی اورگوشے میں ہے، جسے برصغیر بالخصوص وطنِ عزیز پاکستان میں بھی پھلانا چاہتے ہیں جس سے غافل نہیں رہا جاسکتا، اس سلسلے میں کچھ توضیحات دیں گے تاکہ جوانان اسلام زیادہ سے زیادہ اسلام دشمن عناصر کی حقیقت اوران کے ناپاک عزائم سے آشنا ہوسکیں ۔
ہم یہا ں امام مہدی (عج) کے منکرین کی کچھ ضعیف دلیلوں کو بیان کرتے ہیں تاکہ قارءین پر واضح ہو کہ امام زمانہ کے منکر کیسی ناپاک سازشوں میں مصروف ہیں:

منکرین عقیدہ مہدویت کی دلیل :

پہلا سبب عبداللہ بن سبا
کچھ اہل سنت کے نام نہاد لوگوں نے اپنی معتبر حدیثوں کی کتب میں امام مہدی (عج) پر سینکڑوں احا دیث اور باب المہدی یا کتاب المہدی جیسے عناوین کو نظر انداز کرتے ہویے ڈھٹایی سے یہ کہنا شروع کر دیا کہ عقیدہ مہدویت صرف شیعہ عقاید میں سے ہے اور انہوں نے اس عقیدے کو دوسرے مذاہب خصوصاً یہودیوں سے لیا ہے، یعنی صدر اسلام میں مادی فوائد کے حصول اوراسلام کی بنیادوں کو کھوکھلا کرنے کی غرض سے یہودیوں کی ایک جماعت نے اسلام کا لبادہ اوڑھ کر اپنے مخصوص مکر وفریب سے مسلمانوں کے درمیان مقام بنالیا تھا، جس کا مقصد مسلمانوں کے درمیان تفرقہ اندازی اپنے عقاید کی اشاعت اورمسلمانوں کے استحصال کے علاوہ کچھ اورنہ تھا ، ان ہی میں سے ایک ” عبداللہ بن سبا“ ہے جس کوان کا نمایاں فرد تصور کرنا چاہے ،پس اس عقیدے کی ترقی کے دو سبب ہیں ۔ ۱۔ بیرونی سبب ۲۔ اندرونی سبب ۔ چنانچہ المہدی فی الاسلام کے مصنف لکھتے ہیں :
” کانت الشیعہ الفرق الاسلامیہ الی التعلیق بہٰذہ الاسطورة الّتی ترتکز فی وجود ہا عاملین ، خارجیّ یہودی وقد دخل ہذا العامل الیہودی البیئة الاسلامیہ علی ید عبداللہ بن سبا“( المہدیہ فی الاسلام سعد حسن ، ص ۴۸۔ ۶۰ الشیعہ والتشیع احسان ظہیر الہی، ص ۳۷۸ کے بعد)

ہمارا جواب
ان کے اس دعوی کی صرف ایک ہی دلیل ہے اوروہ ایک ضعیف تاریخی روایت ہے جس کو
جناب” طبری “نے سب سے پہلے اپنی تاریخ میں نقل کیا اوران کے بعد آنے والے تمام مورخین نے اس بے بنیاد مجعول شدہ روایت کو جناب طبری پر اعتماد کرتے ہوئے اپنی کتب تاریخی میں نقل کیا ہے ۔
اورشیعہ دشمن عناصر نے متعدد مقامات پر اس سے استفادہ کرتے ہوئے ان کوشیعہ مذہب کا بانی اورموجد قرار دیتے ہوئے بہت سے اسلامی عقاید کو مخدوش بنانے کی کوشش کی ہے ، ان میں سے ایک ” عقیدة مہدویت“ ہے ، تمام مغرضین اورمنحرفین نے اسی روایت سے تمسک کیا ہے اورعبداللہ بن سبا کے یہودی ہونے کو ثابت کرنے کی کوشش کی ہے ۔
لہذا اس تاریخی روایت کو قارئیں کی خدمت میں پیش کرتے ہوئے اہل سنت کی کتب ” رجالی“کی روشنی میں اس روایت میں موجود افراد ، یعنی رجال کے بارے میں مختصر سی گفتگو کرتے ہیں ، تاکہ عبداللہ بن سبا کی حقیقت اور اس کی حیثیت سے قارئین محترم کاملاً آشنا ہوسکیں روایت یہ ہے :
” کتب الی السّری عن شیعب عن سیف عن عطیّہ ، عن یزید الفقسعی کان عبداللہ بن سبا یہودیاً من اہل صنعا امہ سوداء، فاسلم زمان عثمان ثم تنتقل فی بلدان المسلمین یحاول ضلالتہم ۔“ (۔تاریخ طبری ، ج۲، ص ۶۲۲، باب ذکر حوادث ۳۵ھ ۔)
سری نے شعیب سے انہوں ے سیف سے انہوں نے عطیہ سے انہوں نے یزید فقسعی سے روایت نقل کی ہے کہ عبداللہ بن سباءیہودی تھا صنعا کا رہنے والا تھا، حضرت عثمان کے زمانے میں مسلمان ہوا اورمسلمانوں کو گمراہ کرنے کی کوشش کرتا تھا۔

سند روایت کی تحقیق
اب ہم خود اہل سنت کی رجالی کتب سے بالترتیب ان راویوں کا جایزہ لیتے ہیں:
۱۔ السری ، چاہے اس سے مراد ” سری بن اسماعیل کوفی “ ہو ں یا سری بن عاصم دونوں رجال اہلسنت والجماعت کے نزدیک جھوٹا اوروضاع تاریخ وحدیث ہے ۔۱
۲۔ شعیب سے مراد ، شعیب بن ابراہیم کوفی ہیں اور وہ مجہول الحال اور گمنام ہیں ۔۲
(۱۔۲۔تہذیب التہذیب ، ج۳، ص ۴۰۱” عن احمد ترک الناس حدیثہ ، وقال نسائی ، لیس شیعہ کان یغلب الاسانیدو ؛ میزان الاعتدال ، ج۱،ص ۳۷، تاریخ الخطیب ( تاریخ بغدادی) ج۹، ص ۱۹۳ ، لسان المیزان ، ج۳، ص ۱۳۔)
۳۔یزید الفقسعی مجہول الحال اورگمنام ہے۔
(تہذیب التہذیب ، ج۴، ص ۲۶۲؛میزان الاعتدال ، ج۱،ص ۴۳۸)
۴۔ سیف بن عمر ، جھوٹا آدمی تھا۔ انہ کان یضع الحدیث ، واتّہم بالذندقہ۔
(تہذیب التہذیب ، ج۴، ص ۲۶۲؛میزان الاعتدال ، ج۱،ص ۴۳۸۔)
۵۔ وعطیّہ ضعیف ، مجہول الحال اورگمنام شخص تھا ۔
(ذہبی ، میزان الاعتدال ، ج۳، ص ۷۹۔)
یہ تھی اس حدیث کے راویوں کی حقیقت کہ سب کے سب غیر معتبرہیں، جس کی وجہ سے خود حدیث بھی اپنا اعتبار کھودیتی ہے لہذا اس حدیث کو سندبنا کر پیش کرنا غیر معقول اور غیر قابل قبول ہے، افسوس کی بات تو یہ ہے کہ کچھ لوگ اپنے کو اہل قلم سمجھتے ہوئے اسلام کے ٹھکیدارہونے کا دعویٰ تو کرتے ہیں لیکن صحیح تحقیق کرنے اور حقیقت پسندی سے کام لینے کے بجائے خواہشات تعصبات کی آندہھیوں میں بہہ گئے ،اسی لئے غیر منطقی اوربے بنیاد باتوں کو لکھ کر مسلمانوں کے درمیان انتشار پھیلا کراسلام ومسلمین کی جڑیں کاٹنے میں استکباری طاقتوں خصوصاً یہودیوں کی مدد کرتے ہیں ۔
یہ مختصر سی تنقید ہم نے اس لئے پیش کی ہے تاکہ نوجوانا ن اسلام ان گمراہ کن بیانات اور غیر منطقی کتابوں کے مطالعہ سے پریشان نہ ہوں ، اورایسے مصنفین اپنی آنکھیں کھولیں اور مبانی اسلام سے زیادہ سے زیادہ آشنائی حاصل کریں ، اورتقلید اور تعصب کی دنیا سے نکل کر حقیقت کی دنیا میں قدم رکھتے ہوئے اپنی بساط کے مطابق قدم اٹھائیں تاکہ اپنی اور دوسرے مستضعفین کی عاقبت خراب نہ کریں ، مختصریہ کہ ” عبداللہ بن سبا“ کا وجود تاریخ کے مسلمات میں سے نہیں ہے اور اس کے وجود کو ، مسلمانوں خصوصاً شیعہ مسلمانوں کے دشمنوں نے گڑھ لیا ہے اوراگر واقعاً کوئی ایسا شخص موجود تھا تو ان باتوں کا کوئی ثبوت کیوں نہیں ہے ؟جن کو ان کی طرف منسوب کیا جاتا ہے ، کیونکہ کوئی عقلمند شخص اس بات کو قبول نہیں کرسکتا کہ ایک نومسلم یہودی نے ایسی غیر معمولی قوت وطاقت پیدا کرلی تھی کہ وہ اس ایک گھٹن سے بھرے ہوئے ( استبدادی) ماحول میں بھی ، جب کہ کوئی بھی اہل بیت عصمت وطہارت کے سلسلے میں ایک بات بھی کہنے کی جرات نہیں کرتاتھا اس نے اس وقت ایسے بنیادی اقدامات کئے اور مستقل تبلیغات اور وسایل کی فراہمی سے لوگوں کو اہل بیت کی طرف دعوت دیتے ہوئے خلیفہ وقت کے خلاف ایساہنگامہ برپا کیا کہ لوگ قتل خلیفہ کے درپے ہوگئے مگر خلیفہ کے جاسوسوں کو اس کی خبر بھی نہ ہوئی !!! یعنی ان لوگوں کے مطابق ایک نومسلم یہودی نے ان کے عقاید کی بنیادیں متزلزل کردیں اور کسی شخص میں کچھ کہنے کی ہمت بھی ہوئی ۔ ایسے کارناموں کے حامل انسان کا وجود صرف تصورات کی دنیا میں ہی ممکن ہے۔
( علی وفرزندان علی ، ڈاکٹر طٓہ حسین مصری ، بحوالہ آفتاب عدالت۔)
مختصریہ کہ یہ بات صحیح نہیں ہے کہ ” عقیدہمہدویت“ کو” عبداللہ بن سبا“مفروض الوجود یہودی نے مسلمانوں کے درمیان فروغ دیا ہو، اس لئے کہ ہم پہلے ثابت کرچکے ہیں کہ مصلح عالم حضرت مہدی(عج) کی آمد کی بشارت دینے والے خود پیغمبر اکرم (ص) ہیں ۔ ثانیاً داستان ”عبداللہ بن سبا“ایک افسانہ ہے جس کی کوئی حقیقت نہیں ۔

دوسرا سبب
منکرین ” عقیدہ مہدویت“ کا کہنا ہے کہ اس عقیدے کی ترقی کاایک اندرونی سبب بھی ہے چنانچہ ” المہدیہ فی الاسلام“ کے مصنف لکھتے ہیں ” وامّا العامل الثانی فی خلق ہذاالمعتقد فی البیئة الاسلامفہو اسلامی منتزع من بیئة الاسلام ، اذ عند ما افلت زمام الامر الشیعة۔ ۔ ۔ “۱۔(المہدیہ فی الاسلام، ص ۴۸۔ ۶۰)۔
مصنف مذکور کے بیان کا خلاصہ یہ ہے کہ رسول اکرم (ص) کی وفات کے بعدآپ کے اہل بیت اور رشتہ دار منجملہ علی بن ابی طالب(ع) خود کو زیادہ خلافت کا حقدار سمجھتے تھے ،چند اصحاب بھی ان کے ہم خیال تھے ، لیکن ان کی توقع کے برخلاف حکومت خاندان رسالت سے چھن گئی جس سے انہیں بہت صدمہ ہوا یہاں تک کہ جب حضرت علی(ع) کے ہاتھوں زمام خلافت آئی تو وہ مسرور ہوگئے !! اوریہ سمجھنے لگے اب خلافت اس خاندان سے باہر نہیں جائے گی ، لیکن علی(ع) داخلی جنگوں کی وجہ سے اسے کوئی ترقی نہ دے سکے !! نتیجہ میں آپ کو ابن ملجم نے شہید کیا پھر ان کے فرزند حسن (ع) بھی کامیاب نہ ہوسکے آخر کار خلافت بنی امیہ کے پاس چلی گئی ۔
رسول اللہ کے دو فرزند امام حسن (ع) وحسین (ع) خانہ نشینی کی زندگی گزار رہے تھے اور اسلامی حکومت اور اقتدار دوسروں کے ہاتھو میں تھا ، رسول خدا کے اہل بیت اوران کے چاہنے والے فقر وتنگدستی میں زندگی بسر کرتے رہے اورمال غنیمت مسلمانوں کا بیت المال بنی امیہ اوربنی عباس کی ہوس رانی پر خرچ ہوتا تھا، ان تمام چیزوں کی وجہ سے روز بہ روز اہل بیت کے طرفداروں میں اضافہ ہوتا گیا اور گوشہ وکنار سے اعترض ہونے لگے ، دوسری طرف حکومت کے عہدہ داروں نے دل جوئی اور مصالحت کے بجائے سختی سے کام لیا اورانہیں دار پر چڑھایا ، کسی کوقید کسی کو جلاوطن کیا۔
مختصریہ کہ رسول خدا کی وفات کے بعد آپ کے اہل بیت اوران کے طرفداروں کو مصیبتیں اٹھانا پڑیں ،فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کو باپ کی میراث سے محروم کردیا ۔ علی ابن طالب (ع) کو خلافت سے دور رکھا گیا ، حسن ابن علی (ع) کو زہر دے کر شہید کردیا گیا حسین ابن علی (ع) کو اولاد واصحاب سمیت کربلا میں شہید کیا گیا اور ان کی مخدرات کو قیدی بنالیا گیا، مسلم بن عقیل اورہانی ابن عروہ کوامان دینے کے بعد قتل کرڈالا گیا، ابوذر غفاری کو ” ربذہ “ میں جلاوطن کردیا گیا ، ہجر بن عدی : عمر وبن حمق، میثم تمّار ، سعید بن جیر کمیل بن زیاد اورایسے سیکڑوں اصحاب خاندان اہل بیت کو تہ تیغ کردیا، یزید بن معاویہ کے حکم سے مدینہ النبی کو تاراج کیا گیا ایسے ہی اور بہت سے واقعات رونما ہوئے کہ جن سے تاریخ بھری پڑھی ہے ، ایسے تلخ زمانے کو بھی شیعیان علی نے استقامت کے ساتھ گزارا ، اورمہدی کے منتظر رہے ، کبھی علویوں میں سے کسی نے قیام کیا لیکن کامیابی نہ مل سکی اور قتل کردیا گیا ، ان ناگوار حوادث سے اہل بیت کے قلیل ہمنوا ہر طرف سے مایوس ہوگئے اور اپنی کامیابی کا انہیں کوئی راستہ نظر نہ آیا، تو وہ ایک امید دلانے والا منصوبہ بنانے کے لئے تیار ہوئے ، ظاہر ہے مذکورہ حالات اور حوادث نے ایک غیبی نجات دینے والے اور ” مہدویت“ کے عقیدے کو قبول کرنے کے لئے مکمل طور پر زمین ہموار کردی تھی ، اس موقع پر نومسلم یہودی نے فائدہ اٹھایا اور اپنے عقاید کی ترویح کی ، یعنی غیبی نجات دینے والے کے معتقد ہوگئے !
ہرجگہ سے مایوس شیعوں نے اسے اپنے درد دل کی تسکیں اور ظاہری شکست کی تلافی کے لئے مناسب سمجھا اوردل وجان سے قبول کر لیا، لیکن اس میں کچھ رد وبدل کرکے کہنے لگے ، وہ عالمی مصلح یقینا اہل بیت میں سے ہوگا۔ وقت گذرنے کے ساتھ ، ساتھ لوگ اس کی طرف مایل ہوگئے اور اس عقیدے نے موجودہ صورت اختیار کرلی ۔(المہدیہ فی الاسلام، ص ۶۹۔)

ہمار ا جواب
اہل بیت اوران کے ماننے والوں سے متعلق جس مشکلات اور مصیبتوں کا ذکر فاضل مصنف نے کیا ہے وہ باالکل صحیح ہیں، لیکن ” عقیدہ مہدویت “ کے اثبات کے لئے توجیہ کی ضرورت نہیں ہے ، اس لئے کہ تحلیل وتوجیہ کی ضرورت اس وقت پیش آتی ہے ، جب ہمیں ” عقیدہ مہدویت “ کے اصل سرچشمہ کا علم نہ ہوتا۔ لیکن ہم اہل سنت کے صحاح وسنن ومسانید اور دوسری کتابوں سے پہلے یہ ثابت کرچکے ہیں کہ خود پیغمبر اکرم (ص)نے اس عقیدے کو مسلمانوں میں رواج دیا اور ایسے مصلح کی پیدائش کی بشارت دی ہے ۔
اس کے علاوہ آج کے زمانے میں جو دنیا بھر میں غیر مسلمان انسانوں پر مختلف صورتوں میں ظلم وستم ہورہا ہے یاخود اسلامی ممالک کے حکمران فقط اسلامی جمہوریت یا حکومت کے نام پر مسلمان عوام کا ہر وسیلہ سے خون چوس رہے ہیں ، خونریزی ، بے جاغصب اموال ،بے انصافی وغیرہ کا بازار گرم ہے، اسے بھی شیعوں کے اماموں پر ظلم وزیادتی اوران کے جائز حقوق سے محرومی کا نتیجہ تصور کیا جاسکتا ہے ؟ زرا غور فرمائیں اورپھر جواب دیں ، کیا حکیم مطلق خدائے رحیم کی عدالت کا تقاضا یہی ہے کہ دنیا روز بروز مظلوموں کی زیادتیوں سے پرہوتی جائے ظالم وجابر پوری آزادی سے ان پر ستم کرتے رہیں مگر یہ دنیا بغیر کسی عالمی مصلح کے اپنی زندگی تمام کردے اور قصہ تمام ہوجائے؟ نہیں بلکہ ایک پرسکون ذہن اورانسانی عقل ، دنیا کی بگڑتی حالت دیکھ کر بڑی سادگی اورآسانی سے اس نتیجہ پر پہنچ کر سکون واطمنان کا سانس لیتی ہے کہ کڑوڑوں مظلوموں اور ستم دیدہ انسانون کی امید کا مرکز کسی نہ کسی کو ضرور ہونا چاہئےے اوروہی مرکز سکون ، ” عقیدہ مہدویت “ ہے جس کا ثبوت نقل سے پہلے عقل ہے ، یعنی یہ وہ عقیدہ ہے جس پر قرآن ، سنت ، عقل اورتجربہ تاریخ ، (جو کہ خون وآہ ونالہ وشیون سے بھری ہوئی ہے ) مستحکم دلیل ہیں۔ اب ذرا اس عقیدہ کا اجمالی جائزہ قرآن میںلیتے ہیں تاکہ نادرست تجزئےے اور بے جا تصورات ذہنون سے خارج ہوسکیں ۔

مہدی قرآن کی نظر میں
بعض مصنفین لکھتے ہیں ” اگر عقیدہ مہدویت “ صحیح ہوتا تو قرآن میں بھی اس کاذکر آیا ہوتا، جب کہ اس آسمانی کتاب میں لفظ مہدی کہیں نظر نہیں آتا اوربعض مصنفین نے لکھا ہے ، کہ شیعوں نے اپنے اس غلط عقیدے کی تائید کے لئے جان بوجھ کر آیات قرآنی سے تمسک کرتے ہوئے غلط تاویلات وتوجیہات کی ہیں ، لیکن واقعیت یہ ہے کہ شیعوں کی یہ تفسیر نہ تو قرآن کریم کے مضمون آیات سے موافق ہے اورنہ موافق عقیدہ اہل سنت ہے اورنہ اہل لغت(المہدیہ فی الاسلام، ص۸۲)

ہمارا جواب
بعض لوگ گمان کرتے ہیں کہ لفظ علی وحسن وحسین ومہدی(ع) ، متن قرآن میں ہونا چاہئے تاکہ ہم ان کے امامت وخلافت کے قایل ہوجائیں باالفاظ دیگر ، اگر علی(ع) واولاد علی(ع) کو خداوند متعال نے امام وخلیفہ مسلمین بنایا ہے تو قرآن کریم میں کیوں ان کا ذکر نہیں ہے ؟ جب کہ آپ جانتے ہیں یہ ایک غلط سوچ ہے کیوں کہ۔
۱۔ آپ بتائےے کہ جن کی خلافت کے آپ معتقد ہیں اوراس پر زور دیتے ہیں ان کے اسماءکہاں قرآن مجید میں آئے ہیں ؟ پس کیوں ان کی خلافت کو تسلیم کرتے ہیں ؟؟
۲۔آپ حضرت علی(ع) اور اولاد علی(ع) کے نام قرآن مجید میں نہ ہونے کی وجہ سے ان کی امامت وخلافت کو قبول نہیں رکھتے جب کہ ایسے کئی موضوعات اور مسائل ہیں جن کا نام قرآن مجید میں نہیں آیا ہے لیکن آپ اسے قبول کرتے ہیں اوران کے بارے میں زرا سے بھی شکوک وشبہات کا اظہار نہیں کرتے ، مثال کے طور پر قرآن کریم میں کئی مقامات پر نماز کا حکم دیا گیا ہے لیکن قرآن مجید کے کئی سورہ میں یہ نہیں لکھا ہے کہ صبح کی نماز ۲ دو رکعت پڑھیں مغرب کی تین ظہر وعصر وعشاءچار۴ چار۴رکعتیں
اسی طرح قرآن مجید میں متعدد مقامات پر زکواة کا حکم دیا گیا ہے لیکن متن قرآن کریم سے یہ استفادہ نہیں ہوتا کہ ہر چالیس درہم پرایک درہم زکوٰة فرض ہے ۔
قرآن کریم نے حج کو افراد مستطیع پر واجب وفرض قرار دیا ہے ، لیکن یہ مشخص نہیں کیا کہ خانہ خدا کے طواف کے وقت سات ۷ مرتبہ چکر لگایا جائے ۔
سارے مسلمان چاہے شیعہ ہوں یا سنی ایسے تمام مسایل جن کے بارے میں قرآن کریم میں صراحتاً ذکر نہیں ہے، کو پیغمبر اکرم کے کہنے پر قبول کرتے ہیں ، اور ان پر عمل کبھی کرتے ہیں ، اور کوئی بھی جو اپنے آپ کو مسلمان سمجھتا ہے ان مسائل کے بارے میں زرا سابھی شک وشبہ نہیں رکھتا اورنہ ہی رکھنا چاہئےے۔
میں فیصلے کو قارئین پر چھوڑتا ہوں : آپ خود ہی فیصلہ کریں مذکورہ موضوعات اور ” عقیدہ امامت ومہدویت“ جس کے بارے میں احادیث متواتر کتب صحاح وسنن ، ومسانید وغیرہم میں اہل سنت سے نقل ہوچکی ہیں اور مسلمانوں کا اجماع بھی ہے اورعقل بھی اس بات کو تسلیم کرتی ہے ، میں کیافرق ہے؟
ایک روایت نہیں دس نہیں بلکہ ہزاروں کی تعداد میں احادیث اس سلسلے میں رسول اکرم سے شیعہ وسنی معتبر کتب میں نقل ہوئی ہیں جو کہ وجود اور ظہور حضرت امام مہدی(عج) کو اثبات کرتیں ہیں دوسری جانب کسی بھی فرد مسلم کو اس میں بھی شک نہیں کہ حضور کے کلام اور آیات قرآنی میں کوئی فرق نہیں ہے کیونکہ آنحضرت کے بارے میں خود قرآن مجید کا ارشاد ہے : ”وماینطق عن الہویٰ ان ھو الّا وحی یوحیٰ۔“
اس کے علاوہ یہ کہنا بھی غلط ہے کہ امام مہدی(عج) کا ذکر قرآن مجید میں نہیں آیا ہے اگرچہ صریحاً آپ کا نام نہیں آیا ہے اور ضروری بھی نہیں کہ آپ یادیگر ائمہ معصومین کا نام قرآن مجید میں صریحاً موجود ہو پھر بھی بعض محققین کے خیال میں ۳۵۰ آیات قرآنی میں حضرت بقیة اللہ الاعظم امام مہدی (عج) کے وجود اور ظہور کی طرف اشارہ ہوا ہے ۔(معجم احادیث المہدی ، ج۵۔)
ذیل میں ان آیات میں چند نمونے جن کی بزرگ سنی علماءنے تصریح وتفسیر کی ہے کہ یہ آیات امام مہدی(عج) کے بارے میں نازل ہوئی ہیں : قارئین کی خدمت میں پیش کرتا ہوں ۔

قرانی آیات مہدویت
۱۔ ابن ابی الحدید معتزلی جو کہ اہل سنت کے مقتدر اور بزرگ علماءمیں سے ایک ہیں ، اپنی کتاب ” شرح نہج البلاغہ “ میں سورہ مبارکہ قصص کی چوتھی آیت کے ذیل میں لکھتے ہیں :” علماءاہل سنت کہتے ہیں یہ آیت [ ونرید ان نّمنّ علی الذین استضعفوا ونجعلہم الوارثین] اشارہ ہے اس امام کی طرف جس کا تمام روی زمین اور حکومتوں پر غلبہ ہوگا۔( شرح نہج البلاغہ، ابن ابی الحدید معتزلی، ج۴، ص ۳۳۶۔)
۲۔ شیخ جمال الدین یوسف بن علی بن عبدالعزیر مقدسی شافعی جو قرن ہفتم کے بزرگ علماءمیں سے ایک ہیں ” عقدالدرفی اخبار المنتظر“ میں تفسیر ثعلبی سے نقل کرتے ہوئے ” حٓمٓعٓسٓقٓ “کی تفسیر میں لکھتے ہیں :
(حٓ)سے مراد ایک جنگ ہے جو قریش اور موالید کے درمیان پیش آئے گی اور قریش کو فتح حاصل ہوگی ۔
(مٓ) سے مراد سلطنت بنی امیہ ہے
(عٓ) سے مراد برتری بنی عباس ہے
(سٓ)سے مراد نور اوررفعت وبلندی حضرت امام مہدی(ع) ہے
(قٓ) سے مراد نزول عیسیٰ ہے ۔ البتہ یہ ان کی اورصاحب ثعلبی کی تفسیر ہے !
۳۔ محدث بزرگ شیخ علی بن محمدا بن احمد ، مالکی ( ابن صباغ) ” الفصول المہمّہ فی معرفة احوال الائمہ “میں آیہ ۲۳سورہ مبارکہ توبہ کی آیت( لیُظہرہُ علی الدّین کلہ) کی تفسیر میں سعید ابن جیر سے روایت نقل کی ہے کہ وہ حضرت امام مہدی(ع) ہیں جن کے ذریعے دین اسلام تمام ادیان پر غالب ہوگا، اورحضرت مہدی ، حضرت فاطمہ الزہراءسلام اللہ علیہا کی اولاد میں سے ہیں ۔( الفصول المہمہ ، باب الثانی والتسعون ، ص۹۲۔)
۴۔ علامہ زید بن احمد بن سھیل بلخی ” البدءوالتاریخ “ میں لکھتے ہیں ، اور ایک گروہ کا کہنا ہے کہ ان کی [ امام مہدی]جائے پیدائش مدینہ منورہ اور قیام فرمانے کی جگہ مکہ ہے لوگ ان سے صفا ومروہ کے درمیان بیعت کریں گے اورانہیں میں سے بعض کا کہنا ہے کہ وہ روی زمین سے ظلم وستم کا خاتمہ کردیں گے اور عدل انصاف قائم کریں گے ، کمزور اور طاقتوروں کے درمیان ، عدل وانصاف ہوگا اوریہ کہ زمین کے مشرق اور مغرب میں پہنچ جائے گا، قسطنطنیہ فتح ہوجائے گا اورروی زمین کے تمام علاقے یاتو اسلام میں داخل ہوچکے ہوں گے یاپھر جزیہ ادا کرنے والے ممالک ہوں گے اوریہی وہ موقع ہوگا جب اللہ تعالیٰ کایہ وعدہ ( لیُظہرہُ علی الدّین کلہ)کہ اسلام تمام ادیان پر غالب ہوجائے پورا ہوگا۔
( البداءوالتاریخ ، ص ۱۷۸، ایضاً مشکاة المصابح عبداللہ بن خطیب عمری ذیل تفسیر آیہ ۴ سورہ شعراء” ان نشاءتنزل علیہم من السماءآیة مطلت فی اعناقہم لہا خاصعین )۔“
۵۔ بزرگ سنی مفسر امام فخررازی نے مفاتیح الغیب میں ” قرطبی “ نے جامع الاحکام القرآن الکریم مین ” سُدی“ سے روایت کی ہے کہ انہوں نے کہا غلبہ دین حضرت امام مہدی(ع) کے ظہور کے وقت ہوگا۔(تفسیر کبیر، مفاتح الغیب ، ج۱۶ ، ص ۴۲۔)
۶۔ جناب سیوطی ” درالمنثور “ میں ” انّ الساعة آتیة لاریب فیہا“ کی تفسیر میں ابی سعید خدری کے ان دو روایتوں سے ” لاتقوم السّاعة حتّی یملک رجل میں اہل بیتی ، اور ” ابشرکم بالمہدی لیظہر باختلاف والزلازل ۔“ سے استدلال کرتے ہوئے لکھا ہے کہ یہ آیت حضرت امام مہدی (ع) کے بارے میں نازل ہوئی ہے کیونکہ اولین علامت قیامت، ظہور حضرت مہدی(ع)ہے ۔(درالمنثور، سیوطی ، ج۵، ص ۲۳۰۔)
۷۔”علامہ حسکانی “سورہ مبارکہ (نسائ) کی آیت ۶۹ ”وحسن اولٰٓئک رفیقاً “ کے ذیل میں پیغمبراکرم (ص) سے روایت نقل کرتے ہیں کہ اس سے مراد قائم آل محمد ہے ۔
( شواہد التنزیل ، ج۱،ص ۱۵۴۔)
مصنف مذکورہ سورہ (نسائ) کی آیت ۸۳ ” اطیعوا اللہ واطیعواالرّسول واولی الامرمنکم“ کے ذیل میں لکھتے ہیں ، اس سے مردا علی (ع) اور اولاد علی(ع) ہیں کہ ان میں سے آخری مہدی(ع) ہیں ( شواہد التنزیل ، ج۱،ص ۱۵۰؛ ینابیع المودة، ص ۱۱۶۔)
۸۔حافظ ابرہیم بن محمدحنفی قندوزی سورہ بقرہ کی تیسری آیت ” الذین یومنون بالغیب“ کی تفسیر میں لکھتے ہیں ” غیب “ سے مراد حضرت مہدی (ع) ہیں ، اور آیہ ۱۴۸ سورہ بقرہ ” فااستبقو الخیرات“ کی ذیل میں امام جعفر بن محمدجعفر الصادق (ع) سے روایت نقل کی ہے کہ ان سے مراد حضرت امام مہدی(ع) کے اصحاب خاص تینسو تیرہ (۳۱۳)ا فراد مراد ہیں جو بادل کی طرح دنیا کے کونے کونے سے مکے میں جمع ہوں گے ،حافظ مذکور سورہ آل عمران کی آیت ۱۴۱ ” ویمحّص مافی قلوبکم “ کے ذیل میں ابن عباس سے روایت نقل کرتے ہیں کہ رسول خدا نے فرمایا اس سے مراد میرے اوصیاءہیں ان میں علی اور میرے فرزند مہدی ہے کہ زمین کو اس طرح عدل وانصاف سے بھر دیں گے جس طرح ظلم وجور سے بھر چکی ہوگ۔
(ینابیع المودة ، الباب الثامن ، والسبعون ، ص ۵۰۶۔)
۹۔ حافظ ابن صباغ مالکی آیہ ” بقیة اللّہ خیر لکم ان کنتم مومنین۔“ کے ذیل میں لکھتے ہیں ، اس سے مراد حضرت مہدی (ع)ہیں ۔
(الفصول المہمہ ، باب الثانی الستعون ، ص ۹۲۔)
۱۰۔شیخ محمد بن احمد سفارینی اثری حنبلی لکھتے ہیں ” قال مقاتل ابن سلیمان ومن تبعہ من المفسرین فی قولہ تعالیٰ ” وانّہ لعلم للسّاعة “ انہا نزلت فی المہدی مقاتل ابن سلیمان اوران کے اتباع کرنے والے مفسرین نے لکھا ہے کہ آیت” البتہ وہ قیامت کی علامت ہے “حضرت امام مہدی کے بارے میں نازل ہوئی ہے ۔
( زخرف ؛ آیت ۶۱ ، لوائع انوار البہیة وسواطع الاسرار الاثریہ ، ج۲ص ۲۲۔سورہ زخرف آیت ۶۱۔)
 

9 Jan 2012 |

 
 

قرآن اور حسین

قرآن اور حسین
 
استادقرأتی
مترجم : مولانا سید حسنین باقری
اہلبیت فاونڈیشن
اگر قرآن سید الکلام ہے (١)تو امام حسین سید الشہداء ہیں(٢) ہم قرآن کے سلسلے میں پڑھتے ہیں، ''میزان القسط''(٣)تو امام حسین فرماتے ہیں،''امرت بالقسط''(٤)اگر قرآن پروردگار عالم کا موعظہ ہے،''موعظة من ربکم''(٥)تو امام حسین نے روز عاشورا فرمایا''لا تعجلوا حتیٰ اعظکم بالحق''(٦)(جلدی نہ کرو تاکہ تم کو حق کی نصیحت و موعظہ کروں)اگر قرآن لوگوں کو رشد کی طرف ہدایت کرتا ہے، ''یھدی الی الرشد''(٧)تو امام حسین نے بھی فرمایا،''ادعوکم الی سبیل الرشاد''(٨)(میں تم کو راہ راست کی طرف ہدایت کرتاہوں) اگر قرآن عظیم ہے، ''والقرآن العظیم''(٩) تو امام حسین بھی عظیم سابقہ رکھتے ہیں،''عظیم السوابق''(١٠)۔
اگر قرآن حق و یقین ہے،''وانہ لحق الیقین''(١١)تو امام حسین کی زیارت میں بھی ہم پڑھتے ہیں کہ :صدق و خلوص کے ساتھ آپ نے اتنی عبادت کی کہ یقین کے درجہ تک پہنچ گئے''حتیٰ اتاک الیقین''(١٢)اگر قرآن مقام شفاعت رکھتا ہے ،''نعم الشفیع القرآن''(١٣)تو امام حسین بھی مقام شفاعت رکھتے ہیں''وارزقنی شفاعة الحسین''(١٤)اگر صحیفہ سجادیہ کی بیالیسویں دعا میں ہم پڑھتے ہیں کہ قرآن نجات کا پرچم ہے ،''علم نجاة''تو امام حسین کی زیارت میں بھی ہم پڑھتے ہیں کہ آپ بھی ہدایت کا پرچم ہیں،''انہ راےة الھدیٰ''(١٥)اگر قرآن شفا بخش ہے،''وننزل من القرآن ما ھو شفائ''(١٦)تو امام حسین کی خاک بھی شفا ہے ،''طین قبر الحسین شفائ''(١٧)۔
اگر قرآن منار حکمت ہے (١٨) تو امام حسین بھی حکمت الٰہی کا دروازہ ہیں ،''السلام علیک یا باب حکمة رب العالمین''(١٩)اگر قرآن امر بالمعروف کرتا ہے ،''فالقرآن آمروا زاجراً''(٢٠)تو امام حسین نے بھی فرمایا،''میرا کربلا جانے کا مقصد امر بالمعروف ونھی عن المنکر ہے۔ارید ان آمر بالمعروف و انھیٰ عن المنکر''(٢١)اگر قرآن نور ہے،''نوراً مبیناً''تو امام حسین بھی نور ہیں ،''کنت نوراً فی اصلاب الشامخة''(٢٢)اگر قرآن ہر زمانے اور تمام افرادکے لئے ہے،''لم یجعل القرآن لزمان دون زمان ولا للناس دون ناس''(٢٣) تو اما م حسین کہ سلسلہ میں بھی پڑھتے ہیں کہ کربلا کے آثار کبھی مخفی نہیں ہوں گے،''لا یدرس آثارہ ولا یمحیٰ اسمہ''(٢٤)۔
اگر قرآن مبارک کتاب ہے،''کتاب انزلناہ الیک مبارک''(٢٥)تو امام حسین کی شہادت بھی اسلام کے لئے برکت و رشد کا سبب ہے،''اللہم فبارک لی فی قتلہ''(٢٦)اگر قرآن میں کسی طرح کا انحراف و کجی نہیں ہے،''غیر ذی عوج''(٢٧)تو امام حسین کے سلسلے میں بھی ہم پڑھتے ہیں کہ آپ ایک لمحہ کے لئے بھی باطل کی طرف مائل نہیں ہوئے،''لم تمل من حق الی الباطل''(٢٨)اگر قرآن ،کریم ہے ،''انہ لقرآن کریم''(٢٩)تو امام حسین بھی اخلاق کریم کے مالک ہیں،''وکریم الاخلاق''(٣٠)اگر قرآن ،عزیز ہے،''انہ لکتاب عزیز''(٣١)تو امام حسین نے بھی فرمایا:کبھی بھی ذلت کو برداشت نہیں کرسکتا،''ھیھات من الذلة''(٣٢)۔
اگر قرآن مضبوط رسی ہے،''ان ھٰذا القرآن والعروة الوثقیٰ''(٣٣)تو امام حسین بھی کشتی نجات اور مضبوط رسی ہیں،''ان الحسین سفینة النجاة والعروة الوثقیٰ''(٣٤)اگر قرآن بین اور روشن دلیل ہے ،''جائکم بینة من ربکم''(٣٥)تو امام حسین بھی اس طرح ہیں،''اشھد انک علیٰ بینة من ربکم''(٣٦)اگر قرآن آرام سے ٹھہر ٹھہر کر پڑھنا چاہئے ،''ورتل القرآن ترتیلا''(٣٧)تو امام حسین کی قبر کی زیارت کو بھی آہستہ قدموں سے انجام دینا چاہئے،''وامش یمشی العبید الذلیل''(٣٨)اگر قرآن کی تلاوت حزن کے ساتھ ہونا چاہیئے ،''فاقروا بالحزن''(٣٩)تو امام حسین کی زیارت کو بھی حزن کے ساتھ ہونا چاہیئے ،''وزرہ وانت کشیب شعث''(٤٠)۔
ہاں! کیوں نہ ہو حسین قرآن ناطق اور کلام الٰہی کا نمونہ ہیں۔

حوالہ جات:
(١)مجمع البیان،ج٢،ص٣٦١۔ (٢)کامل الزیارات۔
(٣)جامع الاحادیث الشیعہ،ج١٢،ص٤٨١۔ (٤)سورہ یونس/٥٧۔
(٥)لواعج الاشجان،ص٢٦۔ (٦) سورہ جن/٢۔
(٧)لواعج الاشجان،ص١٢٨۔ (٨)سورہ حجر/٨٧۔
(٩)بحار،ج٩٨،ص٢٣٩۔ (١٠)سورہ الحاقہ/٥١۔
(١١)کامل الزیارات،ص٢٠٢۔ (١٢)نھج الفصاحة،جملہ،ص٦٦٢۔
(١٣)زیارات عاشورا۔ (١٤)کامل الزیارات،ص٧٠۔
(١٥)سورہ اسرائ/٨٢۔ (١٦)من لا یحضر ہ الفقیہ،ج٢،ص٤٤٦۔
(١٧)الحیاة،ج٢،ص١٨٨۔ (١٨)مفاتیح الجنان۔
(١٩)نھج البلاغہ،ح١٨٢۔ (٢٠)مقتل خوارزمی،ج١،ص١٨٨۔
(٢١)سورہ نسائ/١٧٤۔ (٢٢)کامل الزیارات،ص٢٠٠۔
(٢٣)سفینة البحار،ج٢،ص١١٣۔ (٢٤)مقتل مقرم۔
(٢٥)سورہ ص/٢٩۔ (٢٦)مقتل خوارزمی یہ پیغمبر کا جملہ ہے۔
(٢٧)سورہ زمر/٢٨۔ (٢٨)فروع کافی،ج٤،ص٥٦١۔
(٢٩)سورہ واقعہ /٧٧۔ (٣٠)نفس المہموم،ص٧۔
(٣١)فصلت/٤١۔ (٣٢)لہوف،ص٥٤۔
(٣٣)بحار،ج٢،ص٣١۔ (٣٤)پرتوی از عظمت امام حسین ،ص٦۔
(٣٥)سورہ انعام/١٥٧۔ ( ٣٦)فروع کافی،ج٢،ص٥٦٥۔
(٣٧)سورہ مزمل/٤۔ (٣٨)کامل الزیارات۔
(٣٩)وسائل،ج٢،ص٨٥٧۔ (٤٠)کامل الزیارات۔
 


9 Jan 2012 |

 
 

کیوں عاشور کے بارے میں صرف گفتگو پر ہی اکتفا نہیں کیا جاتا؟

کیوں عاشور کے بارے میں صرف گفتگو پر ہی اکتفا نہیں کیا جاتا؟
 
آیت اللہ مصباح یزدی
س: کیوں عاشور کے بارے میں صرف گفتگو پر ہی اکتفا نہیں کیا جاتا؟
عاشور کی یاد کو زندہ رکھنا صرف اس بات پر منحصر نہیں ہے کہ انسان سر و سینہ پیٹے گریہ و زاری کرے سارے شہر کو سیاہ پوش کرے اسے عزادار بنا دے۔لوگ آدھی آدھی رات تک جاگ کر عزاداری کریں یہاں تک کہ بعض دنوں میں بھی اپنے تمام مشاغل اور روز مرہ کے امور کو ترک کردیں۔ جبکہ ممکن ہے بعض اوقات اس سے لوگوں کو اقتصادی نقصان کا سامنا کرنا پڑے۔ حالانکہ اس واقعہ اور اس کی یاد کو باقی رکھنے کے لیے کسی دوسرے طریقے کو بھی اپنایا جا سکتا ہے جس سے مذکورہ بالا نقصانات سے معاشرہ محفوظ ہو جائے یا پھر کمتر نقصان اٹھانا پڑے۔ اگر مذکورہ بالا سوال کو اس طرح پیش کریں تو یہ بہت سارے لوگوں کی روح اور ان کے مادی اور اقتصادی مسائل سے بہت زیادہ سازگار ہے۔ اور لوگ اس قسم کے مسائل کی طرف زیادہ توجہ دیتے ہیں اور اپنے مسائل کو مادی اور اقتصادی منافع اور ضرر کے حوالے سے پرکھتے ہیں۔ جب لوگ آدھی آدھی رات تک عزاداری کرتے ہیں تو اس کے دوسرے دن ان کے اندر کام یا دوسرے روز مرہ کے مشاغل انجام دینے کی سکت باقی نہیں رہتی لہذا دو مہینہ ماحول کے اندر سستی اور کاہلی چھائی رہتی ہے صرف اس لیے کہ عاشور اور اس کی یاد کو باقی رکھ سکیں حالانکہ اس واقعہ کی یاد اور اس کے احترام کو باقی رکھنے کے لیے دوسرے بہت سارے راستے موجود ہیں جیسے بحث و مباحثہ، علمی نشستیں، کانفرنسیں، علمی تقاریر، مقالات وغیرہ۔ پھر کیوں مہینہ بھر عزاداری اور گریہ و ماتم کو برپا کیا جائے؟ پھر کیوں اس روش کو اپنایا جائے؟ حتی اگر ایک جلسہ کافی نہ ہو تو متعدد جلسے سمینار وغیرہ کروائے جائیں۔
ج:اس سوال کا جواب ایک حد تک پہلے والے سوال کے جواب کی نسبت پیچیدہ اور مشکل ہے اس کا جواب یوں ہے کہ اگر یہ بات خود شخصیت امام حسین(ع) سے متعلق ہے تو یہ کانفرنسیں، سمینار ،علمی ،نشستیں ،تقاریر، مقالہ نویسی کے مسابقات وغیرہ جیسے دوسرے علمی اور ثقافتی امور اور تحقیقات بے حد مفید اور ضروری ہیں البتہ یہ سبھی چیزیں ہمارے سماج میں انجام دی جاتی ہیں لیکن سوال یہ ہے کہ کیا عاشوارہ جیسے عظیم حادثہ سے بہرہ مند ہونے کے لیے کیا یہ سب کافی ہے؟ یااس سے جتنا فائدہ اٹھانا چاہیے کیا اس کے یہ سب مقدمات کافی اور وافی ہیں؟ اس سوال کا جواب متوقف ہے اس بات پر کہ ہم وجود انسان پر ایک نفسیاتی نگاہ ڈالیں اور اس وجود انسان کا بے طرفہ جائزہ لیں کیا انسان کی رفتار اور کردار پر جو عوامل اثر انداز ہوتے ہیں کیا وہ یہی مشخص عوامل ہیں یا کچھ دوسرے عوامل بھی درکار ہیں جو انسان کی اجتماعی اور فردی زندگی پر اثر انداز ہوتے ہیں؟
جس وقت ہم اپنے کردار اور رفتار کا دقیق نگاہوں سے جائزہ لیتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ ہماری رفتار اور کردار پر کم از کم دو طرح کے عوامل ہیں جو بنیادی طور پر اثرانداز ہوتے ہیں ان میں سے ایک قسم کے عوامل تو مشخص ہیں کہ جو باعث بنتے ہیں کہ ہم کسی بات کو سمجھیں اور قبول کریں۔
اس کے بعد جب ہمارے لیے واضح ہو گیا کہ امام حسین (ع) کا کردار سعادت بشری میں ایک اہم رول ادا کرتا ہے تو انشاءاللہ ہم اس نکتہ کی طرف بھی متوجہ ہو جائیں گے کہ شناخت خود بخود ہمارے لیے محرک نہیں ہوتی بلکہ ہمارے احساسات اور جذبات کو بیدار کرنے کی ضرورت ہے جب تک ہمارے احساسات اور جذبات بیدار نہ ہوجائیں اس وقت تک اس قیام جیسا قیام کرنا مشکل ہے۔ اگر ہم چاہیں کہ امام حسین (ع) جیسا عمل انجام دیں تو اس کے لیے احساسات اور عواطف کی بیداری بہت ضروری ہے۔ اس طرح کے امور کے انجام دینے میں دونوں طرح کے عوامل کی ضرورت ہے لہذا علمی نشستیں تقاریر کانفرنسیں سمینار وغیرہ پہلی قسم کی ضرورت کو پورا کر سکتے ہیں یعنی یہ تمام کی تمام چیزیں ہمیں صرف لازم شناخت عنایت کریں گی۔
اب ہم دوسری قسم کے بارے میں عرض کریں:
ضروری ہے اس طرح کے مناظر وجود میں لائے جائیں جن سے عام شناخت کے علاوہ احساسی اور عاطفی عوامل بھی ہمارے اندر قوی ہو جائیں۔ جب یہ احساسات اور عواطف ہمارے اندر بر انگیختہ ہو جائیں گے اس وقت صحیح اثر دکھائیں گے۔ ان اثرات کے نمونہ اپنی اجتماعی اور انفرادی زندگی میں ملاحظہ کر سکتےہیں ان آخری تیس چالیس سالوں میں امام خمینی (رہ) کیطرف سے طاغوت اور ستمگر حکومت کے خلاف چلائی جانے والی تحریک نے لوگوں کو بیدار کرنے میں ایک خاص رنگ دکھایا ہے۔ آپ نے ملاحظہ کیا ہو گا کہ لوگوں کے دلوں میں ایام محرم اور سفر میں نام اور عزاداری سید الشھداء نے ایسا جوش و ولولہ پیدا کیا کہ لوگ تحرک میں آگئے۔ یہ جوش و خروش ایام عاشورا اور دوسرے مراسم عزاداری کے علاوہ لوگوں کے دلوں میں پیدا نہیں ہوتا۔

 


9 Jan 2012 |

 
 


25 Dec 2011 |

 
 

فکر و نظر


25 Dec 2011 |

 
 

فکر و نظر


25 Dec 2011 |

 
 


25 Dec 2011 |

 
 

سيرت


25 Dec 2011 |

 
 

قرآن کی روشنی میں منافقین کے ثقافتی صفات

قرآن کی روشنی میں منافقین کے ثقافتی صفات
 
خودی اور اپنائیت کا اظھار
منافقین کو اپنی تخریبی اقدامات جاری رکھنے کے لئے تاکہ صاحب ایمان حضرات کی اعتقادی اور ثقافتی اعتبار سے تخریب کاری کرسکیں، انھیں ھر چیز سے اشد ضرورت مسلمانوں کے اعتماد و اعتبار کی ھے تاکہ مسلمان منافقین کو اپنوں میں سے تصور کریں اور ان کی اپنائیت میں شک سے کام نہ لیں، اس لئے کہ منافقین کے انحرافی القائات معاشرے میں اثر گذار ھوں اور ان کے منحوس مقاصد کی تکمیل ھوسکے۔
ان کی تمام سعی و کوشش یہ ھے کہ خود معاشرے میں اپنائیت کی جلوہ نمائی کرائیں، اس لئے کہ وہ جانتے ھیں اگر ان کے باطن کا افشا، اور ان کے اسرار آشکار ھوگئے تو کوئی شخص بھی منافقین کی باتوں کو قبول نھیں کریگا اور ان کی سازشیں جلد ھی ناکام ھوجائیں گی، ان کے راز افشا ھونے کی بنا پر اسلام کے خلاف ھر قسم کی تبلیغی فعالیت، نیز سیاسی سر گرمی سے ھاتھ دھو بیٹھیں گے، لھذا منافقین کا بنیادی اور ثقافتی ھدف اپنے خیر خواہ ھونے کی جلوہ نمائی اور عمومی مسلمانوں کے اعتماد کو کسب کرنا ھے اور یہ بھت عظیم خطرہ ھے کہ افراد و اشخاص، بیگانے اور اجنبی شخص کو اپنوں میں شمار کرنے لگیں، اور معاشرہ میں خواص کی نگاہ سے دیکھا جانے لگے، ثقافتی حادثہ اس وقت وجود میں آتا ھے کہ جب مسلمین منافقین کی ثقافتی روش طرز سے آشنائی نہ رکھتے ھوں اور ان کو اپنا دوست بھی تصور کریں، امیر المومنین حضرت علی علیہ السلام مختلف افراد کے ظواھر پر اعتماد کرنے کے خطرات اور اشخاص کی اھمیت پر توجہ کرنے کی ضرورت کے متعلق فرماتے ھیں۔
((انما اتا کبا لحدیث اربعۃ رجال لیس لھم خامس رجل منافق مظھر للایمان متصنع بالاسلام لا یتأثم ولا یتحرج یکذب علی رسول اللہ متعمدا فلو علم الناس انہ منافق کاذب لم یقبلوا منہ ولم یصدقوا قولہ ولکنھم قالوا صاحب رسول اللہ رآہ وسمع منہ و لقف عنہ فیاخذون بقولہ) ([1])
یاد رکھو کہ حدیث کے بیان کرنے والے چار طرح کے افراد ھوتے ھیں جن کی پانچویں کوئی قسم نھیں ایک وہ منافق ھے جو ایمان کا اظھار کرتا ھے اسلام کی وضع و قطع اختیار کرتا ھے لیکن گناہ کرنے اور افترا میں پڑنے سے پرھیز نھیں کرتا ھے اور رسول اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے خلاف قصداً جھوٹی روایتیں تیار کرتا ھے کہ اگر لوگوں کو معلوم ھوجائے کہ یہ منافق اور جھوٹا ھے تو یقیناً اس کے بیان کی تصدیق نھیں کریں گے لیکن مشکل یہ ھے کہ وہ سمجھتے ھیں کہ یہ صحابی ھیں انھوں نے حضور کو دیکھا ھے ان کے ارشاد کو سنا ھے اور ان سے حاصل کیا ھے اور اسی طرح اس کے بیان کو قبول کرلیتے ھے۔

اظھار اپنائیت کے لئے منافقین کی راہ و روش
منافقین اظھار اپنائیت کے لئے مختلف روش و طریقے سے استفادہ کرتے ھیں، چونکہ یہ مبدا و معاد پر ایمان ھی نھیں رکھتے ھیں، لھذا راہ و روش کی مشروعیت یا عدم جواز ان کے لئے کوئی معنی نھیں رکھتا، اور ان کے نزدیک قابل بحث بھی نھیں ھے ان کی منطق میں ھدف کی تحصیل و تکمیل کے لئے، ھر وسائل سے استفادہ کیا جاسکتا ھے خواہ وسائل ضد انسانی ھی کیوں نہ ھوں یھاں منافقین کی اظھار اپنائیت کے سلسلہ میں فقط پانچ طریقوں کی جانب اشارہ کیا جارھا ھے۔

۱۔ کذب و ریاکاری کے ذریعہ اظھار کرنا:
جیسا کہ پھلے اشارہ کیا گیا ھے نفاق کا اصلی جو ھر کذب اور اظھار کا ذبانہ ھے منافقین اظھار اپنائیت کے لئے وسیع پیمانہ پر حربۂ کذب سے استفادہ کرتے ھیں کبھی اجتماعی اور گروھی شکل میں پیامبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آتے ھیں اور آپ کی رسالت کا اقرار کرتے ھیں، خداوند عالم با صراحت ان کو اس اقرار میں کاذب تعارف کراتا ھے اور پیامبر عظیم الشان سے فرماتا ھے، اگر چہ تم واقعاً فرستادہ الھی ھو لیکن وہ اس اقرار میں کاذب ھیں اور دل سے تمھاری رسالت پر ایمان نھیں رکھتے ھیں۔
(اذا جاءک المنافقون قالوا نشھد انک لرسول اللہ واللہ یعلم انک لرسولہ واللہ یشھد ان المنافقون لکاذبون) ([2])
پیامبر! یہ منافقین آپ کے پاس آتے ھیں تو کھتے ھیں کہ ھم گواھی دیتے ھیں کہ آپ اللہ کے رسول ھیں اور اللہ بھی جانتا ھے کہ آپ اس کے رسول ھیں لیکن اللہ گواھی دیتا ھے کہ یہ منافقین اپنے دعوے میں جھوٹے ھیں۔
جس وقت مومنین، منافقین کو ایجاد فساد و تباھی سے منع کرتے ھیں، خود کو تاکید کے ساتھ مصلح و آباد گر کھتے ھیں خداوند عالم ان کی گفتار کی تکذیب کرتے ھوئے ان کے مفسد ھونے کا اعلان کررھا ھے۔
(واذا قیل لھم لا تفسدوا فی الارض قالوا انما نحن مصلحون الا انھم ھم المفسدون ولکن لا یشعرون) ([3])
جب ان سے کھا جاتا ھے کہ زمین میں فساد نہ برپا کرو تو کھتے ھیں کہ ھم تو صرف اصلاح کرنے والے ھیں حالانکہ یہ سب مفسد ھیں اور اپنے فساد کو سمجھتے بھی نھیں ھیں۔
منافقین اپنی کذب بیانی سے، پہلے کھی گئی بات کو آسانی سے انکار بھی کردیتے ھیں، تاریخی شواھد کے مطابق کسی مودر میں جب یہ کوئی بات کرتے تھے اور اس کی خبر رسول اسلا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ھوجاتی تھی تو یہ سرے ھی سے اس کا انکار اور شدت سے اس خبر کی تکذیب کردیتے تھے۔
نقل کیا گیا ھے کہ"جلاس" نام کا منافق جنگ تبوک کے زمانہ میں پیامبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعض خطبے کو سننے کے بعد اس کا انکار کرتے ھوئے پیامبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تکذیب بھی کی، حضور کی مدینہ واپسی کے بعد عامر ابن قیاس نے پیامبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں جلاس کی حرکات کو بیان کیا، جب جلاس حضور کے خدمت میں پھونچا تو عامر بن قیس کی گزارش کو انکار کر بیٹھا، آپ نے دونوں کو حکم دیا کہ مسجد نبوی میں منبر کے نزدیک قسم کھائیں کہ جھوٹ نھیں بول رھے ھیں دونوں نے قسم کھائی، عامر نے قسم میں اضافہ کیا خدایا! اپنے پیامبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر آیت نازل کرکے جو صادق ھے اس کا تعارف کرادے، حضور اور مومنین نے آمین کھی، جبرئیل نازل ھوئے اور اس آیت کو پیامبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں پیش کیا۔
(یحلفون باللہ ما قالوا ولقد قالوا کلمۃ الکفر وکفروا بعد اسلامھم) ([4])
یہ اپنی باتوں پر اللہ کی قسم کھاتے ھیں کہ ایسا نھیں کھا حالانکہ انھوں نے کلمہ کفر کھا اور اپنے اسلام کے بعد کافر ھوگئے ھیں۔
یہ اور مذکورہ آیات سے استفادہ ھوتا ھے کہ کذب اور تکذیب، منافقین کا ایک طرۂ امتیاز ھے تاکہ مومنین کی صفوف میں نفوذ کرکے اپنائیت کا اظھار کرسکیں۔
منافقین پیامبر عظیم الشان(ص) کے دور میں تصور کرتے تھے کہ کذب و تکذیب کے ذریعہ آپ کو فریب دے سکتے ھیں تاکہ اپنے باطن کو مخفی کرسکیں خداوند عالم منافقین کی اس روش کو افشا کرتے ھوئے تاکید کررھا ھے کہ ایسا نھیں ھے کہ پیامبر گرامی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تمھارے احوال و اوضاع سے بے خبر ھیں یا خوش خیالی کی بنا پر تمھاری باتوں پر اطمینان کرلیتے ھیں۔
نقل کیا جاتا ھے کہ جماعت نفاق کے افراد آپس میں بیٹھے ھوئے پیامبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ناسزا الفاظ سے یاد کررھے تھے، ان میں سے ایک نے کھا: ایسا نہ کرو، ڈرتا ھوں کہ یہ بات (حضرت) محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے کانوں تک پہنچ جائے اور وہ ھم کو برا بھلا کھیں اور افراد کو ھمارے خلاف ورغلائیں، ان میں سے ایک نے کھا: کوئی اھم بات نھیں، جو ھمارا دل چاھے گا کھیں گے، اگر یہ بات ان کے کانوں تک پہنچ بھی جائے، تو ان کے پاس جاکر انکار کردیں گے چونکہ (حضرت) محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خوش خیال و منھ دیکھے ھیں، کوئی جو کچھ بھی کھتا ھے قبول کرلیتے ھیں اس موقع پر سورہ توبہ کی ذیل آیت نازل ھوئی اور ان کے اس غلط تصور و فکر کا سختی سے جواب دیا۔
(منھم الذین یوذون النبی ویقولون ھو اذن) ([5])
ان (منافقین)میں سے جو پیامبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اذیت دیتے ھیں اور کھتے ھیں وہ تو صرف کان (سادہ لوح و خوش باور) ھیں۔

۲۔ باطل قسمیں یاد کرنا:
دوسری وہ روش جس کو استعمال کرتے ھوئے منافقین مومنین کے حلقہ میں نفوذ کرتے ھیں، باطل قسمیں کھانا ھے، وہ ھمیشہ شدید قسموں کے ذریعہ سعی کرتے ھیں تاکہ اپنے باطن کو افشا ھونے سے بچا سکیں اور اسی کے سایہ میں تخریبی حرکتیں انجام دیتے ھیں۔
(اتخذوا ایمانھم جنۃً فصدوا عن سبیل اللہ) ([6])
انھوں نے اپنی قسموں کو سپر بنا لیا ھے اور لوگوں کو راہ خدا سے روک رھے ھیں۔ منافقین باطل اور جھوٹی قسموں کے ذریعہ کوشش کرتے ھیں کہ خود کو مومنین کا خیر خواہ ثابت کریں، اور صاحب ایمان کے حلقہ میں اپنا ایک مقام بنالیں۔
(ویحلفون باللہ انھم لمنکم وما ھم منکم و لکنھم قوم یفرقون) ([7])
اور یہ اللہ کی قسم کھاتے ھیں اس بات پر کہ یہ تمھیں میں سے ھیں حالانکہ یہ تم میں سے نھیں ھیں یہ بزدل لوگ ھیں۔
منافقین چونکہ واقعی ایمان کے حامل نھیں، رضائے الھی کا حصول ان کے لئے اھمیت نھیں رکھتا ھے اور معاشرے میں اپنی ساکھ اور اعتبار بھی بنائے رکھنا چاھتے ھیں اور معاشرہ کے افراد کی توجہ کی حصول کے لئے زیادہ اھتمام بھی کرتے ھیں لھذا مختلف میدان میں جھوٹی قسمیں کھاکر مومنین حضرات کی رضایت و خشنودی کو حاصل کرتے ھیں۔
خدا قرآن میں تصریح کررھا ھے کہ منافقین کا بنیادی مقصد مومنین کی رضایت کو حاصل کرنا ھے حالانکہ رضایت الھی کا حصول اھمیت کا حامل ھے جب تک خدا راضی نہ ھو بندگان خدا کی رضایت منافقین کے لئے سودمند ھو ھی نھیں سکتی ھے شاید مومنین کی رضایت سے سوء استفادہ کرتے ھوئے مزید کچھ دن تخریبی کاروائی انجام دے سکیں۔
(یحلفون باللہ لکم لیرضوکم واللہ ورسولہ احق ان یرضوہ ان کانوا مومنین)[8]
یہ لوگ تم لوگوں کو راضی کرنے کے لئے خدا کی قسم کھاتے ھیں حالانکہ خدا و رسول اس بات کے زیادہ حق دار تھے اگر یہ صاحبان ایمان تھے تو واقعاً انھیں اپنے اعمال و کردار سے راضی کرتے۔
(یحلفون لکم لترضوا عنھم فان ترضوا عنھم فان اللہ لا یرضی عن القوم الفاسقین) [9]
یہ تمھارے سامنے قسم کھاتے ھیں کہ تم ان سے راضی ھوجاؤ اگر تم راضی بھی ھوجاؤ تو بھی خدا فاسق قوم سے راضی ھونے والا نھیں۔

۳۔ غلط اقدامات کی توجیہ کرنا:
منافقین صاحبان ایمان کی تحصیل رضایت اور حسن نیت کی اثبات کے لئے اپنے غلط اقدامات و حرکات کی توجیہ کرتے ھیں کہ اپنائیت کا اظھار کرتے ھوئے فائدہ حاصل کرسکیں منافقین کی نفسیاتی خصوصیت میں یہ نکتہ مورد بحث قرار دیا گیا ھے اور تصریح کیا گیا ھے کہ منافقین تاویل و توجیہ کے ھتکنڈے کو تمام ھی موارد میں استعمال کرتے ھیں۔
منافقین عمومی افکار اور اعتماد کو ھاتھ سے جانے دینا نھیں چاھتے لھذا اظھار اپنائیت کرتے ھوئے اپنے غلط اقدامات و حرکات کی توجیہ کرتے ھیں اور اپنے باطل مقاصد کو حق کے لباس اور قالب میں پیش کرتے ھیں۔
امیر المومنین حضرت علی علیہ السلام اھل نفاق کی توصیف کرتے ھوئے فرماتے ھیں:
((یقولون فیشبھون ویصفون فیموھون))[10]
جب بات کرتے ھیں تو مشتبہ انداز میں اور جب تعریف کرتے ھیں تو باطل کو حق کا رنگ دے کر، کرتے ھیں۔
قرآن مجید نے منافقین کے مختلف عذر اور غلط اقدامات کا ذکر کیا ھے اور ان کی تکذیب بھی کی ھے، بطور مثال جنگ تبوک میں اپنے عدم حضور کی توجیہ، ناتوانی و عدم قدرت کی شکل میں پیش کرنا چاھتے تھے کہ خداوند عالم ان سے قبل ان کی اس توجیہ کی تکذیب کرتے ھوئے فرماتا ھے:
(لو کان عرضاً قریباً و سفرا قاصدا لا تبعونک ولکن بعدت علیھم الشقّہ وسیحلفون باللہ لو استطعنا لخرجنا معکم یھلکون انفسھم واللہ یعلم انھم لکاذبون)[11]
پیامبر! اگر کوئی فوری فائدہ یا آسان سفر ھوتا تو تمھارا اتباع کرتے لیکن ان کے لئے دور کا سفر مشکل بن گیا ھے اور عنقریب یہ خدا کی قسمیں کھائیں گے اس بات پر کہ اگر ممکن ھوتا تو ھم ضرور آپ کے ساتھ چل پڑتے، یہ اپنے نفس کو ھلاک کررھے ھیں اور خدا خوب جانتا ھے کہ یہ جھوٹے ھیں۔
منافقین کے غلط اقدام کی توجیہ کا ایک اور موقع یہ ھے کہ، تقریباً منافقین میں سے ایک سو اسّی افراد نے غزوہ تبوک میں شرکت نھیں کی، جب رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور مسلمان وھاں سے واپس آئے تو منافقین مختلف توجیہ کرنے لگے۔
ذیل کی آیت منافقین کی اس غلط حرکات کی سرزنش کے لئے نازل ھوئی ھے خداوند عالم بطور واضح بیان کررھا ھے کہ ان کے جھوٹے عذر خدا کے لئے پوشیدہ نھیں ھیں ان کے حالات سے مومنین کو باخبر کرکے منافقین کے اسرار سے پردہ اٹھا رھا ھے۔
(یعتذرون الیکم اذا رجعتم الیھم قل لا تعتذروا لن نؤمن لکم قد نبّأنا اللہ من اخبارکم و سیری اللہ عملکم ورسولہ ثم تردون الی عالم الغیب و الشھادۃ فینبئکم بما کنتم تعملون)[12]
یہ تخلف کرنے والے منافقین تم لوگوں کی واپسی پر طرح طرح کے عذر بیان کریں گے تو آپ کہہ دیجئے کہ تم لوگ عذر نہ بیان کرو ھم تصدیق کرنے والے نھیں ھیں اللہ نے ھمیں تمھارے حالات بتادیئے ھیں وہ یقیناً تمھارے اعمال کو دیکھ رھا ھے اور رسول بھی دیکھ رھا ھے اس کے بعد تم حاضر و غائب کے عالم (خدا) کی بارگاہ میں واپس کئے جاؤ گے اور وہ تمھیں تمھارے حال سے باخبر کرے گا۔

۴۔ ظاھر سازی کرنا:
ظواھر دینی کی شدید رعایت، خوش نما و اشخاص پسند گفتگو، اصلاح طلب نظریات و افکار کا اظھار، منافقین کے حربہ ھیں تاکہ طرف کے مقابل کو اپنا ھمنوا بناکر خودی ھونے کا القاء کرسکیں۔
امیر المومنین حضرت امام علی علیہ السلام کے ھم عصر بعض منافقین ظاھر میں عبّاد و زہاّد دھر تھے نماز شب، قرآن کی تلاوت، ان سے طولانی ترین سجدے ترک نھیں ھوتے تھے، ان کی ظاھر سازی سے اکثر مومنین فریب کے شکار ھوجاتے تھے، بھت کم ھی تھے جو ان کے دین و ایمان میں شک رکھتے ھوں۔
منافقین کی ظاھر سازی کچھ اس نوعیت کی تھی کہ بقول قرآن، خود پیامبر عظیم الشان(ص) کے لئے بھی باعث حیرت و تعجب خیز تھی۔
(واذا رأیتھم تعجبک اجسامھم ان یقولوا تسمع لقولھم)[13]
اور جب آپ انھیں دیکھیں گے تو ان کے جسم بھت اچھے لگیں گے اور بات کریں گے تو اس طرح کہ آپ سننے لگیں گے۔
منافقین کی ظواھر سازی، رفتار و کردار سے اختصاص نھیں رکھتی بلکہ ان کی گفتار بھی فریب و جاذبیت سے لبریز ھے۔
(ومن الناس من یعجبک قولہ فی الحیوة الدنیا و یشھد اللہ علی ما فی قلبہ وھو الدّ الخصام)[14]
انسانوں میں ایسے لوگ بھی ھیں جن کی باتیں زندگانی دنیا میں بھلی لگتی ھیں اور وہ اپنے دل کی باتوں پر خدا کو گواہ بتاتے ھیں حالانکہ وہ بدترین دشمن ھیں۔

۵۔ جھوٹے عھد و پیمان کرنا:
خودی ظاھر کرنے کے لئے منافقین کا ایک اور وطیرہ وعدہ اور اس کی خلاف ورزی ھے بسا اوقات منافقین سے عادتاً ایسی خطائیں سرزد ھوتی تھیں کہ جس کی کوئی توجیہ و تاویل ممکن نھیں تھی یا مومنین کے لئے قابل قبول نھیں ھوتی تھی ایسے مقام پر وہ توبہ کو وسیلہ بناتے تھے اور عھد کرتے تھے اب ایسی خطائیں نھیں کریں گے اور صحیح راستہ پر مستحکم و ثابت قدم رھیں گے لیکن چونکہ دین اور دین کے اعتبارات کے لئے منافقین کے قلب میں کوئی جگہ تھی ھی نھیں جو اپنے عھد و پیمان پر باقی رھتے، تخلف وعدہ ایسے ھی تھا جیسے ان کے لئے کذب وغیرہ…… جنگ احزاب میں منافقین کی وعدہ خلافی کی بنا پر ذیل کی آیت کا نزول ھوا:
(ولقد کانوا عاھدوا اللہ من قبل لا یولون الأدبار وکان عھد اللہ مسئولا)[15]
اور ان لوگوں نے اللہ سے یقینی عھد کیا تھا کہ ھرگز پشت نھیں دکھائیں گے، اور اللہ کے عھد کے بارے میں بھر حال سوال کیا جائے گا۔
خداوند عالم "ثعلبہ بن حاطب" کی عھد گزاری نیز پیمان شکنی کے واقعہ کو یاد دھانی کے طور پر پیش کررھا ھے، ثعلبہ بن حاطب ایک فقیر مسلمان تھا اس نے پیامبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے دعا کرنے کی خواھش کی تاکہ وہ صاحب ثروت ھوجائے حضرت نے فرمایا: وہ تھوڑا مال جس کا تم شکر ادا کرسکتے ھو اس زیادہ اموال سے بھتر ھے جس کی شکر گزاری نھیں کرسکتے ھو، ثعلبہ نے کھا: اگر خدا عطا کرے تو اس کے تمام واجب حقوق کو ادا کرتا رھوں گا۔
پیامبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی دعا سے اموال میں اضافہ ھونے لگا، یھاں تک کہ اس کے لئے مدینہ میں قیام، نماز جماعت نیز جمعہ میں شرکت کرنا مشکل ھوگیا اطراف مدینہ میں منتقل ھوگیا، جب زکوٰۃ لینے والے گئے تو یہ کہہ کر واپس کردیا کہ مسلمان اس لئے ھوئے ھیں تاکہ جزیہ و خراج نہ دینا پڑے، اگر چہ بعد میں ثعلبہ پشیمان تو ھوا لیکن رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کی تنبیہ اور دوسروں کی عبرت کے لئے زکوٰۃ لینے سے انکار کردیا، ذیل کی آیت اسی واقعہ کو بیان کررھی ھے۔
(ومنھم من عاھد اللہ لئن آتانا من فضلہ لنصدقن و لنکونن من الصالحین فلما آتیھم من فضلہ بخلوا بہ وتولوا وھم معرضون فاعقبھم نفاقاً فی قلوبھم الی یوم یلقونہ)[16]
ان میں سے وہ بھی ھیں جنھوں نے خدا سے عھد کیا اگر وہ اپنے فضل و کرم سے عطا کرے گا، تو اس کی راہ میں صدقہ دیں گے اور نیک بندوں میں شامل ھوجائیں گے، اس کے بعد جب خدا نے اپنے فضل سے عطا کردیا تو بخل سے کام لیا، اور کنارہ کش ھوکر پلٹ گئے تو ان کے بکل نے ان کے دلوں میں نفاق راسخ کردیا، اس دن تک کے لئے جب یہ خدا سے ملاقات کریں گے اس لئے کہ انھوں نے خدا سے کئے ھوئے وعدہ کی مخالفت کی ھے اور جھوٹ بولتے ھیں۔
پیمان گزاری و پیمان شکنی، وعدہ اور وعدہ کی خلاف ورزی، آئندہ صالح ھونے کا پیمان اور اس سے روگردانی وغیرہ……، یہ وہ طریقے ھیں جس سے منافقین استفادہ کرتے ھوئے مومنین کے حلقہ و دینی معاشرے میں خود کو مخفی؛ کئے رھتے ھیں اور عوام فریبی کے لئے زمین ھموار کرتے ھیں۔

منافقین کی ثقافتی خصائص

دینی یقینیات و مسلّمات کی تضعیف
منافقین کی ثقافتی رفتار و کردار کی دوسری خصوصیت دینی و مذھبی یقینیات و مسلّمات کی تضعیف ھے یقیناً جب تک انسان کا عقیدہ تحریف، تزلزل، ضعف سے دوچار نہ ھوا ھو۔ کوئی بھی طاقت اس کے عقیدہ کے خلاف زور آزمائی نھیں کرسکتی قدرت کا اقتدار، حکومت کی حاکمیت اجسام و ابدان پر تو ھوسکتی ھے دل میں نفوذ و قلوب پر مسلط نھیں ھوسکتی سر انجام انسان کی رسائی اس شی تک ھو ھی جا تی ھے جسے دل اور قلب پسند کرتا ھے اسلام کا اھم ترین اثر مسلمانوں پر، بلکہ تمام ھی ادیان کا اپنے پیروکاروں پر یہ رھا ھے کہ فرضی و خرافاتی رسم و رواج کو ختم کرتے ھوئے منطقی و محکم اعتقاد کی بنیاد ڈالیں، پہلے تو اسلام نے انسانوں کے اندرونی تحول و انقلاب کے لئے کام کیا ھے پھر اسلامی حکومت کے استقرار کی کوشش کی ھے تاکہ ایسا سماج و معاشرہ وجود میں آئے جو اسلام کے نظریہ کے مطابق اور مورد تایید ھو۔
پیامبر عظیم الشان(ص) پہلے مکہ میں تیرہ سال تک انسان سازی اور ان کے اخلاقی، فکری، اعتقادی ستون کو محکم مضبوط کرنے میں مصروف رھے اس کے بعد مدینہ میں اسلام کی سیاسی نظریات کی تابع ایک حکومت تشکیل دی منافقین جانتے تھے کہ جب تک مسلمان پیامبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی انسان ساز تعلیمات پر گامزن اور خالص اسلامی عقیدہ پر استوار و ثابت قدم رھیں گے، ان پر نہ تو حکومت کی جاسکتی ھے اور نہ ھی وہ تسلیم ھوسکتے ھیں، لھذا ان کی طرف سے ھمیشہ یہ کوشش رھی ھے کہ مومنین عقائد، دینی و مذھبی تعلمیات کے حوالہ سے ھمیشہ شک و شبہ میں مبتلا رھیں جیسا کہ آج بھی اغیار کے ثقافتی یلغار و حملہ کا اھم ترین ھدف یھی ھے۔
منافقین کے اھداف یہ ھیں کہ اھل اسلام سے روح اسلام اور ایمان کو سلب کرلیں، منافقین کی تمام تر سعی، دین کے راسخ عقائد اس کے اھداف و نتائج، مذھب کی حقانیت و مسلمات سے مسلمانوں کو دور کردینا ھے تاکہ شاید اس کے ذریعہ اسلامی حکومت کی عنان اپنے ھاتھ میں لے سکیں اور مسلمانوں پر تسلط و قبضہ کرسکیں لھذا منافقین کا اپنے باطل مقاصد کے تکمیل کے لئے بھترین طریقۂ کار یہ ھوتا ھے کہ لوگوں کے دلوں میں طرح طرح کے شکوک پیدا کریں، اور انواع و اقسام کے شبھات کے ذریعہ مسلمانوں کو دینی مسلّمات کے سلسلہ میں وادی تردید میں ڈال دینے کی کوشش کرتے ھیں، تاریخی شواھد اور وہ آیات جو منافقین کی اس روش کو اجاگر کرتی ھیں، بیان کرنے سے قبل، ایک مختصر وضاحت سوال اور ایجاد شبہ کے سلسلہ میں عرض کرنا لازم ھے، اس میں کوئی شک نھیں کہ سوال اور جستجو کی فکر ایک مستحسن اور مثبت پہلو ھے، تمام علوم و معارف انھیں سوالات کے رھین منت ھیں جو بشر کے لئے پیش آئے ھیں اور جس کے نتیجہ میں اس نے جوابات فراھم کئے ھیں، اگر انسان کے اندر جستجو و تلاش کا جذبہ نہ ھوتا جو اس کی فطرت کا تقاضا ھے نیز ان سوالات کا حل تلاش کرنے کی فکر دامن گیر نہ ھوتی تو یقیناً موجودہ علوم و دانش کی یہ ترقی کسی صورت سے حاصل نہ ھوتی۔
ان سوالات کے حل کے لئے جو انسان کے لئے پیش آتے ھیں دین اسلام میں فراوان تاکید کی گئی ھے، یہ کھا جاسکتا ھے جس قدر علم و تحصیل کی تشویق و ترغیب کی گئی ھے اسی طرح سوالات اور اس کے حل پر بھی زور دیا گیا ھے، قرآن مجید صریح حکم دے رھا ھے اگر کسی چیز کو نھیں جانتے ھو تو اس علم کے علماء اور دانشمندوں سے سوال کرو۔
(فاسئلوا اھل الذکر ان کنتم لا تعلمون)[17]
اگر نھیں جانتے ھو تو اھل ذکر (علماء) سے سوال کرو۔
دوسرا وہ مطلب جو اسلام میں جواب و سوال کی اھمیت کو ظاھر کرتا ھے وہ جوابات ھیں جو خداوند عالم نے قرآن میں بیان کئے ھیں یہ سوالات پیامبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کئے جاتے تھے خدا نے قرآن میں "یسئلونک" سے بات آغاز کرتے ھوئے ان کے جوابات دئے ھیں[18]
پیامبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے جب روح، ھلال، انفال شراب و قمار کے بارے میں سوال کیا گیا تو آپ سوال اور فکر سوال کی تشویق و تمجید کرتے ھوئے فرماتے ھیں:
((العلم خزائن و مفاتیحھا السوال فاسئلوا یرحمکم اللہ فانہ یوجر فیہ اربعۃ السائل والعالم و المستمع والمحب لھم))[19]
علم خزانہ ھے اور اس کی کنجیاں سوال کرنا ھے، سوال کرو، (جس چیز کو نھیں جانتے ھو) خداوند متعال تم کو اپنی خاص رحمت سے نوازے گا ھر سوال میں چار فرد کو فائدہ نفع حاصل ھوتا ھے سوال کرنے والے، جواب دینے والے، سننے والے اور اس فرد کو جو ان کو دوست رکھتا ھے۔
ائمہ حضرات کے بھت سارے دلائل، بحث و مباحثات نیز مختلف افراد کے سوالات کا جواب دینا، حتی دشمنوں اور کافرین کے مسائل کا حل پیش کرنا اس بات کی دلیل ھے کہ سوال ایک امر پسندیدہ و مطلوب شی ھے، ائمہ حضرات کی سیرت میں اس امر کا اھتمام کافی حد تک مشھور ھے[20]
ظاھر ھے کہ وہ سوالات جو درک و فھم اور استفادہ کے لئے کیا جائے، وہ مفید ھے اور فھم و کمال کو بلندی عطا کرتا ھے، لیکن وہ سوالات جو دوسروں کی اذیت، آزمایش یا ایسے علم کے حصول کے لئے ھو جو انسان کے لئے فائدہ مند نھیں ھے، صرف یھی نھیں کہ ایسے سوالات بے قدر و قیمت ھیں بلکہ ممنوع قرار دئے گئے ھیں۔
امیر المومنین حضرت امام علی علیہ السلام نے ایک پیچیدہ اور بی فائدہ سوال کے جواب میں فرمایا:
((سل تفقھا ولا تسأل تعنتا))[21]
سمجھنے کے لئے دریافت کرو الجھنے کے لئے نھیں۔
قرآن مجید میں بھی پیامبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کئے گئے بعض سوالوں کے جواب کے لحن و طرز سے اندازہ ھوتا ھے کہ ایسے سوالات نھیں کرنا چاھئے جن کے جوابات ثمر بخش نھیں ھیں۔
بعض مسلمانوں نے ھلال (ماہ) کے سلسلہ میں سوالات کئے کہ ماہ کیا ھے، وہ کیوں تدریجاً کامل ھوتا ھے، پھر کیوں پہلی حالت پر پلٹ آتا ھے[22]
اللہ اس سوال کے جواب میں پیامبر عظیم الشان کو حکم دیتا ھے کہ ھلال کے تغییرات کے آثار و فوائد کو بیان کریں، ھلال کے متعلق اس جواب کا مفھوم یہ ھے کہ وہ چیز جو سوال کرنے و جاننے کے قابل ھے وہ ھلال کی تغییرات کی بنا پر اس کے آثار و فوائد ھیں نہ یہ کہ، کیوں ماہ تغییر کرتا ھے اور اس کی علت کیا ھے (علت شناسی زیادہ اھمیت کی حامل نھیں)۔
سوال اور شبہ کا اساسی و بنیادی فرق یہ ھے کہ شبہ القا کرنے والے کا ھدف، جواب کا حاصل کرنا نھیں ھے بلکہ شبہ کا موجد اپنے باطل مطلب کو حق کے لباس میں ان افراد کے سامنے پیش کرتا ھے، جو حق و باطل میں تشخیص دینے کی صلاحیت نھیں رکھتے ھیں امیر المونین حضرت علی علیہ السلام شبہ کی اسم گزاری کے سلسلہ میں فرماتے ھیں:
((وانما سمیت الشبھۃ شبھۃ لانھا تشبہ الحق))[23]
شبہ کو اس لئے شبہ کا نام دیا گیا کہ حق سے شباھت رکھتا ھے۔
اگر شبہ ایجاد کرنے والے کو علم ھوجائے کہ کسی مقام پر ھمارا مغالطہ کشف ھوجائے گا اور اس کا باطن ھونا آشکار ھوجائے گا تو ایسی صورت میں وہ اس مقام یا فرد کے پاس اصلاً شبہ کو طرح و پیش ھی نھیں کرتا بلکہ وہاں پیش کرنے سے گریز کرتے ھیں سعی و کوشش یہ ھوتی ھے کہ شبہ کے احتمالی جواب کو بھی مخدوش کرکے پیش کرے۔
ایسے افراد کے اھداف بعض اشخاص کو اپنے میں جذب اور ان کے مبانی و اصول میں تزلزل پیدا کرنا ھوتا ھے، تاکہ حق کو دور و جدا کرسکیں، شبہ کرنے والے حضرات اپنے باطل کو حق میں اس طرح آمیزش کردیتے ھیں کہ وہ افراد جو تفریق و تمیز کی صلاحیت نھیں رکھتے ھیں وہ فریب کا شکار ھوجائیں۔
شبھات ھمیشہ حق کے لباس میں پیش کئے جاتے ھیں اور آسانی سے سادہ لوح افراد مجذوب ھوجاتے ھیں، شبہ خالص باطل نھیں ھے اس لئے کہ باطل محض اور خالص آسانی سے ظاھر ھوجاتا ھے۔
حضرت امیر المومنین علی علیہ السلام فتنہ کا سر چشمہ حق و باطل کی آمیزش کو بیان کرتے ھیں، آپ مزید فرماتے ھیں کہ اگر حق و باطل ایک دوسرے سے جدا کردئے جائیں تو راستہ کی تشخیص بھت ھی آسان اور سھل ھوجاتی ھے۔
((انما بدء وقوع الفتن اھواء تتبع و احکام تبتدع یحلاف فیھا کتاب اللہ ویتولی علیھا رجال رجالا علی غیر دین اللہ فلو ان الباطل خلص من مزاج الحق لم یخف علی المرتادین ولو ان الحق خلص من لبس الباطل انقطعت عنہ السن المعاندین ولکن یوخذ من ھذا ضغث و من ھذا ضغث فیمز جان))[24]
فتنہ کی ابتدا ان خواھشات سے ھوتی ھے جن کا اتباع کیا جاتا ھے اور ان جدید ترین احکام سے ھوتی ھے جو گڑھ لئے جاتے ھیں اور سراسر کتاب خدا کے خلاف ھوتے ھیں اس میں کچھ لوگ دوسرے لوگوں کے ساتھ ھوجاتے ھیں اور دین خدا سے الگ ھوجاتے ھیں کہ اگر باطل حق کی آمیزش سے الگ رھتا تو حق کے طلبگاروں پر مخفی نھیں رہ سکتا تھا اور اگر حق باطل کی ملاوٹ سے الگ رھتا تو دشمنوں کی زبانیں کھل نھیں سکتی تھیں، لیکن ایک حصہ اس میں سے لیا جاتا ھے اور ایک اس میں سے، اور پھر دونوں کو ملا دیا جاتا ھے۔
تحقیقی اور تخصصی مسائل کو علمی ظاھر کرتے ھوئے، غیر علمی حلقے و ماحول میں پیش کرنا ایجاد کرنے کا روشن ترین مصداق ھے۔

شبہ کا القا
دینی و اعتقادی مسلّمات کو ضعیف و کمزور کرنے کے لئے منافقین کی اھم ترین روش، القا شبہ ھے جس کے ذریعہ دین و ایمان کی روح و فکر کو خدشہ دار کردیتے ھیں۔
منافقین سخت اور حساس مواقع پر خصوصاً جنگ و معرکہ کے ایام میں شبہ اندازی کرکے مومنین کی مشکلات میں اضافہ اور مجاھدین کی فکر و حوصلہ کو تباہ اور برباد کر دیتے ھیں تاکہ میدان جنگ و نبرد کے حساس مواقع پر شرکت کرنے سے روک سکیں۔
اس مقام پر منافقین کی طرف سے پیش کئے گئے دو شبہ قرآن مجید کے حوالہ سے پیش کئے جارھے ھیں۔

۱۔ دین کے لئے فریب کی نسبت دینا
منافقین جنگ بدر کے موقع پر خداوند عالم کی نصرت و مدد اور مسلمین کی کامیابی و فتح یابی کے وعدے کی تکذیب کرتے ھوئے، ان کے وعدے کو فریب و خوش خیالی قرار دے رھے تھے، قصد یہ تھا کہ ایجاد اضطراب کے ذریعہ وعدہ الھی کے سلسلہ میں مسلمانوں کے اعتقاد و ایمان میں ضعف و تزلزل پیدا کردیں، تاکہ وہ میدان جنگ میں حاضر نہ ھوسکیں۔
خداوند عالم اس مسئلہ کی یاد دھانی کرتے ھوئے مسلمانوں کے لئے تصریح کرتا ھے کہ خدا کا وعدہ یقینی ھے اگر توکل و اعتماد رکھو گے تو کامیاب و کامران ھوجاؤ گے۔
(واذ یقول المنافقون والذین فی قلوبھم مرض غرّ ھولاء دینھم ومن یتوکل علی اللہ فان اللہ عزیز حکیم)[25]
جب منافقین اور جن کے دل میں کھوٹ تھا کہہ رھے تھے کہ ان لوگوں (مسلمان) کو ان کے دین نے دھوکہ دیا ھے حالانکہ جو شخص اللہ پر اعتماد کرتا ھے تو خدا ھر شی پر غالب آنے والا اور بڑی حکمت والا ھے۔
منافقین نے اسی سازش کو جنگ احزاب (خندق) میں بھی استعمال کیا۔
(واذ یقول المنافقون والذین فی قلوبھم مرض ما وعدنا اللہ ورسولہ الا غرورا)[26]
اور جب منافقین اور جن کے دلوں میں مرض تھا یہ کہہ رھے تھے کہ خدا و رسول نے ھم سے صرف دھوکہ دینے والا وعدہ کیا ھے۔
آیت فوق کی شان نزول یہ ھے کہ مسلمان خندق کھودتے وقت ایک بڑے پتھر سے ٹکرائے، سعی فراوان کے بعد بھی پتھر کو نہ توڑ سکے، رسول اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے مدد کے لئے درخواست کی، آپ نے الھی طاقت کا مظاھرہ کرتے ھوئے تین وار اور ضرب سے پتھر کو توڑ ڈالا، اور آپ نے فرمایا: یھاں سے حیرہ، مدائن، کسریٰ و روم کے قصر و محل میرے لئے واضح و آشکار ھیں، فرشتۂ وحی نے مجھے خبر دی ھے کہ میری امت ان پر کامیاب اور فتحیاب ھوگی نیز ان کے تمام قصر و محل زیر تصرف ھوں گے پھر آپ نے فرمایا: خوش خبری اور مبارک ھو تم مسلمانوں پر اور اس خدا کا شکر ھے کہ اس محاصرہ و مشکلات کے بعد فتح و ظفر ھے۔
اس موقع پر ایک منافق نے بعض مسلمانوں کو مخاطب کرتے ھوئے کھا: تم محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بات پر تعجب نھیں کرتے ھو، کس طریقہ سے تم کو بے بنیاد وعدوں کے ذریعہ خوش کرتے ھیں اور کھتے ھیں کہ یھاں سے روم و حیرہ و مدائن کے قصر کو دیکھ رھا ھوں اور جلد ھی فتح نصیب ھوگی، یہ اس حال میں تم کو وعدہ دے رھے ھیں کہ تم دشمن سے مقابلہ کرنے میں خوف و ھراس کے شکار ھو [27]

۲۔ حق پر نہ ھونے کا شبہ ایجاد کرنا
دوسرا وہ القاء شبہ جسے ھمیشہ منافقین خصوصاً میدان جنگ اور معرکہ میں ایجاد کرتے تھے حق پر نہ ھونے کا شبہ تھا، جب جنگوں میں مسلمان خسارہ اور نقصان میں ھوتے تھے یا بعض مجاھدین درجہ شھادت پر فائز ھوتے تھے، یا اھل اسلام شکست سے دوچار ھوتے تھے تو منافقین اس کا بھانہ لے کر طرح طرح کے شبہ ایجاد کرتے تھے کہ اگر حق پر ھوتے تو شکست نھیں ھوتی، یا قتل نھیں کئے جاتے، اور اس طرح سے مسلمانوں کو شک اور تزلزل میں ڈال دیتے تھے۔
قرآن مجید سے استفادہ ھوتا ھے کہ منافقین نے جنگ احد اور اس کے بعد سے اس انحرافی فکر کو القا کرنے میں اپنی سعی تیز تر کردی تھی۔
(ویقولون لو کان لنا من الأمر شیء ما قتلنا ھھنا)[28]
اور کھتے ھیں کہ اگر اختیار ھمارے ھاتھ میں ھوتا ھم یھاں نہ مارے جاتے۔
منافقین میدان جنگ میں شکست کو نبوت پیامبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور ان کے آئین کی نا درست و ناسالم ھونے کی علامت سمجھتے تھے اور یہ شبہ ایجاد کرتے تھے اگر یہ (شھدا) میدان جنگ میں نہ جاتے تو شھید نہ ھوتے۔
(الذین قالوا لأخوانھم و قعدوا لو اطاعونا ما قتلوا)[29]
یھی (منافقین) وہ ھیں جنھوں نے اپنے مقتول بھائیوں کے بارے میں یہ کھنا شروع کردیا کہ وہ ھماری اطاعت کرتے تو ھرگز قتل نہ ھوتے۔
خداوند عالم ان کے اس شبہ (جنگ میں شرکت قتل کئے جانے کا سبب ھے) کا جواب بیان کررھا ھے، موت ایک الھی تقدیر و سر نوشت ھے موت سے فرار میسر نھیں، اور معرکہ احد میں قتل کیا جانا نبوت و پیامبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے نا سالم ھونے اور ان کے نادرست اقدام کی علامت نھیں، جن افراد نے اس جنگ میں شرکت نھیں کی ھے موت سے گریز و فرار نھیں کرسکتے ھیں یا اس کو موخر کرنے کی قدرت و توانائی نہیں رکھتے ھیں۔
(قل لو کانوا فی بیوتکم لبرز الذین کتب علیھم القتل الی مضاجعھم)[30]
تو آپ کہہ دیجئے کہ اگر تم گھروں میں بھی رہ جاتے تو جن کے لئے شھادت لکھ دی گئی ھے وہ اپنے مقتل تک بہر حال جاتے۔
قرآن موت و حیات کو خدا کے اختیار میں بتاتا ھے معرکہ و جنگ کے میدان میں جانا موت کے آنے یا تاخیر سے آنے میں مؤثر نھیں ھے۔
(واللہ یحیی و یمیت واللہ بما تعملون بصیر)[31]
موت و حیات خدا کے ھاتھ میں ھے اور وہ تمھارے اعمال سے خوب باخبر ھے اس مطلب کی تاکید کی کہ موت و حیات انسان کے اختیار میں نھیں ھے منافقین کے لئے اعلان کیا جارھا ھے کہ اگر تمھارا عقیدہ یہ ھے کہ موت و حیات تمھارے اختیار میں ھے تو جب فرشتۂ مرگ نازل ھو تو اس کو اپنے سے دور کردینا اور اس سے نجات حاصل کرلینا۔
(قل فادرئوا عن انفسکم الموت ان کنتم صادقین)[32]
پیامبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان سے کہہ دیجئے کہ اگر اپنے دعوے میں سچے ھو تو اب اپنی ھی موت کو ٹال دو۔
مسلمانوں کو اپنے مذھب و عقیدہ میں شک سے دوچار کرنے کے لئے منافقین ھمیشہ یہ نعرہ بلند کیا کرتے تھے، اگر ھم حق پر تھے تو کیوں قتل ھوئے اور کیوں اس قدر ھمیں قربانی دینی پڑی، ھمیں جو جنگ احد میں ضربات و شکست سے دوچار ھونا پڑا ھے اس کا مطلب یہ ھے کہ ھمارا دین اور آئین حق پر نھیں ھے۔
قرآن کے کچھ جوابات اس شبہ کے سلسلہ میں گزر چکے ھیں، اساسی و مرکزی مطلب اس شبہ کو باطل کرنے کے لئے مورد توجہ ھونا چاھئے وہ یہ کہ ظاھری شکست حق پر نہ ھونے کی علامت نھیں ھے جس طریقہ سے ظاھری کامیابی بھی حقانیت کی دلیل نھیں ھے۔
بھت سے انبیاء حضرات کہ جو یقیناً حق پر تھے، اپنے پروگرام کو جاری کرنے میں کامیابی سے ھم کنار نھیں ھوسکے، بنی اسرائیل نے بین الطلوعین ایک روز میں ستر انبیاء کو شھید کر ڈالا اور اس کے بعد اپنے کاموں میں مشغول ھوگئے جیسے کچھ ھوا ھی نھیں، کوئی حادثہ وجود میں آیا ھی نھیں، تو کیا ان پیامبران الھی کا شھید و مغلوب ھونا ان کے باطل ھونے کی دلیل ھے؟ اور بنی اسرائیل کا غالب ھوجانا ان کی حقانیت کی علامت ھے؟ یقیناً اس کا جواب نھیں میں ھے، دین کے سلسلہ میں فریب کی نسبت دینا اور حق پر نہ ھونے کے لئے شبہ پیدا کرنا، منافقین کے القاء شبھات کے دو نمونہ تھے جسے منافقین پیش کرتے تھے لیکن ان کے شبھات کی ایجاد ان دو قسموں پر منحصر و محصور نھیں ھے۔
دین کو اجتماع و معاشرت کے میدان سے جدا کرکے صرف آخرت کے لئے متعارف کرانا، دین کے تقدس کے بھانے دین و سیاست کی جدائی کا نعرہ بلند کرنا، تمام ادیان و مذاھب کے لئے حقانیت کا نظریہ پیش کرنا، صاحب ولایت کا تمام انسانوں کے برابر ھونا، صاحب ولایت کی درایت میں تردید اور اس کے اوامر میں مصلحت سنجی کے نظریہ کو پیش کرنا، احکام الھی کے اجرا ھونے کی ضرورت میں تشکیک وجود میں لانا، خدا محوری کے بجائے انسان محوری کی ترویج کرنا، اس قبیل کے ھزاروں شبھات ھیں جن کو منافقین ترویج کرتے تھے اور کررھے ھیں، تا کہ ان شبھات کے ذریعہ دین کے حقایق و مسلّمات کو ضعیف اور اسلامی معاشرہ سے روح ایمان کو خالی کردیں اور اپنے باطل و بیھودہ مقاصد کو حاصل کرلیں۔
البتہ یہ بات ظاھر و عیاں ھے کہ منافقین مسلمانوں کے اعتقادی و مذھبی یقینیات و مسلّمات میں القاء شبھات کے لئے اس نوع کے مسائل کا انتخاب کرتے ھیں جو اسلامی حکومت و معاشرے کی تشکیل میں مرکزی نقش رکھتے ھیں اور ان کے تسلط و قدرت کے لئے موانع ثابت ھوتے ھیں، اسی بنا پر منافقین کے القاء شبھات کے لئے زیادہ تر سعی و کوشش دین کے سیاسی و اجتماعی مبانی نیز دین و سیاست کی جدائی اور دین کو فردی مسائل سے مخصوص کردینے کے لئے ھوتی ھیں۔
--------
[1] نھج البلاغہ، خطبہ ۲۱۰۔
[2] سورہ منافقون/۱۔
[3] سورہ بقرہ/۱۱، ۱۲۔
[4] سورہ توبہ/۷۴۔
[5] سورہ توبہ/۶۱۔
[6] سورہ منافقون/۲۔
[7] سورہ توبہ/۵۶۔
[8] سورہ توبہ/۶۲۔
[9] نھج البلاغہ، خطبہ۱۹۴۔
[10] نھج البلاغہ، خطبہ ۱۹۴۔
[11] سورہ توبہ/۴۲۔
[12] سورہ توبہ/۹۴۔
[13] سورہ منافقون/۲۔
[14] سورہ بقرہ/۲۰۴۔
[15] سورہ احزاب/۱۵۔
[16] سورہ توبہ/۷۵/۷۷۔
[17] سورہ نحل/۴۲ و سورہ انبیاء/۷۔
[18] رجوع کریں بقرہ/۸۹ /۲۱۵ /۲۱۷ /۲۱۹۔
[19] میزان الحکمۃ ج۴، ص۳۳۰۔
[20] بعض مطالب کو کتاب الاحتجاج، مرحوم طبرسی، ج۱، ۲ میں حاصل کیا جاسکتا ھے۔
[21] نھج البلاغہ، حکمت۳۲۰۔
[22] سورہ بقرہ/۱۸۹۔
[23] نھج البلاغہ، خطبہ۳۸۔
[24] نھج البلاغہ، خطبہ۵۰۔
[25] سورہ انفال/۴۹۔
[26] سورہ احزاب/۱۲۔
[27] سیرۃ ابن ھشام، ج۲، ص۲۱۹، منشور جاوید، ص۷۴، ۷۵۔
[28] سورہ آل عمران/۱۵۴۔
[29] سورہ آل عمران/۱۶۸۔
[30] سورہ آل عمران/۱۵۴۔
[31] سورہ آل عمران/۱۵۶۔
[32] سورہ آل عمران/۱۶۸۔
 

24 Dec 2011 |

 
 

اہمیت شہادت؛ قرآن وحدیث كی روشنی میں

اہمیت شہادت؛ قرآن وحدیث كی روشنی میں
 
استاد:شاہد رضا كاشفی

ولا تحسبن الذین قتلوا فی سبیل اللہ امواتا بل احیاء عند ربھم یرزقون ۩ فرحین بماء اتھم اللہ من فضلہ و یستبشرون بالذین لم یلحقوا بھم من خلفھم ألاخوف علیھم ولا ھم یحزنون ۩ ویستبشرون بنعمۃ من بنعمۃ من اللہ و فضل وان اللہ لایضیع اجر المومنین ۩ (آل عمران ۔ ۱۶۹، ۱۷۱)
,, اور خبردار راہ خدا میں قتل ہونے والوں كو مردہ خیال نہ كرنا وہ زندہ ہیں اور اپنے پروردگار كے یہاں رزق پارہے ہیں۔ خدا كی طرف سے ملنے والے فضل و كرم سے خوش ہیں اور ابھی تك ان سے ملحق نہیں ہوسكتے ہیں ان كے بارے میں یہ خوش خبری ركھتے ہیں كہ ان كے واسطے بھی نہ كوئی خوف ہے اور نہ حزن۔ وہ اپنے پروردگار كی نعمت اس كے فضل اور اس كے وعدہ سے خوش ہیں كہ وہ صاحبان ایمان كے اجر كو ضائع نہیں كرتا ۔ ٬٬
اللہ كی راہ میں شہید ہوجانا یعنی ,, القتل فی سبیل اللہ ٬٬ ایك ایسا بلند ارفع اور اعلی ہدف ہے كہ جس كی جستجو میں ایك با ایمان شخص كہ جو اسلام كی نسبت، پختہ، مضبوط اور غیر متزلزل عقیدے كا حامل انسان ہواكرتا ہے اپنے پورے سرمایہ حیات كو داؤ پر لگاتا دیتا ہے ۔ لہذا شاید اسی وجہ سے اگر تاریخ انبیاء، آئمہ طاہرین (ع)، اولیا كرام كو ملاحظہ كریں تو ان پاك ہستیوں كا بھی ہدف، یہی شہادت (القتل فی سبیل اللہ ) دكھائی دیتا ہے ۔ اس كی وجہ یہ ہے كہ (شہادت) وہ راستہ ہے كہ جو مختلف قسم كی مشكلات اور درد والم كے سایے میں زندگی اور حیات كو اس كا صحیح مفہوم عطا كرتا ہے ۔ یہ مشكلات اور دردو الم كے سایہ میں زندگی اور حیات كو اس كا صحیح مفہوم عطا كرتا ہے ۔ یہ مشكلات اور دردو الم وہ مشكلات ہیں كہ جنھیں اللہ كے مومن بندے اس روئے زمین پر اللہ كے مقصد اور ہدف كو تحقق بخشنے كے لئے تحمل اور برداشت كرتے ہیں ۔ اور شاید اس كی وجہ یہ بھی ہوسكتی ہے كہ شہادت ایك ایسا راستہ ہے كہ جس پر چلتے ہوئے اللہ كے مخلص بندے اپنے نفس كو پاك اور پاكیزہ كرتے اور اسے اس بات پر آمادہ كرتے ہیں كہ ہمیشہ ہوی و ہوس اور دنیا كی ان لذتوں سے بیزاری كا اظہار كرے كہ جو انھیں اپنے معبود حقیقی سے اور اس كی رضا و خوشنودی سے دور ركھتی ہیں ۔

1۔ قرآن ،حدیث اور شہادت
اگر ہمیں شہادت كی عظمت و اہمیت اور اس كے فلسفے كو قرآن اور حدیث كی نگاہ سے دیكھنا اور سمجھنا ہو تو پھر سب سے پہلے ہمیں زندگی كا مفہوم اور جودو بقا كے مفہوم اور اس كے فلسفے كو سمجھنا ہوگا ۔ دوسرے الفاظ میں ہمیں یہ دیكھنا ہوگا كہ خدا كو انسان كو وجود پسند ہے یا اس كا عدم ؟ كیا خدا كو اس كا (ہونا) پسند ہے یا (نہ ہونا) ؟ اس كی (بقا) پسند ہے یا اس كا (فنا) ہونا پسند ہے ؟ كیا خدا انسان كی نابودی اور ہلاك كے درپے ہے ؟ ان مندرجہ بالا سوالوں كا جواب اگر یہ دیاجائے كہ خدا كو اس كا ( نہ ہونا) نابودی اور فنا پسند ہے تو پھر یہ سوال پیدا ہوتا ہے كہ اسے پھر خدا نے كیوں (خلق) كیا ؟ كیوں اسے (وجود) عطاكیا ؟
یہ مذكورہ جواب قرآن وحدیث اور عقل كے مطابق صحیح نہیں ۔ لہذا اس كا سوالوں كا جواب جاننے كے لئے ہمیں قرآن اور كلام رسول (ص) وآئمہ طاہرین (ع) كی طرف رجوع كرنا ہونا ۔ خداوند عالم نے قلب پیغمبر (ص) پر سب سے پہلے جس سورہ كی آیات كو نازل كیا وہ سورۃ علق كی ابتدائی (۵) آیات ہیں ۔
اقرا باسم ربك الذی خلق۩ خلق الانسان من علق ۩
ان مذكورہ آیات میں خداوند عالم نے انسان كو عطا كردہ مختلف نعمتوں كا تذكرہ كیا ہے ۔ سب سے پہلے جس نعمت كا تذكرہ كیا ہے وہ اس انسان كی ( خلقت اور تكوین ) ہے اگر یہ نعمت الہی نہ ہوتی تو ہرگز انسان كا وجود نہ ہوتا ۔ كیونكہ یہ خداوند عالم كی ہی ذات ہے كہ جو اس بات پر قدرت ركھتی ہے كہ (وجود) كی عظیم نعمت سے سرفراز كرسكے ۔
اس كے بعد جس نعمت كا تذكرہ كیا ہے وہ (علم اور معرفت) كی نعمت ہے كہ جس كی ہدایت انسان كو اس بات كا علم ہوا كہ خدا نے اسے وجود كی نعمت سے نواز ہے ۔ اور وہ یوں اس دینوی زندگی میں اپنے وجود كی حیثیت اور اہمیت كو جان كر الہی اہداف اور مقاصد كی بنیاد پر زندگی گزارتاہے ۔ اسی طرح خداوند عالم كا (سورہ مومنون میں آیت نمبر ۱۱۵ ) میں ارشاد ہے كہ
,, افحسبتم انما خلقنكم عبثا و انكم الینا لاترجعون ٬٬
,,كیا تم گمان كرتے ہو كہ تمہیں بے كار پیدا كیا گیا ہے ۔ اور تم ہماری جانب واپس نہیں پلٹائے جاؤگے ۔ ٬٬
اس آیت كریمہ پر معمولی سے غور اور قائل كے بعد یہ بات سامنے آتی ہے كہ خدانے اس انسان كو (وجود) جیسی عظیم نعمت سے سرفراز كیا ہے یہ كوئی معمولی نعمت نہیں ۔ خدا نے اسے (وجود) عطا كیا یعنی اسے (ہونا) عطا كیا ہے نہ (نہ ہونا) كہ جو ,, عدم ٬٬ ہے ۔ بلكہ خدا نے اسے ,, كتم عدم ٬٬ سے نكال كر ,, عالم وجود امكانی ٬٬ كا محور قرار دیا ہے ۔ خدا نے اسے خلق كركے اور وجود عطا كركے كوئی عبث اور بے ہودہ كام انجام نہیں دیا ۔ بلكہ اس ( وجود) كو عطا كركے اسے (بقا) كی نعمت سے نوازا ہے ۔
اس كے لئے (فنا مطلق) كی نفی كردی ۔ اس مطلب پر اس آیت كا دوسرا حصہ یعنی (۔ ۔وانكم الینا لاترجعون )دلالت كرتا ہوا نظر آرہا ہے ۔ یعنی كیا تمہیں ہماری جانب پلٹ كر نہیں آنا ؟ واپس جانا ،خود ( وجود) اور (بقا) كی دلیل ہے ۔ ,, رجوع٬٬ كا لفظ (وجود) سے تعلق ركھتا ہے ۔ نہ (عدم ) سے ۔
ان مذكورہ آیات كریمہ سے یہ معلوم ہوا كہ جب خدا كی نگاہ میں انسان كی نسبت اس كا بہترین تحفہ اور نعمت، اس كا خلق ہونا ہے تو پھر كیونكر خدا اس كے لئے فنا اور نابودی كو پسندیدہ قرار دے كر اسے ( شہادت اور قتل فی سبیل اللہ ) پر اكسا كر متحرك كرسكتا ہے ۔ لہذا خدا انسان كے لئے زندگی چاہتا ہے وجود چاہتا ہے، بقا چاہتا ہے، نہ فنا، نابودی اور ہلاكت ۔
حدیث قدسی میں ہے كہ یابن آدم خلقت الاشیاء لاجلك و خلقتك لاجلی ,, یعنی اے آدم كے فرزند میں نے دنیا اور اس كون ومكان كی تمام چیزوں كو تیرے لئے خلق كیا ہے ۔ جب كہ تجھے میں نے اپنے لئے خلق كیا ہے ۔
اس مذكورہ حدیث قدسی كو دقت كے ساتھ ملاحظہ كرنے كے بعد اگر ہم اسماء الہیہ قدسیہ كو ملاحظہ كریں تو اسماء الہیہ كے درمیان ایك اہم بنام ( باقی ) دكھائی دیتا ہے ۔ یعنی ( اسی كی ذات كو بقا حاصل ہے ) اب اگر ہم غور كریں تو معلوم ہوگا كہ مگر وہ ذات كہ جو باقی ہو اور فنا، اس كی ذات میں نہ ہو تو كیا یہ ممكن ہےكہ جس (وجود) كواس نے اپنے لئے خلق كیا ہو ۔ وہ فنا ہوجائے اور خود باقی رہے !؟
یہاں پر آكر كوئی ہماری اس مذكورہ بات اور گفتگو كو سن كر اور دیكھ كر ہم سے سوال كرے كہ سورۃ ( رحمن آیت ۲۶ ) میں خداوند عالم صاف اور واضح طور پر ہرچیز كے فنا اور نابود ہونے كا تذكرہ كررہا ہے ۔
,, كل من علیھا فان ۩ ویبقی وجہ ربك ذوالجلال والاكرام ۩ فبائ الاء ربكما تكذبین ۩
,, یعنی ہر چیز كہ جو اس روئے زمین پر ہے اسے فنا ہونا ہے جب كہ باقی رہنے والی ذات، خدا كی ذات ہے ۔ تو پھر تم ( اے جنوں اور انسانوں ) اپنے رب كی كون كون سی نعمتوں كو جھٹلاؤ گے ۔ ٬٬
اس آیت كا ظاہر یہ بتلارہا ہے كہ انسان ,, فانی ,, ہے ۔ تو پھر كس طرح سے ہم یہ یقین كریں كہ وہ (باقی ) رہنے كے لئے ( وجود) میں ایا ہے ؟
جواب: اس آیت كریمہ پر اگر مزید غور كریں تو معلوم ہوگا (فنا) خدا كی نعمتوں میں سے
ایك نعمت ہے ۔ ! وہ كس طرح ؟
وہ اس طرح سے كہ خدا نے جب یہ كہا (كل من علیھا فان ) اس كے فورا بعد یہ كہا ( فبائ الاء ربكما تكذبن ) یعنی یہ (فنا) ایك نعمت ہے تم دونوں ( جنوں اور انسانوں ) كس طرح سے اس نعمت كو جھٹلاؤ گے ۔
اب سوال یہ ہے كہ یہ (فنا) كس طرح س نعمت ہے ؟ مگر (فنا) نعمت ہوسكتی ہے ؟ علامہ طباطبائی اپنی تفسیر تیم (المیزان ) میں اس آیت كے ذیل میں فرماتے ہیں دنیا كا ختتام، آخرت كا آغاز ہے ۔ كہ جو خدا كی نعمتوں میں سے ایك نعمت ہے ۔ كیونكہ دنیوی زندگی، اخروی زندگی كے لئے مقدمہ ہے ۔ جب كہ یہ بدیہی امر ہے كہ مقدمہ سے نتیجے اور غرض كی جانب حركت كرنا اور منتقل ہونا، نعمت ہے ۔
لہذا (فنا) ایك نعمت ہے، كہ جس كے ذریعے سے ( آخرت ) یعنی نتیجے كی جانب پیش قدمی شروع ہوتی ہے ۔ اور خدائے متعال كی جانب انتقال ہے ۔
دوسرا الفاظ میں یہ بات صحیح ہے كہ انسان (عدم ) سے (وجود) میں آیا ہے ۔ لیكن فلاسفہ اور محققین كی رائے كے مطابق ( وجود) فنا اور عدم كے قابل نہیں ۔ ورنہ ایك شئے كا اس كی ضد كے ساتھ متصف ہونا لازم آئے گا ۔ اور یہ محال ہے ۔ ہاں موجودات، عدم اور فنا كو قبول كرتے ہیں ۔ لیكن اپنے اپنے اعتبار سے ۔ نہ موجودات ہونے كے عنوان سے عدم اور فنا سے متصف ہوتے ہیں ۔ (فكركریں )
لہذا اس وجہ سے شاید خداوند عالم نے سورہ آل عمران (۱۶۹۔ ۱۷۱) میں یہ فرمایا كہ !
,, ولا تحسبن الذین قتلوا فی سبیل اللہ امواتا بل احیاء ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اجر المومنین ۔
,, اور خبردار راہ خدا میں قتل ہونےوالوں كو مردہ خیال نہ كرنا وہ زندہ ہیں اور اپنے پروردگار كے یہاں رزق پارہے ہیں ۔ خدا كی طرف سے ملنے والے فضل و كرم سے خوش ہیں اور جو ابھی تك ان سے ملحق نہیں ہوسكے ہیں ان كے بارے میں یہ خوش خبری ركھتے ہیں كہ ان كے واسطے بھی نہ كوئی خوف ہے اور نہ حزن ۔ وہ اپنے پروردگار كی نعمت اس كے فضل اور اس كے وعدہ سے خوش ہیں كہ وہ صاحبان ایمان كے اجر كو ضائع نہیں كرتا ۔ ٬٬
مندرجہ بالا بیان سے معلوم ہوا كہ دنیا سے چلاجانا، ظاہری طور پر دكھائی نہ دینا، یعنی موت كا طاری ہوجانا، انسان كے لئے فنا اور نابودی نہیں ۔ بلكہ (موت) آئمہ طاہرین (ع) كے اقوال كے مطابق (پل ) ہے جس سے ایك جہاں (دنیا) سے دوسرے جہاں (آخرت ) تك پہنچا جاسكتا ہے ۔ (موت ) اللہ سے ملاقات (بقا) كا ذریعہ ہے ۔ (موت ) متقین كے لئے اور اولیاء خدا كے لئے بہترین چیز ہے ۔ مولائے كائنات خطبہ (۱۹۳ خطبہ ) فرماتے ہیں ۔كہ !
,, ہعنی اگر خدا كی جانب سے مقرر كردہ (موت ) ان كے لئے نہ ہوتی تو ہرگز ان كی روحیں ثواب الہی كے حصول اور عقاب سے محفوظ رہنے كی خاطر ایك لحظہ بھی ان كے جسموں میں باقی نہ رہتی ۔,,
خداوند عالم كا ارشاد ہے سورہ ملك كی آیت ۲ میں ,, الذی خلق الموت والحیوۃ لیبلوكم ایكم احسن عملا ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ٬٬ یعنی خدا نے موت اورحیات كو (خلق) كیا تا كہ تمہیں آزمائے كہ تمہارے درمیان بہترین عمل كس كا ہے ؟
اس آیت پر غور كركے معلوم ہورہا ہے كہ (موت ) فنا كا نام نہیں ۔ بلكہ (وجود اور تكوین ) كا نام ہے ۔ (ہونے ) كا نام ہے ۔ نہ ( نہ ہونے) كا یعنی خدا نے جس طرح سے ,, حیات ,, كو خلق كیا اس طرح ,, موت ,, كو بھی خلق كیا ۔ یعنی دونوں خدا كی مخلوق ہیں ۔

2۔ موت كی بہترین صورت
خداوند عالم كا ارشاد ہے ۔ ( ,, كل نفس ذائقۃ الموت و نبلوكم بالشر والخیر فتنۃ ,,
,, یعنی ہر نفس كو موت كا ذائقہ چكھنا ہے ۔ ٬٬ ( سورہ انبیاء آیت نمبر ۳۵)
جب خدا كے اس فرمان كے مطابق موت كا ذائقہ لازمی طورپر چكھنا قراردیا ہے تو پھر آیا موت كی كوئی ایسی صورت یا انداز ہے جو شیرین ہو لذت آور ہو ۔ ؟ رسول خدا (ص) كا ارشاد ہے ( اشرف الموت قتل الشھادۃ ) یعنی اشرف ترین موت، شہادت كی موت ہے ۔ ( بحار الانوار جلد ۱۰۰ صفحہ ۸ )
سورہ آل عمران كی آیت ( ۱۶۹ ۔ ۱۷۱ ) میں موت كی بہترین صورت شہادت كو قرار دے دیا ہے ۔ یعنی اس س بڑھ كر موت كی اور كون سی اچھی صورت ہوسكتی ہے كہ جس میں خدا شہیدوں كی شہادت كے بعد كی كیفیت كو بیان كررہا ہے كہ یہ لوگ شہادت كے ذریعے سے موت كو حاصل كرنے كے بعد خدا كے لطف و كرم سے رزق پاتے اور خدا كی عنایت اور فضل سے خوش اور مطمئن ہیں اور اپنے اہل خانہ، عزیزوں اور دوستوں كو پیغام دیتے ہیں ۔ كہ وہ ان كا غم اور افسوس نہ كریں ۔ اور ان كی فكر نہ كریں ۔ خدا نے انھیں بہترین نعمتوں اور فضل سے ہم كنار كیا ہے ۔
امیرالمومنین (ع) كا نھج البلاغہ خطبہ ۱۳۲ میں ارشاد ہے ,, تحقیق موت تمہاری جستجو میں ہے ۔ چاہے انسان میدان كارراز میں ہو یا میدان جنگ سے بھاگنے والا ہو بہترین اور مكرم ترین موت اللہ كی راہ میں قتل ہوجانا ہے ۔ اس ذات كی قسم كہ جس ك قبضہ قدرت میں علی ابن ابی طاہب (ع) كی جان ہے ۔ میرے لئے ہزار مرتبہ شمشیر كی ضربت كو كھانا آسان ہے ۔ اس موت سے كہ جو خدا كی مخالفت كی حالت میں بستر پر آئے ۔ ٬٬

3 ۔ شہادت، شكر كا مقام ہے نہ صبر
امیرالمومنین (ع) نھج البلاغہ خطبہ ۱۵۶ میں ارشاد ہے !
,, میں نے رسول خدا (ص) سے كہا اے پیغمبر خدا(ص) كیا آپ نے جنگ احد كے دن كہ جب چند اصحاب ( مسلمان ) درجہ شہادت پر فائز ہوئے اور مجھے شہادت نصیب نہ ہوئی كہ جو مجھ پر بڑا گراں گزرا تو آپ(ص) نے اس وقت مجھے كہا تھا كہ ( اے علی (ع) ) تمہیں آنے والے دنوں میں شہادت نصیب ہوگی ۔
اس كے بعد مولا (ع) فرماتے ہیں كہ رسول خدا (ص) نے مجھ سے فرمایا كہ ,, ایساہی ہوگا كہ تم شہادت پاؤ گے ۔ جب تم شہادت كے درجے پرفائز ہوگے تو اس وقت تمہارے صبر كا كیا عالم ہوگا ؟ میں نے رسول (ص) كو جواب دیا كہ ,, اے پیغمبر خدا (ص) شہادت، صبر كا مقام نہیں بلكہ خوشی اور شكر كا مقام ہے ٬٬
مولا امیرالمومین (ع) كا ۱۹ رمضان كی شب كوابن ملجم كے ضربت كے بعد مشہور معروف جملہ (فزت و رب الكعبۃ) اس بات پر دلیل ہے كہ موت اور شہادت اولیاء خدا كے لئے خوشی اور شادمانی اور كامیابی كی علامت ہے ۔

4 ۔ شہادت اور الہی تحفے
۱۔ تمام گناہوں كا معاف ہوجانا ۔ كنزالعمال میں رسول (ص) كی روایت ہے: ,, ہرچیز كی بخشش كا ذریعہ شہادت ہے ۔ سوائے قرض كے ۔ ,, ایك اور روایت میں ہے كہ شہید كا ہر گناہ قرضہ كے علاوہ معاف ہوجاتا ہے ۔
۲۔ قبر میں آزمائش اور امتحان سے محفوظ رہتا ہے ۔
روایت میں ہے كہ ,, جو دشمن كے ساتھ مقابلہ كرتے ہوئے صبر سے ( اور استقامت ) سے كام لے یہاں تك كہ قتل ہوجائے یا غالب آجائے تو اس سے قبر میں سوال و جواب نہیں ہوں گے ۔ ٬٬ (رسول خدا(ص) كنزالعمال )
۳۔ زندگی اور حیات كا عطا ہونا:
شہید اپنی شہادت پیش كركے موت كو حیات اور زندگی عطا كرتاہے ۔
,, ولاتحسبن الذین قتلوا فی سبیل اللہ امواتا بل احیاء عند ربھم یرزقو ٬٬
جو لوگ اللہ كی راہ میں مارے جائیں تم انھیں مردہ تصور مت كرو بلكہ وہ زندہ ہیں ۔ ( آل عمران ۔ ۱۶۹ )
" ولا تقولو المن یقتل فی سبیل اللہ اموات بل احیاء و لكن لاتشعرون "
جو اللہ كی راہ میں مار جائیں تم انھیں مردہ مت كہو بلكہ وہ زندہ ہیں مگر تم اس كا شعور نہیں ركھتے ) (بقرہ ۱۵۴ )
شہادت ایك ایسا معنوی امر ہے كہ ایك انسان مومن اسكی معرفت اور شفاعت حاصل كرنے كے بعد اس دنیا كو سیلہ سمجھتا ہے نہ ہدف جب كہ رسول خدا (ص) كا فرمان ہے ( الدنیا مزرعۃ الآخرۃ ) ,, دنیا، آخرت كی كھیتی ہے ٬٬ ۔ دنیا ایساوسیلہ ہے كہ جس سے اولیاء اللہ سہارا لیتے ہوئے منزل مقصد اور ہدف تك پہنچتے ہیں ۔ لہذا اس نظر اور منطق كا حامل شخص (مومن ) دنیا كی ظاہری نعمتوں كو اپنے ہاتھ سے جاتے ہوئے دیكھ كر شرمندگی اور افسوس كا احساس نہیں كرتا ۔ كیونكہ اس كی نگاہ ان چیزوں اور تحائف پر ہے كہ جو خدا كے پاس ہے لہذا آئمہ معصومین (ع) كے فرمان كے مطابق شہداء كے سوا كسی دوسرے مرنے والے كی دنیا میں واپس آنے كی آرزو نہیں ہوتی ) كیونكہ انھوں نے خدا كی جانب س اپنے لئے جو اكرام اور احترام اور انعامات ملاحظہ كئے ہوتے ہیں وہ باعث بنتے ہیں كہ دنیا میں جاكر دوبارہ شہادت كے مرتبے پر فائز ہوں ۔
اگر شہادت كی محبت نہ ہوتی تو دین باقی نہ رہتا اور نہ ہی دین كا درخت سرسبز و شاداب ہوتا ۔ بلكہ یہ اسی كی محبت ہے كہ جس كی وجہ سے دین ہرا اور بھرا ہے كیونكہ شہادت ہی انسان كو بلند معنوی قوت عطا كرتی ہے ۔ كیونكہ شہادت سےمحبت ركھنے والے انسان، اللہ كی عطا كردہ قوت سے جہاد كرتے ہیں اس كے ارادے سے فعالیت دكھاتے ہیں اور اس نظر سے دیكھتے ہیں ۔ لہذا انھیں اللہ كی راہ میں شہادت كا رتبہ ملتا ہے ۔ (شہادت ) یعنی گواہی دیتے ہیں كہ واقعا اللہ كی ذات حق ہے لہذا اس بنا پر شہداء گرام كی سیرت كو اگر ملاحظہ كریں تو ان كی سیرت كی بنیاد اللہ كی ذات حق ہے لہذا اس بنا پر شہداء كرام كی سیرت كو اگر ملاحظہ كریں تو ان كی سیرت كی بنیاد اللہ پر ایمان كامل اور قوی اعتماد ہے ۔ یہ ایسا ایمان ہے كہ شہادت اور شہداء كی معرفت نہ ركھنے والے انسانوں كو حیران اور ششدر ہونے پر مجبور كرتے ہیں اور وہ اس بات پر قادر نہیں ہے كہ شہداء كی عظیم حركت اور فعالیت كی تفسیر كرسكیں ۔ لہذا نا سمجھی كی بنیاد پر (شہادت ) كو ایك نامعقول اور غیر سنجیدہ حركت قرار دے كر تسمخر كی نگاہ سے ملاحظہ كرتے ہوئے دشمنان اسلام و دین و مذہب كو حق كی بنیادیں متزلزل كرنے كا موقع فراہم كرتے ہیں ۔
منبع: ماہنامہ سحر (پاكستان) / اگست ۲۰۰5

24 Dec 2011 |

 
 

Weblog Theme By Blog Skin

پیج رنک

آرایش

طراحی سایت